ایلف شفق کے دس منٹ اٹھتیس سیکنڈ

“کیا ہو اگر موت کے بعد انسانی دماغ کچھ اور منٹ تک چلتا رہے؟صرف دس منٹ اور اٹھتیس سیکنڈ ہی سہی!”

اور ایلف شفق کا ناول

Ten minutes,38 seconds in this strange world

انہی کچھ منٹس کی کہانی ہے جو ناول کے مرکزی کردار تاکیلہ لیلی نے مرنے کے بعد سانسیں بھرتے دماغ کے ساتھ گزارے ہیں وہ دس منٹ جس میں ذندگی بھر کے چلتے ہوئے قدموں پر سے اسے ایک بار پھر گزرنا پڑا،جب صرف دس منٹ میں اسے اپنی زندگی کا عذاب پھر سے جینا پڑا،سر سے اتار پھینکنے سے پہلے اس بوجھ کو برق رفتاری سے ہی سہی مگر دوبارہ کاندھے پر اٹھانا پڑا۔

تاکیلہ لیلی کون ہے؟ یہ ایک طوائف کی لاش ہے جس نے لاش بنننے سے پہلے ایک طوائف اور طوائف ہونے سے پہلے ایک بیٹی اور ایک بیٹی ہونے کے بعد چائلڈ ابیوز کا سامنا کیا ہے۔ذندگی میں طوائف ہونا بھی آسان کام نہیں، اس سے پہلے ہزار عذابوں سے عورت گزرتی ہے تب آ کر بازار میں سجتی ہے۔طوائف کا کوٹھا بہتی نہر میں لگی وہ جالی ہے جو ٹوٹی پھوٹی لاشوں کو رستے میں پکڑ کر کچھ اور سانسوں کے لئے سطح آب پر لے آتی ہے اور پھر عورت سب کچھ ہار کر محض ذندگی کی خاطر یہ ذندگی جیتی ہے ۔مگر یہ صرف طوائف کی کہانی نہیں۔یہ اس بیٹی کی بھی کہانی ہے جس کے پیدا ہوتے ہی مڈ وائف کے منہ سے بدشگونی نکلی کہ

“یہ لڑکی روئے گی!”

برے شگون واقع نہیں ہوتے ۔یہ تو برے نصیب ہوتے ہیں جن میں سے برے شگون بارش کی بوندوں کی مانند برسنے لگتے ہیں۔اور پھر مڈ وائف کے تین بار تھوکنے سے اور الٹے پاؤں پر سیدھا جما دینے سے بھی وہ اس بدشگونی کو اس سے جدا نہ کر سکی تھی۔اور وہ بیٹی جو بلآخر دل کی صدا سن کر رو پڑی نہیں جانتی تھی کہ اس دل کی صدا سن کر اسے ساری عمر رونا پڑے گا۔

لیلی کا نام اس کی نیک نانی کے نام پر اس شگن کے ساتھ رکھا گیا کہ ایک دن وہ بھی ایسی ہی نیک ،پرہیز گار،باوقار اور بہتے پانی کی طرح صاف ہو گی۔مگر یہ بچی صاف تھی نہ پاک تھی اور خالی نام رکھنے سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔جب مقدر میں سیاہیاں ہوں تو نام اجالا رکھ لینے سے بھی اجالا نہیں ملتا۔تو لیلی عفیفی کاملہ نہ حسین تھی نہ پاک باز نہ مکمل۔

اپنے آنگن کے راز رکھتے رکھتے لیلی ذندگی کے تازیانوں کے ساتھ تازیانوں کے ہاتھوں کو بھی سہتی رہی ۔

وہ شوق رکھتی تھی اور ذندگی جینے کی لگن اور استنبول کے عجوبے دیکھنے کی شوقین تھی۔فورٹی رولز آف لو کی ایلا کی طرح لیلی کو بھی یقین تھا کہ ایک دن وہ استنبول شہر کی روشنیاں دیکھنے وہاں ضرور جائیے گی۔استنبول جو اس کے خوابوں کا نگر تھا جہاں اس کے خوابوں کے مطابق اس کی کامیابیاں اور خوشیاں اس کا انتظار کر رہی تھیں۔تا کیلہ لیلی جو ذندگی کے زخمی ٹوٹے سروں کو جوڑنے کی کوشش میں کبھی بھی پوری نہ ہو سکی۔ایک ایسا مضبوط نسوانی کردار جو ہر لہو رنگ گلی سے گزرتا ہے مگر اس طرح کہ خودترسی کا واویلا نہیں کرتا،اپنی محرومیوں کا ماتم نہیں کرتا بلکہ ذندگی کے ہاتھوں جو کچھ اسے پیش کیا جاتا رہا ایک باوقار نظر سے قبول کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ بلآخر ایک جامنی رنگ کے شوخ کپڑوں میں کچرے کے ڈھیر پر پڑی لاش بن جاتا ہے۔

استنبول اس ناول کی مرکزی لوکیشن ہے مگر دراصل یہی مرکزی کردار بھی ہے۔استنبول ایک دھوکہ،استنبول ایک عجوبہ،جو اپنی روشنیوں سے دور دور کے لوگوں کی آنکھوں میں خواب جگاتا ہے،مگر اس کی روشنیاں دیکھنے جو بھی اس تک آتا ہے جھولی میں روشی بھرنے کی خواہش میں آنکھوں کا نور تک لٹا دیتا ہے۔اسے ذندگی کے کسی بھی خوبصورت دھوکے سے تشبیہ دی جا سکتی ہیں۔ہم سب کے ملکوں میں ہماری ریاستوں اور زندگیوں میں سب کے پاس ایک استنبول ہوتا ہے جو دور سے دیکھو تو تاروں کی کہکشاں لگتا ہے مگر قریب جاؤ تو دامن کو آگ پکڑ لیتی ہے۔

یہ ناول صرف ایک عورت کی کہانی نہیں ہے یہ بہت سارے افراد کی کہانیاں ہیں ۔ایسی عورت کی کہانی جس کی رضا کے بغیر اس کا بچہ اس کی گود سے لے کر اسے نیم پاگل کر دیا گیا تھا۔ترکی اور پاکستان کے حالات بہت ملتے جلتے ہیں نہ صرف سیاسی حالات بلکہ سماجی حالات بھی خصوصا پدسری نظام جہاں عورتوں کی زندگیوں کے تمام فیصلوں کا اختیار صرف ان کے مرد کے پاس ہوتا ہے۔

یہ اس جہالت کی بھی کہانی ہے جو تعلیم و شعور کی کمی،وسائل کی مشکل فراہمی،اور توہمات اور گزرے دنوں کی روایات کو ان کو بہترین سمجھتے ہوئے ان سے جڑی رہنے کی کوشش میں کی جاتی ہے۔یہ اس ظلم کی بھی داستان ہے جو بااختیار افراد اپنے سے کمزور پر کرتے ہیں پھر چاہے وہ مرد کا عورت پر ظلم ہو،کہ محبوبہ بیوی کا نئی بیوی پر،انکل کا بھانجی پر،دلال کا طوائف پر ،معاشرے کے معتبر لوگوں کا غیر معتبر پر،یہ ناول ان تمام نوحوں کی داستان ہے۔

یہ کہانی نالاں کی بھی کہانی ہے جو اپنے مردانہ وجود میں چھپی عورت کو ذندہ کرنا چاہتا ہے اور اپنی محبوب شناخت کے ساتھ ذندگی جینا چاہتا ہے

یہ ان باغیوں کی بھی کہانی ہے جو ماں جیسی ریاست کے اصولوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور پھر تاریک راہوں میں ڈھیروں ڈھیر اپنے پیاروں کو لاوارث چھوڑ کر مارے جاتے ہیں۔

یہ اس امیر اور آسائیش یافتہ طبقے کی بھی کہانی ہے جو پیسے کے بل پر ذندگی کے ہر ناممکن کو ممکن بنا لینے کی طاقت رکھتا ہے،جو محض پیسے کی طاقت سے دنیا کی ہر طاقت سے لڑ سکتے ہیں اور ان کو اپنا محکوم کر سکتے ہیں۔

مصنفہ نے ایک خوبصورت پیرائے میں محض دس منٹ اور اڑتیس سیکنڈ میں ایک پورے سماج اور ایک پورے معاشرے کو قاری کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے۔کوڑے کے ڈھیر پر پڑی اس لاش کی نظر سے دنیا کی وہ بدصورت حقیقتیں دکھائی دیتی ہیں جو اکثر ذندہ آنکھیں دیکھنے سے قاصر رہ جاتی ہیں۔

اور جب ان بند آنکھوں کے آخری سانس رخصت ہوتے ہیں توقاری کے سامنے کچرا کچرا لوگوں کی وہ خوبصورتی رکھی جاتی ہے کہ جو چمکتے دفتروں والے،اعلی رتبوں والے اور بڑی بڑی پگڑیوں والے دکھا دینے سے قاصر رہتے ہیں۔معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے اپنی وفا دکھاتے ہیں اور جب روندی ہوئی چند عورتیں ایک کمزور مرد کے ساتھ اس لاش کی تعظیم کے لئے وہاں تک جاتے ہیں جہاں تک معاشرے کے اعلی اور معزز سر نگاہ اٹھانے سے قاصر رہتے ہیں۔

ایلف شفق کی فیمنزم اس کتاب میں بھی اپنا خوب رنگ جماتی ہے جب رشتوں معاشرے اور رواج کے ہاتھوں پستی ہوئی عورت کو وہ اس ناول کے ذریعے کئی کئی رنگوں میں ظاہر کرتی ہے۔ایلف شفق کی عورت جو اکثر گھر سے نکلتی ہے کبھی تعلیم کی تلاش میں کبھی روشن مستقبل کی آس میں اور کبھی محبت کی پیاس میں ،اور جو ہر حال میں ہر مرتبے پر سر اٹھا کر چلتی ہے اور اپنی پہچان اور آن کے لئے خموشی کے ساتھ مگر مسلسل لڑتی رہتی ہے۔ایلف شفق کی عورت جو سماج کے لئے ایک بغاوت ہے ایک للکار ہے مگر دراصل اپنے وجود کا اعلان ہے جو اپنی آواز اور شناخت رکھنا چاہتا ہے۔عورت کا وجود جو قدرت کے کارخانہ میں ایک مقام چاہتا ہے۔

1 Comment

Comments are closed.