کتاب تبصرہ________Adultery by Paulo Cohelo

Adultery

پائلوں کاہلو کا ناول “ایڈلٹری” میں نے پہلی بار بک سٹور پر اٹھایا تو عنوان دیکھ کر واپس رکھ دیا،دماغ نے کہا

“It’s erotic!not for me!”

لیکن پھر سال بھر وہی ناول مجھے ہر ویک اینڈ پر دکھائی دیتا رہا اور بلآخر میں نے اس کے عنوان کو نظر انداز کر کے اسے خریدنے اور پڑھنے کا فیصلہ کر لیا۔

“Yes! It’s about adultery!”

میرے تصور کے عین مطابق! لیکن اس کا مرکزی کردار ایک عورت ہو گی اس کا اندازہ مجھے نہیں تھا۔اور ایک مڈل ایجڈ،میرڈ عورت جو مڈ لائف کرائسز اور ڈیپریشن کی شکار ہے۔

لنڈا ،ایک سوئس شادی شدہ خاتون،دو بچوں کی ماں،بھرپور گھر،آئیڈیل پیار کرنے والا شوہر خوبصورت بختاور مکمل ذندگی ،مگر اس قدر نعمتوں کے باوجود لنڈا اپنی عمر کے تقاضے سے لڑ نہیں پاتی اور بڑھتے ہوئے مڈ لائف کرائسز اور ڈیپریشن میں دھنستی چلے جاتی ہے۔تو یہ ناول دراصل مڈ لائف کرائسس کے ساتھ در آنے والے ڈیپریشن کی کہانی ہے جو بلآخر لنڈا کو اپنے ساتھ دھکیلتا لئے چلا جاتا ہے اور وہ بے معنی اور ساکت ذندگی سے اکتائی مایوسی سے بچنے کی کوشش میں اس ایڈلٹری کی کھائی میں گرتی چلے جاتی ہے۔

پائلو کاہلو نے اس سارے عمل کو بہت خوبصورتی سے اس ناول میں بیان کیا ہے۔آخر کیوں ایک مکمل بھر پور ذندگی رکھنے والی خاتون بھی خود کو مایوسی کی اتھاں گہرائی سے بچا نہیں پاتی۔انسانی نفسیات کی گتھیاں بہت عجیب ہیں ان کو ایک طرف سے کھولا جائے تو یہ دوسری طرف سے الجھتی چلے جاتی ہیں۔عام انسان سمجھتے ہیں کہ ناکامیاں مایوسی اور غم کے اندھیرے بڑھاتی ہیں مگر پائلوں کہتا ہے کہ کبھی کبھی کامیابیاں اور کاملیت ذیادہ مایوسی کا باعث بنتی ہیں کیونکہ انسان کی مضطرب طبیعت کے پاس چلتے رہنے کی کوئ وجہ نہیں رہ جاتی۔

لنڈا بھی بڑھتے ہوئے ڈیپریشن سے خوفزدہ ہے اور اس سے بچنے کی خاطر تیز تیز دوڑتی ہے۔ایسے میں اس کی ملاقات اپنے سکول کے زمانے کے بوائے فرینڈ سے ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ہی اس کی ذندگی کو سنبھالنے کی تماتر کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں اور وہ خود کو تسلیاں،دلاسے دیتی اور اپنی غلطیوں کی وضاحتیں دیتی خود کو پچھتاوے کی اس دلدل میں دھنسا بیٹھتی ہے جس سے وہ بچنا چاہتی تھی۔اور پھر جب انسان خود کو کمزوریوں کے حوالے کر دیتا ہے تو وہ مکمل طور پر ان کی زد میں آ جاتا ہے۔

“When we release our dark side, it will completely overshadow the best in us”

