الکہف کے بارے میں بات کرنے سے پیشتر ، “نقطۂ نظر” کے بارے میں اپنا زاویہ ٔ نگاہ سامنے رکھنا چاہوں گا۔ میرے خیال میں کائنات میں کُل نقطۂ نظر تین ہی ہیں۔ہم میں سے ہر کوئی ، سوچ، قول اور عمل کے انہی تین زاویوں کے درمیان سرگرم ہے ، اور زمان و مکاں کے ہر پہلو میں اسی احاطے میں موجود۔

اب اِس میں عِلم کی بڑی اہمیت ہے۔ علم کی اِس اہمیت پر اِن تینوں زاویوں کے بعد بات کرتے ہیں۔



اِن تین زاویوں پر نگاہ ڈالنے کے لئے ہم ماضی کا سفر کرتے ہیں۔



آدم کو تخلیق کیا جا چُکا ہے۔ عرش ِ بریں پر مٹی سے بنائی گئی مخلوق کے بارے میں بات چیت ہو رہی ہے۔

پہلا نُقطۂ نظر ، ابلیس کا ہے۔ ابلیس کے بقول ، انسان ایک حقیر مخلوق ہے۔ اس کی بیان کردہ وجہ انسان کا خمیر ہے۔درپردہ وجوہات میں اپنی انا، انسان سے حسد، اُس کے بارے میں بُرا گُمان اور اُس کی پیدائش سے جنم لینے والا احساسِ عدم تحفظ شامل ہیں ۔ انسان کے بارے میں ابلیس کی ایسی سوچ ہمیں آج کے اُن انسانوں میں نظر آتی ہے ، جو دوسروں کو اِسی نظر سے دیکھتے ہیں، اور اپنے ہم زاد انسانوں کے بارے میں منفی نظریات، جذبات، احسا سات اور گمان رکھتے ہیں۔ ابلیس تو صرف وسوسہ ڈالتا ہے ، یہ اپنی نفرت اور حقارت کو قول اور عمل میں بھی ڈھالتے ہیں۔ ان کے خیا ل میں انسان سے کِسی خیر کی اُمید نہیں۔ یہ نقطۂ نظر مایوسی، حقارت اور منفی توقعات پر مبنی ہوا کرتا ہے، اور انسان کو انسان سے دُور کرتا ہے۔



دوسرا نُقطۂ نظر فرشتوں کا ہے۔ نُور سے بنائی گئی مخلوق، جِس کو راہِ عمل اور خیر و شر کے انتخاب کی آزادی نہیں، اور جو ہمہ وقت عبادات و فرائض میں مگن، چُست اور مصروفِ عمل رہتی ہو ، انسان کے بارے میں کیسا سوچ سکتی ہے، اسکا اندازہ اُس تشویش سے ہوتا ہے جسکا اظہار ان کی جانب سے آدم کی تخلیق کے موقع پر کیا گیا۔ فرشتوں کے بقول انسان اگرچہ خداوندِ کریم کی ایک ارفع تخلیق ہے، مگر اس کو حاصل صلاحیتوں کے مستقبل میں غلط استعمال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ یقیناً زمین میں فساد و شر پھیلائے گا۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ فرشتے اُس وقت اُس حکمت سے آگاہ نہ تھے جو تخلیقِ آدم میں پوشیدہ رکھی گئی ۔غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں میں بہتیرے عابد و زاہد، فرشتہ سیرت اور نیک پاک افراد، اِسی ویو پوائنٹ کو لے کر چلتے ہیں۔ وہ خود تو فرشتوں کی مانند نیکیوں اور فرائض میں شدت سےمصروفِ عمل رہتے ہیں، لیکن دوسرے انسانوں سے خیر کی توقع کم ہی رکھ پاتے ہیں (بلکہ کُچھ تو انہیں ملعون و مطعون بھی کرجاتے ہیں)۔ اِسی لئے دُعا، توقع اور اُمید کی جاتی ہے کہ نیک انسان کا لہجہ نرم اور دِل بڑا ہونا چاہیئے۔ اُسے اِنسانوں پر خرچ کرنے میں تامل نہ ہو ، اور اُس کی اپنی نیکی اُس میں دوسروں کے لیے سختی اور عدم معافی پروان نہ چڑھائے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ فرشتے ، عمل کے معاملے میں، ہدایات کے پابند ہیں، جبکہ انسان عمل کے معاملے میں آزاد ہیں۔ اسی وجہ سے انسان اپنے ردِ عمل میں انتہا پسند بھی ہو جایا کرتے ہیں۔ بہتر ہے کہ فرشتہ بننے کی بجائے ، محنت کر کے انسان بنا جائے۔

تیسرا نُقطۂ نظر اللہ کا ہے۔ اللہ کی عِلم اور حِکمت کی صِفات ہمیں اِس میں رہنمائی دیتی ہیں۔ اللہ نے دونوں کی بات سُن کر فرمایا، کہ جو میں جانتا ہوں ، وہ تُم نہیں جانتے۔



یہاں سارا معاملہ عِلم و حِکمت کا ہے۔ آدم کو دوسری مخلوق کا سجدہ عِلم ہی کی ہی بُنیاد پر کروایا گیا تھا۔ عِلم اور حِکمت ہی انسانوں میں مراتب کی بُنیاد ہے۔ عِلم کی سیڑھی کا پہلا قدم ادب ہے، جبکہ حکمت کو تو قُرآن میں “خیرِ کثیر” کانام دیا گیا ہے۔ عِلم و حکمت کی بُنیاد پر ، انسانوں میں وہ لوگ اللہ کے نُور کی روشنی میں دیکھتے ہیں، جنہیں مومن کہا گیا ہے۔ یہ لوگ انسانوں کے تمام تر منفی اعمال، نظریات اور اقوال کے باوجود، پہلے دو زاویوں کی بنیاد پر فیصلہ نہیں سُناتے ، بلکہ اللہ کے احکام کی روشنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سُنت پر چلتے ہوئے خیر، سہولت اور آسانی کا معاملہ کرتے ہیں۔



حافظ ابنِ قیم کا قول ہے:

علم کو صورت دی جاتی تو وہ سورج اور چاند سے حسین تر ہوتا۔۔



الکہف کے موضوعات پر میری سمجھ و دانست کی روشنی میں وضاحت پیشِ خدمت ہے:



سب سے پہلا موضوع اللہ کی بڑائی،، قدرت اور عظمت کا ہے۔

اس بارے میں زندگی کی مثال دیتے وقت بارش کے نتیجے میں سبزے کا استعارہ آیاہے، جس کی غیر موجودگی سبزے کو خُشک اور شکستہ کر دیتی ہے، اور پھر اُسے ہوائیں اُڑاتی پھرتی ہیں۔ وقت اور زندگی کو ہم چاہے ایک پہیے کی نظر سے دیکھیں (جس کے ساتھ ہمارا وقت جُڑا ہوا ہے ، اور وہ پہیہ گھومتا رہتا ہے، چلتا رہتا ہے، کہ ہم کبھی اُس کے نیچے پِس جاتے ہیں اور کبھی نہیں)، یا اسے آواگون کہہ لیں، یا اسے ساڑھ ستی یا ڈرائی اور ویٹ سائیکل کی نگاہ سے دیکھ لیں، اصل بات یہ ہے کہ اللہ کی قُدرت ہماری زندگی کے ماضی ، حال اور مستقبل کی تمام کیفیات پر غالب ہے ، اور ہمارے بارے میں بہترین فیصلہ ساز ہے۔ سورۃ میں اللہ کی بے نیازی اور یکتائی کے ذکر میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ نے تخلیق کے مراحل میں کِسی مخلوق کو مشاہدہ و معاونت کے فرائض نہیں سونپے، اور اللہ بہکانے والوں کو کسی مثبت مدد کرنے کے لائق نہیں ٹھہراتا ۔

اس سورۃ کی بہت ہی خوبصورت آیت وہ ہے جس کی رو سے تمام سمندر روشنائی اور تمام درخت قلم بن کر بھی ربِّ ذولجلال کی بڑائی، عظمت اور صفات کو مکمل بیان نہ کر سکیں گے۔ یہ کیسی بے مثال توصیف ہے، کِتنی خوش گوار تعریف، اور کیسی عمدہ مثال ۔ سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم۔



دوسرا موضوع نبی ِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے متعلق ہے ، جہاں آپ ﷺ کی اُس فکرمندی اور تشویش کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے، جو آپ ﷺ کو لوگوں کی نجات کے بارے میں درپیش رہی، اور اُن احکامات کا ذکر ہے جن کے لئے آپ ﷺ مبعوث کئے گئے۔

ایسی آیات کو پڑھ کر دِل بے اختیار مجذوب ا ور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں ، کہ جِس ہستی ﷺ نے ہمارے لئے آج سے سینکڑوں سال پہلے راتوں کو سجدوں میں دُعائیں مانگیں ، آج ہم اُن کی سُنت و احکام پر عمل پیرا ہیں یا نہیں؟ اور کیا ہمارے دِلوں میں اُن کی محبت ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے ، تو کیا محبوبِ کائنات ﷺ ہمیں اپنے عزیز ترین رشتوں سے بڑھ کر محبوب ہیں یا نہیں؟

سورۃ واضح کرتی ہے کہ زندگی کی رنگینی، دُنیا کی چمک دمک،مصروفیات اور ایسے تمام لوازمات دِل کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کرنے پائیں۔ ایسے لوگ جو آیات اور نشانیوں پر توجہ نہیں دیتے ، اُن کے دِلوں پر پردہ اور کانوں پر بہرے پن کی مہر لگا دی جاتی ہے، اور یہ قُرآنی احکام سے دُوری کا لازمی نتیجہ ہے۔ ہدایت کے اہم ترین اجزاء میں اللہ سے ملاقات کے لئے اچھے عمل کرنا، اور اُس کی وحدانیت پر یقین شامل ہیں۔

آج کے پُر فتن دور میں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا اِس لحاظ سے انتہائی اہم ہے کہ انسان کی توجہ کو بحٹکانے کے لوازمات ایک سے بڑھ کر ایک ، اور تعداد کے علاوہ معیار میں بھی انتہاؤں کو پہنچ چُکے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر ہم صرف معلومات کے بوجھ (انفارمیشن اوور لوڈ) کا جائزہ لیں، تو حیران کُن مشاہدات سامنے آتے ہیں۔ عام طور پر کمپیوٹر سکرین کے سامنے بیٹھنے والے افراد روزانہ 40 ویب سائٹس دیکھتے ہیں۔ نالج ورکر ہر تین منٹ بعد ایک مختلف کام کی جانب توجہ مبذول کرتے ہیں۔ کمپیوٹر استعمال کرنے والوں میں سے 46 فیصد لوگ قریباً ہر وقت ای میل دیکھتے رہتے ہیں، اور ایک پورے دِن میں دو گھنٹے صرف اسی کام پر صرف کرتے ہیں۔۔ کام سے متعلق 85 فیصد ای میلز دو منٹ کے اندر اندر پڑھ لی جاتی ہیں۔ کام کے دوران بے توجہی دِن کا تقریباً 28 فیصد وقت لے لیتی ہے۔ ایک ای میل پڑھنے کے بعد 24 منٹ تک کام میں یکسوئی نہیں ملتی۔ وٹس ایپ صارفین ایک دِن میں قریباً 65 ارب پیغامات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ آپ کے اِس زیرِ نظر تحریر کو اِس مقام تک پڑھنے کے دوران ٹوئٹر پر 50 لاکھ پیغامات بھیجے جا چْکے ہیں۔ آن لائن موجودگی کا 33 فیصد وقت سوشل میڈیا پر صرف ہوتا ہے۔ اِس وقت انٹر نیٹ پر جِتنا ڈیٹا موجود ہے ، اُسے مکمل ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے 181 ملین سال درکار ہوں گے۔ صرف 2019 میں، کمپیوٹر صارفین نے انٹرنیٹ پر 1.2 ارب سال گزارے۔

بے تحاشامعلومات تک رسائی ہماری توجہ بانٹتی ہے۔ توجہ ، انسان کے کِسی بھی کام کرنے میں اہم ترین عنصر ہے۔ جیسے حاضری اور حضوری میں فرق ہے ، ویسے ہی موجودگی اور توجہ میں فرق ہے۔ یہ فرق اتنا زیادہ ہے کہ رشتوں، نفسیات، کردار اور عمل پر بلواسطہ اور بلا واسطہ اثر ڈالتا ہے۔ اچھی نیت، احسن عمل، دین کے احکام پر چلنا اور نیکیاں کمانا، یہ سب ہماری اگلی منزل کی تیاریاں ہیں، جن کے لئے وقت ، محنت اور توجہ درکار ہے۔ سکرین ٹائم ہمارے دِن کا خاصا زیادہ ، اور اہم وقت لے رہا ہے۔

یہ کائنات جِن اصولوں پر قائم ہے ، ان میں توازن، ترتیب، تعمیل اور معمول (روٹین) بہت اہم ہیں۔ اگر ہم نظر دوڑائیں، تو تمام چرند، پرند، سورج و چاند کا طلوع و غروب، موسم وغیرہ اِن اصولوں پر کاربند ہیں۔ ہماری صحت اور زندگی کے معیار کو برقرار رکھنے کے لئے ہمیں اپنی زندگی میں وقت ضائع کرنے والی چیزوں کو جاننے اور اُن کو کم کرنے کی ہمیشہ ضرورت رہی ہے ، اور آج کے دور میں یہ ضرورت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔



تیسرا موضوع جزا و سزا سے متعلق ہے۔

جب زمین ایک چٹیل میدان کی صورت ہو گی، اور اُس دِن انسانوں کو ایک دوسرے پر تبصروں ، جائزوں یا مشاہدوں کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اُن کے اپنے “اعمال” کی بنیاد پر پرکھا جائے گا۔ یہ آج کے دور میں انتہائی اہم ہے ، کہ میڈیا کی بدولت ہم تک خبروں کا ایک لامتناہی سلسلہ پہنچتا ہے، اور ہم اُن لوگوں، چیزوں، جگہوں، حالات اور واقعات پر بڑے یقین کے ساتھ تبصرے کر جاتے ہیں جن کی ہمیں مکمل خبر نہیں ہوتی، نہ ہی تمام حقائق ہمارے پیشِ نظر ہوتے ہیں۔ ہماری غیر ضروری رائے زنی، بے تحاشا معلومات کو پرکھے بغیر فارورڈ کرنا، شدید احساسات، متعصب زاویۂ نگاہ، نامکمل معلومات کے باوجود خبروں کو آگے پہنچانا / شیئر کرنا،انتہا پسندی کی حد تک گُمان بازی اور ضرورت سے زیادہ بے لاگ بات چیت ہمارے اعمال کا حصہ ہے۔ اِن باتوں پر ہماری باز پُرس ہو گی۔

‘ دی فائنل کال’ ایک ہندی ٹی وی / ویب سیریز ہے۔ اس میں ایک کردار، کرشنا کا ایک مکالمہ کُچھ یوں ہے۔۔

“Every thing you say must fulfill three qualities….

It must be true.

It must be kind.

And it must be necessary.”

سورۃ میں بتایا گیا ہے کہ جب انسانوں کے سامنے اُن کے تمام کے تمام اعمال، افعال اور اقوال ایک کتاب کی صورت میں پیش کئے جائیں گے، تو گناہ گار حیران ہو کر کہیں گے ، کہ یہ کیسی کِتاب ہے جِس میں ایک ایک بات مکمل محفوظ ہے!۔ آج کے دور میں ہم نے بِگ ڈیٹا ، ریکارڈنگز، تصویر، کاغذ، فِلم اور آواز کو محفوظ بنانے کی ٹیکنالوجی ویسے دیکھی اور استعمال کی ہے، جیسے آج سے پہلے کے کِسی بھی دور کے انسانوں نے سوچا بھی نہیں ہو گا۔ اس کے باوجود اگر ہمارے سامنے ہمارے بچپن سے آج تک کی ساری زندگی بشمول اپنی جُزیات کے، ایک فِلم کی صورت میں چلے، تو ہم حیران و پریشان ضرور ہوں گے۔ الکہف اس خوبصورتی سے ہماری زندگی کو درپیش آنے والے حالات کا احاطہ کرتی ہے، اور ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ ہمارا وقت نِکلا جا رہا ہے، اور ہمیں آگے کی تیاری کرنی ہے۔یہ سورۃ ہمارے نظریات کو حقیقت کے مقابل تولتی ہے ، اور نتیجتہً ہمیں یاد دہانی کرواتی ہے کہ ہمیں سوچ اور عمل کو اپنی محدود بصیرت کی بجائے ، خالق کی رہنمائی اور محبوبِ خُدا کی عادات و اطوار کی روشنی میں پرکھنے کی ضرورت ہے۔( مثال کے طور پر ، وقت کے بارے میں ہمارا نظریہ حقیقت سے مختلف ہے۔ جیسا کہ ، عام طور پر ہم کہتے اور سمجھتے ہیں کہ ہر سالگرہ پر ہماری عُمر بڑھ گئی ، جبکہ حقیقت میں ہماری عمر ایک سال کم ہو جاتی ہے )

