بلاگ کیسے لکھیں(1) __________صوفیہ کاشف

رائٹنگ:

1_سپنے سے تعبیر تک:

ہر تعبیر سے پہلے اک سپنا دیکھا جاتا ہے اور سپنا ہی وہ بیج ہے جس پر تعبیر کی فصل اگتی ہے۔سپنے دل کی اندرونی تہوں میں کونپل کھولتے ہیں اور مضبوط تناور درخت بنتے کچھ وقت لیتے ہیں۔کچھ سپنے پہلی ہی سانسوں میں دم توڑ جاتے ہیں اور کوئ ایسے بھی سخت جان ثابت ہوتے ہیں کہ تھوڑی تھوڑی ہوا پانی پر بھی گزارا کرتے اک عزم بنکر مضبوط اور مستحکم وجود میں ڈھلنے لگتے ہیں۔کیا آپکی آنکھوں نے بھی کبھی بلاگر بننے کا سپنا دیکھا ہے؟یہ خواب تو ہر آنکھ دیکھتی ہے کہ کوئ جوہری آئے اور پتھروں کے بڑے ڈھیر پر سے ہمیں ہیرا سمجھ کر اٹھا لے اور کوہ نور بنا کر تاج پر سجا لے یا ستارہ بن کر آسماں پر ٹکا دے۔دنیا آئے اور آپ کو دریافت کرے۔کیا کبھی آپ کے دل نے جرات کی کہ آپ اٹھیں ،خود سے خود کو تراشیں،اور اپنے ہاتھوں سے خود کو چمکا کر دنیا کی آنکھیں خیرہ کر دیں؟

خود سے خود کی تراش خراش،اپنی ذات پر اعتماد کرنے کی ہمت اور اسے ساری دنیا کے سامنے لا کھڑا کرنے کی جرات ہی آپ کو ایک بلاگر بناتی ہے۔اگر آپ لوگوں کے ہجوم میں چھپنا چاہتے ہیں،دوسروں کے منہ سے اپنا تعارف سننا چاہتے ہیں اور خود اپنی زبان سے خود کو متعارف کروانا پسند نہیں کرتے یا خود کو اس کا اہل نہیں سمجھتے ،تو پھر بلاگنگ آپ کے لئے نہیں۔ایک بلاگر ہونے کے لئے سب سے پہلی چیز اپنی صلاحیتوں کو چیلنج کرنا،اور خود کے کچھ نہ ہونے سے کچھ بنا دینے کا عمل ہے جس میں تراش کا منتظر ہیرا بھی آپ اور تراشنے والے جوہری بھی،مارکیٹ میں لانے والے بھی اور بیچنے والے بھی آپ۔اور اس میں کچھ باعث شرم،باعث حجاب نہیں۔ہر گھر میں موجود کتاب”موت کا منظر،مرنے کے بعد کیا ہو گا”سے لیکر دنیا بھر میں مقبول و معروف نام پائلو کائلو تک ہر بڑے نام اور مقام والی شخصیت نے اپنے لئے خود سے مارکیٹنگ کی ہے،اپنے آپ پر خود محنت کی ہے،گلی میں نکل کر ،دروازوں اور دکانوں پر جا کر خود کو لوگوں میں متعارف کروایا ہے۔کامیابی کے سفر کا آغاز ہمیشہ ہی صفر سے کیا جاتا ہے،۔لاکھوں کروڑوں میں سے کوئ ایک نام ہوتا ہے جس کے قدموں میں کامیابی درخت سے ٹوٹے سیب کی طرح قدموں میں آ گرتی ہے ورنہ سب کو اس کے لئے انتھک محنت اور ریاضت کرنی پڑتی ہے۔یہ اور بات کہ نام بنا لینے کے بعد کچھ لوگ یہ تاثر دینے لگیں کہ قسمت ان کے گھر کی ہمیشہ سے باندی تھی۔زندگی کی اور محنت کی حقیقت اس سے کہیں زیادہ کٹھن ہوتی ہے جتنی بیان کی جا سکتی ہے۔

اگر آپ کی آنکھیں ایسا سپنا دیکھنے کی جرات کرتی ہیں اور آپکے دل میں بھی کوئ ایسی چاہت سر اٹھاتی ہے تو سمجھیں آپ میں بلاگر بننے کے وہ مفید جراثیم موجود ہیں جن کو پروان چڑھا کر کچھ محنت مشقت کر کے آپکے بلاگ کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے,آپکی آنکھوں میں وہ ہی سپنا جاگتا ہے جو کبھی میری نظروں میں چمکا۔

یہ سپنے کاپی پینسل لیکر،یا نوٹ پیڈز پر،سمارٹ فون یا آئی پیڈ کی کھڑکی پر نہیں دیکھے جاتے،یہ چلتے پھرتے،سبزی خریدتے ،سالن بناتے،بچے سنبھالتے،شاپنگ کرتے،کاروبار یا ملازمت میں مگن،فائلیں ڈھوتے،لیکچر دیتے آپکی آنکھوں میں جھانکتے رہتے ہیں۔ذندگی کا ہر نیا سبق اور مشاہدہ،کوئ غزل یا نظم،انشائیے یا ناول،بچوں کی کہانیاں یا تربیت،ہر وہ ہنر یا تخلیقی صلاحیت آپکے دامن میں بھری ہے،آپ کو ہمیشہ اکساتی ہے کہ آپ دنیا کو اپنے دامن میں بھرے ہنر سے آگاہ کریں۔ایک بلاگ آپ کو یہ موقع دیتا ہے کہ آپ اپنی مٹھی میں سمٹی صبحوں کو یا پاؤں تلے چرمرا کر رہ جانے والی شاموں کی داستان کسی کی مدد کے بغیر دنیا کے سامنے پیش کریں۔کچھ کہہ لینے،بتا دینے،کر دکھانے کا یہی جنوں تھا جو مجھے بھی بلاگ کی شروعات پر ہمیشہ اکساتا تھا۔

