تحریر:شازیہ خان
کور ڈیزائن:طارق عزیز
_______________
قسط نمبر 15

چند ہفتے کرائے کے فلیٹ میں گذار کر وہ اپنے اس فلیٹ میں آگئی جو ایک پوش علاقے میں کبیر علی اس کے نام کر چکے تھے۔۔۔ اب وہ فلیٹ مکمل طور پر ڈیکوریٹ ہو چکا تھا۔اُسے ذرا ملال نہ تھا کہ وہ اپنی جنت کو کیسے ٹھوکر مار کر آچکی ہے۔۔۔ ماں تو جنت تھی ہی مگر اپنی اولاد کو کون چھوڑتا ہے۔۔۔ وہ مطمئن تھی کہ ایک بار عمر سے شادی ہو جائے وہ آیان کو بھی پالے گی۔۔۔ آج زندگی اگر اس پر مہربان ہو چکی تھی تو یقینا مستقبل بھی اُسے مایوس نہیں کرے گا۔۔۔
اس نے اپنے فلیٹ کو بہت خوبصورت ڈیکوریٹ کیا تھا۔۔۔ آیان کی میڈکی بہن کو وہ اپنے ساتھ لے آئی تھی۔۔۔ اور اس وقت وہ اس کی دُسراہٹ بنی ہوئی تھی۔۔۔ آج عمر کو اس نے کھانے پر بلایا تھا۔۔۔ اس کے لیے خود ہی سارا کھانا تیار کیا۔۔۔ بریانی کو دم لگا کر میٹھا بنا یا اور فریج میں رکھ دیا۔۔۔ حمیرا سے سلاد بنانے کا کہتے ہوئے وہ کمرے میں آگئی تاکہ عمر کے آنے سے پہلے تیار ہو سکے۔۔۔ عمر کے پسندیدہ رنگ کا سوٹ نکال کر وہ واش روم میں گھس گئی۔ شام کے سات بجنے والے تھے۔۔۔ اور کچھ دیر میں ہی عمرآنے والا تھا۔۔۔ اس کے لاؤنج میں آنے پر پتا چلا کہ وہ تو کافی دیر سے لاؤنج میں بیٹھا تھا۔ حمیرا نے اُسے کافی بنا کر دے دی تھی۔۔۔ ” یار کیا زبردست فلیٹ ڈیکوریٹ کیاہے۔۔۔” عمر نے دل سے تعریف کی۔۔۔” ان میں سے بہت سی شاپنگ دبئی سے کی ہے۔۔۔ کافی مہنگی چیزیں ہیں۔۔۔” وہ مُسکرا کر بولی۔۔۔”نظر آرہا ہے۔۔۔ تمہارا Tasteبہت اچھا ہے۔۔۔” وہ بھی مسکرا کر بولا۔۔۔” میں جس چیز پر ہاتھ رکھتی کبیر علی فوراً دلا دیتے۔۔۔” یہ کہہ کر اس نے زبان دانتوں کے نیچے دبالی۔۔۔ غلط موقع پر غلط بات کرنے پر اماں ہمیشہ اُسے ڈانٹتیں۔۔ لیکن اُسے کبھی احساس نہ ہوا لیکن آج پہلی بار احساس ہوا کہ وہ یہاں کبیر علی کا نام لے کر سامنے والے کو کتنا بدمزہ کر بیٹھی۔۔۔عمر نے اس کی بات کویوں نظر انداز کیا جیسے اس نے کچھ سُنا ہی نہ ہو۔۔۔ “چلو مجھے پورا فلیٹ دکھاؤ۔۔۔” وہ میز پر کافی کا خالی کپ رکھ کر اُٹھ کھڑا ہوا۔۔۔” ہاں چلو۔۔۔ پھر کھانا کھاتے ہیں۔۔۔” اس نے فلیٹ کا ایک ایک کونا عمر کو دکھایا۔۔۔ عمر کو فلیٹ کا ٹیرس بہت پسند آیا۔۔۔” جب دسمبر کی شدید ٹھنڈمیں ہلکی ہلکی دھوپ ہوگی تو میں اور تم یہاں بیٹھ کر کافی پئیں گے۔۔۔”سامعہ نے آگے کی پلاننگ بتائی۔۔۔ عمر نے غور سے اُسے دیکھا۔۔۔” کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔” وہ تھوڑا پزل ہوئی۔۔” کچھ نہیں۔۔۔ بس سوچ رہا ہوں کہ اگر ہم دونوں کی محبت کو بابا تسلیم کر لیتے انہیں اپنی بھانجی سے اتنا پیار نہ ہوتا تو شاید آج تم یہ بات نہ کرتیں۔۔۔” ” کیا مطلب؟” وہ ناسمجھی کے انداز میں بولی۔۔۔ مطلب اس وقت میں تمہیں اپنے بڑے سے گھر میں لے جاتا اور اپنے ٹیرس پر کھڑا ہوا یہی جملہ تم سے کہہ رہا ہوتا۔۔۔ لیکن دیکھو تمہاری محبت نے مجھے کہاں لا کھڑا کیا ہے؟ ہمیں اس طرح شادی کرنا پڑ رہی ہے”۔۔ وہ شادی جیسے بندھن کے لیے سوائے میڈم صباح کے کبھی جذباتی نہیں ہوا تھا۔۔۔ میڈم صباح نے ہی اس پر اچھی طرح واضح کر دیا تھا۔ ہمارے دھندے میں جذباتی تعلق کی کوئی اہمیت نہیں اگر اس طرح ہر قدم پر جذباتی تعلق بناتے رہے تو شاید کر چکے اپنا دھندہ۔۔۔ تو بچے آرام سے پرفیشنلی تعلق بناؤ کام نکالو اور چھوڑ دو۔۔۔ بزنس میں دل کی نہیں دماغ کی اہمیت ہوتی ہے۔۔۔ اور اس نے اب تک دماغ سے ہی کام لیا تھا۔۔ لیکن وہ اچھی طرح جانتا تھا۔۔۔ سامعہ کے معاملے میں ایسا ممکن نہیں وہ وقتی تعلق کی قائل نہیں تھی پور پور اس کی محبت میں ڈوپ چکی تھی اسی لیے اس کی ذرا سی بے دھیانی نے ان دونوں کا پول کھول دیا اور کبیر علی پر سب آشکار ہو گیا۔۔۔ ورنہ شادی کا لارا دے کر آہستہ آہستہ اس نے سامعہ سے سب کچھ حاصل کر لینا تھا۔۔۔ اب مجبوری میں اسے اس تعلق کو کاغذی رشتے میں باندھنا ہی پڑے گا۔۔۔ ورنہ وہ اتنی آسانی سے اپنا ہاتھ پکڑانے والی لڑکی نہیں تھی۔۔۔ اتنا تو اُسے بھی معلوم تھا کہ چند سالوں میں اس کی قسمت بہت مہربان تھی۔۔۔ اور وہ گلی محلے میں رہنے والی ایک پوش علاقے میں اپنے کڑوڑوں کے فلیٹ کی مالک تھی۔۔۔ یقینا بنک بیلنس بھی خوب ہوگا۔۔۔ ابھی تو اس نے چند لاکھ ہی سامعہ سے نکلوائے تھے۔۔۔ شادی کے بعد ہی وہ اس سے اس کا سارا پیسہ نکلوا سکتا تھا۔۔۔” ارے چھوڑو کن فضول سوچوں میں گُم ہو گئے۔۔۔ تمہارا گھر میرا گھر ایک ہی بات ہے۔۔۔ محبتوں میں میرا تیرا نہیں کرتے۔ بھول جاؤ کہ تم کس ٹیرس پر کھڑے کافی پیتے تھے۔۔۔ بس یاد رکھو تو اتنا کہ تم آج کہاں کھڑے ہو۔۔۔کس کے ساتھ کھڑے ہو۔۔۔ میں بھی توصرف اس لمحے میں جی رہی ہوں۔۔۔ تمہارے ساتھ اور تم نہیں جانتے کہ میں کتنی خوش ہوں۔۔۔” اس کی آنکھیں ٹمٹما رہی تھیں اور وہ سوچ رہا تھا کہ بعض اوقات مشکل سے عقل مند نظر آنے والے لوگ کتنے بے وقوف ہوتے ہیں۔ کسی کے جال میں کتنی جلدی پھنس جاتے ہیں۔۔۔” کیا ہوا اگر اُسے میرے ارادوں کا معلوم ہو جائے۔۔۔؟ یہ معلوم ہو جائے کہ بے شک اس کی نظر میں میں اس کا محبوب ہوں لیکن میری نظر میں وہ صرف ایک اے ٹی ایم کارڈ ہے۔۔۔ ایسا اے ٹی ایم جو قدرت نے خود بہ خود میری جھولی میں ڈال دیا ہے۔۔۔ جابچہ عیش کر۔۔۔ وہ سرجھکا کرمُسکرایا تو اس نے پوچھ ہی لیا۔۔۔” کیا ہوا کیوں مُسکرائے۔۔۔” ” بس سوچ رہا ہوں قسمت مجھ پر کتنی مہربان ہے جس نے تم جیسی محبت میری جھولی میں ڈال دی۔۔۔”تم سے زیادہ تو میں خوش نصیب ہوں زندگی میں جب جو چاہا پا لیا اور اب دیکھو تم بھی میرے نصیب میں تھے تو مل گئے۔۔۔” وہ ٹیرس پر لگی ریلنگ سے ٹیک لگا کر ایک ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے بولی۔۔۔ تو وہ اس کے بہت قریب آگیا۔۔۔ شاید کسی کمزور لمحے میں وہ خود بھی بہک جاتی لیکن اسے دھکا دیتے ہوئے ہٹاتی وہ یہ کہتی ہوئی اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔” سنو میں کھانا لگوا رہی ہوں جلدی سے آجاؤ۔۔۔ ” عمر نے ریلنگ پر ایک زور دار مکّا مارا۔۔۔ اس لڑکی کی یہی بات سب سے بُری تھی کمزور لمحوں کی گرفت سے بآسانی نکل جاتی تھی۔۔۔ حالاں کہ اب تو کسی قسم کا خوف بھی نہ تھا۔۔۔ نہ اماں ابا تھے اور نہ ہی کوئی اور رشتہ لیکن سامعہ اپنی حدود جانتی تھی۔۔۔ شاید اچھائی یا برائی اختیار کرنے میں ہماری تربیت کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔۔۔ جو باتیں بچپن میں سکھا دی جائیں۔۔۔ وہ شاید بڑے ہو کر بھی بُری ہی لگتی ہیں بے شک وہ پیسہ آنے اور کبیر علی سے شادی کے بعد بہت حد تک آزاد خیال اور ماڈرن ہو چکی تھی لیکن محرم اور نامحرم کا سبق اُسے آج بھی یاد تھا۔۔۔ عمر آفندی ابھی تک اس کے لیے نامحرم تھا۔۔۔ اور نامحرم کو کتنے فاصلے پر رکھا جاتا ہے وہ یہ بات بہ خوبی جانتی تھی۔۔۔ وہ بد مزہ سا ہو کر ڈائننگ روم میں آگیا۔۔۔ جہاں وہ کام والی کے ساتھ میز پر کھانے کی پلیٹیں رکھ رہی تھی۔۔۔ عمر نے یوں ظاہر کیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔۔ اُسے اپنے جذبات پر کنٹرول حاصل تھا۔۔۔ اس نے کھانے کی خوب تعریف کی۔۔۔ اور پھر کافی کا دور چلا۔۔۔ دونوں کافی دیر تک مستقبل کی پلاننگ کرتے رہے۔۔۔ ” بس کبیر علی کی طرف سے پیپرز کی دیر ہے۔۔۔”اس نے عمر کو اپنی طرف سے حوصلہ دیا کہ تھوڑا انتظار کرو۔۔۔” ہاں جانتا ہوں اور دُعا بھی کر رہا ہوں کہ جلد از جلد وہ تمہیں فارغ کرے تو ہم دونوں کی تنہائی ختم ہو۔۔۔” اس نے ٹھنڈی سانس لے کر اُسے دیکھا تو وہ تھوڑا پزل ہو گئی۔۔۔” میرے خیال میں رات کافی ہو گئی ہے تمہیں اب چلنا چاہیے۔۔۔” خود کو سنبھالتے ہوئے وہ مسکرائی۔۔۔ ” ہاں ٹھیک کہہ رہی ہو۔۔۔ دل تو نہیں چاہ رہا لیکن رُکنے کا کوئی فائدہ بھی تو نہیں بہت ظالم ہو۔۔۔” اس بار وہ بھی کھڑا ہو گیا۔۔۔ تو وہ اس کی بات پر ہنس پڑی۔۔۔ ” ہاں ہاں ہنس لو۔۔۔ کاش میری حالت تمہاری ہوتی تو پوچھتا کہ ہنسی کیسے آتی ہے۔۔۔” کہا نا تھوڑا انتظار کر لو۔۔۔ بس طلاق کے بعد عدت کا ٹائم گذار کر ہم سادگی سے شادی کر لیں گے۔۔” عدت کا ٹائم بھی باقی ہے۔۔۔”وہ تقریباً چیخ ہی پڑا تو اس نے سمجھایا کہ طلاق کے بعد ساڑھے چار مہینے کی مدّت عورت کو گذارنی پڑتی ہے۔۔۔یہ شرع کی حد ہے جس کے بغیر شادی جائز نہیں۔۔۔ اس بات پرجیسے عمر کو موت ہی پڑ گئی۔۔۔ لیکن جیسے تیسے اس نے سامعہ کی بات کو سمجھا اور وہاں سے رخصت ہوا۔۔۔ سامعہ اس کی اتنی محبت پر نہال ہو رہی تھی۔۔۔ اب وہ خود بھی جلد از جلد کبیر علی کی طرف سے پیپرز کے انتظار میں تھی۔۔۔ اور ایک ہفتے کے بعد ہی TCSوالے سے طلاق کے پیپرز وصول کر رہی تھی۔۔۔اس نے ٹھنڈی سانس لے کر اپنا لفافہ چاک کیا اور بہ غور پورے پیپرز کو پڑھا۔۔۔ سب سے زیادہ تکلیف وہ لائن وہ شرط تھی جس میں آیان کی کسٹڈی ان کے پاس تھی۔۔۔ خیر بچے کو تھوڑا بڑا تو ہونے دو کبیر علی میں دیکھتی ہوں کہ تم کیسے اس کو اپنے پاس رکھ سکتے ہو۔۔۔ وہ میرا بیٹا ہے۔۔۔ اُسے میں حاصل کر کے رہوں گی۔۔۔ حمیرا سے ناشتہ بنانے کا کہہ کر وہ ٹی وی لاؤنج میں پڑے صوفے پر آبیٹھی۔۔۔ اسی وقت فون کی گھنٹی بج اُٹھی۔۔۔ اس نے موبائل اٹھا کر آن کیا اور کان سے لگا لیا۔۔۔
“ہیلو! مجھے اُمید ہے طلاق کے پیپرز تمہیں مل گئے ہوں گے۔۔۔ اور جلد تمہاری تمام خواہشیں طلاق کے کاغذات ملتے ہی پوری ہو جائیں گی۔۔۔”دوسری طرف کبیر علی تھے۔۔۔ ان کے گھرسے نکلنے کے بعد یہ ان کی پہلی بار ایک دوسرے سے گفت گو تھی۔۔۔
” سنو! عدالتی طور پر تو ہم دونوں کی راہیں اس کاغذات کی رو سے الگ ہو چکی ہیں۔۔۔ لیکن شرعی طور پر اس فون کے ذریعہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔ طلاق دیتا ہوں۔۔۔ طلاق دیتا ہوں۔۔۔” بہت سرد لہجہ تھا۔۔ وہ بہت خاموشی اور تحمل سے ان کی بات سُن رہی تھی۔۔۔ اب اس کے پاس بولنے کو کچھ بچا بھی نہ تھا۔۔۔