سورۃ میں روزِ قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے، اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اللہ کی یاد دہانیوں سے مُنہ موڑنے کا انجام جہنم کی آگ ہے، اور انکار کرنے والوں کی آنکھوں کے سامنے اُس دن جہنم ہو گی، جنہوں نے اُس کا انکار کیا اور اُس کی طرف سے ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا رہا۔

یہاں یہ بات توجہ کے قابل ہے کہ اگر ہمیں معلوم اور یقین ہو کہ کُچھ عرصے بعد ہمارے سامنے موجود پلاٹ پر بلڈوزر پھیرا جائے گا ، اور اسے مکمل صاف کر دیا جائے گا، تو ہم اُس پلاٹ کے بارے میں نہ تو زیادہ سوچیں گے ، اور نہ ہی اُس سے متعلق اپنی جان ہلکان کریں گے۔ صرف ضروری حد تک اُس میں دلچسپی لیں گے۔ اسی طرح، یہ زندگی، یہ زمین اور یہ دُنیا، ایک مقررہ وقت تک ہے۔ آگے کی تیاری کا سب سے اہم پہلو اس زندگی میں موجود رہ کر اگلی زندگی پر توجہ مرکوز رکھنا ہے۔

سورۃ یہ واضح کرتی ہے کہ زمین مین جو کُچھ بھی ہے ، صرف ہماری آزمائش کے لئے ہے۔ ٹائم اور سپیس کی تمام جہتیں ہمارے امتحانی پرچے کے حاشیے ہیں، اور یہاں کی آرائش ، معاملات، لوگ، واقعات ، رزق، غرض یہ کہ سب کُچھ ہی ہمارے امتحانی سوالات ہیں۔ کسی بھی امتحان سے پہلے اور اس کے دوران ہمارا طرزِ عمل ، دُنیا میں ہمارے صبح و شام کا لائحۂ عمل ہونا چاہیئے۔ جیسا کہ امتحان کے دوران ہم کمرۂ امتحان پر غور نہیں کرتے، ممتحن پر تبصرے نہیں کرتے، انویجیلیٹر سے نہیں اُلجھتے اور نہ ہی ہر وقت دوسروں پر نظر رکھتے ہیں۔ بس اپنا وقت دیکھتے اور سوال بہترین طریقے سے حل کرتے جاتے ہیں۔ اور یہ بات تو ثابت شدہ ہے کہ امتحان اچھے گریڈ میں پاس کرنے کے لئے اس کی تیاری ضروری ہے۔

آدم کی تخلیق کے بعد جب سجدے کا حُکم دیا گیا ، تو سب فرشتوں نے سجدہ کیا۔ ایک جن نے سجدہ نہیں کیا۔ اس کا نام ابلیس تھا۔ سورۃ میں واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کی بجائے ابلیس اور اس کے چیلوں کو مددگار سمجھنے والوں نے گھاٹے کا سودا کیا ہے۔



چوتھا موضوع اصحابِ کہف سے متعلق ہے۔

وہ چند ایمان والے تھے ، جنہوں نے لوگوں کی گُمراہی اور حکمرانوں کے ستم سے تنگ آ کر ایک غار میں پناہ لے ، اور اللہ سے دُعا کی کی اُن پر رحمت فرمائی جائے ، اور کامیابی کے لئے آسانی عطا کی جائے۔ اللہ نے اُن کی سماعت پر پردہ ڈال دیا اور ان پر نیند طاری فرمائی ، اور وہ کئی سال غار میں سوئے رہے۔ اِس دوران شور سے بچاؤ کے علاوہ ، اُن کی نیند میں سورج کی روشنی نے بھی خلل نہ ڈالا، کہ سورج بوقت طلوع ان کے غار سے دائیں جانب کو جھک جاتا اور بوقت غروب ان کے بائیں جانب کترا کر نکل جاتا۔ اِس طرح وہ کافی عرصہ وہاں سوئے رہے۔ جب جاگے تو آپس میں بات چیت کی۔ کُچھ نے کہا کہ شاید ایک آدھا دن سوئے ہوں گے ، اور بعض نے کہا کہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ قرآنی آیت کے ضمن میں اہلِ کتاب کے اندازوں کے مطابق و وہ وہاں تین سو نو سال تک رہے ، لیکن اگلی ہی آیت میں آتا ہے کہ، “کہو ، اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کِتنے سال وہاں رہے”۔

اس واقعے سے وقت کے گُزرنے کا حقیقی اور مجازی فرق بھی سمجھایا گیا ہے۔ وقت، اللہ کے ہاتھ میں ہے، چاہے تو سُکیڑ دیا جائے، اور چاہے تو پھیلا دیا جائے۔ جبکہ وقت گُزرنے کا احساس انسان کی سرشت میں ہے، اور اس سلسلے میں اسے ماپنے کے انداز و لوازمات بھی۔ اکثر و بیشتر نیند سے جاگنے کے بعد ہم وقت دیکھتے ہیں، تب ہی ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم کِتنی دیر سو پائے۔ سونے اور جاگنے کے دوران کے وقفے کو ہم کِسی صورت بیان نہیں کر پاتے، کہ ہم شعوری طور پر اُس کیفیت میں ہی نہیں ہوتے ۔

