گلابی نظموں سے بھری ہوئی اک لڑکی
روز اُس سے کہتی تھی
“تمہیں محبت کرنی نہیں آتی”

وہ “ابھی تک اِس لفظ سے ناواقف تھا
جواباً کہتا ” کیسے کی جاتی ہے یہ محبت “؟؟
سرخ ربن والی معصوم حسینہ کہتی
“میں تمہیں میں سکھا دوں گی _”
آج جب “وہ” محبت کی کلاس میں
ایک خالی بیاض لے کر محبت کا پہلا سبق سیکھنے آیا تو
نہ وہ سرخ ربن اور گلابی نظموں سے بھری لڑکی تھی
نہ تختہ سیاہ تھا
نہ محبت
کوئی دوسرا تھا جو موجود تھا اور اس پر ہنس رہا تھا
خالی ہاتھ
خالی آنکھیں
اور کوری بیاض لے کر جب وہ واپس مڑا تو اُسے یاد آیا
پچھے سال میلے میں ایک نجومی نےاس کی ہتھیلی دیکھ کر کہا تھا
“اس ہتھیلی میں محبت کی کوئی لکیر نہیں -“
اس خیال سے دو آنسو اس کی آنکھوں سے بہتے ہوئے بیاض کے کورے ورق میں جذب ہو گئے
اور دیکھتے ہی دیکھتے ساری بیاض گلابی ہو گئی

____________

کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف