امارات لٹریچر فیسٹیول میں انٹرنیشنل اور لوکل مصنفین کی ایک بڑی تعدادتھی جن میں میری پسندیدہ پسندیدہ ایلف شفق سمیت،انڈین رائیٹر اور برنٹ شوگر کی مصنفہ اونی دوشی کے علاؤہ میری بیٹی کی پسندیدہ ملالہ اور ضیا یوسفزئی بھی شامل تھے ۔ میں نے جلد از جلد اپنی موجودگی یقینی کرنے کی کوشش کی چونکہ ایونٹس کی ٹکٹیں تیزی سے ختم ہو رہی تھیں۔ ملالہ اوربرنٹ شوگر کی مصنفہ کی تمام نشستیں پہلے سے ہی بک چکی تھیں جبکہ ایلف شفق کی میرے دیکھتے دیکھتے صرف ایک چار کی فیملی کی نشست باقی رہ گئی تھی۔ہم میاں بیوی دو لوگ تھے مگر اگر ہمیں ایلف شفق کو سننا اور ملنا تھا تو ہمیں چار کی قیمت پر یہ نشستیں حاصل کرنی ہی تھیں ۔چناچہ یہ آخری چار سیٹس ہم نے خرید لیں اور فائدہ یہ ہوا کہ میری چودہ سالہ بیٹی جو میری کتابیں کنگھالتی ایلف شفق کی کئی کتابیں پڑھ چکی ہے نے بھی اس گفتگو سے اتنا ہی مزا لیا جتنا خود میں نے۔اگرچہ نو سالہ بیٹا اس محفل سے کچھ اخذ نہ کر سکا مگر بہرحال ہمیں اپنی بھرپور خموش کمپنی سے ضرور نوازتا رہا۔

کرونا نے ذندگی کو کتنی بڑی طرح بدل کر رکھ دیا ہے اس کا اندازہ دبئی جیسے ماڈرن شہر میں ہر لمحہ ہر وقت ہوتا ہے جب گھر سےماسک کے بغیر آپ نکل نہیں سکتے۔لیکن انتہائی فاصلے پر رکھی نشست و برخاست،کم لوگوں کی موجودگی اور ہر سیشن کے بعدسینٹائزیشن کے عمل کے باوجود ایلف شفق کو زوم کال پر دیکھ کر بہت دل دکھا کہ ہم پچھلے سال اورحان پاموک کی محفل کی طرح ہاتھوں میں کتابیں لے کر پہنچے تھے کہ ایلف سے ملکر ان کا آٹوگراف لیکرآئیں گے مگر یہ ممکن نہ ہو سکا کہ تمام احتیاط و اقدامات کے باوجود ہم ایلف کو صرف زوم کال پر ہی دیکھ اور سن سکتے تھے۔دل سے دعا نکلی کہ خدا نہ کرے کہ دنیا ہمیشہ ایسی رہے ورنہ کتنی خواہشیں اور خواب ہمیشہ ادھورے رہ جائیں گے ۔

ایلف شفق نے اپنے آخری ناول

Ten minutes & thirty eight seconds in this strange world
کے بارے میں بات کرتے بتایا کہ زندگی کے ہر موقع پر کچھ لوگ چاہے وہ کوئی بھی ہوں کسی بھی پس منظر سے ہوں آپ کو حوصلہ دینے کے لئے موجود ہوتے ہیں جس طرح لیلی کو اپنے جیسے کچھ ٹھکرائے ہوئے لوگ ایسے مل جاتے ہیں جو اس کی آخری خواہش کے احترام میں کتنا دور تک جاتے ہیں۔ ایلف شفق نے بتایا کہ انکی زندگی کا سپورٹ سسٹم ہمیشہ سے کتابوں پر مشتمل ہے اور یہ کتابیں ہی ہیں جن کا انہیں ہمیشہ سے آسرا رہا ہے۔

مزید گفتگو کرتے ایلف شفق نے کہا کہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنے آس پاس کے لوگوں اور معاشرے میں اجنبی بن جاتا ہے۔خود وہ بھی اکثر خود کو اپنے معاشرے میں مس فٹ محسوس کرتی ہیں خصوصا جب ان کے لکھے پر اعتراض ہوتا ہے یا جب کہا گیا کہ وہ انگلش میں لکھتی ہیں ترکی میں نہیں اس لئے ٹرکش مصنفہ نہیں رہیں۔

“ہم ہر ملک میں یہی دیکھتے ہیں کہ ڈیموکریسی ڈگمگائے تو معاشرے میں تنوع کا رحجان متاثر ہوتا ہے،پدرشاہی بڑھنے لگتی ہےاور خواتین کے حقوق میں کٹوتی ہو جاتی ہے۔اسی طرح اگر آپ اپنے رنگ یا صورت کی ہی بنا پر معاشرے کی نظر میں مختلف ہوں تو آپ کی ذندگی مشکل ہو جاتی ہے۔”

ایلف شفق نے کہا کہ ترکی میں درحقیقت ایک ایسا قبرستان موجود ہے جہاں لاوارث لاشیں دفن کی جاتی ہیں اور کتبے پر ناموں کی بجائے نمبر لگے ہوتے ہیں۔ان میں غیر قانونی شیر خوار،ایڈز کے شکار مریض اور افغانی اور شامی مہاجرین شامل ہیں۔وہ کچھ عرصے سے اس قبرستان میں دلچسپی لیتی اور ان نمبر ذدہ کتبوں کے بارے میں سوچتی رہی ہیں۔

“وہ بہت ہی عجیب اور اداس دنیا ہے!”

ایلف کے مطابق انہوں نے اپنے حالیہ ناول کی لیلی کا کردار اسی قبرستان سے اخذ کیا تھا۔

ایلف شفق کا انٹرویو دیکھیں

زوم کال پر ہونے کے باوجود ایلف کو اپنے سامنے دیکھنا انکی براہ راست گفتگو سننا ذندگی کا بلاشبہ ایک بہترین تجربہ تھا۔ہم دعا کرتے ہیں کہ اگلے لٹریچر فیسٹول سے پہلے معاملات کمپیوٹر کی سکرین سے واپس زمیں پر آ جائیں اگرچہ اس کی توقع اب محال لگتی ہے۔

ایلف شفق انٹرویو پارٹ ٹو

_____________

(ایلف شفق کے انٹرویو کا ترجمہ جلد شائع کیا جائے گا انشااللہ)

تلخیص، عکاسی و رپورتاژ: صوفیہ کاشف