صبح صبح دھوپ پھیلنے سے پہلے کوئی بالکنی پر نکلتا اور اس پر سجائے تمام پودوں کو پانی سے سیراب کرتا تو چھت سے لٹکی گل دوپہری کی پتلی پتلی ہتھیلیوں سے پانی کے قطرے نیچے کو گرنے لگتے ۔عمارتوں کے آس پاس سیاہ فاختائیں ہر وقت اپنی اداس لے میں کوئی گیت گاتی رہتیں ،جسے لوگ موسیقیت سمجھتے،کوئی نہ جان سکتا تھا کہ ماتم بھی ہو سکتا تھا۔سورج عمارتیں پھلانگتے آدھا دن لگا دیتا اور دن کے عین وسط میں عمارت سے آگے بڑھ کر رخ روشن عیاں کرتا تو بالکنی پر لگی نم نمدیدہ گل دوپہری بازو پھیلائےایک طویل انگڑائی لیتی، شاخوں کو جھٹکتی ، پتیوں کو سنوارتی کہ بلآخر دن کی روشنی کو کئی گھنٹوں تک سامنے والی عمارت پر تکتے رہنے کے بعد اب تمازت پنکھڑیوں تک پہنچی تھی ۔ قریب لگی بوگن ویلیس کی پتوں سے بھری شاخیں بھی لہرانے اور جھومنے لگتیں کہ ان پر اتری سرسبز رت بھی دھوپ سے محبت کی پینگیں بڑھانے کے سبب تھی۔ساتویں منزل پر واقع سرسبز بالکنی میں جہاں اسے مہمان بنے چند ہی ماہ ہوئے تھے بوگن ویلیس کڑکتی ہوئی آٹھ گھنٹوں کی دھوپ کو ترس گئی تھی۔ شاخیں پتوں سے لدی تھیں مگر تپتی شعاعوں کی کمیابی گلابی بہار سے محرومی کا سبب تھی ۔دو چار پھول پندرہ بیس ٹہنیوں پر احسان کرتے سر اٹھاتے اور کچھ دن پتوں ،فاختاوں،اور گھر کے باسیوں کا دل بہلاتے ،زرد پڑتےمرجھانے لگتے۔پھولدار بیل پھولوں سے نہ بھرے،اس سے بڑا دکھ بھلا کیا ہو گا۔ گلابی پھولوں اور ہرے پتوں کو خبر نہ تھی کہ کچھ دکھ پھولدار نہ ہونے سے بھی بڑے تھے۔ پھول نہ ہونے کا غم ایک طرف کبھی کبھی اونچے درختوں کو جڑوں سمیت زمین بوس بھی ہونا پڑ جاتا ہے۔۔۔۔سیاہ رنگ فاختائیں ہواؤں میں نوحے سے پڑھتی تھیں،جن کا درد کوئی سمجھ نہ پاتا تھا۔قریب رکھے موتیا کے پودے سرشام وجد میں آتے اور خوشبو سے یہ بالکنی مہک سی جاتی،مستی میں سارا سبزہ سر دھننے لگتا،شاخیں سرور میں آ جاتیں، ہوائیں خوشبو کو تھامتے مغرور ہو جاتیں۔ذندگی اس گیارہ فٹ لمبی سات فٹ چوڑی بالکنی پر اٹھکیلیاں بھرتی تھی۔صحرا نما مہمان نواز شہر میں یہ پودے،اور بالکنی ایک مہاجر کی ذندگی کی ضمانت تھیں اور آس پاس کی کئی عمارتوں میں بسے مہاجرین کے لئے ایک خوبصورت امید افزا نظارہ تھی۔آس پاس کے فلیٹس کے باسی جب اپنی بالکنیوں پر نکلتے تو کھلتے مسکراتے پھولوں پر نظر ڈالے بغیر لوٹ نہ پاتے۔قریبی خالی پلاٹ پر ریسٹورنٹس سے روزانہ بچے کھچے کھانوں کا بھرا تھال پلاٹ کے عین بیچ میں دھر دیا جاتا، اور قرب و جوار کی کھڑکیوں پر بسنے والے سارے کبوتر اور فاختائیں ریتیلی زمین پر سجی من و سلوی کی ضیافت پر غول در غول اتر آتے! یہ علاقہ عرب صحرا کا رہائیشی علاقہ تھا جہاں کجھور یا چند جھاڑیوں کے سوا کچھ نہ اگتا تھا۔حکومت دوسرے شہروں سے مٹی منگوا کر درخت لگاتی مگر سارے پرندوں کو آشیاں پھر بھی میسر نہ آتا۔چاروناچار وہ اپنا ٹھکانہ ان عمارتوں کی کھڑکیوں میں یا بے آباد بالکنیوں میں بنا لیتے تھے۔یہ وبا کے زمیں پر اترنے سے کچھ دن پہلے کی بات ہے جب فاختاؤں کے ماتم سب کوگیت لگتے تھے۔۔۔۔

