ہم چیز ہیں بڑے کام کی، یارم
ہمیں کام پر رکھ لو کبھی، یارم
سورج سے پہلے جگائیں گے
اور اخبار کی سب سرخیاں ہم گنگنائیں گے
پیش کریں گے گرم چائے پھر
کوئی خبر آئی نہ پسند تو اینڈ بدل دیں گے
منہ کھلی جمائی پہ، ہم بجائیں چٹکیاں
دھوپ نہ تم کو لگے، کھول دیں گے چھتریاں
پیچھے پیچھے دن بھر، گھر، دفتر میں لے کے چلیں گے ہم
تمہاری فائلیں، تمہاری ڈائری، گاڑی کی چابیاں، تمہاری عینکیں
تمہارا لیپ ٹاپ، تمہاری کیپ، فون اور اپنا دل، کنوارہ دل۔ ۔ ۔
پیار میں ہارا، بیچارہ دل
یہ کہنے میں کچھ رسک ہے، یارم
ناراض نہ ہو، عشق ہے، یارم
رات سویرے، شام یا دوپہر، بند آنکھوں میں لے کے تمہیں
اونگھا کریں گے ہم
تکئے، چادر مہکے رہتے ہیں، جوتم گئے
تمہاری خوشبو سونگھا کریں گے ہم
زلف میں پھنسی ہوئی، کھول دیں گے بالیاں
کان کھچ جائے اگر، کھا لیں میٹھی گالیاں
چُنتے چلیں پیروں کے نشان، کہ ان پر اور نہ پاؤں پڑیں
تمہاری دھڑکنیں، تمہارا دل سنیں
تمہاری سانس سنیں
لگے کپکی
ہاں گجرے بنیں، جوہی موگرا، تو کبھی دل
ہمارا دل پیار میں ہارا، ہمارا دل!

_____________