اس واقعے کو ا یمان کا امتحان بھی کہا جا سکتا ہے۔



پانچواں موضوع اوامر و نواہی سے متعلق ہے۔

کِسی بھی دور میں ایمان والے جب دوسروں کے جھوٹے معبودوں سے کنارہ کش ہو کر اگر کسی غار میں جا بیٹھیں ، اور اللہ سے رحت کی دُعا اور اُمید رکھیں ، تو اللہ ضرور اُن پر اپنی رحمت پھیلا دے گا اور ان کے لئے ہر کام میں سہولت مہیا کردے گا۔ اس طرح یہ آیت ہر فتنے کے دور میں ایک راہِ عمل متعین کرتی ہے ، اور ایک ایسی حکمتِ عملی کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ انسان وقتی طور پر دُنیا سے خلوت نشیں ہو جائے ، اور اللہ کی پناہ میں آ جائے۔ یہ اللہ کا حکم ہے ، اور حالات کے مطابق اختیار کیا جانے والا عمل۔ یہ عمل جنگ، نقصِ امن اور ظلم و زیادتی سے متاثرہ علاقوں کے ساتھ ساتھ ان حالات میں بھی اختیار کیا جا سکتا ہے جب ایمان والوں کی زندگی اجیرن کر دی جائے ، اور اُن کا اللہ کے احکامات پر چلنا مشکل بنا دیا دیا جائے۔

سورۃ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ آنے والے کل کے عمل بارے میں جب بھی بات کی جائے ، تو اس کے ساتھ “ان شاء اللہ” کہا جائے، اور اس کلمہ کے بغیر اپنا ارادہ بیان نہ کیا جائے۔ ہماری روز مرہ بات چیت کے دوران عام طور پر ہمیں یہ بات معمولی نوعیت کی معلوم ہوتی ہے ، لیکن اس ہدایت کا اللہ کی کتاب میں بتایا جانا ، اسے “فرض” کا درجہ دیتا ہے ، اور اس کا بہت خیال رکھنا چاہیئے۔ اس آیت کا اگلا حصہ مومن کے خوبصورت رویے کو ظاہر کرتا ہے۔ اللہ نے فرمایا: ” اور کہتے رہنا کہ مجھے پوری امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے بھی زیاده ہدایت کے قریب کی بات کی رہبری کرے”۔ اِس بات کا دُعا کی صورت میں مکمل روپ سورۃ الفاتحہ میں موجود ہے۔

الکہف میں انسان کو یہ تاکید بھی کی گئی ہے کہ اپنے آپ کو اُن لوگوں کی معیت میں رکھا جائے (اوردرحقیقت اُن پر اپنی نگاہیں مرکوز رکھی جائیں) جو صبح و شام اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اُن لوگوں کا کہنا نہ مانا جائے ، جو اللہ کے ذکر سے غافل ہیں ، حدود کا احساس نہیں کرتے اور صرف اپنی خواہش کے پیچھے چلتے ہیں۔ یہاں دوستی، رشتوں، تعلقات اور ہر قسم کی سوشل سیٹِنگ کے بارے میں ایک رہنما اصول طے کر دیا گیا ہے۔ ہم اگر اپنے اوپر اثر انداز ہونے والوں اور ملِنے جلنے والوں کو اِس کسوٹی پر پرکھیں ، تو ہمیں اپنا مستقبل کافی حد تک واضح نظر آئے گا۔ ہمسفر، ہم نشیں، ہم پیشہ اور ہم نوا ہماری کیمسٹری سے میل کھاتے ہیں۔ ایک جیسے پرندے اکٹھے پرواز کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ

“You are the average of the five people you spend the most time with.”

سورۃ میں دو آدمیوں کے باہمی مکالمے اور حالات کی مدد سے رزق کی عطا، اللہ کے شُکر کی اہمیت، باہمی گفتگو میں ایک دوسرے کے مال و متاع کا موازنہ، صرف حال کی خوشحالی کی بنیاد پر مستقبل کی خوش گمانی اور حقائق سے صرفِ نظر کے نتائج کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مادی زندگی میں دُنیا کی اہمیت کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مسئلہ تب شروع ہوتا ہے ، جب ہم صرف ایک فیکٹر یا پہلو کو نتیجہ خیز سمجھنے لگتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ کے عطا کردہ باغوں کو صرف اپنی محنت و قابلیت کا ثمر سمجھ لینا اور اس پر اِترانا، اور اس کے ساتھ ساتھ اوور کانفیڈینس ،حد سے زیادہ وثوق، خوش فہمی اور بے پرواہی کے رویے کا اظہار کرنا، کسی تعمیری سوچ و عمل کا پتہ نہیں دیتا۔ انسان تو خود اپنی پیدائش پر قادر نہیں۔ اُسے اللہ کی عطا اور تقسیم کے طریقِ کار کو جاننے اور سمجھنے کی بجائے “ماننے” کی ضرورت ہے۔ شُکر، اللہ کے چاہنے سے سب کُچھ ہونے کا یقین اور دِنوں کے پھیر میں ربّ کی طرف سے پیدا کردہ ہر قسم کے حالات کو قبول کرنے کی حکمتِ عملی ہی بہترین ہے۔ بسا اوقات ہماری محنت کا پھل فوراً نہیں مِلتا۔ کئی بار ہمیں بیٹھے بٹھائے ظاہری طور پر نقصان اُٹھانا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں ایمان والے جانتے ہیں کہ حالات کو ہمارے حق میں وہی پلٹا سکتا ہے ، جو حالات کو پیدا کرتا ہے۔ یہی ہمارے ایمان کی بُنیاد ہے، اور رب پر ہمارے غیر متزلزل یقین کی علامت۔ اس واقعے کو نعمتوں کا امتحان بھی کہا جا سکتا ہے ، اور ناشُکری سے حاصل شدہ سبق بھی۔

سورۃ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی اچھی ، خوبصورت چیز کو دیکھ کر “ما شاء اللہ لا قوۃ الا با للہ” کہنا اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے۔

الکہف ، مال اور اولاد کو دُنیا کی زینت قرار دیتی ہے ، جو کہ ختم ہو جانے والی چیزیں ہیں۔ ان کے مقابلے میں نیکیاں باقی رہنے والی ہیں۔ اب یہ انسان کے اعمال پر منحصر ہے کہ کیسے وہ اپنی اولاد اور مال کو اپنی کمزوری بنانے کی بجائے اپنی نیکیوں کا توشہ بنائے۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ دُنیا کی مختصر دورانیے کی مصروفیات ہمیں اپنی ابدی زندگی سے غافل نہ کرنے پائیں۔ اس سلسلے میں ایک رہنما، مخلص ساتھی یا استاد عظیم نعمت ہے۔اقبال کا ایک شعر ہے۔

ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق

جو تُجھے حاضِر و موجود سے بیزار کرے

سورۃ یہ واضح کرتی ہے کہ اللہ کے دیدار کے طالبین کے لئے دو شرائط ، شرک سے بچاؤ اور نیک عمل ہیں۔



چھٹا موضوع انسانوں کی فطرت ، اعمال اور عادات سے متعلق ہے۔

سورۃ میں بتایا گیا ہے کہ قرآن میں ہر ہر طریقے سے تمام کی تمام مثالیں لوگوں کے لئے بیان کردی گئی ہیں، لیکن انسان سب سے زیاده جھگڑالو ہے۔ اس سے ہمیں اُن انسانوں کے بارے میں حقیقت کا عِلم ہوتا ہے ، جو ابو جہل کی مانند اپنی انا ، غرور اور سرکشی کے باعث جانتے ہوئے بھی نہیں مانتے، اور جو کئی ادوار میں قرآن کے احکامات میں تفرقہ کرتے ہیں۔ سورۃ آل عمران کی ساتویں آیت اس ضمن میں ایک اشارہ فراہم کرتی ہے۔

سورۃ میں یہ بھی مذکور ہے کہ انسانوں کے پاس ہدایت آ جانے کے بعد بھی اگر وہ ایمان نہیں لاتے اور رب سے استغفار نہیں کرتے، تو دو ہی صورتیں نظر آتی ہیں: یا تو اگلے لوگوں کا سا معاملہ انہیں بھی پیش آئے، یا ان کے سامنے کھلم کھلا عذاب آموجود ہوجائے۔

الکہف میں بتایا گیا ہے کہ رسولوں کو بھیجنے کا مقصد خوشخبری سُنانا اور بُرے انجام سے ڈرانا ہے۔ یہ کِسی مناظرے کے موضوعات نہیں ہیں ، نہ ہی مذاق میں ہنسی اُڑا دینے والی چیزیں۔ کافروں کی نشانی بتائی گئی ہے کہ وہ جھگڑتے ہیں، حق کو پست کرنا چاہتے ہیں، اور ڈراووں کو سنجیدہ نہیں لیتے۔

سورۃ میں بستیوں کے مظالم کی بُنیاد پر اُن کی تباہی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ یہ بھی بتا یا گیا ہے کی سب سے زیادہ خسارے میں وہ لوگ ہیں جو ہر وقت اِسی گُمان میں رہتے ہیں کہ وہ بہت اچھے کام کر رہے ہیں، اور حقیقت کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے، نہ ہی اپنی حکمتِ عملی پر غور و فکر کرتے ہیں۔



ساتوں موضوع حضرت موسٰیؑ کے سفر، اور اس سے حاصل شدہ علم سے متعلق ہے۔

اللہ کے حکم کے مطابق حضرت موسٰیؑ نے مجمع البحرین (دو پانیوں کے سنگم) پر پہنچنے کے لئے ایک نوجوان (یو شع بن نون) کے ہمراہ سفر شروع کیا ۔ ایک جگہ اُن کے زادِ سفر کی مچھلی واپس پانی میں تیر گئی، اور اسی کے راستے پر واپسی کے سفر میں ان کی ملاقات حضرت خضرؑ سے ہوئی، جن کے پاس رب کا عطا کردہ عِلم تھا۔ انہوں نے حضرت موسٰیؑ کے حصولِ علم کے سوال کے جواب میں کہا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کرسکتے، اور جو چیز آپ کے اپنے علم میں نہ ہو، اس پر صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں ۔

یہاں ایک اصول طے ہو گیا، کہ علم کے حصول کے لئے صبر سب سے اہم عنصر ہے۔

پھر تین واقعات ہوئے، جن میں ظاہری طور پر حضرت خضرؑ نے نقصان کے کام کئے ، لیکن پسِ پردہ اللہ کے حُکم کے مطابق حکمت، مصلحت اور رحمت تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہماری سمجھ میں صرف وہی چیزیں آ سکتی ہیں، جن سے متعلق ہمیں علم و حکمت دی گئی ہے۔

یہاں ایک اور اصول بھی طے ہوا۔ تفسیر ضیاءالقرآن میں پیر کرم علی شاہ الازہری رقمطراز ہیں کہ تینوں واقعات کے متعلق حضرت خضرؑ نے جب توجیہہ پیش کی تو پہلے واقعے (کشتی کو ڈبونے) کا ذکر کرتے ہوئے “فاردت ” (میں نے ارادہ کیا) کہا، دوسرے واقعے (لڑکے کا قتل) بتاتے ہوئے “فاردنا” (ہم نے ارادہ کیا) استعمال کیا، اور تیسرے واقعے (دیوار درست کرنے) کی حکمت بیان کرتے ہوئے “فاراد ربک” (آپ کے رب نے ارادہ کیا) کے الفاظ استعمال کئے۔ اہلِ ادب و عرفان جب خیر و نفع کا ذکر کرتے ہیں تو اس کی نسبت اللہ کی طرف، اور شر اور ضرر کو اپنی جانب مبذول کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو تکلیف کا بنانے والا ہے، وہی اُسکا علاج بھی بنانے والا ہے، لیکن اللہ کے برگزیدہ بندوں کے اللہ کے فیصلوں اور قدرت کی جانب استعمال کئے گئے الفاظ ہمیں اس ضمن میں ایک کوڈ آف کنڈکٹ فراہم کرتے ہیں۔