پھر کچھ کبوتر اور کالی فاختائیں بالکنی میں رکھے سبزے سے مرغوب ہو کر اس میں اترنے لگے تھے۔ کبھی کبوتر اور کبھی فاختائیں پودوں اور بیلوں کے بیچ اترتیں اور پھولوں اور پتوں سے سرگوشیاں کرتیں ،کچھ دیر نرم نم مٹی پر سستا لیتیں۔مگر بس نہ پاتیں کہ کوئی نہ کوئی بالکنی پر صفائی ستھرائی یا پانی کی سیرابی کے لئے نکلتا،تو نرم نرم سائے سے نکل کر انہیں اڑنا پڑتا۔۔۔۔پھر بھی ہواؤں میں ہر وقت فاختاؤں کی آوازیں گونجتی تھیں۔۔۔

سامنے کچھ اور بھی بالکونیوں میں کچھ گملے اور بوٹے کچھ عرصہ پہلے ہرے تھے ،مگر رفتہ رفتہ دروازوں پر تالے پڑ گئے اور پانی کی قلت سے باری باری پودے سانسیں ہار چکے تھے۔ بوگن ویلیس اور موتیا کے پھول جھومتے سیٹیاں بجاتے تو مردہ پودوں کی ٹہنیوں سے آہ تک برآمد نہ ہو پاتی تھی۔بالکنیاں کئی دنوں سے خالی تھیں۔ اب انہیں سیراب کرنے والا کوئی نہ رہا تھا۔سیٹیاں مارتے پھول اور پتے اگر پرندوں کی زباں جانتے بھی تھے تو اپنے رکھوالوں کو بتا نہ پاتے تھے۔خموش آنکھوں سے بس شب وروز ایک سلامتی کی دعا میں مگن رہتے تھے۔