بلاگ کیا ہے:

عالمی سطح پرویب لاگ
weblog
کا آغاز لگ بھگ 1995 سے ہوا جو جلد ہی مقبول اور مختصر ہو کر بلاگ
blog

میں بدل گیا۔ ۔ابتدائ طور پر یہ ایک آن لائن لکھے جانے والی ڈائری یا جرنل کی طرح سے تھا جسکا روزانہ لکھا جانا ضروری تھا اور اس کے لئے عمومی طور پر روزمرہ واقعات اور حالات لکھے جاتے۔عالمی سطح پر اس فورم نے بہت مقبولیت پائی اور خصوصاً انگلش لکھنے والوں نے دھڑا دھڑ اپنی ذندگی کی کہانیاں ،ان میں درپیش روزمرہ کے مسائلِ اور داستانیں لکھی،ماوں کی بچے سنبھالنے میں مشکلات،طلبا اور طالبات کے دوستی اور محبت کے جھگڑے،نوکری سے مسائل،بزنس کے جھمیلے،روزانہ کے خواب،وزن کم کرنے کی روٹین، سیرو سیاحت کے شوقین اپنے شوق کی تشہیر اور کئی طرح کے شوق اور جنون رقم کر کے لوگوں نے دھڑا دھڑ ان بلاگز کو اپنے کتھارسس کے لئے استعمال کیا۔اسکی افادیت نے جلد ہی اسکا سکوپ وسیع کر دیا اور لوگ اسے اپنے تخلیقی کاموں کی تشہیر اور اپنے بزنس میں مدد کے لئے بھی استعمال کرنے لگے،کمپنیاں اپنی پراڈکٹ کی تشہیر کے لئے بھی اور اخبارات اور رسائل ذیادہ سے ذیادہ قارئین اور لکھنے کے شوقین کو متوجہ کرنے اور رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے اس کے لئے جگہ مختص کرنے لگے۔ ۔اتنے سالوں بعد اب آپ کو انگلش دنیا میں ہر موضوع اور ہر انداز کا بلاگ ملتا ہے۔اگرچہ اردو کے لکھنے اور پڑھنے والوں تک اسکا علم اور شوق بہت دیر سے پہنچا۔آج بھی اردو بلاگ لکھنے والوں کی تعداد عام لکھاریوں کی نسبت بہت ہی کم ہے جبکہ اردو بلاگ پڑھنے والوں کی تعداد بھی کچھ ذیادہ حوصلہ افزا نہیں۔اور حقیقی روزنامچہ کی طرز پر بلاگ لکھنے والے کم سے کم اردو میں بڑی مشکل سے ملتے ہیں۔جانے اس کی وجہ ہماری جرات کی کمی ہے کہ ہمیشہ کسی کی اور میں چھپنے کی عادت یا ڈیجیٹل دنیا سے ایک خاص فاصلے پر رہنے کی وجہ۔اسکی ایک وجہ تو عوام کی اکثریت کا پڑھنے لکھنے سے متنفر ہونا بھی ہے تو دوسری بہت اہم وجہ انٹرنیٹ کے مفید استعمال کی طرف رحجان کا بہت ہی کم ہونا ہے۔عوام کی اکثریت سوشل میڈیا سے بڑھ کر انٹرنیٹ سے فوائد حاصل کرنے میں کوئی خاص توجہ اکثر نہیں دکھاتی۔اردو بلاگ لکھنے والوں میں بھی ذیادہ تر تعداد ایسے افراد کی ہے جو اپنا تخلیقی کام لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔اور کم سے کم ابھی تک پاکستان کی اکثریت بلاگ کے صحیح مفہوم اور انداز کو نہیں پہچان سکی۔ابھی تک ایک بڑی اکثریت اپنی پروفائل یا پورٹ فولیو کو ہی ذاتی بلاگ سمجھتی ہے جو اگرچہ بلاگ کا ایک بہترین استعمال بھی ہے مگر سب کچھ صرف یہی بھی نہیں،اس کے علاؤہ بھی بہت کچھ ہے بلاگنگ میں جس سے اکثریت ناواقف ہے۔لیکن بلاگنگ کے بارے میں کم علمی بحر حال اسکی افادیت اور آج اس کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتی۔

بلاگ کے ذریعے اپنی تخلیق یاہنر لوگوں تک پہنچانا ایسے ہے جیسے کرایہ کے گھر کی بجائے،آذادی اور اعتماد کے ساتھ اپنے ذاتی گھر میں رہنا،کسی کی نوکری کرنے کی بجائے اپنا بزنس کرنا،خودمختار طریقے سے اپنی آڈینس سے روابط قائم کرنا ،اپنا کام یا مہارت اپنے بل بوتے پر لوگوں کے سامنے رکھنا،اپنی مارکیٹنگ خود کرنا،اور اسے آگے بڑھانے میں اپنے بل بوتے پر محنت کرنا۔بہت پرانی بات ہو گئی کہ دنیا گلوبل ویلیج بن چکی،اور سمٹ کر ہماری ہتھیلی میں اک سمارٹ فون میں سما چکی،بلاگنگ ہے اس سمٹی ہوئی دنیا میں اپنا سٹال لگانا یا اپنی دکان ڈالنا جس پر آپ اپنا کام لوگوں کو دکھا سکیں اور اس کی قیمت لگوا سکیں۔

__________________

(جاری ہے)

تحریر: صوفیہ کاشف
ابتدائی طور پر “الف کتاب”ڈیجیٹل پورٹل پر شائع ہوا

4 Comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.