“اب صرف تم آیان کی ماں ہو۔۔۔تم اس سے کبھی کبھار مل سکتی ہو مگر اُسے حاصل کرنے کی اپنے پاس رکھنے کی کوشش کبھی مت کرنا۔۔۔”وہ اُن کے لہجے کی ٹھنڈک کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں اترتا محسوس کر رہی تھی۔۔۔ کبھی یہی لہجہ اس کے لیے پھول برساتا تھا۔۔۔ کتنی محبت ہوتی تھی اس لہجے میں سامعہ کے لیے۔۔۔ آج فکر تھی تو صرف آیان اپنے خون کی۔۔۔ واقعی کسی نے سچ کہا ہے سب سے زیادہ ناقابلِ یقین رشتہ میاں بیوی کا ہی ہوتا ہے۔۔۔ پل بھر میں اجنبی ہو جاتے ہیں۔۔۔ اپنے اور اس کے رشتے کی ناکامی پر انہوں نے کمپرومائز کرلیا تھا۔۔۔ لیکن یہاں بات آیان کی تھی جس پروہ کوئی کمپرومائز نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔۔ ان دونوں کے درمیان آیان ایک ایسا تالا تھا جو دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر رکھ سکتا تھامگر اس تالے کی چابی تو سامعہ نے خود ہی گُم کر دی تھی۔۔۔ تو وہ کوئی دعویٰ کرنے کی مجاز بھی نہ تھی۔۔۔ اسی لیے اُس وقت اُس نے کبیر علی سے کوئی بح یا بات کرنا مناسب نہ سمجھا لیکن دل میں تہیہ کر لیا کہ آیان کے سات سال کی عمر تک پہنچتے ہی وہ اس کی کسٹڈی حاصل کرنے کی پوری کوشش کرے گی۔۔۔ بڑی خوشی سے اس نے فون بند کیااور خوش خبری عمر کو سنانے کے لیے فون کر ڈالا۔۔۔ وہ اسی وقت سو کر اٹھا تھا۔۔۔ اس کی بات پر رات کو ہی پارٹی ارینج کر لی۔۔۔ اورا س نے بھی کافی دنوں گھر میں پڑے پڑے بور ہونے کی وجہ سے اوکے کر دیا۔۔۔ وارڈ روب میں کپڑوں کو کھنگالا تو کوئی ڈھنگ کا کپڑا نہ ملا۔۔۔ جو آج کی خوشی کو سیلیبریٹ کرنے کے لائق ہوتا۔۔۔ تواس نے کچھ شاپنگ کی ٹھانی اور اپنی ایک دوست کو فون کر کے ساتھ چلنے کا کہا وہ بھی شاید تیار بیٹھی تھی۔۔۔ لنچ ٹائم میں باہر لنچ کرنے کا پروگرام بناتے ہوئے اس نے دوست کو ڈن کہا اور شاور لینے چل دی۔۔۔ حمیرا ناشتہ تقریباً تیار کر چکی تھی۔۔۔ اُسے ناشتہ اوون میں رکھنے کا کہہ کر وہ واش روم کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ وہ آج بہت خوش تھی۔۔۔ لگتا تھا کندھوں سے کوئی بوجھ اُتر گیا۔۔۔ کبیر علی جیسے شخص کا کچھ پتا نہیں کب محبت جاگ جاتی اور وہ طلاق دینے سے مُکر جاتے۔۔۔ لیکن آج طلاق کے کاغذات اور فون پر اُن کے منہ سے طلاق کے تین بول سننے کے بعد وہ مطمئن تھی کہ اب اس کی اور عمر کی شادی کی راہ میں کوئی روڑا باقی نہیں۔۔۔ اور جہاں تک رہی بات آیان کی وہ تو جلدہی اُسے بھی حاصل کر لے گی۔۔۔ اس دن اس نے دن بھرباہر گذارا۔۔۔ لنچ باہر کیا اور پھر اپنی دوست کے ساتھ ایک پارٹی میں آگئی۔۔۔ جہاں اس جیسی آزادی کی متلاشی بہت سی خواتین اپنے گھروں کے سکون سے آزادی حاصل کرنے کے لیے اکھٹی ہوئی تھیں۔۔۔ اونچی اونچی آوازمیں قہقہے لگا کر ایک سب دوسرے پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ انہیں اپنی آزادی کتنی پیاری ہے۔۔۔ آخر انہیں بھی تو جینے کا حق حاصل ہے۔۔ جب مرد اپنی مرضی کی زندگی گذار سکتے ہیں تو وہ کیوں نہیں۔۔۔ یہاں آکر وہ سب اونچے اور جھوٹے قہقہے لگا کر اپنی اپنی فرسٹریشن نکالتی تھیں۔۔۔ اور اُس شام چوں کہ وہ بہت خوش تھی اسی لیے اس نے عمر کے ساتھ بھی ڈنر بہت انجوائے کیا۔۔۔ رات گئے عمر نے اُسے اس کے فلیٹ تک چھوڑا۔۔۔حالاں کہ وہ دونوں اپنی اپنی کار میں تھے مگر عمر اس کے ساتھ مزید وقت شیئر کرنا چاہتا تھا۔۔۔ لیکن سامعہ نے عمر کو فلیٹ پر آنے کی دعوت نہیں دی۔۔۔ بے شک وہ اپنی عدت کا ٹائم گھر میں نہیں گذار رہی تھی مگر اتنا تو معلوم تھا کہ عمر کو اس وقت اس کے فلیٹ میں نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ وہ بہت بدمزہ سا لوٹ گیا۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔x
فون بند کر کے کبیر علی نے پاس سوئے آیان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دھیرے سے پیار کیا۔۔۔ وہ کسمسا کر رہ گیا۔۔۔ اُن کی آنکھوں سے دو آنسو ڈھلک کر آیان کے براؤن بالوں میں جذب ہو گئے۔۔۔ انہوں نے اس عورت کی خوشی کے لیے کیا کچھ نہیں کیا تھا۔۔۔سامعہ کی جائز اور ناجائز بات مانی۔۔۔ مگر بے وفا بے وفائی کی کوئی نہ کوئی راہ نکال ہی لیتا ہے۔۔۔ اس کے پاس اپنی بے وفائی کی کوئی نہ کوئی تو وجیہہ ہوتی ہے۔۔۔ وہ اُسے پوری طرح جائز سمجھتا ہے۔۔۔۔ آج محبت کے نام پر جیسے سامعہ نے انہیں چھوڑا تھا۔۔۔ وہ چاہ کر بھی اپنی محبت کو بددعا نہیں دے سکتے تھے۔۔۔ بچپن سے اب تک انہوں نے اپنے نام کے ساتھ سامعہ کا نام جڑتے سُنا تھا۔۔۔ خالہ تو بچپن سے ہی اُسے اپنا داماد بنانے کا عزم کر بیٹھی تھیں۔۔۔ دونوں بہنیں جب بیٹھتیں ان دونوں کی شادی کی بات ہی کرتیں۔۔۔ آتے جاتے یہ باتیں اکثر ان کے کانوں میں پڑتیں اسی لیے ان کے دل نے بھی سامعہ کو اپنا مستقبل کا ساتھی سمجھ لیا تھا۔۔۔ وہ ہر طرح اس کا خیال رکھتے تھے۔۔۔ حالاں کہ سامعہ کی طرف سے کبھی کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں ملا لیکن وہ اُسے سامعہ کی حیاہی سمجھتے تھے۔۔۔ لیکن اب احساس ہوا کہ اس نے تو کبھی انہیں دل سے تسلیم ہی نہیں کیا تھا۔۔۔ اورآخری پہاڑ تو اس وقت ٹوٹا جب عمر آفندی سے سامعہ کے پرانے تعلق کے بارے میں آگاہی ہوئی۔۔۔ اس لڑکی نے کتنی آسانی سے بے وقوف بنایا تھا ان کے جذبات سے کھیل کر اب اپنی کامیابی کا جشن منا رہی تھی۔۔۔ انہوں نے ٹھنڈی سانس بھری اور خالہ کے کمرے میں آگئے جو شاید ابھی بے دار ہوئی تھیں۔۔۔ فجر کی نماز پڑھ کر وہ دوبارہ سو جاتیں پھر جب ان کی میڈ آتی تو ناشتہ تیار کر کے انہیں دیتی۔۔۔
” خالہ آج طلاق کے پیپرز سامعہ کو مل گئے ہیں اور آپ کی ہدایت کے مطابق فون پر بھی باقاعدہ اُسے طلاق دے دی۔۔۔ ” انہوں نے بڑی مشکل سے یہ ساری بات خالہ کو گوش گذار کی۔۔۔ خالہ کے ہاتھ میں پانی کا گلاس کانپ کر رہ گیا۔۔۔ کسی ماں کے لیے بیٹی کی طلاق کوئی اچھی خبر تو نہیں ہو سکتی تھی۔۔۔ انہوں نے سامنے کھڑے بیٹے جیسے بھانجے پر اپنا دکھ ظاہر نہیں کیا۔۔۔” میں چاہتی تھی کہ جو شرعی طریقہ ہے تم وہ اختیار کرو۔۔۔ کاغذوں پرلکھی باتیں تو اکثر دھوکا دے جاتی ہیں۔۔۔ قیامت کے دن ہماری اچھائی اور بُرائی کی سب سے بڑی شہادت تو ہماری زبان دے گی۔۔۔ ” ” وہ ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئیں۔۔۔ انہیں شدید دُکھ تھا ان کی بیٹی نے انہیں اپنے بیٹے جیسے داماد کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔۔۔ بڑی بد نصیب تھی وہ جو تم جیسے ہیرے کی پہچان کھو بیٹھی۔۔۔ بہت پچھتائے گی۔۔۔تم دیکھنا وہ بہت پچھتائے گی۔۔۔”وہ مزید مضبوط نظر آنے کی متحمل نہیں ہوسکتی تھیں۔۔۔ اسی لیے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں۔۔۔ کبیر علی ان کے دُکھ سے واقف تھے۔۔۔ اُن کا اور خود کبیر علی کا دُکھ یکساں ہی تھا دونوں ایک ہی تیر کا شکار ہوئے تھے۔۔۔ ” ارے خالہ بد دعائیں مت دیں اُسے وہ بھٹک گئی ہے۔۔۔ اس کے راہ ِ راست پر آنے کی دُعا کریں۔۔۔ اولاد کو بددعا نہیں دیتے یہ آپ کے ہی الفاظ تھے”۔۔۔۔ انہوں نے ایک بازو ان کے گردلپیٹ کر انہیں سمجھایا تو وہ ہمت کے اُس مینار کو دیکھنے لگیں۔۔۔جو واقعی ان کی بیٹی کے کسی قابل نہ تھا۔۔۔۔ ہو سکتا ہے میں اُسے وہ زندگی نہ دے سکا جس کی وہ تمنا کرتی تھی۔۔۔ اور یہ اختیار تو اُسے رب کی طرف سے بھی ملا تھا۔۔۔اگر اُسے اس کا من پسند ساتھی مل گیا تو ٹھیک ہے۔۔۔ جی لے اپنی زندگی۔۔۔شاید میں اُسے اس کی پسند کی زندگی نہیں دے سکا۔۔۔” وہ ان کی شرمندگی کو مٹانے کی حتیٰ الامکان کوشش کر رہے تھے۔۔۔ اور خالہ حیران تھیں۔۔۔کتنا حوصلہ تھا اس بچے میں جس بیوی سے شدید محبت تھی۔۔۔ اُسے اس کی خوشی کی خاطر بآسانی چھوڑ دیا۔۔۔” خالہ پنجروں میں تو جانوروں کو رکھا جاتا ہے۔۔ انسان باشعور ہے۔۔۔ اپنی پسند کی زندگی گذارنے کا اختیار جتنا ایک مرد کے پاس ہے عورت کو یہ معاشرہ کیوں محروم رکھتا ہے؟۔۔۔” وہ یہ ساری باتیں دل پر پتھر رکھ کر کر رہے تھے۔۔۔ وہ جانتے تھے یہ کتابی باتیں پڑھنے میں اچھی لگتی ہیں۔۔۔ جب خود کر گذریں توانسان کو جلتے ہوئے کوئلے پر چلنا پڑتا ہے۔۔۔”لیکن وہ گم راہ ہو چکی ہے اپنی جنت چھوڑ کر اپنے بچے کو چھوڑ کر کوئی عورت کبھی خوش نہیں رہ سکتی۔۔۔ کیا کمی تھی اُسے یہاں۔۔۔تم نے اس کی خوشی کی خاطر دن کو دن رات کو رات نہیں سمجھا۔۔۔ دن رات محنت کر کے اس کے لیے آسائشوں کے ڈھیر لگا دئیے۔۔۔ اور وہ سب پر لات مارکر چلی گئی۔۔۔ وہ کبھی خوش نہیں رہ سکتی۔۔۔”وہ اب بھی بہت دُکھی تھیں۔۔۔بھانجے کی فراخ دلی نے انہیں اور دُکھی کر دیا تھا۔۔۔ وہ جانتی تھیں کہ کبیر علی بچپن سے ہی صلح جو تھے اور لڑائی جھگڑے سے بچتے تھے۔۔۔ جہاں سارے بچے لڑتے نظر آتے۔۔۔کبیر علی واحد تھے جوان لڑنے والے بچوں میں صلح کروانے کی کوشش کرتے نظر آتے۔۔۔ لیکن یہ دوسرے بچوں کی لڑائی نہیں تھی۔۔۔ ان کی اپنی زندگی کا سوال تھا۔۔۔ اور وہ یہاں جس کرب سے گزر رہے تھے۔۔۔ اُسے صرف وہی جانتے تھے۔۔۔ وہ اپنی تکلیف کو خود برداشت کرنے اور نمائش نہ لگانے کا فن بہ خوبی جانتے تھے۔۔۔۔
“خالہ آپ مجھ سے وعدہ کریں آج کے بعد آپ اُسے کبھی بددعا نہیں دیں گی۔۔ میں جانتا ہوں آپ مجھ سے بہت محبت کرتی ہیں۔۔۔ جو دُکھ اُس نے مجھے دیا آپ اس پر دُکھی ہیں۔۔۔لیکن اسی دُکھ کا اظہار بیٹی کو بد دعا دے کر نہیں کیا جا سکتا۔۔۔” اگر وہ میرے ساتھ خوش نہیں تھی تو اُسے اختیار تھا اپنے لئے الگ راستہ چُننے کا یہ اختیار تو اُسے ہمارے مذہب نے بھی دیا ہے۔۔۔ میں نے اُسے معاف کیا آپ بھی کر دیں۔۔۔” وہ بڑی ہمت سے خالہ کو سمجھا رہے تھے اور خالہ ان کی ہمت پر حیران تھیں کہ وہ کتنا حوصلہ مند ہے۔۔۔جو عورت ان کی پوری زندگی کو تہ وبالا کر گئی اور وہ پھر بھی بہ ضد ہیں کہ اُسے بُرا بھلا نہ کہیں کوئی بد دعا نہ دیں۔۔۔ انہوں نے کبیر علی کو گلے سے لگا لیا۔۔۔ اسی دوران دو تین موتیوں جیسے آنسو کبیر علی کی آنکھوں سے نکل کر ان کی شال میں جذب ہو گئے۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔x