حضرت موسٰیؑ کے اس سفر میں پیش آنے والے واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہر علم والے سے زیادہ علم والا موجود ہے۔ اور حکمت اللہ کی عطا کردہ ہے۔ نیز علم و حکمت کا درست استعمال اُسے اللہ کے احکامات کے مطابق ، اور اُسکی مخلوق کی بہتری کے لئے ہی کیا جائے۔ علم کا سب سے ارفع درجہ “نافع علم” ہے۔

اس واقعے کو علم کا امتحان بھی کہا جا سکتا ہے۔





آٹھواں موضوع ذوالقرنین سے متعلق ہے۔

الکہف میں ذوالقرنین کی فرمانروائی اور تین مہمات کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلی مہم مغرب الشمس (جہاں سورج پانیوں میں غروب ہوتا نظر آتا ہے)، دوسری مہم مطلع الشمس (مشرق کی جانب) اور تیسری مہم دو پہاڑوں کے درمیان ایک علاقے کی جانب، جہاں آباد لوگوں کو یاجوج ماجوج نشانہ بناتے تھے۔ اس تیسری مہم میں ذوالقرنین نے اُن لوگوں اور یاجوج ماجوج کے درمیان لوہے اور تانبے پر مشتمل ایک مضبوط دیوار بنائی، اور ساتھ یہ بھی بتلایا کہ یہ صرف میرے رب کی مہربانی ہے ، اور جب رب کا وعده آئے گا تو یہ دیوار زمین بوس ہو جائے گی۔

ذوالقرنین کا عدل ونصاف پر مبنی نظامِ حکومت اور ان کا اللہ پر کامل یقین ایک بہترین حاکم کی نشانیاں ہیں۔ جنگی مہمات میں ان کا رویہ اور مفتوحہ قوموں کے ساتھ سلوک کِسی بھی قائد کے لئے رہنما اصول متعین کرتے ہیں۔

اس قصے کو قیادت کا امتحان بھی کہا جا سکتا ہے۔



میراسورۃ الکہف سے حاصل شدہ ایک سبق یہ بھی ہے کہ عِلم کا تعلق صبر سے، نجات کا تعلق نیک عمل سے، کرم کا تعلق شُکر سے، خسارے کا تعلق بے پرواہی و خوش فہمی سے، نصیب کا تعلق ادب سے ، قیادت کا تعلق عدل سے، اور حکمت کا تعلق عطا سے ہے۔







کُچھ باتیں دجّال سے متعلق۔۔۔

دجال کا رُوٹ “د۔ج۔ل” ہے۔ دجل کے معنی ڈھانپ لینے کے ہیں۔

دجال کا کردار جھوٹ، ملمع سازی اور جعلی اظہار سے عبارت ہے۔ اِس کا عملی مطلب یہ ہے کہ لوگ، چیزیں، جگہیں، اقوال اور افعال ایسے نظر آئیں، جیسے وہ حقیقت میں نہیں ہیں، بلکہ ویسے، جیسا اُنہیں دِکھانے والا دِکھلانا چاہے۔ اس کی روح جھوٹ ، فریب اور دھوکا ہے۔

گو کہ احادیثِ مبارکہ میں دجال کا ذکر کئی جگہوں پر آیا ہے ، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن میں دجال کا ذکر محکم اور ظاہری طور پر موجود نہیں ، اگرچہ کچھ مسلمان علما ء چند مخصوص قُرآنی آیات کی رُو سے دجال کا بلواسطہ ذکر ثابت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

احادیث اور ارشادات کی بُنیاد پر موجود معلومات اور تبصروں میں دجال کو ایک ساحر و فتنہ گر اور مافوق الفطرت انسان کے طور پر بھی بیان کیا گیا ہے، ایک شیطانی لشکر کے سربراہ کی حیثیت میں بھی، مادی طاقتوں کے مرکز ، جھوٹےمسیح کے روپ میں اور دورِ فتن میں سوائے حرمین کے تمام علاقوں پر قابض بھی۔ اس کے علاوہ، دجال کو ایک مثالی یا رمزی حیثیت میں بھی بتلایا گیا ہے، جیسا کہ تسلط اور استحصال کی منفی اقدار پر قائم تمدن، معاشی نظام، ٹیکنالوجی اور عالمی دھونس کی طاقت۔

دجال پر بے تحاشا تحقیقی مواد اور کتب لکھی گئی ہیں۔

میرے ذاتی خیال کے مطابق دجال آج کے دور کےمجموعی میڈیائی کردار کا عکس ہے۔

ہم جس دُنیا میں رہتے ہیں، اُس کے خدوخال کو سائنسی علوم اور ٹیکنالوجی نے گزشتہ تین صدیوں کے دوران بہت تیزی سے تبدیل کیا ہے۔ آج ہمارے پاس انسانی تاریخ کے تیز ترین مواصلاتی نظام کے باوجود، سچ اور جھوٹ میں تمیز مُشکل ہو گئی ہے۔ معاشرتی تعلقات سے لے کر معیشت تک، اور مذہبی سرگرمیوں سے لے کر سیاست تک، آج کی دُنیا یقین کی بجائے گُمان کے زیرِ اثر ہے۔ ہم اصل اور نقل کے فرق کو اِس انداز میں بھُول چُکے ہیں ، کہ ہمیں آج ہر کِسی کا ہر عمل اور ردِ عمل مصنوعی لگتا ہے۔ مادیت پرستی ہماری زندگیوں میں اِس قدر اہم ہو گئی ہے کہ الفاظ اپنے معانی کھو بیٹھے ہیں، اور ہم اپنے کردار، رویّوں، معاملات، اظہار اور اعمال میں کئی قسم کی تہیں لئے ہوئے رہتے ہیں، اور اس کا دفاع مصلحت، وقت کی ضرورت اور ڈپلومیسی جیسی اصطلاحوں سے کرتے ہیں۔ ہم نقلی باتوں، لوگوں اور چیزوں کو اِس قدر چاہتے ہیں کہ ڈرامہ، فلم،تھیٹر، میک اپ ، یہاں تک کہ کاسمیٹک سرجری جیسے طبی شعبے اب باقاعدہ صنعت کی شکل اختیار کر گئے ہیں، اور اس پہ طرہ یہ کہ ہم اداکاروں کی ایکٹنگ کو اس انداز میں سراہتے ہیں کہ “کیا شاندار اداکاری ہے۔ بالکل اصل جیسی!”۔