کچھ ہی دن پہلے کی بات ہے کہ شہر کی زمیں پر کوئی وبا اترآئ تھی۔لوگ گھروں میں قید ہو کر رہ گئے،عمارتوں کے نیچے پارکنگ میں گاڑیاں کھڑے کھڑے تھک گئیں،سڑکیں کسی رفتار کو ترسنے لگیں ،گلیاں ویراں ہو کر ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگیں!دن بھر لوگ گھڑی گھڑی کبھی دائیں کبھی بائیں کھڑکی کے پاس کھڑے باہر کو تکنے لگے،کسی سراغ کو ترستے۔یہ رستوں کی پیداوار تھے،یہ اپنے دیسوں کے نکالے ہوئے پرندے تھے جو دانہ دنکا چنتے اس عرب صحرا تک چلے آئے تھے،کہ صحرا تھا مگر رزق خوب دیتا ہے،سورج کی تپتی دھوپ سے بچاتا تھا اور نسلوں کو پالنے کے لئے کھڑکیوں میں آشیاں بھی مہیا کر دیتا تھا۔دن بھر بند کھڑکیوں کے پیچھے اٹھتے بیٹھتے لمحے گنتے یہ لوگ تھک جاتے تو شام ڈھلتے ہی ہر کوئی اپنی بالکنی پر کرسی لئے نمودار ہو جاتا۔بچے بالکنی پر شور مچانے ،لڑنے جھگڑنے لگتے ،بڑے باہر کی ہواؤں سے کسی امید کا سراغ ڈھونڈتے،وہی آسماں جس پر سے ہر چند سیکنڈ کے بعد ایک ہوائی جہاز گزرتا تھا اب اسی آسماں کو تکتے تھے کہ جہاز نہ سہی اس پر سے کوئی اڑن کھٹولا ہی اترے دوا یا دعالے کر! مگر ذندگی کسی مصنف کی داستان نہ تھی کہ جب چاہے جو چاہے انجام کار کر دے۔ذندگی تو ایک طلسم ہوشربا تھی،کل کیا ہو کوئی جانتا نہ تھا،بس ہر کوئی انجانے خطروں سے ڈرتا تھا اور کوئی سجدے میں سر رکھے ،کوئی مورتی کے سامنے اگربتی پکڑ کر،کوئی صلیب کو چوم کر بقا مانگتا تھا۔ہر کوئی اپنے آشیاں کی سلامتی کا طالب تھا،ہر کسی کو اپنے روزگار کی فکر تھی۔ذمیں پر ایک وحشت تھی اور آسماں پر صرف ایک طاقت تھی کہ جس تک ہر بت اور صلیب ہر سجدہ پہنچ کر گھٹنے ٹیک دیتا تھا،ہر کوئی معاشی سلامتی کا طالب تھا۔

رات اترےشہر کی کچھ گلیوں میں کچھ محافظ ماسک پہنے گاڑیوں پر نمودار ہونے لگے۔گلیوں میں دواؤں کی بو سستانے لگتی۔لال اور نیلی بتیوں والی کچھ گاڑیاں دھیرے دھیرے گلیوں کا طواف کرنے لگتیں تو امید کے طالب لوگ بالکنیوں میں کھڑے ہو جاتے،ہاتھ ہلاتے ،بازو لہراتے اور “عیشی بلادی” کے ترانے گاتے۔ایک آواز لگاتا تو سب کے سب سر ملانے لگتے،تالیاں پیٹنے لگتے،یہ سب دیس نکالے لوگ تھے جنہیں ایک امید کی طلب تھی۔ان گلیوں کو انہوں نے جوانیاں دے رکھی تھیں, اس شہر پر وہ اپنی ساری طاقت لگا چکے تھے،اپنے جسم کی ہر بوند تک اس زمیں کو پلا چکے تھے اور اب ڈرتے تھے کہ اب اس ڈھلتی عمر میں اگر کوئی دیس نکالا مقدر ہوا تو کون سی زمیں پر اماں ملے گی۔یہ وہ لوگ تھے جنکے اپنے دیسوں میں ان کا کوئی گھر تھا نہ جائیداد۔یہ مہمان بن کر تحائف لیکر دیس پہنچتے تھے اور کچھ ہی دن میں مہمانوں پر بار بنے بغیر اپنے پردیس کو لوٹ آتے تھے۔جانتے تھے کہ تحائف لے کر مہمان نوازی کرنے والے ان کو اماں نہ دے سکیں گے۔ رشتے،خوشیاں محبتیں،معاشرہ سب وہ بقا پر قربان کر چکے تھے اور اب وہی بقا،اپنی بقا کی جنگ لڑتے ہارنے لگی تھی۔جس قدر دل ڈرتا ان کی آواز مزید گونجنے لگتی،”بلادی بلادی بلادی”میرا وطن ،میرا وطن،میرا وطن۔۔۔۔۔۔۔گاتے گاتے گلے میں کئی دکھ ہوکے بھرنے لگتے، آوازیں تھرتھرا جاتیں،دل خود کو سنبھالنے کی کوشش میں غرق ہو جاتا۔التجای صدائیں دہائی دیتیں،اپنی وفاداریوں کی گواہی دیتیں،اپنی قربانیاں یاد کرواتیں!!!میرا وطن،جو جانے کہاں تھا کونسا تھا،مہاجروں کا کوئی وطن نہیں ہوتا! ہمیشہ ایک کی طرف مڑ مڑ دیکھتے رہتے ہیں اور دوسرے سے ہر قدم پر ڈرتے رہتے ہیں۔یہ دیس نکالے ہمیشہ آدھے رہتے ہیں۔

جب بالکنیاں ان ترانوں اور اس میں گونجتی بقا کی صداؤں کے بوجھ سے تھک جاتیں،پتے پھول دکھوں کی حرارت سے نم ہو جاتے تو یہ دیس نکالے لوگ بستروں پر لوٹ آتے،اور رات بھر خوابوں میں خود سے بھی ڈرتے رہتے،شب بھر خواب میں ان کی امیدیں اور خوف بھوت بنگلہ جگا لیتیں۔عجیب سی راتیں تھیں عجیب سی نیندیں! جاگتے تھے تو تھک جاتے تھے،سوتے تو مزید تھک جاتے تھے،خوابوں کی دہشت سے اعصاب شل ہو جاتے۔

پھر ایک نیا سورج نکلتا ،نئی دھوپ بالکنیوں میں اترتی اور پھر سے ہر پھول ہر پتہ اور کبوتر امید کی تلاش میں لہلانے لگتے۔پھر سے کچھ سیاہ فاختائیں مرثیوں کی چاپ کرنے لگتیں۔پھر آہستہ آہستہ لوگوں کی آواز اور انداز مدھم ہونے لگا۔کچھ بالکنیوں کے دروازے مستقل بند رہنے لگے اور ان کے چمکتی ٹائلوں والے فرش ریت سے اٹنے لگے۔جن کے دروازے کھلتے تھے ان کے گلے بیٹھ چکے تھے۔اور امیدوں کے چراغ آخری سانسوں پر ڈرے بیٹھے تھے۔

مگر گل دوپہری ابھی بھی اپنے وقت پر نم ہو جاتی ،بوگن ویلیس سوکھنے سے پہلے سیراب ہو جاتا،موتیا حسب توفیق روٹھتی بالکنیوں کے بیچ اپنے سُر جگانے کی حتی المقدور کوشش کرتا۔

ایک دن ایک فاختہ سر شام بالکنی پر بیٹھی تو پھر رات بھر ایک گملے میں نمی کے اوپر سوکھی شاخوں کو لپیٹے ایک گھونسلہ بنائے بیٹھی رہی۔ دروازہ کھلا نہ اڑائی ہی گئی۔دم سحر گل دوپہری کا منہ سوکھنے لگا اور سانس اکھڑے لگا۔بارہ گھنٹوں سے پانی کی ایک بوند تک نہ مقدر ہوئی تھی۔تپتا سورج گرم لوہے کی تپتی سلاخیں لیکر دیدار کو آیا تو دم مرگ پڑی دوپہری کے ساتھ اب موتیا اور بوگن ویلیس بھی سر ڈھلکے بیٹھے تھے۔تپتے سورج کی آنکھوں سے نکلتے شعلے حیرانی اور غم سے بالکنی میں اترے۔کیوں آج اس کی حرارت سے کوئی جگمگایا نہیں؟ پھولوں بھری اس چھوٹی سی زمین پر ریتیلا صحرا اتر چکا تھا!شام ڈھلنے سے رات اترنے تک دو فاختائیں دو گملوں پر آشیاں بنا کر بیٹھ گئیں۔اب ویرانے ان کی اماں ہو گئے تھے۔سیاہ فاختائیں جیت گئیں،سفید کبوتروں کی آس دم توڑ گئی۔گل دوپہری مر چکی تھی اور بوگن ویلیس اور موتیا سمجھ چکے کہ ان کے مقدر کو وبا لاحق ہو چکی تھی۔

________

صوفیہ کاشف