وہ بہت مزے سے کر شادی کی شاپنگ کرتی پھر رہی تھی۔۔۔ آج شاپنگ میں اس کا ساتھ فاطمہ دے رہی تھی۔۔۔ فاطمہ سے سامعہ کی دوستی چند مہینوں پہلے ہی ہوئی تھی۔۔۔ لیکن ان چند مہینوں میں دوستی بہت پکّی ہو چکی تھی کیوں کہ دونوں کامزاج یکساں تھا۔۔۔ زندگی کو اپنے انداز سے گذارنا پوری آزادی کے ساتھ۔۔۔ فاطمہ دوسرے شہر سے آئی تھی۔۔۔ وہ بننے تو صحافی آئی تھی مگر ایک بڑے اداکار کے انٹرویو کے بعد سر توڑ کر ڈرامہ انڈسٹری میں ان ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔ کیوں کہ اس آرٹسٹ کا خیال تھا وہ بہت آسانی سے ہیروئن بن سکتی ہے۔۔ اس کے باپ نے اُسے یہاں ایک فلیٹ لے کر دیا تھا۔۔۔ مکمل انڈیپنڈنٹ زندگی گذار رہی تھی۔۔۔ شادی کرنا اس کے خیال میں ایک حماقت تھی۔۔۔ اور وہ ہمیشہ اس کے خلاف ہی بولتی تھی۔۔۔حیران تھی کہ سامعہ ایک شادی کے بعد دوسری شادی کی حماقت کیوں کر رہی ہے؟۔۔۔ جب کہ اس کا ایک بچہ بھی موجود ہے۔۔۔ ویسے تم نے مجھے آج تک اپنی شادی شدہ زندگی کے بارے میں کچھ بتایا نہیں سوائے تم شادی شدہ ہو اورایک بچہ ہے۔۔۔ پھر یہ اچانک طلاق اور دوسری شادی۔۔۔ کیا گڑ بڑ ہوئی تھی۔۔۔کیا بہت مارتا پیٹتا تھا۔۔۔محبت نہیں کرتا تھا؟۔۔۔” وہ ریل گاڑی کی طرح رواں ہو گئی۔۔۔ دونوں اس وقت ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے ملک شیک پی رہے تھے۔۔۔ شاپنگ ساری ہو چکی تھی۔۔۔وہ ہنس پڑی۔۔۔” نہیں ایسا کچھ نہیں مگر تم نے یہ سوال کیوں کیا؟۔۔۔” ” کیوں کہ ہماری معاشرے میں شادی شدہ عورت کی حیثیت اس ملازم سے بھی بد تر ہے جس کے پاس ظالم مالک کو فی الفور چھوڑ دینے کا اختیار ہوتا ہے۔۔۔ اسی لیے تو حیران ہوں کہ تم جیسی خوب صورت بیوی کو تمہارے شوہر نے کیسے چھوڑ دیا۔۔۔ کہ تم بآسانی ایک اور شادی کر سکو۔۔۔ یہاں تو کوئی عورت اگر ایسا جرم کر بیٹھے تو دنیا بھر کی لعن طعن کی مستحق ٹھہرتی ہے حتیٰ کہ بد کردار کا لاحقہ بھی اس کے نا م کے ساتھ لگا دیا جاتا ہے۔۔۔ تم آخر کیسے بچ گئیں؟۔۔۔”
” سنو! ایسا کچھ بھی نہیں نہ میرا شوہر مجھ پر ظلم کرتا تھا۔۔۔ نہ مارتا پیٹتا بلکہ وہ تو مجھ سے شدید محبت کرتا تھا اسی لیے تو اس نے مجھے بآسانی چھوڑ دیا۔۔۔”وہ مسکرائی۔۔۔” کیا مطلب؟”۔۔۔فاطمہ نے اس کی بات پر بے وقوفوں کی طرح پوچھا۔۔۔” وہ محبت کرتا تھا اسی لیے جانتا تھا کہ محبت کے سمندر پر بند نہیں باندھے جاتے۔۔۔ میں عمر سے شادی سے پہلے محبت کرتی تھی لیکن چند وجوہات کی بنا پر ہماری شادی نہ ہوسکی۔۔۔اب جب عمر مجھے دوبارہ ملاتو میں نے اپنے شوہر کو بتا دیا کہ میں اُس کے ساتھ مزید نہیں رہ سکتی۔۔۔ کیوں کہ میں عمر سے محبت کرتی ہوں۔۔۔ ” اور اس نے بآسانی تمہاری بات مان کر تمہیں طلاق دے دی۔۔۔” وہ اب بھی حیران تھی۔۔۔ ہماری برادری میں تو ایسی باتوں پر عورت کو قتل کر دیا جاتا ہے۔۔۔”وہ جس سرائیکی پٹی سے تعلق رکھتی تھی وہاں تو ذرا سے شبے پر عورت کو قتل کر دیا جاتا تھا۔۔۔ اور یہاں ایک عورت کھُلم کھلا اپنے شوہر سے اپنی محبت کا ذکر کر بیٹھے اور شوہر اُسے طلاق دے دے۔۔۔ ایک دوسرے مرد کے لیے اپنی بیوی کو چھوڑ دے۔۔۔ جب کہ بہ قول وہ اس سے شدید محبت بھی کرتا ہو۔۔۔فاطمہ کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔۔۔ ” یار میں اسی لیے شادی جیسے بندھن کے بہت خلاف ہوں دو بول آپ کو بندے کے قریب بھی کر دیتے ہیں اور دو بول دور۔۔۔” ارے یار جس دن تم پر عشق کا کیویڈ چل گیا اس دن پوچھوں کی بولو بی بی اب کیا کہتی ہو شادی کے بارے میں۔۔۔”سامعہ نے اُسے چھڑا۔۔۔ ” سامعہ میں نے اپنی برادری میں اس شادی کے نام پر عورت کو بہت بُرے حالوں میں دیکھا ہے۔۔۔میرے بابا نے چار شادیاں کیں اور چاروں کو وہ جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں۔۔۔ ذرا ذرا سی بات پر میری ماں اور سوتیلی ماؤں کو وہ سب کچھ سُننے کو ملتا جو کہ شاید ایک مرد کو سُننے کو ملے تو وہ زمین میں دھنس جائے۔۔۔ نوکروں سے بد تر سلوک کرتے ہیں۔۔۔ انہوں نے چند سال پہلے ہی مجھ سے کم عمر لڑکی سے شادی کی جب مجھے پتا چلا تو میرا شادی جیسے رشتے سے اعتبار ہی اُٹھ گیا۔۔۔ کیا نکاح جیسے رشتے کے لیے سارے ارمان مرد کے ہی ہوتے ہیں۔۔۔عورت کی کوئی خوشی نہیں ہوتی۔۔۔ 70سالہ خلیق خان نے بڑے تکبر سے اپنی بیویوں سے اپنی کم عمر بیوی کا تعارف کرواتے ہوئے باقی بیویوں کو حقارت سے دیکھا ور کہا کہ بھلا تم بوڑھی عورتیں مجھے وہ خوشی دے سکتی ہو۔۔۔ جو یہ کم عمر دے گی۔۔۔” اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔
” اففف! یہ تو زیادتی ہے ان سب عورتوں کے ساتھ جنہیں فرداً فرداً انہوں نے اپنی بیوی کے درجے پر رکھا۔۔۔”خود سامعہ کو بھی جھُرجھُری آگئی۔۔۔” زیادہ تر مرد کا یہی روپ ہمارے اردگرد موجود ہے۔۔۔ اسی لیے تو پوچھ رہی ہوں کہ تمہارے شوہر نے تمہیں طلاق کیسے دے دی؟۔۔۔ بہ قول تمہارے اس نے کبھی تمہیں کوئی دُکھ بھی نہیں دیا۔۔ کیا اُسے چھوڑ تے ہوئے تمہیں ایک لمحے بھی اپنے بچے کا خیال بھی نہیں آیا۔۔۔”وہ واقعی بہت صاف گو تھی۔۔۔ اسی لیے اس کی بات پرسامعہ کا دل بُر ہوا۔۔۔۔
” دیکھو فاطمہ دنیا میں سارے مرد نہ تو تمہارے باپ جیسے ہوتے ہیں اور نہ ہی میرے شوہر جیسے۔۔۔ ہر کسی کو اس کے نصیب کا پھل ملتا ہے۔۔ میری قسمت اچھی تھی کہ عمر کے اس حصے میں جب میں بہت کچھ پا چکی تھی، سوائے محبت کے تو مجھے میری کھوئی ہوئی محبت مل گئی۔۔۔ یقینا عمر اتنے سالوں بعد دوبارہ میرے پاس آیا تھا۔۔۔ تو ایسا قدرت کی ر ضا کے ساتھ تھا کہ میں اپنی محبت کو پالوں۔۔۔ سو میں نے بھی دیر نہیں لگائی۔۔۔ اور جہاں تک بات تھی میرے پہلے شوہر کی۔۔۔ وہ پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے آدمی تھے۔۔۔ ان کی طرف سے مجھے کبھی کسی روک ٹوک کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔۔۔۔ اور عمر کے دوبارہ میری زندگی میں آنے کے بعد انہوں نے مجھے بآسانی چھوڑ دیا۔۔۔ ظاہر سی بات ہے پڑھی لکھی کلاس میں انسانوں کو باندھ کر یا پنجروں میں نہیں رکھا جا سکتا۔۔۔مجھے یقین ہے اگر اتنی آزادی تمہاری برادری کی عورتوں کو بھی ملے تو کوئی پنجروں میں رہنے کو ترجیح نہیں دے گی۔۔۔ دیکھو جب دل ہی خوش نہیں تو ایسے شخص کے ساتھ رہنے کا کیا فائدہ۔۔۔ جو اپنی خوش کے لیے توکوئی قدم بھی اُٹھا سکتا تھالیکن عورت کی خوشی کا اُسے کوئی احساس نہیں۔۔۔” اس نے بھی جو اباً فاطمہ کے باپ اور اس کے رسوم و رواج پر حملہ کیا تو فاطمہ خاموش ہوگئی۔۔۔ عورت کی ایسی آزادی کی یہ پہلی مثال اس کے سامنے تھی۔۔۔ اسی لیے وہ متجسّس تھی کہ اتنی آسانی سے اس نے یا اس کے شوہر نے ایک دوسرے کوکیسے چھوڑ دیا۔۔۔ جب کہ ان کے درمیان ایک کڑی بچے کی صورت میں بھی موجود تھی۔۔۔ اس نے تو اپنے اردگرد عورت کوہمیشہ ایک غلام گردش میں بھاگتی ملازمہ کے روپ میں ہی دیکھا تھا۔۔۔ جو اپنے مالک کو خوش کرنے کی حتیٰ الامکان کوشش میں ہلکان رہتی تھیں پھر بھی مالک کبھی خوش نہ ہوا۔۔۔ اس نے سامعہ سے مزید اس بارے میں بات کرنا مناسب نہ سمجھا اُسے اندازہ ہو چکا تھا کہ سامعہ کواس کی پوچھ گچھ زیادہ پسند نہیں آئی۔۔۔ سو وہ خاموش ہو گئی۔۔۔۔بہت خاموشی سے اپنا اپنا شیک ختم کر کے دونوں کھڑی ہو گئیں۔۔۔ آج بازار میں کافی ٹائم لگا تھا۔۔۔ لیکن تیاری تقریباً مکمل تھی۔۔۔ بس انتظار تھا تو عدت کی مدت پوری ہونے کا اور وہ بھی اگلے مہینے ختم ہو رہی تھی۔۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
سامعہ نے اپنی شاپنگ کے ساتھ ساتھ عمر کے لیے بھی خوب شاپنگ کی۔۔۔ وہ اس پر اپنے نئے کاروبار کی ابتدائی پوزیشن کا ذکر کر کے اپنی مشکلات ظاہر کرتا رہاکہ نئے کاروبار کی وجہ سے وہ بہت کرائسس میں ہے۔۔۔۔” لیکن تم یقین رکھو جیسے ہی میرا کاروبار ایک بار سیٹ ہو گیا۔۔۔ تمہارے اکاؤنٹ کو نوٹوں سے بھر دوں گا اور وہ صرف مسکرا کر رہ جاتی۔۔۔ اس نے بھلا عمر سے کب کچھ مانگا تھاوہ تو اس کی محبت میں ہی سر شار تھی۔۔۔۔ جنتا کچھ وہ اس پر نچھاور کرتا تھا۔۔۔ وہ کم نہیں تھا۔۔۔لفظوں کا ماہر تھا۔۔۔ جس کو لفظوں سے کھیلنا آجائے پھر وہ دنیا کا سب سے بڑا بیوپاری بن جاتا ہے۔۔۔ زبان کی کھانے والے سب کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں اور وہ بھی اپنی زبان کی روزی کھا رہا تھا۔۔۔ سامعہ اس کے لیے ایک بزنس ڈیل ہی تو تھی۔۔۔ وہ بغیر پیسا لگائے صرف زبان کی بدولت یہ ڈیل ڈن کر چکا تھا۔۔۔ باتوں باتوں میں اس کا پورا بینک بیلنس معلوم کر چکا تھا۔۔۔ یہ شادی صرف اسی وجہ سے ہو رہی تھی کہ شادی کے بعد سارا جمع جتھا حاصل کر کے سامعہ کو چھوڑ دے۔۔۔ وہ پوری پلاننگ کر چکا تھا۔۔۔ کہ اُسے کس طرح سامعہ سے بینک میں موجود ساری اماؤنٹ نکلوانی ہے۔۔۔ ڈھائی تین کروڑ کا تو صرف یہ فلیٹ ہی ہوگا۔۔ اس کی اب تک کی گئی ساری “اس قسم” کی ڈیلز میں سامعہ سب سے زیادہ مالدار آسامی تھی۔۔۔ باقی تو محبت کے دو دلفظوں کے عوض پیسے کے ساتھ جسم بھی دینے کے لیے تیار ہو جاتی تھیں۔۔۔ اسی لیے کبھی شادی کا کاغذی بندھن باندھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی لیکن سامعہ جیسی لڑکیوں کے لیے شادی سے پہلے”تعلق” ایک گناہ تھا۔۔۔ وہ کسی صورت اس پر راضی نہیں ہوئی۔۔۔ مجبوراً اُسے شادی کا راگ اپنانا پڑا۔۔۔ تب اُسے عمر کی محبت پر یقین آیا۔۔۔ نکاح کی توتقریب سامعہ کے فلیٹ پر ہی رکھی گئی۔۔۔ نکاح پر دوتین دوست عمر کی طرف سے اور دو تین ہی فاطمہ سمیت سہلیاں سامعہ کی طرف سے تھیں۔۔۔ سامعہ نے سُرخ رنگ کا ڈیزائنرڈریس پہنا ہوا تھا اور ایک بڑے پارلر سے تیارمیک اَپ لُک میں وہ قیامت ڈھا رہی تھی۔۔۔ خوشی اس کے انگ انگ سے چھلک رہی تھی۔۔۔ عمر کو ایک لمحے چند سال پرانی سامعہ یاد آئی جس کے سر پر ڈوپٹہ رہتا تھا۔۔۔ جو اس کی ذرا سی بات پر شرم سے لال ہو جاتی تھی۔۔۔ اورآج کتنی بے باکی سے سائن کرنے کے بعد عمر کی طرف مُسکرا کر یوں دیکھ رہی تھی جیسے کہہ رہی ہو۔۔۔۔ دیکھو آخر میں نے تمہیں پا ہی لیا۔۔۔
پھر وہ سب ایک ہوٹل میں کھانے کے لیے چلے گئے۔۔۔ واپسی پر سامعہ نے اُسے اپنی کار میں بٹھایا اور چابی دیتے ہوئے کہا کہ جب ہم دونوں ساتھ ہوں گے یہ گاڑی تم ڈرائیو کرو گے۔۔۔مجھے اچھا لگے گا۔۔۔” عمر ہنس پڑا۔۔۔ “ارے واہ! بیوی ہو تو ایسی۔۔۔ اتنے کھُلے دل کی مالک۔۔۔” ” میں واقعی بہت کھُلے دل کی ہوں۔۔۔چاہو تو آزما لینا تم جب جس چیز کی خواہش کرو گے میں انکار نہیں کروں گی۔۔۔” وہ اس کی ہنسی پر تھوڑا شرمندہ سی ہو گئی۔۔۔” میں جانتا ہوں کہ تم کھلے دل کی مالک ہو “۔۔۔” اس نے سامعہ کو شرمندگی سے نکالنے کی کوشش کی۔۔۔ہاں میں جانتی ہوں۔۔۔ مگر ان سب چیزوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ میاں بیوی گاڑی کے دو پہیے ہیں تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر کب کون بیٹھا؟۔۔۔۔کس نے ڈرائیونگ کی؟۔۔۔ باری باری دونوں مل کر یہ بوجھ ڈھولیں گے۔۔۔۔ تو زندگی آسان ہو جائے گی۔۔۔ تم بالکل فکر مت کرو میں تمہارے اس مشکل وقت میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔” “وقت سے یاد آیا۔۔۔ آج ہماری شادی کی پہلی رات ہے، جو ہم اس بحث میں یہاں اس گاڑی میں ضائع کر رہے ہیں۔۔۔ میں بھی کتنا بے وقوف ہوں۔۔۔ اتنی خوب صورت بیوی اگر پہلو میں ہو تو کون کافر یہ وقت ضائع کرتا ہے۔۔۔” اس نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے اس کی جناب تھوڑ ا جھُک کر سامعہ کے دل کو پکڑلینے والے جملے بولے۔۔۔ تووہ واقعی شرما گئی۔۔۔ ایک ہلکی سی سرخی اس کے چہرے پر اُبھری۔۔۔ دل کی ایسی حالت تو کبھی کبیر علی کے ساتھ تو نہیں ہوئی تھی۔۔۔ واقعی محبت کسی بھی نکاح کا پہلا جُز ہے۔۔۔ اور ان دونوں درمیان محبت نے نکاح کے چند گھنٹوں کے بعدہی اُسے کیا سے کیا بنا دیا۔۔۔ اور پھر ساری رات عمر اس کی تعریفیں اور حسن کے قصیدے پڑھتا رہا۔۔۔ اُسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس نے بنا کسی آزمائش کے اپنی جنت پالی۔۔۔ وہ پوری رات جنت میں گذار کر آئی۔۔۔
صُبح آنکھ کھلتے ہی اُسے اندازہ ہو گیا کہ کبیر علی سے علیحدگی اور عمر سے شادی کر کے اس نے گھاٹے کا سودا نہیں کیا تھا۔۔۔ بھلا دل کے سودے بھی کبھی گھاٹہ کھاتے ہیں۔۔۔ لیکن یہ اُس کی خام خیالی تھی اُسے کیا معلوم کہ اس سودے میں اُسے کہاں کہاں گھاٹے اُٹھانے پڑیں گے۔۔۔۔ x۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔x
سامعہ کوپہلی بار زندگی کی خوب صورتی کا پوری طرح احساس ہوا۔۔۔ وہ دونوں ہنی مون کے لیے ورلڈ ٹور پرنکل گئے۔۔۔۔ یہ اور بات تھی کہ ٹور کا سارا خرچہ سامعہ اُٹھایا۔۔۔ لیکن وہ اس وقت عمر کی محبت میں پوری طرح گرفتار تھی۔۔۔ اُسے عمر اور اپنی محبت کے سواکچھ نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔وہ ایک ایک لمحے سے محبت کشید کر رہی تھی۔۔۔ جیسے زندگی محبت کے سوا کچھ نہیں۔۔۔ اس دوران عمر کو بزنس یاد آیا اور نہ ہی سامعہ کو اپنا کام یاد رہا۔۔۔ دونوں ایک دوسرے میں گُم وقت کے ہر ورق سے اپنے حصّے کی محبت کشید کر رہے تھے۔۔۔شاپنگ کرتے ہوئے سامعہ کو آیان یاد آیا تو اس نے آیان کے لیے ڈھیر سارے ٹوائز بھی خرید ڈالے۔۔۔ اس کے علاوہ وہ اماں کے لیے سوئیٹرز اور بیگز بھی لے بیٹھی۔۔۔ کتنا بھی ناراض ہوں آخرتھیں اُس کی ماں۔۔۔ وہ انہیں ضرور منا لے گی۔۔۔ اس یقین کے ساتھ اس نے ان کے سامان کا ایک الگ پیکٹ بنالیا۔۔ کینیڈا سے واپسی اور ان کے ہنی مون کی آخری رات عمر اس سے ذرا دیر کا کہہ کر ناجانے کہاں چلا گیا تھا۔۔۔ اس کا فون بھی بند آرہا تھا۔۔۔ وہ بہت پریشان تھی مگر ہوٹل کے کمرے میں بیٹھی وہ صرف دعائیں ہی کر سکتی تھی۔۔۔ کہ عمر جہاں بھی ہو خیر سے ہو۔۔۔جب برداشت نہ ہو سکا تو اس نے عمر کو ڈھونڈنے کی خاطر باہر نکلنے کا ارادہ کیا۔۔۔۔ لیکن وہ بھلا اُسے ڈھنڈنے کہاں جائے گی۔۔۔ ایک ایسے ملک میں جہاں وہ پہلی بار آئی تھی۔۔۔ اس کے راستوں اور ہوٹلوں کے بارے میں کوئی آگاہی نہ تھی۔۔۔ اسی وقت دروازہ کھول کر عمر اندر آگیا۔۔۔رات کے دو بج چکے تھے۔۔۔ وہ بھاگ کر اس کے پاس آئی۔۔۔” کہاں چلے گئے تھے تم؟” تمہیں اندازہ بھی ہے کہ میں کتنی پریشان تھی۔۔۔” گھبراہٹ اور خوف میں اس نے چیختے ہوئے عمر کا ہاتھ پکڑ کر جھنجھوڑ دیا۔۔۔ عمر نے ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ جھڑکا اوردوسرے ہاتھ سے اسے زور کا دھکا دیا۔۔۔” آواز نیچی رکھو۔۔۔ مجھے اُونچا بولنے والی عورتیں بالکل پسند نہیں۔۔۔” یہ کہہ کر وہ اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا اور جوتے اتارنے لگا۔۔۔اس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ بتا رہی تھی کہ وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھا۔۔۔
“یہ تم مجھ سے کس طرح بات کر رہے ہو ” وہ ابھی تک اس کے رویےّ پر حیران تھی۔۔۔ جس طرح ایک شوہر کو اپنی بیوی سے کرنا چاہیے۔۔۔ بہت کر لیا محبت کا ڈرامہ بس اب اور نہیں ہوتا۔۔۔ بیوی ہو بیوی کی طرح رہو۔۔۔ ماں نہ بنو میری۔۔۔”وہ بالکل اس کے کان کے پاس آکر چیخا تو اس کے منہ سے شراب کا زور دار بھبھکا آیا۔۔۔ سامعہ دور ہٹ گئی۔۔۔”تم شراب پی کر آئے ہو۔۔۔” اس بار اس کی آواز پہلے سے بھی اونچی تھی۔۔۔ وہ حلق پھاڑ کر چلائی تھی۔۔۔ اُسے کچھ کچھ اندازہ تو تھا کہ عمر نشہ کرتا ہے لیکن کھُل کر پہلی بار سامنے آیا تھا۔۔۔ عمر نے اس کے بالوں کو نوچ کر رکھ دیا۔۔۔ دو چار تھپڑ بھی لگائے۔۔۔ سامعہ نے خود کو بچانے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہی۔۔۔وہ اُسے مارپیٹ کر بیڈ پر ڈھیر ہوگیا۔۔۔ سامعہ ساری رات کرسی پر بیٹھی روتی رہی۔۔۔ اُسے اندازہ نہ تھا کہ عمر اس پر ہاتھ بھی اُٹھا سکتا ہے۔۔۔ لیکن شراب عقل کو خبط کر دیتی ہے۔۔۔ اسی لیے ممنوع ہے۔۔۔ عقل خبط ہو جائے تو رشتوں کا پاس نہیں رہتا۔۔۔ انسان اور جانور برابر ہو جاتے ہیں۔۔۔ اورہ وہ رات ایسی تھی جب شراب کے نشے میں دُھت عمر کے اندر کا جانور کھُل کر سامنے آگیا۔۔۔ اس سے پہلے وہ واش روم میں چھُپ کر کبھی کبھار نشہ کر لیا کرتا تھا۔۔۔لیکن آج اس سے برداشت نہ ہوا۔۔ سامعہ کے ساتھ شام کو شاپنگ کرتے ہوئے اسے مارکیٹ میں ہی ایک بار نظر آگیا تھا۔۔۔ سامعہ کو کمرے میں چھوڑ کردوبارہ نکل گیا۔۔۔ کتنے دنوں سے اچھی شراب کی طلب ہو رہی تھی۔۔۔ اب اس سے مزید برداشت نہ ہوا۔۔۔ عرصے کے بعد اس نے شراب پی تو اس کا کوئی حساب نہ رکھا۔۔۔ اس رات پہلی بار سامعہ نے اُسے اپنے حواسوں میں نہ دیکھا۔۔۔صُبح اُٹھا تو احساس بھی نہ تھا کہ وہ سامعہ کے ساتھ کیسا سلوک کر چکا ہے۔۔۔ سامعہ شدید ناراض تھی۔۔۔جب عمرنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی تو زیادہ دیر ناراض نہ رہ سکی۔۔۔ سب کشتیاں جلا کر آئی تھی۔۔۔اب سمندر ہی اس کا ساتھی تھا۔۔ساکت ہو یا بھپھرا ہوا۔۔۔ اسے اسی سمندر میں تیرنا تھا۔۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
وہ دونوں واپس آگئے۔۔۔ایک مہینہ انہوں نے ایک دوسرے میں گُم ہو کرصرف عیاشی سے گذارا تھا۔۔ اب کام ضروری تھا۔۔۔ اتنے دن وہ اسٹاک ایکسچینج سے دور رہی۔۔۔کافی نقصان ہوا تھا۔۔۔ اور ایسا پہلی بار ہو ا تھا۔۔۔ لیکن اس نے اپنے نقصان کی خبر عمر کو نہیں ہونے دی۔۔۔ وہ خود اس کے پیسے سے اپنا پراپر ٹی کانیا بزنس شروع کر چکا تھا۔۔۔ اور واپس آنے کے بعد اس میں مگن تھا۔۔۔ پراپرٹی کا بزنس ویسے ہی تھوڑا آہستہ آہستہ سپیڈ پکڑتا ہے۔۔۔ لیکن بہ قول عمر کہ ایک بار قسمت مہربان ہو جائے تو پھر کوئی نہیں روک سکتا۔۔۔ اپنے طور پر وہ پوری محنت کر رہا تھا مگر نہ جانے کیا بات تھی جس پراپرٹی میں ہاتھ ڈالتا اس کی قیمت گر جاتی۔۔۔ اور فائل لاکھ سے خاک کی ہو جاتی۔۔۔ ایک نئی سوسائٹی بننے جا رہی تھی۔۔۔ جہاں اس نے اپنے بزنس پارٹنر کے ساتھ شیئرنگ پر کافی زمین خرید لی تھی۔۔۔ جو ملکی حالات کی وجہ سے نیچے آگئی تھی۔۔۔ اور یہ خبر اُسے ہنی مون سے واپس آنے کے بعد ملی۔۔۔ وہ شدید ڈیپریشن میں آگیا۔۔۔نجانے قسمت اس کے ساتھ کیسا کھیل کھیل رہی تھی۔۔۔وہ پریشان ہی بیٹھا تھا کہ اس کے موبائل پر کال آنے لگی۔۔۔ موبائل اُٹھایا تو میڈم صباح کا نمبر تھاجن سے وہ پچھلے دو مہینوں سے بالکل نہیں ملا تھا۔۔۔ اس وقت میڈم صباح کی کال آنا اس کے لیے ایک بڑی نوید تھی۔۔۔ ورنہ وہ سمجھ رہا تھا کہ اتنے دن کی غیر حاضری کے بعد میڈم صباح اس سے ناراض ہو گئی ہے۔۔۔۔” زہے نصیب شکر ہے میں یاد تو ہوں۔۔۔”اس نے میڈم صباح کے شکایتی پروگرام سے پہلے ہی اپنا شکایتی بیان ریکارڈ رکروا دیا۔۔۔ ” ویسے بڑے چالاک ہو سامنے والے کو اس قابل ہی نہیں چھوڑتے کہ وہ تم پر ناراض ہو سکے یا اپنا غصّہ نکال سکے۔۔۔ ویسے بتاؤ کہاں غائب تھے اتنے دنوں سے۔۔۔” وہ جانتا تھا کہ اس کے بارے میں تمام تر معلومات حاصل کرنے کے بعد ہی انہوں نے اسے فون کیا ہے۔۔۔اس لیے جھوٹ بولنا فضول ہوگا۔۔۔” آپ نے تو ہمیں گھاس نہیں ڈالی۔۔۔ تو میں نے سوچا کہ کسی نہ کسی سے شادی تو کرنی ہی ہے۔۔۔شادی کر ہی ڈالوں۔۔۔” وہ بھی چالاکی سے بولا۔۔۔ میں جانتی ہوں شادی والا جال تم نے صرف میرے لیے پھینکا تھا۔۔۔ جس میں میں نہیں پھنسی ورنہ تم جیسے لڑکوں کو شادی کی کیا ضرورت۔۔۔ ہر دوسرے دن ایک نئی لڑکی تمہارے پہلو میں ہوتی ہے۔۔۔ سچ سچ بتاؤ کہ کیا بات ہے؟۔۔اگر شادی کی ہے تو ایسی کیا مجبوری تھی، جو بھینس باڑے میں باندھنی پڑی۔۔۔” ” یار آپ بہت تیز ہیں بندے کا ایکسرے کر ڈالتی ہیں۔۔۔” وہ ہنس پڑا اور بولا یہ شادی مجبوری تھی۔۔۔ یہ لڑکی کس طرح پٹتی ہی نہیں تھی۔۔۔ بینک بیلنس خوب تھا۔۔۔اس سے بغیر شادی کے پیسا نکلنا مشکل تھا سو کرنا پڑی شادی۔۔۔”
” اور کب تک چلے گی یہ شادی۔۔۔” میڈم صباح نے سوال کیا تو وہ تھوڑا گڑ بڑا سا گیا۔۔۔ یہ بات تو کبھی سوچی ہی نہ تھی کہ پیسا نکلوانے کے بعد سامعہ کو کیسے چھوڑنا ہے۔۔۔” یہ تو وقت بتائے گا۔۔۔آپ بتائیں کیسے یاد کیا۔۔۔۔آپ کے کام لیے تو ہمہ وقت تیار ہوں۔۔۔ آپ نے یاد کرنا چھوڑ دیا تھا۔۔۔تو مجھے لگا کہ ناراض ہیں۔۔۔” وہ بات کو اُڑا گیا۔۔۔میڈم صباح نے بھی بات بڑھانا مناسب نہ سمجھا اور ایک بڑی سیاست دان فیملی کی بیٹی کا نمبر لکھوانے لگیں۔۔۔ جو شدید ڈیپریشن میں تھی کیوں کہ اسے طلاق ہو چکی تھی۔۔۔ اور اپنا ڈیپریشن ختم کرنے کے لیے اُسے کسی ساتھی کے ساتھ دبئی جانا تھا۔۔۔ نام سُن کر وہ چونک گیا۔۔۔ کچھ مہینے پہلے ہی تو اس کی شادی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تھیں۔۔۔ دُلہا دُلہن کی تو لو میرج تھی لیکن اتنی جلدی طلاق کیوں ہو گئی۔۔۔سوال ذہن میں آیا مگر اُس نے پوچھنا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔۔ اُسے کوئی غرض نہیں تھی۔۔۔ اُسے غرض تھی تو اس ہینڈسم اماؤنٹ سے جو اُسے اس ایک ہفتے کے بدلے ملنے والی تھی۔۔۔ اس وقت اُسے اچھی اماؤنٹ کی بہت شدید ضرورت تھی۔۔۔ بس یہ سوچنا تھا کہ اب سامعہ سے کیا بہانہ بنا کر نکلنا پڑے گا۔۔۔۔
وہ تیار ہوکر اماں اور آیان کا پیکٹ اُٹھا کر باہر نکل آئی۔۔۔ اُسے معلوم تھا کہ اماں اس سے ناراض ہیں لیکن آیان سے ملنے کی اجازت تو اُسے خود کبیر علی نے دی تھی۔۔۔ اماں اُسے اپنے سامنے دیکھ کر حیران رہ گئیں اور غصّے سے منہ موڑ لیا۔۔۔ وہ ایسے وقت پر ملنے آئی تھی جب آیان اسکول سے آچکا تھا۔۔۔ وہ اسے دیکھ کرگلے سے لپٹ گیا۔۔۔ اس نے ٹوائز سے بھرا گفٹ پیکٹ اس کے حوالے کیا۔۔۔ تو وہ بہت خوش ہوا۔۔۔ اماں اب تک اس سے منہ موڑے کھڑی تھیں۔۔۔ اس نے ان کا گفٹ پیکٹ لے جا کر ان کے ہاتھ میں دیا۔۔۔انہوں نے اُٹھا کرپاس پڑی کرسی کی طرف اچھال دیا۔۔۔” سنو! تم یہاں اولاد سے ملنے آئی ہو۔۔۔ اس سے ملو اور چلی جاؤ۔۔۔ اب واحد یہی رشتہ بچا ہے تمہارے پاس تم آیان کی ماں ہو اسی لیے اس سے ملنے سے تمہیں کوئی نہیں روک سکتا۔۔۔” ان کا لہجہ بہت سرد تھا۔۔۔” کسی ماں کو اپنی اولاد سے اور کسی اولادکو اپنی ماں سے ملنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔۔۔ یہی مطلب ہے نا آپ کا تو پھر میں آپ کی اولاد ہوں کیوں بندھ باند ھ رہی ہیں اپنے اور میرے رشتے پر۔۔۔” وہ بھی انہی کی اولاد تھی۔۔۔ اُسے پتا تھا کہ انہیں کیسے موم کیا جا سکتا تھا۔۔۔ وہ بچپن سے اس سے جب کسی غلط بات پر روٹھ جاتیں تو وہ خود انہیں منا لیتی تھی۔۔۔ اور اب بھی یقینا اُسے ہی انہیں منانا تھا۔۔۔ لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ اس بار بات ماں بیٹی کے رشتے سے نکل چکی تھی۔۔۔ اگر وہ دل پر پتھر باندھ کر اپنی اولاد کو کسی کے لیے چھوڑ کر جا سکتی تھی تویقینا وہ بھی اسی کی ماں تھیں۔۔۔ وہ بھی اپنے دل پر پتھر رکھ سکتی تھیں۔۔۔ اور اتنے دن انہوں نے اپنی اور اس کی محبت پر بندھ باندھ کر اُسے بھلانے کی پوری کوشش کی۔۔۔ اور شاید کامیاب بھی ہو گئیں۔۔۔ ” تم یہاں اپنے بچے سے ملنے آئی ہو۔۔۔ اسی لیے اس گھر میں آنے جانے کی اجازت ہے۔۔۔آیان سے ملو۔۔۔ اور واپس چلی جانا۔۔۔ اپنی ماں کے بارے میں سوچ لینا کہ وہ بھی تمہارے بھائی اور باپ کے ساتھ مرگئی۔۔۔ بیٹھو میں چائے بھجواتی ہوں۔۔۔” یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گئیں لیکن کچن میں آکر اپنے آنسوؤں پرقابو نہ رکھ سکیں۔۔۔ کام والی سے چائے کا کہہ کر وہ لاؤنج میں بیٹھ گئیں۔۔۔ کتنا دُکھ تھا ان کی زندگی میں تمام عمر اُن کے شوہر نے انہیں سخت ماحول میں رکھا۔۔۔ بیٹا اللہ کے پاس چلا گیا۔۔۔ شوہر کی ڈیتھ ہو گئی لیکن بیٹی کے اس قدم نے ان سے جیسے جینے کی اُمنگ ہی چھین لی تھی۔۔۔ نواسے کی وجہ سے وہ زندہ تھیں۔۔۔ لیکن اب زندہ رہنے کو دل نہیں چاہتا تھا۔۔۔ وہ بھانجے سے نگاہ نہیں ملا پاتیں۔۔۔ حالاں کہ اس نے کبھی نہیں جتایا کہ ان کی بیٹی نے اس کی زندگی میں زہر گھول کر کیسے دوسرے کے ساتھ گھر بسا لیا۔۔۔ سامعہ کو اپنی ماں سے ایسے سلوک کی توقع نہ تھی۔۔۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ اتنے عرصے میں وہ سب بھول چکی ہوں گی۔۔ اُسے معاف کر دیں گی لیکن ان کا رویہ اُسے سمجھا چکا تھا کہ اب تا عمر اُسے ماں کی ناراضگی کے ساتھ ہی زندگی گزارنی ہوگی۔۔۔
وہ دو گھنٹے آیان کے ساتھ گذار کر گھر لوٹ آئی۔۔۔عمر بھی آچکا تھا۔۔۔ اس کے چہرے پر موجود افسردگی نے عمر کووجہ پوچھنے پر مجبور کر دیا۔۔۔ تو وہ پھوٹ پھوٹ کر روپڑی۔۔۔ “عمر میری ماں نے مجھ سے بات تک نہیں کی۔۔۔” وہ اس کے کندھے پر سر رکھ کر روئی تو عمر نے اس کی بات پر بے پروائی سے کہا۔۔۔”اوہ میرے خدا میں سمجھا تھا کہ اُدھر کوئی مرگیا جو تم نے اتنا رونا ڈالا ہواہے۔۔ اماں نے آج بات نہیں کی تو کیا ہوا؟ کب تک ناراض رہیں گی ایک نہ ایک دن انہیں تم س بات کرنی پڑے گی۔۔۔ مجھے دیکھو کتنے سالوں سے میرا باپ مجھ سے بات نہیں کرتا لیکن کیا میں روتا رہوں۔۔۔”اس کی بے پروائی پر وہ حیران رہ گئی۔۔۔”دیکھو ہم نے محبت کی شادی کی ہے۔۔۔ تمہارے اور میرے گھروالوں کی مرضی کے بغیر۔۔۔ یقینا اُن کی طرف سے ایسا رویہ ہونا کوئی ناقابل یقین بات نہیں۔۔۔ تمہیں تیار رہنا چاہیے تھا۔۔۔” سامعہ کی آنکھوں میں اپنی بات کے جواب میں حیرانی دیکھ کر عمر نے وضاحت کی۔۔۔ “خیر چھوڑو یہ رونا دھوناباہر چلتے ہیں ڈنر کریں گے۔۔۔ چلو جلدی تیار ہو جاؤ۔۔۔” عمر نے اس کا موڈ بدلنے کے لیے ڈنر کی آفر کی۔۔تو وہ فوراً تیار ہو گئی۔۔۔ اس نے بھی صُبح کے ناشتے کے بعد سے اب تک کچھ نہیں کھایا تھا۔۔۔بھوک محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ ڈنر کے دوران ہی اس نے سامعہ کواپنے دبئی جانے کا بتایا کہ وہ ایک بڑی پارٹی کے بلاوے پر اپرٹی کی چند ڈیلز کرنے جا رہا ہے۔۔۔وہ بہ ضد ہو گئی کہ مجھے بھی لے کر چلو میں یہاں اکیلی کیا کروں گی۔۔۔” ” یارتم نے خود ہی تو بتایا تھا کہ شیئرز کا کام گھاٹے میں گیا ہے، اتنے دن کے ہنی مون کے بعد کیا۔۔۔ تم مزید چھٹیاں افورڈ کر سکتی ہو؟۔۔اگر کر سکتی ہو تو ضرور چلو۔۔۔” اس نے سامعہ کو نفسیاتی مار ماری۔۔۔ تو وہ سوچ میں پڑ گئی کہہ تو عمر بالکل ٹھیک رہا تھا۔۔۔ اتنے دن کی چھٹیوں کے بعد وہ دوبارہ چھٹی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ سو اس کی سمجھ میں عمر کی بات آگئی۔۔۔ لیکن اس نے عمر سے وعدہ لیا کہ وہ روز وہاں جا کر اس سے فون پر بات کرے گا اور جتنی جلد ممکن ہو کام ختم کر کے واپس آجائے گا۔۔۔ عمر نے وعدہ کر لیا۔۔۔ کیوں کہ اس کے خیال میں وعدے تو توڑنے کے لیے ہی کئے جاتے ہیں۔۔۔ سو ایک وعدہ اور سہی۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔x
سامعہ کا اگلا پورا ہفتہ ہی بہت بور گذرا۔۔۔ اس نے فاطمہ کے ساتھ بہت سارے پلانز بنائے تھے۔۔۔ جو وہ مل کر پورے کرتی رہیں۔۔۔ فاطمہ کو آج کل ایک ڈرامہ مل گیا تھا۔۔۔وہ بہت خوش تھی۔۔۔ یہ ڈرامہ اُسے اسی آرٹسٹ کی بدولت ملا تھا، جس کا اس نے انٹرویو کیا تھا۔۔۔ وہ اپنا ایک سوشل میڈیا پیج بنا چکی تھی۔۔۔ جس میں وہ نئے آرٹسٹو اور ڈراموں کے بارے میں reviewsدیتی اور آرٹسٹوں کے انٹر ویوبھی کرتی تھی۔۔۔ چھے مہینے کی محنت کے بعد ہی اُسے اچھے خاصے فالورز مل چکے تھے۔۔۔ اب وہ اپنا یوٹیوب چینل بنانے والی تھی۔۔ وہ سامعہ کو بھی مشورہ دے رہی تھی کہ چھوڑو شیئرز کا کام اچھی خاصی شکل ہے۔۔۔ اچھا بولتی بھی ہو۔۔۔توموٹیویشنل سپیکر ہی بن جاؤاور اپنایوٹیوب چینل ہی بنا لو۔۔۔ اگر چینل کامیاب ہو گیا تو خوب کمائی ہے۔۔۔ لیکن سامعہ نے اس کی بات ہنسی میں اُڑا دی۔۔۔ یار میں قسمت کی دھنی ہوں۔۔۔ یہ تو میری بے پروائی سے مجھے گھاٹا ہوا ہے۔۔۔تم دیکھنا میں جلد ہی یہ پورا کر لوں گی۔۔۔ اُسے پوری امید تھی کہ وہ اپنی قسمت کے بل بوتے پر دوبارہ گھاٹا پورا کر لے گی۔۔وہ بھول گئی کہ ہماری قسمت میں دعاؤں کی بارش برستی رہے تو کھیتی ہری رہتی ہے اگریہ برسات بند ہو جائے تو قسمت کی کھیتی بھی سوکھ جاتی ہے۔۔۔اب اس کی قسمت کی کھیتی سوکھنے لگی تھی۔۔۔۔ اس کے ساتھ قسمت تو چھی تھی مگر ماں کی دعاؤں کا ثمر بھی اُسے بار آوار بنا رہا تھا۔۔۔ اور اب یہ بارآوری ختم ہو چکی تھی۔۔۔ اب ناہید بیگم اس کے لیے بد دعا نہیں کرتیں تو دعا دینا بھی بند کر دیا تھا۔۔۔ اب ان کی دعاؤں کا مرکز آیان اور کبیر علی تھے۔۔۔ان کی اپنی اولاد نے جو دکھ دیئے تھے۔۔۔ وہ بھول نہیں سکتی تھیں۔۔۔ کہاں وہ اس کے لیے ہر مشکل موقع پر دعائیں کرتیں اور اُسے مشکل سے بچا لاتی تھیں اور اب جیسے مشکلوں نے اس کا دروازہ ہی دیکھ لیا تھا۔۔۔ مسلسل گھاٹے نے اُسے چڑ چڑا سا بنا دیا تھا۔۔۔ دبئی سے واپسی پر پہلی بار عمر سے وہ خود جھگڑی اورجب عمر نے اس سے کچھ رقم اُدھا ر لینے کی کوشش کی ” یہ کچھ” بھی لاکھوں کی اماؤنٹ میں تھا۔۔۔ اور پچھلے دنوں ہی اس کا ایک بڑا گھاٹا ہو گیا تھا۔۔۔ جب اُسے خود عمر سے رقم کی ضرورت تھی۔۔۔ عمر نے اس سے رقم مانگی۔۔۔”لیکن عمر تم دبئی جانے سے پہلے بھی دو چیک سائن کروا چکے ہو۔۔۔ یقین کرو کہ اب میرا اکاؤنٹ تقریباً خالی ہونے کو ہے۔۔۔ اس نے یہ بات بہت آرام سے کہی تھی لیکن عمر کو بھڑکا گئی۔۔۔” اب تم مجھ سے پیسے پیسے کا حساب لوگی۔۔۔ کہ میں نے تم سے کب کیا لیا؟۔۔۔” ارے میں بھی مجبوری میں تم سے پیسے مانگتا ہوں۔۔۔ مجھے کیا ضرورت ہے کہ فقیروں کی طرح اپنی بیوی سے جھولی پھیلاکر مانگوں۔۔۔ ورنہ بیوی تو وہ ہوتی ہے جو شوہر کی شکل دیکھ کر اس کی پریشانی کا اندازہ لگا لے مگر تم سے توجب تک اپنی پریشانی بتا کر پیسے نہ مانگوں تم سمجھتی ہی نہیں۔۔۔۔” وہ بھی چلا کر بولا۔۔۔”کیا تم نے مجھے اے ٹی ایم کارڈ سمجھا ہوا ہے کہ تم جب مجھ سے پیسے مانگو گے میں نکال کر دے دوں گی۔۔۔ اس بار اس کی اپنی ہمت بھی جواب دے گئی تھی۔۔۔ کیوں کہ وہ خود اتنے مہینوں سے خسارے میں جا رہی تھی۔۔۔ پہلے جب کبھی اس کا خسارہ ہوتا کبیر علی اس کے اکاؤنٹ میں اتنے پیسے جمع کروا دیتے اور اُسے کبھی معلوم بھی نہ ہوا کہ گھاٹا کیاہوتا ہے۔۔۔ یہ پہلی بار تھا کہ اس کا اکاؤنٹ تقریباً خالی ہو چکا تھا۔۔۔۔ صرف ورلڈ ٹور پر ہی اس کے لاکھوں روپے لگ گئے۔۔۔ اس کا خیال تھا کہ واپس جا کر وہ دوبارہ جلد ہی سارے پیسے کما لے گی۔۔ایسا نجانے کیا ہو اکہ مسلسل گھاٹا ہی چل رہا تھا۔۔۔۔” کیا مطلب تم مجھ پر اپنے پیسے کا رعب جما رہی ہو؟۔۔ لعنت بھیجتا ہوں۔۔۔ تھوکتا ہوں تمہاری کمائی پر۔۔۔ یہ تو اگر میری مجبوری نہ ہوتی تو میں ایک پیسا تم سے نہ لیتا تم جانتی ہو تمہاری وجہ سے میں اپنے باپ سے الگ ہوا اور سڑکوں پرآگیا۔۔۔” وہ چلایا تو اس نے ہاتھ جوڑ دیئے۔۔۔ بس کرو اپنی روز کی کہانی تم نے اس محبت میں گنوایا تو میں نے بھی اب تک کچھ نہیں پایا۔۔۔ یہ جو تم مسلسل اپنے بزنس کا بہانہ بنا کر رات رات بھر گھر سے غائب رہے ہو۔۔۔ میں نے اس اکیلے پن کے لیے توشادی نہیں کی تھی۔۔۔ پہلے کم از کم میرا بیٹا میرے ساتھ ہوتا تھا۔۔۔ اب تو رات کو تنہا اس فلیٹ میں رہنا کتنا مشکل ہوتا ہے تم کیا جانو۔۔۔” “اچھا تو مجھ سے شادی کر کے پچھتا رہی ہو۔۔۔” اس نے طنز کیا۔۔۔”محبت میں اگر پچھتاوے آجائیں تو محبت نہیں رہتی عمر۔۔۔ میں پچھتا نہیں رہی صرف یہ کہہ رہی ہوں کہ میں نے اس تنہائی کے لیے شادی نہیں کی تھی۔۔۔ تمہارا قرب چاہیے مجھے۔۔۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔۔۔ تو اب میں ہر وقت تمہارا ہاتھ پکڑ کر تو نہیں بیٹھ سکتا پہلے بھی ورلڈ ٹور کی وجہ سے میرا بزنس اتنے نقصان میں چلا گیا ہے۔۔۔ اسی کو دوبارہ بہتر کرنے کی کوشش صرف اسی لیے کر رہا ہوں کہ تمہیں ایک بہتر زندگی دے سکوں۔۔۔ مگر تم یہاں تعاون کرنے کے بجائے مجھ پر چندروپوں کا رعب جما رہی ہو۔۔۔ ایک ایک پائی لوٹا دوں گا تمہاری۔۔۔ صرف ایک بار مجھے مارکیٹ میں کامیاب ہو نے دو۔۔۔۔ صرف ایک جھٹکے میں تمہاری ساری رقم دے دوں گا۔۔۔ ” وہ یہ باتیں کرتا ہوا ایک معصوم سا روٹھا بچہ لگ رہا تھا۔۔۔۔ وہ موم ہو چکی تھی۔۔۔ پاس آکر سوری کیا اور ساتھ کاؤنٹ میں موجود رقم کا چیک اور کچھ بانڈز جو اس نے اچھے وقتوں لے کر رکھے تھے لا کر عمر کے حوالے کر دئیے۔۔۔۔ اس وقت دونوں نادیدہ بددعاؤں کے اثر میں تھے۔۔۔سونے کو ہاتھ لگاتے تو خاک بن جاتا والی سیچوایشن تھی۔۔۔ اور دونوں ہی اس سے پریشان تھے۔۔ عمر جانتا تھا کہ اب اس کے پاس پراپرٹی کے نام پرصرف یہ فلیٹ اور گاڑی رہ گئی ہے۔۔۔ وہ بھی کسی نہ کسی دن وہ اپنے نام کروالے گا۔۔۔مگر ابھی کوئی پلان نہیں بنایا تھا کہ کس بہانے سے یہ کڑوڑوں کا فلیٹ وہ اپنے نام کروائے گا۔۔۔اتنا تو وہ جانتا تھا کہ وہ اس سے بہت محبت کرتی تھی۔۔۔ لیکن اتنی بے وقوف نہیں تھی کہ آسانی سے فلیٹ اس کے نام کر دیتی۔۔۔ کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ نا پڑے گا۔۔۔
عمر کے جانے کے بعد سامعہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ بے شک اس نے عمر پر کبھی کوئی بوجھ نہیں ڈالا بلکہ اب تک عمر کے سارے بوجھ خود اٹھا رہی تھی مگر وہ پھر بھی خوش نہیں۔۔۔۔وہ عمر کے لیے سب کچھ کرنے پر تیارتھی مگر وہ خوش نہیں تھاذراذرا سی بات پر دونوں کی لڑائی اس کا کیا حل ہو سکتا تھا۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
دوسرے دن ناشتے کی میز پر سامعہ کو اس سے بات کرنے کا موقع مل گیا۔۔۔۔ “عمر ابھی تو ہماری زندگی کا آغاز ہے اگر ہم اسی طرح لڑتے رہے تو باقی زندگی کیسے گذرے گی۔۔۔”اس نے چائے کا کپ عمر کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔” یہ اپنے آپ سے پوچھو کیا کوئی بیوی اپنے شوہر سے اس طرح بات کرتی ہے۔۔۔” وہ بڑے سرد سے لہجے میں بولا۔۔۔ عمر! کیا تم نے کبھی اپنے انداز کو دیکھا ہے۔۔۔” ناچاہتے ہوئے بھی اس کی آواز اونچی ہو گئی۔۔۔” عمر نے غصیلی نظروں سے اُسے دیکھا تووہ شرمندہ ہوگئی۔۔۔ سوری عمر! آئندہ سے کوشش کروں گی کہ تم سے اونچی آواز میں بات نہ کروں۔۔۔ لیکن پلیز تم بھی میری مجبوری سمجھو میں اس وقت بالکل اسی پوزیشن میں ہوں۔۔۔ جس میں تم ہو۔۔۔ ہر کام میں گھاٹا ہو رہا ہے۔۔۔” اس نے انگلیاں چٹخائیں اور شرمندگی سے بولی۔۔۔ تمہاری پوزیشن اب بھی مجھ سے بہتر ہے۔ کم ازکم ایک مہنگی گاڑی فلیٹ اور کچھ نہ کچھ بینک بیلنس تو ہے۔۔۔ مگر میرے پاس کیاہے؟۔۔ اس نے کانٹے سے آملیٹ کو منہ میں رکھا اور یوں بولا جیسے یہ سب چیزیں اس کے پاس ہونا اس کا جرم ہو۔۔۔” مگر میرے پاس جتنا تھا میں تقریباً سب تم کو دے چکی ہوں اگر یہ فلیٹ بھی بیچ دیا تو رہیں گے کہاں؟۔۔۔” وہ تقریباً رو دی۔۔۔” میں کب تم سے یہ کہہ رہا ہوں کہ فلیٹ بیچ دو۔۔۔ اچھا چلو ایک ڈیل کر لیتے ہیں۔۔۔ میرے ساتھ پارٹنر بن جاؤ۔۔۔” “مگر میرے پاس تو کچھ نہیں ہے۔۔۔ بھلا میں پارٹنر کیسے بن سکتی ہوں۔۔۔” وہ حیران تھی۔۔۔مطلب یہ کہ چھوڑوشیئرز کا کام اور میرے ساتھ پراپرٹی کا کام شروع کر دو” اس نے آفر کی۔۔۔” لیکن مجھے تو پراپرٹی کے کام کا کوئی تجربہ نہیں۔۔۔” وہ تھوڑا پریشان ہو گئی۔۔۔ اس میں تجربہ نہیں زبان چاہیے۔۔۔ تمام پراپرٹی ڈیلرز اپنی زبان کا کھاتے ہیں۔۔۔ ہماری زبان میں اُسے کہتے ہیں کہ اچھے پراپرٹی ڈیلر کو کم از کم اتنی زبان چلانی آتی ہو کہ خاک کو لاکھ کا کہہ کر بیچ دے۔۔ مطلب یہ کہ دوسرے انسان کواس کی زندگی میں قبر بیچ دینے والا ایک کامیاب پراپرٹی ڈیلر ہے۔۔۔” اور زبان تو تمہاری بھی خوب چلتی ہے۔۔۔ تم بس میرے آفس میں بیٹھ کر آفس ورک ہی کر لو۔۔۔ کافی ہے۔۔۔” وہ آہستہ آہستہ کھُل رہا تھا۔۔۔ اس کے ذہن میں پورا منصوبہ آچکا تھا کہ کس طرح اسے پراپرٹی کے کام میں پھنسا کر باقی رقم اور فلیٹ اپنے نام کروانا ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہو سکتا تھا۔۔۔جب وہ اس کے ساتھ کاروبار میں شراکت دار بن جائے۔۔۔۔”لیکن مجھے سوچنے کے لیے تھوڑا ٹائم چاہیے۔۔۔وہ کام جس کا مجھے کوئی تجربہ نہیں بھلامیں کیسے کر سکتی ہوں؟” سامعہ نے کچھ اُلجھ کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔ میرے خیال میں ہر کاروبار کی پہلی شرط رِسک (risk) ہے اگر رسک لوگی تو ہی کاروبار کر سکتی ہو۔۔۔ اور شیئرز کے کام کے آغاز میں بھی تورسک لیا تھا وہ کون سا تم پہلے سے جانتی تھیں۔۔۔ وہ اپنی جگہ کرتی رہو اور اس کو بھی ٹرائی کر کے دیکھو۔۔۔”
” دراصل دبئی ٹورمیں ایک بڑا فنانسر ملا تھا۔۔۔میں چاہتا ہوں کہ میرے بجائے تم اس کے ساتھ کام کرو۔۔۔ میٹنگ کرو۔۔ اُسے اس طرح شیشے میں اتارو کہ وہ اپنا ایک بڑا اماؤنٹ تمہارے ساتھ فنانس کر دے۔۔۔” زمین میرے پاس موجود ہے اس پر سوسائٹی بنانے کے لیے فنانسر چاہیے۔۔۔ میری بات ہوئی تھی اُس سے لیکن مجھے لگتا ہے کہ تم اُسے بآسانی اپنے ساتھ پارٹنر بنا سکتی ہو۔۔۔” وہ آہستہ آہستہ کھُل رہا تھا۔۔۔” لیکن ” سامعہ نے کچھ کہنا چاہا تو اس نے ہاتھ اُٹھا کر اُسے بات کرنے سے منع کر دیا۔۔۔” لیکن ویکن کچھ نہیں اس طرح تم میرے پاس بھی زیادہ سے زیادہ رہو گی۔۔۔” وہ بڑے کمال سے ترپ کے پتے کھیل رہا تھا۔۔ سامعہ کے پاس سے اُٹھنے تک وہ اسے پوری طرح قائل کر چکا تھا۔۔۔اور مستقبل میں ایک کامیاب بزنس وومین بننے کا خواب سامعہ کی آنکھوں میں سج چکا تھا۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔x
“ثنا آج آیان اور خالہ کو لے کر ریسٹورنٹ آئی تھی۔۔۔ آیان اور ثنا کی بیٹی پلے ایریا میں کھیل رہے تھے۔۔۔ دونوں خالہ بھانجی آج بہت دنوں کے بعد ڈھیر ساری باتیں کرنے کے موڈ میں تھے کھانا اس لئے آرڈر نہیں کیا تھا کہ رضوان بھی آفس سے اُٹھ کر انہیں جوائن کرے والا تھا۔۔۔۔” خالہ میں نے بھائی کے لیے ایک لڑکی دیکھی ہے۔۔۔ بہت اچھے خاندان کی پڑھی لکھی ہے۔۔۔” وہ بہت پر جوش سی تھی اس نے تہیہ کر لیا تھا کہ بھائی کو تنہا نہیں رہنے دے گی۔۔ “تمہاری کبیر سے اس بارے میں بات ہوئی تھی۔۔۔” ناہید بیگم نے ثنا سے پوچھا۔۔۔” جی خالہ اسی لیے تو آپ سے کہہ رہی ہوں کہ انہیں صرف آپ ہی منا سکتی ہیں۔۔۔ کیوں کہ اُنہوں نے تو صاف انکار کر دیا ۔۔۔” ثنا نے منہ بنایا اور ان کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔ اسی وقت ثنا کا فون بج اُٹھا۔۔ دوسرے طرف رضوان تھا۔۔۔ جو تھوڑی دیر میں ان دونوں کو جوائن کرنے کے بارے میں بتا رہا تھا۔۔۔ فون بند کرنے کے بعد ثنا نے دوبارہ خالہ کی طرف دیکھا کہ وہ اب کیا کہتی ہیں۔۔۔
“ثنا میں تو سامعہ کی وجہ سے خود بہت شرمندہ ہوں۔۔۔ میرا بس نہیں چلتا کہ میں اپنے بیٹے جیسے بھانجے کا گھر دوبارہ بسا دوں۔۔۔ پتا نہیں میری تربیت میں کہاں کمی رہ گئی تھی۔۔۔ میری قسمت میں سامعہ جیسی نافرمان بیٹی اور آپا کی قسمت میں تم جیسی خیال رکھنے والی اولاد لکھی تھی۔۔۔۔” وہ تقریباً رو پڑیں۔۔۔” ارے خالہ روئیں تو مت سب لوگ اِدھر ہی دیکھ رہے ہیں۔۔۔ ” وہ گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔ ناہید بیگم نے اپنے آنسو پونچھ لیے۔۔۔ لیکن وہ واقعی سامعہ کی وجہ سے بہت شرمندہ تھیں۔۔۔” میں نے کبیر کو بہت سمجھایا لیکن وہ کہتا ہے کہ ابھی میں شادی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔ بس آیان کو دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔” انہوں نے بے بسی سے نفی میں سر ہلایا۔۔۔ ہاں مجھ سے بھی یہی کہہ رہے تھے۔۔۔ لیکن خالہ وہ اس طرح اکیلے تو پوری زندگی نہیں گذار سکتے۔۔۔ ابھی ان کی عمر ہی کیاہے؟۔۔۔” ثنا نے بے بسی سے خالہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔آپ ان سے اُٹھتے بیٹھتے یہی کہتی رہا کریں۔۔۔میں نے رضوان سے بھی کہا ہے۔۔۔ وہ بھی انہیں سمجھائیں گے۔۔۔۔” ” وہ تو شادی کے بارے میں کچھ سُننے کو تیار ہی نہیں ہے۔۔۔ بہت صاف انداز میں کہتا ہے کہ خالہ پلیز اس بارے میں کوئی بات نہیں ہو گی۔۔۔” خالہ نے بھی اسی انداز میں اپنی بے بسی ظاہر کی۔” خالہ اُلفت رضوان کے ایک بہت اچھے دوست کی بڑی بہن ہے۔۔۔ رضوان اس فیملی کو بچپن سے جانتے ہیں۔۔ ان کی بھی پہلی شادی ناکام ہو چکی ہے۔۔۔ میں مل چکی ہوں بہت دھیمے مزاج کی ہیں اُلفت۔۔۔” ” ماشاء اللہ! اُلفت نام ہے اس لڑکی کا۔۔۔۔ اللہ میرے کبیر کے دل میں اس کے لیے اُلفت ڈال دے۔۔۔” انہوں نے دل سے دُعا دی۔۔۔ تم ایسا کرو ان لوگوں کو اپنے گھر کھانے پر بلاؤ اور کبیر کو بھی کہہ دینا بلکہ رضوان سے کہنا وہ خود دعوت دے گا۔۔۔ تاکہ کبیر کے پاس کوئی بہانہ نہ رہے۔۔۔ اس کی علیحدگی کواتنا عرصہ ہونے کو آیا کب تک دیوداس بنا رہے گا۔۔۔ میری دُعا ہے کہ اس ملاقات میں اللہ اس لڑکی کے لیے اس کے دل میں جگہ بنا دے۔۔۔” انہوں نے پر خلوص انداز میں کبیر علی کو دعا دی۔۔۔ ان کی بیٹی نے تو انہیں منہ دکھانے کے قابل بھی نہیں چھوڑا۔۔۔ وہ اکثر ان سے ملنے آتی لیکن وہ آیان کواس کے حوالے کر کے خود لاؤنج میں یا کہیں اور چلی جاتیں۔۔۔۔ ان کا غصّہ ابھی تک ختم نہیں ہوا تھا۔۔۔۔ یہ جو کبھی کبھی سامعہ آیان سے ملنے کے لیے آنے کی زحمت کرتی تھی وہ بھی صرف اس وجہ سے کہ آیان اس کو بھول نہ جائے۔۔۔۔ ورنہ اگر اُسے آیان کی اتنی فکر ہوتی تو وہ ایسا قدم اٹھاتی ہی کیوں؟۔۔۔ ” خالہ! اللہ کرے آپ کی دعا پوری ہو جائے لیکن پھر بھی آپ بھائی سے بات ضرور کیجئے گا۔۔۔۔ رضوان کا خیال ہے کہ اگر ان دونوں کی ملاقات ہوتی ہے تو انہیں کم از کم یہ ضرور معلوم ہو کہ وہ کس مقصد کے لیے مل رہے ہیں۔۔۔” ” اچھا ٹھیک ہے میں کوشش کروں گی۔۔۔” انہوں نے سر ہلایا اور اُسی وقت رضوان بھی وہاں آگیا۔۔۔ ثنا نے ویٹر کو ہاتھ ہلایا کہ اب سرو کر دے خود بچوں کو پلے ایریا سے لینے چلی گئی۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔x
ناہید بیگم نے شاید دل سے دعا دی تھی۔۔۔ اسی لیے ثنا کے گھر دعوت میں اُلفت کے بار ے میں کبیر علی کے خیالات مثبت ہی تھے۔۔۔ انہیں خالہ نے آیان کا واسطہ دے کر راضی کیا تھا۔۔۔” تمہیں کیا پتا بیٹا!اس عمر میں بچے کو ماں کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ یہ کمی ساری عمر کوئی رشتہ پورا نہیں کر سکتا۔۔۔ ہم تو بُجھتاہوا چراغ ہیں نہ جانے کب بُجھ جائیں۔۔۔ اپنے لیے نہیں تمہیں یہ شادی آیان کے لیے کرنی ہوگی۔۔۔ اور پوری دعورت میں انہوں نے اُلفت کو ثنا اور آیان کے ساتھ کھیلتے دیکھا۔۔۔اُلفت کی طلاق کی وجہ بھی بچہ نہ ہونا تھا۔۔۔ اُسے اُس کے شوہر نے بانجھ کہہ کر طلاق دے دی تھی۔۔۔ اور اب وہ بھی اس نئے رشتے سے بہت ڈری ہوئی تھی۔۔۔ وہ دوبارہ اس رشتے کو آزمانے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔۔۔ لیکن بھائی بھابھی اور پھر رضوان اور ثنا جیسے سلجھے ہوئے لوگوں کی وجہ سے راضی ہو گئی۔۔۔ وہ زیادہ تر آیان کے ساتھ وقت گذارتی رہی۔۔۔ شادی کے پانچ سالوں کے بعد بھی اولاد نہ ہونے کی وجہ اُسے ہی ٹھہرایا گیا تھا۔۔۔ حالاں کہ بچے اس کی کمزوری تھے لیکن قدرت نے یہی کمزوری اس کے رشتے کی کمزوری بنا دی۔۔۔ شوہرنے اُسے چھوڑنے میں ایک لمحہ نہیں لگایا۔۔۔ حالاں کہ وہ یہ رشتہ بچانے کے لیے ساری کوششیں کر رہی تھی۔۔۔ ڈاکٹر،دوا، تعویز حتیٰ کہ کوئی مزار نہیں چھوڑ ا۔۔۔ جہاں اس نے جا کر اپنی منّت کا چراغ نہ جلایا۔۔۔ لیکن سب بے سود۔۔۔۔ جب اس کا شوہر بچے کے لیے دوسری شادی کی اجازت لینے آیا تو اس نے صرف اتنا پوچھا کہ آپ کے پاس کیا گارنٹی ہے کہ دوسری عورت سے اولادہو جائے گی۔۔۔ آپ نے خود تو کبھی اپنا ٹیسٹ نہیں کروایا۔۔۔ اور یہی بات اس کے شوہر کو آگ لگا گئی۔۔۔ اُلفت کو گھر بھیج کر پیچھے سے طلاق کے پیپرز بھجوا دئیے۔۔۔ وہ حیران رہ گئی کہ یہاں بانجھ عورت ہونا کتنا بڑ اجرم ہے۔۔۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ بانجھ عورت ہونا اتنا بڑا جرم نہیں جتنا عورت ہو کر مرد کے آگے سچ بولنا۔۔۔ اس نے بڑی ہمت سے سچ بات کی اور دوسری طرف سچی بات سے آگ ہی لگ گئی۔۔۔ خیر دیکھ لیتے ہیں یہ دوسرا بندھن بھی۔۔۔وہ یہ سوچ کر رہ گئی۔۔۔ اس رشتے میں اس کے لیے کبیر علی سے زیادہ کشش آیان میں تھی۔۔۔ آیان پیارا گل گوتھنا سا بچہ تھا۔۔۔ اس کی ماں کے بارے میں ثنا نے بتایا تھا کہ کسی اور کے لیے اس نے کبیر علی کو اور آیان کو چھوڑ دیا۔۔۔ بہت بد قسمت ہے وہ عورت جو دنیا کے لیے اپنی جنت کو چھوڑ دے۔۔۔ اتنے پیارے بچے کے ہوتے ہوئے کوئی کسی نئے رشتے میں کیسے بندھ سکتا تھا۔۔۔۔ اللہ نے اُسے اب تک اولاد کی نعمت سے محروم رکھا لیکن مامتا کُوٹ کُوٹ کر بھر دی۔۔۔ اُسے آیان پر بہت پیار آرہا تھا۔۔۔ کسی لمحے اس کا پیار ترس میں بدل جاتا۔۔۔ہائے! جو بچہ پوری رات ماں کے لمس کی گرمی کے بغیر سوتا ہوگا۔۔۔ اس کی پوری رات کتنی بے چین گذرتی ہوگی۔۔۔
اللہ نے آیان کے لیے اُلفت کی محبت دیکھ کرکبیر علی کے دل میں بھی گداز پیدا کر دیا۔۔۔ انہوں نے شادی کے لیے اقرار کر لیا۔۔۔ لیکن بہن اور خالہ پر واضح کر دیا کہ وہ صرف آیان کے لیے اس شادی پر راضی ہوئے ہیں اس سے زیادہ اُن سے کوئی توقع نہ رکھی جائے۔۔۔ وہ دونوں اُن کا اقرار سُن کر بہت خوش تھیں۔۔۔اورپھر شادی کی تیاریوں میں دونوں خالہ بھانجی نے پورا زور لگا دیا۔۔۔دونوں اچھی سے اچھی شے خریدنے کی کوشش میں بازاروں میں ہلکان ہو رہی تھیں۔۔۔
X۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔x
سامعہ نے عمر کے ساتھ آفس جانا شروع کر دیا۔۔۔ اب وہ آفس کابیشتر کام سنبھال لیتی۔۔۔ فون کالز اٹینڈ کرتی اور ڈیلرز سے پراپرٹی کے متعلق بات چیت کرنا اس کے معمول میں شامل ہو گیا تھا۔۔۔ اس نے آفس جا کر سب سے پہلے اپنے پیسوں سے وہاں کا انٹیرئیر تبدیل کروایا۔۔۔ پرانا انٹیرئیر شاید بہت پرانا تھا۔۔۔ جگہ جگہ سے دیواروں کا پینٹ اکھڑا ہو اتھا۔۔۔ فرنیچر نئے ڈیزائن کا ڈلوایاتھا۔۔۔ عمر نے آفس کے لیے اس کی محنت کو بہت سراہا۔۔۔” یار میری زندگی میں تمہاری جیسی عورت کی بہت ضرورت تھی۔۔۔ اس سے پہلے مجھے اپنا آفس کبھی اتنا اچھا نہیں لگا۔۔۔ تم نے تو ا س کی شکل ہی بدل کر رکھ دی۔۔۔” وہ ایک ایک چیز کو بہت غورسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ ” لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اب اس جگہ پر کسی عورت کی بھی شراکت داری ہے۔۔۔ ایسی پینٹ اکھڑتی دیواریں اور سالوں پرانے فرنیچر کو دیکھ کر میرا تو یہاں بیٹھنے کو دل نہیں کرتا۔۔۔۔ ابھی تو میں آفس کچن کی کراکری بھی تبدیل کرنے والی ہوں۔۔۔ تم دیکھنا۔۔۔ کیسی کیسی تبدیلیاں آنے والی ہیں۔۔۔” اُسے عمر کے منہ سے اپنی تعریف اچھی لگی۔۔۔ اسی لئے خوش ہو کر بولی۔۔۔
“ارے یار زیادہ خرچہ مت کرو۔۔۔ اگلے ہفتے پارٹنر آرہا ہے۔۔۔اس کے ساتھ ڈیل کے بعد جتنا چاہو خرچ کرنا۔۔۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔۔۔” وہ تھوڑا فکر مندی سے بولا۔۔۔ ” ہو جائے گی وہ ڈیل بھی تم بالکل فکر مت کرو۔۔۔” اس نے عمر کو دلاسا دیا۔۔۔” سامعہ میں واقعی فکر مندہوں۔۔۔ اب میرے اور تمہارے بزنس کا دارومدار اسی ڈیل پر ہے۔۔۔اس وقت ہم دونوں ہی خسارے میں جا رہے ہیں۔۔۔” ” میں نے کہا نا عمر تم بالکل فکر مت کرو۔۔۔اب یہ تمہاری پریشانی نہیں ہے۔۔۔” اس نے عمر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اُسے یقین دلایا تو وہ مُسکرادیا۔۔۔ اور اس کے ہاتھ کی پُشت کو کندھے سے اُٹھا کر چوم لیا۔۔۔۔
” مجھے معلوم ہے میں نے کسی عام لڑکی سے شادی نہیں کی۔۔۔ بہت نادر اور نایاب ہیں تمہاری طرح کی باحوصلہ لڑکیاں،جو اپنے شوہروں کاہاتھ بٹانے کے لیے بہت کچھ کرنے پر تیار ہو جاتی ہیں۔۔۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ وقت آنے پر تم بھی پیچھے نہیں ہٹو گی۔۔۔” “عمر تمہاری خاطر زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ کیا تھا۔۔۔ اور اب اس سے بڑی آزمائش کیا ہوگی۔۔۔ اگراب بھی تمہیں میرے حوصلہ پر شک ہے تو یقین رکھو۔۔۔ آگے بھی مایوس نہیں کروں گی۔۔۔” وہ مُسکرادی۔۔۔ عمر سوچ رہا تھا۔۔۔ وہ تو کوئی آزمائش ہی نہیں تھی۔۔۔اصل آزمائش تو اب شروع ہوئی ہے۔۔۔ بس تھوڑا انتظار کرو۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔x
ثنا اور خالہ بڑے ارمانوں سے اُلفت کو بیاہ کر لے آئے تھے۔۔۔ بڑی سادگی سے ایک ہفتے کے اندر ہی چند مہمانوں کے درمیان ان دونوں کا نکاح ہو گیا۔۔۔ اور ساتھ رخصتی بھی۔۔۔ اُلفت نے گھر آتے ہی سب کے دل میں گھر کر لیا۔۔۔ بلکہ آیان تو اس کے ساتھ ہی سونے لگا تھا۔۔۔ وہ اُسے پیار سے تھپک تھپک کر سُلاتی۔۔۔ اپنے ہاتھوں سے اسکول کے لیے تیار کرتی اور واپسی پر کپڑے تبدیل کر کے کھانا کھلاتی۔۔وہ بہت خوش تھا۔۔۔ اُسے اتنی توجہ اور پیار کبھی سگی ماں سے بھی نہیں ملا تھا۔۔ ناہید بیگم کا بھی وہ بہت خیال رکھتی۔۔۔انہیں وقت پر دوائی اور کھانے کے لیے میڈ کو ہدایت دیتی اور اس پر نظر بھی رکھتی۔۔۔ سوائے کبیر علی کے اس کے تعلقات سب کے ساتھ اچھے تھے۔۔۔ کبیر علی نے اس کے ساتھ ایک سرد سا تعلق بنا رکھا تھا۔۔ جیسے وہ ان کی بیوی نہیں بلکہ گھر میں رکھی گئی کوئی میڈ ہو۔۔۔ لیکن اُسے کوئی اعتراض نہ تھا۔۔۔ وہ پہلے شوہر کی طرح اس کی بے عزتی نہیں کرتے تھے۔۔۔ اکاؤنٹ میں ڈھیر سارا پیسا بھی ڈلوا دیا تھا۔۔۔ تاکہ وہ آرام سے شاپنگ کر سکے۔۔۔ اُسے پیسے کی ضرورت نہ تھی کیوں کہ وہ اپنے باپ کی جائیدا د میں اچھا خاصہ حصہ رکھتی تھی۔۔۔ ہر سال اس کی زمینوں سے کافی پیسا آجاتا تھا۔۔۔ جو وہ کھل کر خرچ کرتی۔۔۔ آیان، خالہ او ر ثنا سے اُسے بہت محبت ملی سو وہ خوش تھی۔۔۔ لیکن اُسے یقین تھا کبیر علی کی محبت بھی وہ ایک دن ضرور پالے گی۔۔۔ اُسے ثنا نے کبیر علی کے لیے سامعہ کی محبت کے بارے میں سب کچھ بتا دیا تھا۔۔۔۔ کہ وہ بھائی کی بچپن کی محبت تھی لیکن اُسے بھائی کبھی اچھے نہیں لگے۔۔۔ یہ تو ہمیں شادی کے بعد احساس ہو اکہ ہم نے اس پر نہیں بھائی پر ظلم کر دیا ہے۔۔۔ بھائی کی محبت کا جواب اس نے کبھی محبت سے نہیں دیا۔۔۔ یہ سب باتیں تمہیں اس لیے بتا رہی ہوں کہ تم اس وقت بھائی کی نفسیات کو اچھی طرح سمجھ لو۔۔۔ ہم نے انہیں اس شادی پر بہت مشکل سے تیار کیا ہے لیکن جس طرح تم نے آیان،خالہ اور ہم سب کو اپنی محبت سے اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔۔۔ اسی طرح مجھے پورا یقین ہے کہ بھائی کی محبت بھی پالو گی۔۔۔” وہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر بڑے جذب کے ساتھ سمجھا رہی تھی۔۔۔ اُلفت نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔” میں سمجھ سکتی ہوں۔۔۔ محبت کو کھو دینے سے بڑا دُکھ دنیا میں کوئی نہیں ہوتا۔۔۔اس زخم کو بھرنے میں صرف وہی لوگ کامیاب ہو سکتے ہیں جو خود ایسا زخم کھائے ہوں۔۔۔ انہیں اس زخم کی گہرائی کا بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے۔۔۔ تم فکر نہ کرو۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ ایک دن میں ان کی محبت کو پانے میں کامیاب ہو جاؤں گی۔۔۔ بے شک وہ مجھے سامعہ جیسی محبت نہ دیں لیکن کم از کم ایک بیوی کے حقوق تو میں ان سے لے کر رہوں گی۔۔۔” وہ بہت باعزم تھی۔۔۔ ثنا نے اُسے گلے لگا لیا۔۔۔۔” یقین کرو اس ٹوٹے گھر کو تمہارے جیسی مخلص اور ہمت والی عورت ہی دوبارہ جوڑ سکتی ہے۔۔۔۔ اب مجھے یقین ہے کہ خوشیاں میرے بھائی سے دور نہیں۔۔۔ بس تم اپنی کوشش جاری رکھنا ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔۔۔”
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
سامعہ عمر کے ساتھ ائیر پورٹ آئی ہوئی تھی۔۔۔ فلائٹ تھوڑا لیٹ تھی۔۔۔ فنانسر سالوں سے دبئی میں مقیم تھا اور وہاں پراپرٹی کے کام میں کافی کچھ کما چکا تھا۔۔۔ اب کچھ پیسہ پاکستان میں آکر لگانا چاہتا تھا۔۔۔ عمرنے اس بار اُسے اچھی طرح گھیرا اور پاکستان آنے کی دعوت دی تھی۔۔۔ فلائٹ آچکی تھی۔۔۔ مسافر باہر آرہے تھے۔۔۔ سلطان احمد خان سے جب عمر نے سامعہ کا تعارف اپنی بیوی اور بزنس پارٹنر کے طور پر کروایا تو ایک لمحے کے لیے سلطان احمد کی نظریں چمک کر رہ گئیں۔۔۔یہ چمک عمر سے پوشیدہ نہ رہ سکی۔۔۔ وہ اسی لمحے کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔ اس نے سامعہ کو آگے بڑھ کرہاتھ ملانے کا اشارہ کیا۔۔۔ ایک لمحے کو سامعہ جھجھکی پھر کچھ سوچ کر ہاتھ آگے کر دیا۔۔۔” نائس ٹو میٹ یو۔۔۔”سلطان احمد نے اس کا نرم و ملائم ہاتھ ہلکے سے دبا کر چھوڑ دیا۔۔۔۔ سامعہ کو اُن کا انداز اچھا نہیں لگا تھا۔۔۔ لیکن عمر اُسے یہ ساری باتیں سمجھا کر لایا تھا کہ وہاں کوئی بدمزگی نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ تمہیں اس فیلڈ میں داخل ہونے کے لیے بڑے دل کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔۔۔ پورے راستے سلطان احمد عمر کے بجائے سامعہ کو مخاطب کر کے ہی باتیں کرتے رہے۔۔۔ عمر ڈرائیور کر رہا تھا۔۔۔ اسی لیے خاموش تھا۔۔ جو بریفنگ اس نے سامعہ کو دی تھیں۔۔۔ پراپرٹی کے بارے میں سامعہ وہ ساری باتیں بہت اچھی طرح سلطان احمد سے ڈسکس کر رہی تھی۔۔۔ لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ پہلی بار کسی بزنس ڈیل کا حصّہ بن رہی ہے۔۔۔ کلائنٹ سے فون پر بات کرنا۔۔۔ اور کلائنٹ کو روبہ رو کسی ڈیل کے لیے قائل کرنے میں بہت فرق تھا۔۔۔۔ وہ بہت مزے سے اپنے پارٹنر کے ساتھ اس طرح بات کر رہی تھی۔۔۔جیسے برسوں سے جانتی ہو۔۔۔ لنچ ٹائم تھا۔۔۔ وہ سلطان احمد خان کو لے کر ایک فائیو سٹار ہوٹل میں گئے۔۔۔ اور اچھاسابوفے کیا۔۔۔ کافی ٹائم ہو گیا تھا اسی لیے فیلڈدکھانے کا فیصلہ دوسرے دن پررکھ کر اُنہوں نے سلطان احمد خان کو ہوٹل ڈراپ کردیا۔۔۔۔
واپسی پر عمر آفندی کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔۔۔” ویل ڈن سامعہ تم نے تو کمال کردیا۔۔۔ مجھے لگتا ہے فیلڈ دیکھ کر قائل ہونے کا مرحلہ تو بس ایک رسم ہی رہ گئی ہے۔۔۔ تم نے اُسے اپنی باتوں سے ہی پوری طرح قائل کر لیا ہے۔۔۔” کتنے غور اور توجہ سے تمہاری باتیں سُن رہا تھا۔۔۔”عمر بڑے جوش سے بولا۔۔۔ تو سامعہ اس کی خوشی میں خوش بھی نہ ہو سکی۔۔۔ جس طرح ہاتھ ملانے سے لے کر رخصت ہوتے وقت وہ بار بار سامعہ کو چھونے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔سامعہ کو قطعاً پسند نہ آیا۔۔۔ وہ عمر کو یہ بات جتا بھی نہ سکی کہ اُسے سلطان احمد بالکل پسند نہیں آئے۔۔ کیوں کہ وہ جانتی تھی اس بات پر عمر قطعاً خوش نہ ہوگا۔۔۔ بلکہ وہ اسے ضرور ڈانٹے گا کہ ماڈرن زندگی میں یہ سب چلتاہے اگروہ اسی طرح چھوٹی چھوٹی باتوں پر سوچتی رہی تو کر چکی بزنس۔۔۔۔ یہ سوچ کر وہ خاموش ہو گئی۔۔۔ لیکن اُسے اندر سے ایک خلش سی ضرور تھی کہ کیا واقعی یہ سب ٹھیک تھا۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
آج بہت دن کے بعد سیما اورآفندی صاحب ایک بزنس میٹنگ میں ساتھ جار ہے تھے۔۔۔ اس کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ ساری میٹنگز خود ہی دیکھ لے اور خالو کو پریشان نہ ہونے دے۔۔۔کافی دنوں سے ان کا بی پی ہائی تھا لیکن وہ آج اصرارکر کے اس کے ساتھ آئے تھے۔۔۔ میٹنگ تو بہت اچھی رہی لیکن واپسی پر اچانک لفٹ میں ان کو سانس کی پرابلم شروع ہوگئی۔۔۔ وہ پریشان ہو گئی۔۔۔۔ وہ بہ مشکل ڈرائیور کے ساتھ ہاسپٹل تک لائی۔۔۔۔ اس دوران وہ مسلسل ان کا سینہ سہلاتی رہی اور اللہ سے رو رو کر دعا کرتی رہی کہ مالک میرے پاس تیرے بعد ایک یہی سہارا رہ گیا ہے۔۔۔ اسے مجھ سے جُدا نہ کرنا۔۔۔ لیکن دل کا دورہ اتنا شدید تھا کہ انہیں فوراً آئی سی یو میں شفٹ کرنا پڑا۔۔۔ اس نے موبائل میں عمر کا نمبر ڈھونڈا اور اُسے ملانے کی کوشش کی۔۔۔ بے شک خالو جان اس سے ناراض تھے لیکن عمرتھا تو اُن کا خون۔۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا تھا کہ باپ آئی سی یو میں ہو اور وہ اُسے خبر نہ کرے۔۔۔دن کے گیارہ بج چکے تھے۔۔۔ اب تک اس کا فون بند جا رہا تھا۔۔۔اُس نے دو تین بار ٹرائی کیا۔۔۔ جب نہ ملا تو جلدی جلدی میسج کر دیا کہ جب اُٹھے گا تو دیکھ لے گا کہ اس کا باپ کس ہاسپٹل میں ہے۔۔۔وہ دُعا کر رہی تھی کہ جلد از جلد وہ ہاسپٹل پہنچ جائے کیوں کہ ڈاکٹرز کے مطابق ان کی زندگی کا کوئی بھروسا نہیں۔۔۔ساتھ ہی اس نے ڈرائیور کو آپی کو بھی فون کا کہہ دیا۔۔۔ ڈاکٹرزان کی زندگی کے بار ے میں زیادہ مثبت رائے نہیں رکھتے تھے۔۔۔” بی بی آپ اندر جا کر ان سے مل سکتی ہیں۔۔۔ وہ آپ کو بلا رہ ہیں۔۔” وہ دوڑی دوڑی اندر گئی۔۔۔ خالو جان کی آواز نہیں نکل رہی تھی۔۔۔بہت مشکل سے کان اُن کے منہ کے پاس لا کر ان کی بات سُنی۔۔۔” سیما بیٹا میں تم سے بہت شرمندہ ہوں۔۔۔ ہم سب نے مل کر تم پر بہت ظلم کیا۔۔۔” وہ ہانپ کر رہ گئے۔۔” پلیز خالو جان کچھ مت بولیں۔۔۔” بس آپ جلدی سے ٹھیک ہو جائیں۔۔مجھے آپ کی بہت ضرورت ہے۔۔۔” وہ رودی۔۔۔ “تم میری سگی بیٹی کی طرح ہو۔۔۔ مجھے بہت دُکھ ہے کہ اس ناہنجار نے تمہاری قدر نہ کی۔۔۔ اگر میں نہ رہوں تو تم کوئی اچھا سا لڑکا دیکھ کرشادی کر لینا۔۔۔ اکیلے مت رہنا۔۔۔” وہ واقعی اس وقت صرف اس کے بارے میں ہی سوچ رہے تھے کہ ان کے بعد سیما کا کیا ہوگا۔۔۔۔ آپ کو کچھ نہیں ہوگا خالو جان۔۔۔ آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔۔ فکر نہ کریں ڈاکٹر ز کہہ رہے ہیں کہ آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔۔۔” سیما یہ حوصلہ انہیں نہیں شاید خودکو دے رہی تھی۔۔۔” میری زندگی کا سب سے بڑا دکھ ہی یہی ہے کہ تم جیسی اچھی لڑکی کی اس بد بخت نے کوئی قدر نہ کی۔۔۔ تم دیکھنا بہت پچھتائے گا۔۔۔ بہت پچھتائے گا۔۔۔ اگر وہ میرے مرنے کے بعد آئے تو اُسے میرا منہ نہ دیکھنے دینا”۔۔۔۔” اتنا کہنے کے بعد انہیں کھانسی کاشدید دورہ پڑ گیا۔۔۔ پاس کھڑے ڈاکٹر ز نے انہیں دوبارہ ماسک پہنا دیا اور اُسے باہر بھیج دیا۔۔۔ وہ باہر پڑی بینچ پر اپنی بے دم ہوتی ٹانگوں کے ساتھ ڈھیر ہوگئی۔۔۔ کتنی بد نصیب ہوں میں ہر رشتہ ختم ہو جاتا ہے۔ اب اس آخری رشتے کا بچھڑنے کا وقت بھی آگیا۔۔۔ اُسے یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔ ماں باپ کے بعد نانو بی اور ان کے بعد عمر اور اب خالو جان۔۔۔ کوئی رشتہ مجھ کم نصیب کے پاس کیوں نہیں رہتا۔۔۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ اتنی دیر میں اس کے موبائل کی بیل بج اُٹھی۔۔۔ اس نے پریشان ہو کر فون اُٹھایاتو آپی کا فون تھا۔۔۔۔ڈرائیور نے انہیں فون کر کے خالو جان کی طبیعت کے بارے میں بتا دیا تھا۔۔۔ وہ فون پر رو رہی تھیں۔۔۔”ہیلو سیما بابا کیسے ہیں؟، آپی خالوجان کی طبیعت ٹھیک نہیں آپ پہلی فلائٹ سے پاکستان آجاؤ۔۔۔ داکٹرز بالکل پُر امید نہیں ہیں۔۔۔ ” وہ رو پڑی۔۔۔” میں جلد ہی ٹکٹس کروانے کی کوشش کر رہی ہوں۔۔۔ پلیز تم عمر کو فون کر کے بلوا لو۔۔۔” عمر کو فون کیا تھا لیکن اس کافون بند جا رہا ہے۔۔۔ میں نے میسج کر دیا ہے۔۔۔” وہ انہیں یہ نہ بتا سکی کہ عمر کے بارے میں اس کے باپ کی آخری خواہش کیا تھی۔۔ ابھی ا س نے آپی سے بات کر کے فون بند ہی کیا تھا کہ ڈاکٹرز نے اُسے وہ بے رحم خبر سنا دی جسے سننے کا حوصلہ اس میں نہیں تھا۔۔۔ خالو جان اب دنیا میں نہیں رہے تھے۔۔۔۔
(باقی آئندہ)