~

مڈ لائف کرائسس ایک حقیقت ہے جس کا شکار ہر مرد و عورت ہوتا ہے پھر چاہے اس کی حقیقت کو تسلیم کیا جائے یا اس کے وجود سے انکار کر دیا جائے۔یہ بھاگتی ہوئ موٹر وے سے اتر کر ایک پتلی تنگ گلی میں مڑنے کا نام ہے جس پر 120کی سپیڈ بھی ممکن نہیں اور روشنی کا بھی مناسب انتظام نہیں۔تو انسان چاہتا ہے کہ شریک سفر سے کہیں دور بھاگ جائے ،گھرچھوڑ دے ،شہر بدل لے،سایکالوجسٹ کہتے ہیں کہ مڈ لائف کرائسس کی حالت کا بہترین حل یہ ہے کہ کچھ نہ بدلا جائے۔یہ محض ایک نفسیاتی حالت ہے جس کا رشتوں ،آسائشوں اور چیزوں کے اصل سے کوئ تعلق نہیں۔لنڈا اسی حالت کا شکار ہو کر محبت،حسد اور نفرت کے رستے پر چل پڑتی ہے۔بوائے فرینڈ کی محبت اس کے حواسوں پر اس قدر طاری ہو جاتی ہے کہ وہ اس کے لئے ہر اس پستی تک جا پہنچتی ہے جو اس نے اپنے خاطر ممنوع قرار دے رکھی تھی۔لیکن بہاؤ کی سمت چلتے بھی وہ کچھ بھی حاصل نہیں کر پاتی اور بلآخر اسے پھولتی ہوئی لاش کی طرح پستی کی گہرائی میں ڈوب کر بھی پھر سے واپس سطح پر آنا پڑتا ہے۔

پائلوں کاہلو نے ڈیپریشن اور مڈ لائف کرائسس کے موضوع کو بہت خوبصورتی اور تفصیل سے برتا ہے اور وہ یہ دکھانے میں کامیاب رہا ہے کہ کہ بدترین حرکت کے پیچھے بھی کس قدر اضطراب اور کس قدر بے بسی پوشیدہ ہوتی ہے،انسان شوق سے بلندی سے نہیں گرتے بلکہ کچھ ہر مشکل کے پیچھے کوئ نہ کوئی بے بسی موجود ہوتی ہے۔انسانوں کے اوپر اچھے اور برے کا ٹیگ لگانا بہت آسان کام ہے مگر ان کے پیچھے کارفرما مجبوریوں اور کمزوریوں کا مطالعہ ہم پر واضح کرتا ہے کہ ایک بے ضرر سی دکھائی دینے والی انسانی نفسیات انسان کے انجام کا کس طرح تعین کرتی ہے اور ذندگی کی کامیابی اور ناکامی میں اس کا کیا کردار ہے۔

پھر اسی ظلمت میں سے پائلو لنڈا کو کھینچ کر باہر بھی لیکر آتا ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ اضطراب کی چاہ کے اور بھی بہت سے راستے ہیں،ذندگی سے نبرد آزما ہونے کو اور بھی بہت سے خوف ہیں جن سے لڑا جا سکتا ہے جن کو شکست دی جا سکتی ہے۔اگر خود سے بھاگنا ہی ٹھہرا تو بھی اسے اپنی پستی کا باعث نہ بنایا جائے بلکہ ان کو ذیادہ سے ذیادہ مفید کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔مایوسی کے خوف سے بھاگنے سے بہتر ہے کہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کا نہ صرف مقابلہ کیا جائے بلکہ اسے شکست بھی دی جائے۔

To love abundantly is to live abundantly. To love forever is to live forever.”

اور خود سے کی گئی بہترین محبت انسان کو تہہ میں گرانے کے لئے نہیں بلکہ اسے مزید بلند تر کرنے کے لئے ہوتی ہے۔

مجموعی طور پر یہ ناول ایک بہترین تھیم پر مشتمل ہے اور نفسیات سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لئے ایک بہترین مطالعہ ہے۔

____________

صوفیہ کاشف