”روزِ عاشقاں!  بندش کے درمیاں ـ ـ ـ ـ“از ثروت نجیب

ثروت نجیب
کابل افغانستان

مولانا رومی نے کہا تھا! ”محبت تمھارے اور ہرچیز کے درمیان ایک پل ہے ـ محبت ایک دلفریب احساس ‘ ایک بسیط جذبہ ‘ بےکراں تاکراں جس کی کوئی حد ہی کہاں؟ اسے ایک دن میں قید کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ فروری کا مہینہ شروع ہوتے ہے محبت اور ویلنٹائن ڈے کے حوالے بحث و مباحثے شروع ہو جاتے ہیں ـ دو دہائی قبل انڈیا اور پاکستان میں اس دن کو منانے کا آغاز ہوا اور کچھ سالوں سے افغانستان میں بھی روزِ عاشقاں کے نام پہ یہ دن جوش و خروش سے منایا جاتا ہے ـ ایک طبقہ اس دن کے خلاف ہمیشہ متحرک رہتا ہے ـ اب تک تو بہت سے لوگ اس کی تاریخ ‘ اغراض و مقاصد تک سب کچھ جان چکے ہیں مگر پھر بھی اک تشنگی سی ہے ـ کبھی اسے مذہب سے جوڑ کر اس دن کی حثیت مسخ کر دیتے ہیں تو کبھی اخلاقیات آڑے آ جاتی ہے ـ کچھ لوگ اس دن حیا ڈے مناتے ہیں کچھ سسٹرز ڈے اور کچھ ان سب کو خرافات سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں ـ
میں اگر ویلنٹائن ڈے کی تاریخ دیکھو تو روم کے پادری کا آخری خط پڑھ کر افسردہ ہو جاتی ہوں ـ جس کو اس لیے جیل میں بھیجا گیا کہ اس نے دو محبت کرنے والوں کی شادی کروائی ـ اس وقت کے قانون کے مطابق وہ شادی نہیں کر سکتے کیونکہ لڑکا فوج میں بھرتی تھا ـ روم کے بادشاہ کو لگتا تھا شادی شدہ جوڑوں کی توجہ شادی کیوجہ سے بٹ جاتی ہے ـ اگر تاریخ کو سامنے رکھ کر سوچا جائے تو یہ دن زندگی کے ایک نہایت اہم رشتے کی اہمیت اجاگر کرتا ہے ـ شادی ایک ایسا بندھن ہے جسے دو لوگوں کی تکمیل سمجھا جاتا ہے ـ شادی کے بعد ایک نئے خاندان کی بنیاد پڑتی ہے ـ یہ الگ بات کہ بچے شادی کیئے بنا بھی پیدا ہو سکتے ہیں مگر چاہے مشرق ہو یا مغرب ان کی شناخت کو گالی دے کر دھتکار دیا جاتا ہے ـ شادی ہی وہ واحد زریعہ ہے جو مقدس بھی ہے اور محترم بھی ـ مگر افسوس کہ چودہ فروری دن ویلنٹائن ڈے کو عشق و عاشق سے منسوب کر کے ڈیٹ پہ جانے کا رواج عام ہو گیا ـ راہ چلتی لڑکیوں کو چھیڑنے اور سرخ گلاب ان پہ پھینکنے کو تہوار کی روح سمجھا جانے لگا ـ شراب ‘ شباب اور کباب کی محفلیں سجا کر جام کھنکھا کر ایک دوسرے کو ویلنٹائن کہا جانے لگا ـ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ خود ویلنٹائن نے اس دن یہ تماشے کئے تھے؟ تو اب کیوں ہو رہے ہیں ـ
یہ دن ضرور منانا چاہیے ـ ان انا پرست والدین کو جن کے بچے آپس میں محبت کی پینگیں بڑھا لیتے ہیں تب ان کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی جب بات شادی کی آتی ہے تو رشتے کرتے وقت وہ ذات پات کو لے کر بیٹھ جاتے ہیں ـ برادری’ خاندان ‘ حسب نسب ایسی کئی محبتیں کھا جاتا ہے ـ ویلنٹائن ڈے ان والدین کے لیے الارم کی گھنٹی ہے جو اولاد کو مہنگے ترین تعلیمی اداروں میں داخل تو کروا دیتے ہیں مگر تربیت کا خانہ خالی رہتا ہے ـ ان کے بچے اوپن میرج اور ریلیشن شپ کو ترجیح دینے لگیں تو الزام میڈیا اور سوشل میڈیا کو دے کر خود کو بری الذمہ قرار دیتے ہیں ـ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا چودہ فروری کا دن کیلنڈر سے نکال دیا جائے تو محبتیں فروغ پانا چھوڑ دیں گی ؟ ـ کیا رات گئے کسی نہ کسی بہانے محفلیں نہیں سجائی جائیں گی ؟ یا سرخ گلاب جو روز اول سے محبت کی نشانی ہے دکانوں پہ بکنا بند ہو جائیں گے؟ ـ انڈیا اور پاکستان میں جہیز’ شادی کی راہ روکاوٹ بن جاتا ہے ـ کہیں حق مہر میں گھر ‘ گولڈ اور گاڑی کی فرمائش کیوجہ سے نسبتیں ٹوٹ جاتی ہیں ـ افغانستان کے کچھ علاقوں میں ولور (حق مہر معجل) کا رواج ہے جس میں لڑکے کے ذمے شادی کے تمام لوازمات ہوتے ہیں حتیٰ کہ وہ لڑکی کے والدین کو یکمشت رقم بھی ادا کرتا ہے جس سے وہ لڑکی کا جہیز لیں یا جیب میں اڑس لیں ان کی مرضی ـ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب والدین خود بچوں کے خاندان بنانے کے بجائے اپنی مرضی کو مقدم جانیں ـ ان کے لیے محبت سے ذیادہ فرسودہ رسم رو رواج اہم ہوں وہاں نوجوان اگر ویلنٹائن ڈے منا کر یہ احساس دلائیں کہ اب ان کی عمر شادی کی ہو چکی ہے اس بابت بھی سوچا جائے تو کیا برا ہے ـ
برے تو دراصل ریت رواج ہیں ـ ایسے میں کچھ لوگ اس دن کو سسٹرز ڈے منانے لگے ـ حیرت کی بات ہے اب سگے بہن بھائیوں کے علاوہ منہ بولے رشتوں کی کیا حثیت؟ یا سسٹرز ڈے ہندوؤں کے رواج رکھشا بندھن کے مترادف نہیں؟ جو محبت جیسے وسیع جذبے کو ایک دن میں قید کرنے کے قائل نہیں وہ حیا ڈے کیسے مناتے ہیں ـ کیا شرم کو لاج کو ایک دن میں قید کرنا جائز ہے؟ ویلنٹائن ڈے ایک پاکیزہ جذبے کی پاسداری کا خوبصورت دن ہے ـ یہ ان اوباش اور آوارہ لوگوں کے لیے ہرگز نہیں جو اس دن بازاروں ‘ درس گاہوں ‘ اور شاہراوں پہ ہلڑ بازی کرتے پھریں ـ نشے میں دھت کسی کی مرضی کے خلاف ان پہ دست درازی کریں’ ذیادتی کریں یا پھر لڑکیوں کو چھیڑیں ان کو گلاب کے پھول ماریں ـ چودہ فروری تو گزر جاتا ہے مگر پیچھے کئی بھیانک خبریں چھوڑ جاتا ہے ـ جن کا ازالہ کبھی نہیں ہو سکتا ـ
سرمایہ داری نظام میں جہاں سب بکتا ہے وہاں اس دن بہت سے لوگوں کی بکری ہوتی ہے ـ ننھے معصوم بچوں سے لے کر جو سرخ غبارے ہاتھ میں لیے ہر گاڑی کی کھڑکی کھٹکھکاتے ہیں ہیرے اور سونے کی دکانوں اور فائیو سٹارز ہوٹلز و رستورانوں تک جہاں گلاس میں رکھے سرخ گلاب کسی کے کالر یا زلف میں سجنے کے منتظر ہوتے ہیں ـ کمرشل ازم دور میں یہ ان کی مجبوری بھی ہے اور روزگار بھی ـ اس سال پھول بھی بکیں گے اور گیس سے بھرے دل والے غبارے بھی ـ آج ہر ملک میں محبت کرنے والوں کے دل گدگدائیں گے مگر اُن کی محبت کا مستقبل کیا ہوگا یہ کوئی نہیں جانتا ـ

______________________________

تحریر:ثروت نجیب،کابل

2 Comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.