مطلب یہ کہ ‘اصل ‘اب اہم نہیں ہے۔ اب اہم یہ ہے کہ ویسا بنا، دِکھا اور دِکھایا جائے، جیسا معاشرہ چاہتا ہے، اور اُسے سوشل اپروول کے نام پر ناٖفذ کر دیا جائے۔ اخلاقیات، حکومت اور سیاست کے میدانوں میں معیاری کی بجائے مقداری جمہوریت کا کُلیہ استعمال کرتے ہوئے، ایسے قوانین اور کوڈ آف کنڈکٹ لائے جائیں، جو ب اخلاقی طور پر درست ہوں یا نہیں، اکثریت اور طاقت کے مفادات کا تحفظ ضرور کریں۔

پرسیپشن مینیجمنٹ آج ایک باقاعدہ شعبہ بن چُکا ہے، اور آن لائن اینالِٹکس ، خبروں، سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹیلی مارکیٹنگ سے آگے بڑھ کر، اب حکومتوں کو بنانے اور گِرانے کے مرحلے سے گُزر رہا ہے۔ معلومات کے سمندر میں سے صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے سیپ، موتی اور گہر نکال کر اُنہیں مہنگے داموں فروخت کرنا اب پرائیویسی کی خلاف ورزی نہیں، انفارمیشن ایج کا معجزہ کہلایا جاتا ہے۔

اگر دجال ایک رمز ہے، تو یہ دور دجالی دور ہے۔

آج سے ہزار سال قبل کے لوگوں نے فیک سمائل (مصنوعی مسُکراہٹ) کے بارے میں سوچا بھی نہیں ہو گا۔ آج مگر یہ ائیر لائن کے کیبن کریو سے لے کر نیوز کاسٹرز تک کے نصاب میں شامل ہے۔

سجنے سنورنے سے لے کر گرُومِنگ تک، اور کیمرہ فِلٹرز سے لے کر اشتہارات تک، مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) صرف عالمی فِلم ایوارڈز اور ٹی آر پیز کو ٹارگٹ کر کے فلمی دُنیا اور ٹی وی پروگرامز و کمرشلز کے لئے ہی ڈیٹا کی بُنیاد پر تخلیقی حل پیش نہیں کرتی، بلکہ مصنوعی آوازوں (سنتھیٹِک وائس) ، ڈیپ فیک ویڈیو ز، سنتھیٹِک میڈیا اور بے شمار ایپس کو استعمال کرتے ہوئے ایسے انسانوں کی تصاویر بھی بناتی ہے جو سرے سے موجود ہی نہیں۔۔۔!

ملاحظہ کیجیئے کہ چینی خبر رساں ایجنسی شینواہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ نیوز اینکرز متعارف بھی کروا چُکی ہے۔ ایک مزاحیہ کہاوت سُنی تھی کہ یہ دُنیا ایک دلچسپ جگہ ہے، جہاں زیادہ تر لوگ ڈبلیو ڈبلیو ای کُشتی کے مقابلوں کو اصل جبکہ چاند پر جانے والے خلائی مشن کو جعلی سمجھتے ہیں۔۔ اسی دُنیا میں، مائیکروسافٹ کمپنی کی جانب سے بنا ئے گئے ایک آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹم نے ایک ناول لِکھا، جو ایک جاپانی ادبی مقابلے کے پہلے راؤنڈ میں کامیاب بھی ہو گیا۔



دجال آج کے میڈیائی دور میں بھی کُچھ ٹی وی پروگرامز اور دانشورانہ تحقیق کا موضوع ہے، اور رہے گا بھی۔ اس مرحلے پر ایک عام اِنسان مخمصے میں پڑ جاتا ہے کہ دجال کے بارے میں کیا سچ ہے، اور کیا نہیں؟ میں نے اِس موضوع پر سب سے پہلی کتاب نوے کی دہائی میں پڑھی، جو ستر کی دہائی میں لکھی گئی تھی۔ اس کے بعد بے شمار حوالے چھانے اور مواد پرکھنے کی سعی کی۔ بالآخر مجھے یہ جواب دیا گیا۔

“دجال آئے گا یا نہیں؟ کب ظاہر ہو گا؟کیسے حالات میں آئے گا؟ ہماری زندگیوں میں آئے گا یا نہیں؟ یہ سب سوال سوچنے میں کوئی حرج نہیں، اگرچہ غیر ضروری ہیں۔ مگر اصل سوال اپنے آپ سے ضرور پوچھنا، اور اُس کا جواب بھی تیار رکھنا۔ اور وہ سوال یہ ہے کہ اگر آپ کی ز ندگی میں یہ واقعات ہوئے، تو کیا آپ اللہ والوں کی طرف ہوں گے، یا طاغوت کی طرف۔ پھر اِسی جواب کی تیاری کیجیئے۔ باقی جِس نے جب آنا ہے، آ جائے گا۔ جو ہونا ہے، ہو جائے گا۔جب ہونا ہے، تب ہو جائے گا۔۔۔۔ آپ اُس فتنے کے دور میں اپنی سائیڈ متعین کر لیجیئے، اور اُس کی تیاری میں مگن ہو جایئے۔”



مجھے جواب مِل گیا ۔

دجال دھوکے کا نام ہے۔ اور دھوکا ہمیں، ہماری اپنی سوچ بھی دے سکتی ہے۔

________________

تحریر: عمر
فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف