پاداش (14)_________شاذیہ خان


گھر واپس آکر سامعہ نے کسی کو بھی اپنے ساتھ گذری رواداد نہیں سُنائی تھی۔۔۔لیکن نہ جانے اماں کو کیسے اندازہ ہو گیا کہ کچھ نہ کچھ ہواہے؟ انہوں نے اُسے کریدنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ بھی بہت پکّی تھی۔۔۔ قبول کر کے ہی نہ دیا کہ اس کے ساتھ کتنی بڑی واردات ہوتے ہوتے رہ گئی۔۔۔ اُسے یاد رہ گیا تو صرف عمر سے ملاقات کا وہ آخری لمحہ جب اس نے کار کا دروازہ کھول کر بہت منت بھرے انداز سے کہا تھا ” پلیز اس بار میرا نمبر بلاک مت کرنا۔۔۔ ملتی رہنا ورنہ میں مر جاؤں گا “۔۔۔ نہ جانے اس کے لہجے میں کیسا جادو تھا۔ وہ پھر اُس کے لفظوں کے پھیرے میں آگئی۔۔۔ عمر کے آخری جملے اس کے ارد گرد مہک رہے تھے۔۔۔ وہ آج عجب سا سکون محسوس کر رہی تھی۔۔۔ بار بار مُسکرانے کا دل چاہ رہا تھا۔۔۔ رات کو سب سے پہلے اس نے واٹس اِپ پر عمر کا نمبر ایڈ کیا۔۔۔ اور ایک تھینک یو کا میسج بھیج دیا۔۔۔ اس بار اس کے پاس پرانے زمانے کا سا چھوٹا سا موبائل نہ تھا۔۔۔ بلکہ آئی فون تھا۔۔۔ اور وہ بھی بالکل نئے ماڈل کا۔۔۔ اُدھر سے بھی فوراً جواب آگیا” مینشن ناٹ” اور پھر دونوں کے درمیان چیٹنگ شروع ہو گئی۔۔۔ وہ اس سے دوبارہ جلدملنے کا تقاضا کر رہا تھا۔۔۔ اور وہ سوچ رہی تھی کہ کب اور کہاں اور کیسے؟ ” مگر اتنی جلدی ممکن نہیں؟” دل کچھ کہہ رہا تھا مگر انگلیاں کچھ اور ٹائپ کر رہی تھیں۔” دیکھو سامعہ اب تم ایک اٹھارہ سال کی غیر شادی شدہ لڑکی نہیں۔۔۔ ایک خود مختار شادی شدہ عورت ہو۔۔۔ اگر ملنا نہیں چاہتیں تو اور بات ہے جلدی یا دیر کا بہانہ مت بناؤ”۔ دوسری طرف سے سامعہ کو عمر کا جواب آیا تو وہ گھبرا گئی۔ وہ جانتی تھی کہ عمر کتنا جذباتی ہے۔۔۔ واقعی ناراض نہ ہو جائے یہی سوچتے ہوئے اس نے فوراً دو دن کے بعد ایک ریسٹورنٹ میں ملنے کا کہہ دیا۔۔۔ اور دوسری جانب سے عمر نے مُسکرا کر اپنے فون کو آف کیا۔۔۔ اس بار اس کے سامنے جو سامعہ تھی اُسے وہ کسی صورت کھونے نہیں دے گا اس بار وہ مکمل پیکج بھی اور اب تو اُسے سامعہ کی اور بھی زیادہ ضرورت تھی۔۔۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پانچ چھے سال کی قلیل مدت نے اس کو اتنا تبدیل کر دیا ہوگا۔۔۔ پہلے وہ اس کے کام کا تھا۔۔۔ تووہ عمر کی طرف بڑھی تھی اوراس بار سامعہ اس کے کام کی تھی۔۔۔ایسے غریبانہ وقت میں جب وہ اپنے باپ کی اتنی بڑی جائیداد سے عاق کر دیا گیا تھا۔۔۔ ایک پیسے والی محبوبہ سے ملنا عمر کے لیے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہ تھا۔۔۔ وہ ہر صورت اسے شیشے میں اُتارنا چاہتا تھا۔۔۔ اتنا تو وہ جان چکا تھا کہ اس کی ازدواجی زندگی اچھی نہیں گذر رہی تھی۔۔۔ ایسی عورتوں کو بآسانی شیشے میں اُتارا جا سکتا تھا۔۔۔ اور وہ اپنے طور پوری پلاننگ کر چکا تھا۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
کبیر نے آج بہت عرصے کے بعد ڈنر کا پروگرام بنا یا۔۔۔ اور جلد ہی آفس سے گھر آگئے۔۔۔ مسلسل کام کر کے وہ بُری طرح تھک چکے تھے اور اب تھوڑا وقت سامعہ کے ساتھ گذارنا چاہتے تھے۔۔۔ گھر آتے ہی انہوں نے سامعہ کو تیار ہونے کا کہا تو اس نے صاف صاف انکار کر دیا۔۔” میری طبیعیت ٹھیک نہیں ” “کیوں ایسا کیا ہوا طبیعیت کو۔۔۔ اتنے پیار سے کہہ رہا ہے تو چلی جاؤ”۔ اماں جو پاس ہی بیٹھی چائے پی رہی تھیں اس کی بات پر بُرا مانتے ہوئے بولیں۔۔۔ ” مگر اماں “۔۔۔ اس نے جان بچانی چاہی تو وہ فوراً بولیں “اگر مگر کچھ نہیں بلکہ اس ڈنر کے علاوہ بھی تم دونوں کچھ دنوں کے لیے شہر سے باہر گھوم کر آؤ۔آیان کو میں سنبھال لوں گی۔۔” وہ تو بہت خوش تھیں کہ کبیر اور سامعہ کے درمیان ایک خلا جو انہیں کافی عرصہ سے نظر آرہا تھا پُر ہو رہا تھا۔۔۔ اور وہ اسی لیے بہ ضد تھیں کہ وہ آج کبیر علی کے ساتھ ڈنر پر جائے۔۔۔ اور سامعہ نے بھی اماں کے ارادے بھانپ کر کہ کہیں وہ واقعی اُسے کہیں شہر سے باہر نہ بھیج دیں۔۔۔ تیار ہونے چل دی۔۔۔ کبیر علی نے پہلے اُسے جیولر کے پاس لے گئے اور وہاں اُسے گولڈ کا ایک سیٹ گفٹ کیا اور پھر ساتھ لے کر اچھے سے ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیے گئے۔۔۔ وہ حیران تھی کہ کافی عرصے کے بعد وہ دونوں ایک ساتھ ڈنر پر نکلے ہیں۔ کبیر علی اپنے بزنس میں کافی بزی تھے۔۔۔اسی لیے سامعہ اور گھر کو ٹائم نہ دے پا رہے تھے۔ وہ تو ثنا نے فون پر اُن کو سمجھایا کہ سامعہ کے ساتھ ان کی دوریاں اسی صورت کم ہو سکتیں ہیں کہ جب وہ زیادہ سے زیادہ اس کے ساتھ ٹائم گذاریں۔ ان دونوں کے درمیان دوریوں کی ایک وجہ کبیر علی کاآج کل گھر اور سامعہ کو پراپر ٹائم نہ دینا بھی تھا۔۔۔ جیسا وہ شادی کے بعد اس کے لیے وقت نکالا کرتے تھے۔۔۔ اسی لیے وہ یہ سوچ کر اُسے باہر کھانے پر لے آئے تاکہ وہ تھوڑا خوش ہو جائے لیکن وہ تو سامعہ تھی جس نے کبیر علی کی سیدھی لکیر کو بھی ٹیڑھا ثابت کرکے چھوڑنا تھا۔۔۔ ” خیر تو ہے آج اتنی مہربانی کیوں؟” سوپ کا چمچہ منہ میں ڈالتے ہوئے اس نے قدرے طنزیہ انداز میں پوچھا۔۔” مہربانی تو ہمیشہ رہتی ہے۔۔۔بس تم اگر مہربانیوں کی پہچان رکھو تو شاید” واہ بھئی گھما پھرا کر آپ مجھے کسی نہ کسی طرح میری غلطی کا احساس دلا ہی دیا کریں۔۔۔آپ اپنی حرکتوں پر غور نہیں کرتے۔۔۔” ” دیکھو جب تک آفس میں ہوتا ہوں آفس کے کام۔۔۔ لیکن گھر آنے کے بعد تو سارا وقت تمہارے پاس رہنے کی کوشش ہی کرتا ہوں۔۔۔ حتیٰ کہ فون تک بند کر دیتا ہوں۔۔۔ مگر تم اپنے فون سے باہر ہی نہیں آتیں۔۔” اس بار انہوں نے بھی اس سے شکایتاً کچھ کہنا چاہا تو اس نے سوپ کے بول کو ایک طرف کھسکا دیا۔۔” آپ مجھے یہاں اس لئے لائے ہیں تاکہ دل کی بھڑاس نکال سکیں۔۔۔ میں بھی حیران تھی کہ آج اتنی مہربانی کیوں؟” وہ اپنا سر پیٹ کر رہ گئے۔۔۔وہ جتنی چاہے باتیں سنا دیتی لیکن جواباًاگر وہ مذاق میں بھی کچھ کہہ دیتے تو وہ دل پر لے جاتی۔۔۔ وہ اتنے اچھے ڈنر کو خراب نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔۔اس لیے بہت مشکل سے معافی مانگ کر منا لیا۔۔۔ اور وہ بہ مشکل کھانے پر تیار ہوئی۔۔۔ویسے بھی وہ آج ان کے ساتھ آنا ہی نہیں چاہتی تھی۔۔۔ لیکن اماں کی ڈانٹ کی وجہ سے مجبوراً آگئی۔۔۔ اب وہ ہر چیز اس کو ایک بچے کی طرح کھلا رہے تھے۔ او روہ نخرے دکھا رہی تھی۔۔۔ ویسے بھی آج کل وہ عمر کی وجہ سے ہواؤں میں اُڑ رہی تھی۔۔۔ اس کے واٹس اپ پر عمر کے تواتر کے ساتھ رومانٹک میسج اس بات کا ثبوت تھے کہ اتنے سالوں کے بعد بھی اس کی محبت کم نہیں ہوئی تھی۔۔ وہ اسی طرح اس کی خوب صورتی کو سراہ رہا تھا۔۔۔ اس سے دوبارہ ملنے کے لیے شدید بے چین تھا۔۔۔ لیکن اس بار اس کا سامنا ایک معصوم سامعہ سے نہ تھا بلکہ وہ ایک گھاک شادی شدہ عورت بن چکی تھی۔۔۔ جسے شوہر کی طرف سے بھی پوری آزادی تھی۔۔۔کوئی پوچھ گچھ نہ تھی۔۔ نہ ہی باہر نکلنے وقت ابا جی کا خوف اور نہ ہی لوگوں کے سوالات کا خیال اس کے سر پر سوار تھا۔ شادی کا سر ٹیفکیٹ اس کے ہاتھ میں تھا۔۔۔ وہ خوش قسمتی سے ایک عدد بے وقو ف شوہر کی مالک تھی۔۔۔ جو اس سے شدید محبت کرتا تھا۔۔۔ کسی بات کی روک ٹوک کے بغیر وہ کہیں بھی جا سکتی تھی۔۔۔ لیکن عمر کی بے قراری بڑھانا بہت ضروری تھا۔۔ ایلیٹ کلاس کی عورتوں کی صحبت نے اُسے کچھ شاطر بنا دیا تھا۔۔ اُسے پتا تھا کہ محبت کا دعویٰ کرنے والے سب کچھ پانے کے بعدسمندر کی جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں۔۔۔ اب وہ دوبارہ آنکھیں بند کر کے عمر پر اعتبار کی غلطی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ وہ چاہتی تھی کہ کچھ دیر اس کو بے تابی سے تڑپنے دے۔۔۔ اتنی جلدی دوبارہ ملنے میں خود اس کی اپنی عزت نفس بھی گھٹتی تھی۔۔۔ جسے وہ کسی صورت کم کرنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
آج عمر کافی عرصے کے بعد میڈم صباح کے پاس آیا۔۔۔ ان کے لبوں سے شکوہ نکل ہی گیا۔۔۔” لگتا ہے آج کل ہمارے طوطے کی اُڑان بہت اُونچی ہو گئی ہے۔۔۔” وہ صوفے پر بیٹھی سگریٹ کے کش لگا رہی تھیں۔۔۔” ارے نہیں یار!کچھ طوطے پنجرے میں ہی سکون محسوس کرتے ہیں “۔۔۔ لگتا تو نہیں ہے۔ آج پورے ایک ہفتے کے بعد آئے ہو۔۔۔ وہ تمہاری محبوبہ سمیرا اس کے دس فون آچکے ہیں۔۔۔ تم نے اس کے فون بھی نہیں اُٹھائے۔۔۔”
“کیا کروں اس شیخ کا فون اُٹھا کر۔۔۔ پیسے نکالتے ہوئے اس کی جان جاتی ہے۔ چھوٹا موٹا گفٹ دے کر یوں احسان جتاتی ہے۔۔۔ جیسے کوہِ نور کا ہیرا دے دیا ہو۔۔۔ میں اب اس پر زیادہ وقت برباد نہیں کر سکتا” وہ غصے میں بولا۔۔ وہ واقعی سمیرا جیسی عورت سے بور ہو چکا تھا۔۔۔ جب سے اُسے سامعہ ملی تھی۔۔۔ اس کی آنکھیں خیرہ ہو چکی تھیں۔۔۔ وہ نا صرف خوب صورت تھی بلکہ بہت مالدار آسامی تھی۔۔۔کافی پیسے بھی اُس کے اکاونٹ میں تھے۔۔۔ گرگس کو ایک اور جہاں نظر آگیا تھا۔۔۔ تو اُسے سمیرا جیسی کنجوس محبوبہ سے کیا لینا دینا۔۔۔ ” لگتا ہے کوئی لمبا مال ہاتھ لگ گیا ہے۔۔۔ کون ہے وہ؟” اس بار میڈم صباح کو بھی اس لڑکی میں دلچسپی پیدا ہوئی جس نے سمیرا جیسی خوب صورت لڑکی کا پتا صاف کر دیا۔۔۔ سمیرا ایک بوڑھے بزنس مین کی جوان اور خوب صورت بیوی تھی۔۔۔ جسے پچھلے سال سے عمر نے ان کی ہدایت پر ہی گھیرا ہوا تھا۔۔۔ابھی تک اس سے کافی کچھ اینٹھ چکا تھا۔۔۔ اور اب جب سامعہ مل گئی تو سمیرا کا نمبر بلاک کر دیا۔۔۔ اس نے میڈم صباح کو فون کر کے عمر کی شکایت کی۔۔۔ تو اسی لیے آج انہوں نے عمر سے پوچھا۔۔۔
لیکن عمر نے سامعہ کا ذکر گول کر دیا۔۔۔ کیوں کہ سامعہ نے اُسے میڈم صباح کے بارے میں سب کچھ بتا دیا تھا۔۔۔ اُسے ڈر تھاکہ اگر وہ سامعہ کے بارے میں انہیں بتائے گا تو وہ یقینا اس کا ذکر پسند نہیں کریں گی اور اُسے ملنے سے منع کر دیں گی۔۔۔ اس لئے مصلحتاً اس نے سامعہ کا ذکر گول کر دیا اور ہنس کر بات ٹال دی۔۔۔ لیکن گھاک تھیں۔۔۔ اندازہ لگا گئیں کہ سمیرا کو چھوڑنے کی اصل وجہ یقینا اس کے مقابلے کی کوئی اس سے بہتر آچکی تھی۔۔۔ اس کی زندگی میں لیکن وہ بتانا نہیں چاہتا۔۔۔ وہ بھی جانتی تھیں کہ ایک دن خود ہی بتا دے گا اگر اس وقت بتانا نہیں چاہتا تو یقینا کوئی وجہ ہوگی۔۔۔ “اچھا خیر چھورو یہ بتاؤ شام کو کیا کر رہے ہو؟۔۔۔ ڈنر کرو گے میرے ساتھ۔۔۔” “ضرور ہم توآپ کی آفرز کے انتظار میں رہتے ہیں کہ کب آپ ہم پر نظر عنایت کریں اور ہمیں آپ کی صحبت نصیب ہو سکے۔۔۔” وہ کھِل اُٹھا۔۔۔ اس عورت کا ساتھ اُسے ہمیشہ سے ایک الگ ہی سکون دیتا تھا۔۔۔ نہ جانے کیسی ساحرہ تھی۔۔۔ وہ اُسے مردوں کو اپنے طلسم میں گھیرنے کا ہنر بہ خوبی آتا تھا۔۔۔ لگتا ہے آج کل رومانٹک فلمیں دیکھ رہے ہو۔۔۔ اتنی ادّبی زبان تم نے پہلے تو کبھی نہیں بولی”۔۔۔ وہ کھِلکھلا کر ہنس پڑیں۔۔۔”ارے جب تم جیسی حسین عورت کسی مرد کے پاس ہو تو ایسی باتیں تو خود بہ خود دل سے نکل کر زبان پر آجاتی ہیں “۔۔۔ وہ بھی عمر آفندی تھا جواب دینے سے چوکتا نہیں تھا۔۔۔ اور اس وقت بھی وہ سب کچھ بھول گیا۔۔۔ بس یاد تھا تو سامنے بیٹھی ساحرہ کی آنکھوں کا رنگ،جو ہلکا ہلکا کتھّی تھا اور جس نے اپنے عمر کو جب اپنے رنگ میں رنگا تو پھر اُسے ہر رنگ پھیکا لگنے لگا۔۔۔ واقعی اُسے آنکھوں سے جادو کرنا آتا تھا۔۔۔ وہ جب پلکیں اُٹھاکر کسی مرد کی طرف بڑی ناز سے دیکھتی تو پھر وہ مرد کسی جوگا نہ رہتا۔۔۔پورے ڈنر وہ درِ پردہ عمر سے اس نئی عورت کے بارے میں اگلوانے کی کوشش کرتی رہیں لیکن عمر نے بھی گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہوا تھا۔۔۔ اُسے اندازہ ہو گیا کہ ڈنر کا دانہ بھی صرف اس عورت کے نام کی وجہ سے اس کی طرف پھینکا گیا ہے۔۔۔ لیکن اس نے کسی طور سامعہ کا نام نہ لیا اورمزے سے ڈنر انجوائے کرتا رہا۔۔۔ چلتے چلتے میڈم صباح نے ایک نامی گرامی ٹی وی آرٹسٹ کا نمبر اُسے دیا کہ وہ آرٹسٹ چند دنوں کے لیے چھٹیوں پر دبئی جانا چاہتی ہے اسے ایک پارٹنر کی ضرورت ہے۔۔۔” تم چلے جانا چند دنوں کی ہی تو بات ہے۔۔۔” انہوں نے بہت غورسے عمر کی طرف دیکھا کہ اس کا کیا جواب آتا ہے۔۔۔ وہ انکار کرنا چاہتا تھا لیکن ہمت نہ پڑی۔۔۔ اس کے بُرے وقت میں میڈم صباح ہی کام آئیں تھیں اور اس طرح کے کام دلوا کر اس کی روزی روٹی کا بندوبست کیا تھا۔۔۔
اس نے انہیں پوری طرح سے تسلّی دی کہ وہ فکر نہ کریں اس آرٹسٹ کے ساتھ دبئی ضرور جائے گا۔۔۔ حالاں کہ اب وہ پورا وقت سامعہ کے ساتھ گذارنا چاہتا تھا۔۔۔ لیکن میڈم صباح کا کہا بھی کسی صورت نہیں ٹال سکتا تھا۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔x
سامعہ نے دو تین بار عمر کو فون کیالیکن اس کا نمبر بند آرہا تھا۔۔۔ واٹس اپ پہ بھی وائس میسج چھوڑا جو کہ عمر نے سین (Seen) نہیں کیا۔۔۔ اُسے لگا چوں کہ عمر اسے بار بار ملنے کا کہہ رہا تھا اور وہ انکار کر رہی تھی اسی لیے ناراض ہو گیا۔۔۔ وہ اس کی شخصیت کے اس پہلو سے تو بہ خوبی واقف تھی کہ ذرا سی بات پر فوری ناراض ہو جاتا تھا۔۔۔ اب وہ سوچ رہی تھی کہ کس طرح اُسے منایاجائے۔۔۔یہی سوچ کر وہ شاپنگ پر نکل گئی۔۔۔ عمر کے لیے ایک مہنگا پرفیوم اور کوٹ خریدا۔۔۔ ساتھ کف لنکس اور میچنگ شرٹ۔۔ سب برانڈڈ تھا۔۔۔ اُسے معلوم تھا کہ عمر کتنا برانڈ کانشس ہے لیکن جب سے بُرا وقت آیا تھا اور اپنے بزنس سے الگ ہوا تھا۔۔۔ اس کے حُلیے میں کافی فرق آچکا تھا۔۔۔ اب وہ چھوٹی موٹی چیزوں پر بھی کمپرومائز کر لیا کرتا تھا۔۔۔
وہ سوچ رہی تھی کہ یہ چیزیں عمر تک کس طرح پہنچائی جائیں۔ فون تو وہ اُٹھا نہیں رہا تھا۔۔۔ گھر کا ایڈریس اُسے معلوم نہیں تھا۔ جس دوست کے پاس وہ ٹھہرا ہوا تھا۔۔۔ اس کا فون نمبر بھی سامعہ کے پاس نہ تھا۔۔۔ کم ازکم دوست کو فون کر کے اس کے گھر کا ایڈریس ہی لے لیتی اور یہ سارا سامان اس تک پہنچا دیتی۔۔۔ فی الحال اُسے عمر کے خود رابطہ کرنے کا انتظار کرنا تھا۔۔۔ اُسے کیا پتا کہ عمراِن دنوں کسی آرٹسٹ کے ساتھ دبئی میں رنگ رلیاں منا رہا تھا۔۔۔ لیکن رنگ رلیاں مناتے ہوئے عمر نے اس بات کا پورا خیال رکھا کہ آرٹسٹ کے ساتھ کوئی سیلفی یا پکچر نہ ہو۔۔۔ کیوں کہ پہلے بھی ایک تلخ تجربہ ہو چکا تھا۔۔۔ بہر حال اس نے اپنا ہفتہ بہت مزے سے گذارا اور اس انجوائے منٹ کے بدلے تحفوں تحائف سے لدا پھندا عمر جب میڈم صباح کے پاس آیا تو وہ بہت خوش تھا۔۔۔ ان کا cutان کے حوالے کر کے وہ وہاں سے نکل آیا۔۔۔۔ گھر آکر موبائل آن کیا تو سامعہ کے ڈھیر سارے میسج اور فون کالز آئی ہوئی تھیں۔۔۔ وہ اپنے ساتھ دوسرا موبائل لے کر گیا تھاجس میں موجود سم دبئی کی تھی۔۔۔ اور وہ ایسے مواقع پر وہی فون استعمال کرتا تھا۔۔۔ اُسے بہت خوشی ہوئی کہ سامعہ اس سے ملنے کے لیے بے تاب ہے۔۔۔ آخری وائس میسج میں اُسے ڈنر کا کہہ رہی تھی۔۔۔ عمر کے لیے اس کے پاس کچھ گفٹس بھی تھے، جو وہ مل کر دینا چاہتی تھی۔۔۔ عمر زیرِ لب مُسکرادیا۔۔۔ اب شکار کو دانہ نہیں ڈالنا پڑے گا۔۔۔ وہ تو خود جال میں پھنس چکا تھا۔۔۔ اب سب سے پہلے اُسے یہ معلوم کرنا تھا کہ اُسکے پاس کتنا پیسا ہے؟ اور پھر اُسے نکلوانے کے حیلے ڈھونڈنے ہیں۔۔۔ اس نے ایک وائس میسج اپنی بے تابیوں اور پریشانیوں کا سامعہ کے نمبر پر چھوڑا۔۔۔ فوراً ہی عمر کو سامعہ کی کال آگئی۔۔۔” بس سوری یار پچھلے پورے ہفتے بہت پریشان رہا۔۔۔ایک جگہ پارٹنر شپ کی تھی وہ کمینہ سارا پیسا لے کر بھاگ گیا۔۔۔ اسی کے پیچھے پیچھے دبئی گیا ہوا تھا مگر لا حاصل”۔۔۔ اس نے اپنے لہجے میں تمام تر محرومی بھر کر کہا تو سامعہ تڑپ اُٹھی۔۔۔ عمر نے اپنے عاق ہونے کا ذمہ دار بھی سامعہ اور اپنی محبت کو ٹھہرایا تھا۔۔۔پکّا کھلاڑی تھا اچھی طرح جانتا تھا کہ کب شطرنج کی کون سی چال چلنی ہے۔۔۔ مات دینا اچھی طرح جانتا تھا۔۔۔ اپنے سامنے والا کو چت کر دینے میں ماہر تھا۔۔۔ اور اسی لئے اسی رات وہ اور سامعہ شہر کے ایک مہنگے اور مشہور ریسٹورنٹ میں موجود تھے۔۔۔ جس کی بکنگ بھی سامعہ نے کروائی تھی۔۔۔وہ مزے سے ڈنر کر رہا تھا۔۔۔ ڈشز سب عمر کی پسند کی تھیں۔۔۔اسی لئے بہت رغبت سے کھا رہا تھا۔۔۔” ہاں اب بتاؤ کتنا نقصان ہوا ہے” وہ پوری طرح اس کو سپورٹ کرنا چاہتی تھی اس کا پورا نقصان بھرنا چاہتی تھی۔۔۔ اسی لئے بلا کسی تمہید کے اس سے پوچھ بیٹھی۔۔۔” ارے نہیں یار! تم اس بات سے دور رہو۔۔۔ I will manage ” ” کیوں میں اس معاملے سے کیوں دور رہوں۔۔۔ تم تکلیف میں ہو اور میں تمہاری تکلیف نہ دور کر سکوں تو بھلا یہ کیسی دوستی ہے؟۔” اس نے فوراً جواب دیا۔۔۔” لیکن یار یہ میری پریشانیاں ہیں۔۔۔ انہیں مجھے خود حل کرنے دو۔۔۔ بس اب تم مجھے چھوڑ کر کہیں مت جانا۔۔۔ ورنہ شاید میں اب جی نہیں پاؤں گا۔۔” وہ دنیا کا تمام تر دُکھ اپنی آواز میں بھر کر بولاتو سامعہ کی سانسیں رُک گئیں۔۔ یہی خوب صورت دلفریب باتیں تو وہ سُننا چاہتی تھی۔۔۔ لیکن کبیر علی کے پاس نہ تو الفاظ تھے اور نہ ہی اس کے لیے وقت۔۔۔ اب عمر جیسے من چاہے شخص کے منہ سے یہ الفاظ سُننے کے بعد وہ سرشار ہو گئی۔۔۔ جو جذب اور محبت اس کے لہجے اور آنکھوں میں تھی۔۔۔ سامعہ اُسے کسی صورت نظر انداز نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ عمر اس کی پہلی محبت تھا۔۔۔ ہر چند کہ اس محبت میں بہت سے اُتار چڑھاؤ آئے تھے لیکن اُسے لگتا تھا کہ عمر کا دوبارہ ملنا قدرت کی طرف سے ایک تحفہ تھا۔۔۔ قدرت چاہتی تھی کہ جیسے اُسے دولت سے مالا مال کر دیا۔ اب محبت سے بھی اس کا دامن بھر دیا جائے۔۔۔ وہ ایک لمحے کو اس کی آنکھوں میں دیکھ کر سمجھ گئی کہ عمر واقعی سچ کہہ رہا ہے۔۔۔ اگر وہ اُسے نہ مل سکی تو وہ مر جائے گا۔۔
” سنو عمر جب دوست کہا ہے تو دوستی کے تقاضوں کو بھی سمجھو ایک دوست دوسرے کو مصیبت میں دیکھ کر کس طرح چپ رہ سکتا ہے۔۔۔ مجھے بتاؤ میں کیسے تمہاری مدد کر سکتی ہوں “۔۔۔ وہ پورے خلوص کے ساتھ اس سے پوچھ رہی تھی اور وہ اندر ہی اندر سوچ رہا تھا عورت دنیا کی بے وقوف ترین مخلوق ہے کتنی آسانی سے شیشے میں اتاری جا سکتی ہے۔۔۔ اُسے سامعہ سے پیسے نکلوانے کے لیے کوئی محنت نہیں کرنی پڑی بآسانی چند دنوں کی غیر حاضری نے اس کا کام کر دیا۔۔۔” ارے نہیں یار چھوڑو میں انتظام کر لوں گا مگر اس کو چھوڑوں گا نہیں۔۔ اسی سلسلے میں پچھلے پورے ہفتے میں دبئی میں رہا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔۔۔ وہاں کے قوانین اپنے شہریوں کو پروٹیکٹ کرتے ہیں۔۔۔ ہم جیسے تو ان کے ساتھ بزنس کر کے ہمیشہ خسارے میں رہتے ہیں۔۔۔۔” وہ اپنے لہجے میں جس حد تک ناامیدی بھر سکتا تھا اس نے بھری۔۔۔ ” آج کل بہت برا وقت چل رہا ہے۔۔۔بابا سے بھی دوبارہ معافی مانگنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ تواپنی بھانجی کے دُکھ میں پوری طرح اپنے سگے بیٹے کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔۔۔ انہیں اپنے بیٹے سے زیادہ اپنی بھانجی سے محبت ہے کہ میں نے تمہارے لئے اُسے دُکھ کیوں دیا۔۔۔” وہ پوری طرح اپنی ازدواجی زندگی کی ناکامی کا بار اس کے کندھوں پر رکھ رہا تھا۔۔۔ اور وہ بھی دلی طور دُکھی ہو رہی تھی کہ اس کی وجہ سے عمر نے کتنی تکلیفیں اُٹھائی تھیں۔۔۔
” دیکھو عمر! چھوڑو سب باتیں مجھے اپنا نقصان بتاؤ ادھار سمجھ کر ہی لے لو جب ہوں واپس کر دینا۔۔۔ آخر دوست دوسرے دوست سے اُدھار بھی تو لیتے ہیں۔” ” لیکن رقم بہت بڑی ہے اور مجھے تم سے کہتے اچھا نہیں لگتا۔۔۔ تمہارے شوہر کو اعتراض ہوگا۔۔۔” وہ اب نئے انداز سے کھیل رہا تھا۔ ارے نہیں یہ پیسے میں اپنے اکاؤنٹ سے دوں گی۔۔۔ کبیر علی کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔ میں خود شیئرز کا کام کرتی ہوں۔۔۔ اور پچھلے دنوں تو میں نے اپنی فرینڈز کے ساتھ گھُڑ ریس میں بھی اچھی خاصی رقم جیتی تھی۔۔۔ وہ رقم ویسے ہی بے کار پڑی ہے تمہارے کام آجائے گی تو مجھے خوشی ہوگی”۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بولی تو عمر بھی ایک بھر پور مسکراہٹ کے ساتھ بولا ” اچھا ٹھیک ہے تم اتنا اصرار کر رہی ہو تا۔۔۔ لیکن یہ اُدھار ہوگا۔۔ جیسے ہی مجھے پیسے ملیں گے تو میں تمہیں واپس کر دوں گا۔۔ اگر کہو تو ایگریمنٹ کر لیتے ہیں۔۔۔” ” ارے نہیں بھئی ایگریمنٹ کی کیا بات ہے یہ لو بلینک چیک ہے کتنی اماونٹ چاہیے۔ بھر دو اور میں سائن کر دیتی ہوں۔۔۔” اس نے پرس سے اپنی چیک بک نکال کر ایک چیک کاٹا اور عمر کی طرف بڑھایا تو عمر دل ہی دل میں ہنس پڑا۔۔ اور چیک تھام کر دس لاکھ کا اماونٹ اس میں لکھ کر چیک لوٹا دیا۔۔ چیک پر لکھا اماونٹ دیکھ کر سامعہ کے تاثرات نہ بدلے اس کا مطلب تھا کہ اتنی اماونٹ سے اُسے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔۔ اُسے یقین ہوگیا کہ سامعہ کے اکاونٹ میں اچھی خاصی رقم موجود ہوگی جبھی اُسے اتنی اماؤنٹ سے کوئی مسئلہ نہ ہوا۔۔۔ اس کے بعد دونوں نے کھل کر باتیں کیں۔۔۔ کھانا بہت مزے دار تھا۔۔۔ لیکن کھانے سے زیادہ صحبت مزے دار تھی۔۔۔ اسی لئے وقت گذرنے کا پتا ہی نہ چلا۔۔۔ چونکی تو اس وقت جب گھر سے اماں کے فون نے اُسے اتنے دلفریب ماحول اور عمر کی دلفریب صحبت سے بے دار کردیا۔۔ ساڑھے دس بج چکے تھے۔۔۔ کبیر علی اپنے بزنس کے سلسلے میں سیالکوٹ گئے ہوئے تھے۔۔۔ اماں اور آیان گھر میں اکیلے تھے۔۔۔ اماں نے اُسے بے بھاؤ کی سنا دیں۔۔۔ تو اس نے بھی بدمزہ ہو کر انہیں جلدی آنے کا کہا اور فون بند کردیا۔۔۔ ” یہ مائیں بھی نا جانے کون کون سے وہم پالتی رہتی ہیں۔۔۔ ذرا دیر ہو جائے بس فون کھڑکا دیا۔۔۔” اس نے منہ بناتے ہوئے سرگوشی میں کہا لیکن سرگوشی اتنی بلند تھی کہ عمر نے سُن لی۔۔۔ ” ارے واقعی بہت دیر ہو گئی ہے۔۔۔ تمہاری خوب صورت باتوں اور اس مزے دار کھانے نے وقت کا پتا ہی نہ چلنے دیا۔۔۔” اس نے اپنے موبائل پر ٹائم دیکھتے ہوئے کہا اور کھڑا ہوگیا۔۔۔ بل سامعہ پہلے ہی ادا کر چکی تھی۔۔۔ اسی لئے وہ باہر نکل آئے۔۔۔ لیکن عمر نے اُسے اس کی کار تک چھوڑنے میں اس کا دوبارہ شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی ایک اور ملاقات کا وقت بھی رکھ لیا۔۔۔ چوں کہ وقت سامعہ کا بھی بہت اچھا گذرا تھا اس لئے اسے کوئی اعتراض نہ ہوا اور اب عمر کی جیب میں اس کا دیا ہوا چیک تھا تو اگلا ڈنر اس نے اپنی طرف سے کروانے کا وعدہ لیا، جو اس نے ہنس کر قبول کرلیا۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔x
گھر آکر وہ بہت خوش تھی۔۔۔ اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ بن پیئے کیسا نشہ تھا جس نے اُسے پوری طرح مدہوش کر دیا تھا۔۔۔ عمر کی صحبت نے اُسے کتناسکون دیا تھا۔۔۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔ کہ زندگی کے اس مقام پر عمر اسے دوبارہ مل جائے گا۔۔۔ پچھلے کتنے سالوں سے کبیر علی کے ساتھ وہ اپنی زندگی گذار تو رہی تھی مگر کبھی اتنی خوشی اتنا سکون نہیں ملا جتنا عمر کے ملنے کے بعد۔۔۔ ہر کام اچھا لگ رہا تھا۔۔۔ اماں نے دیر سے آنے کے لیے اُسے خوب ڈانٹا مگر اس بار وہ ناراض نہ ہوئی بلکہ ان کے گلے لگ کر گال پر پیار کیا۔۔ وہ حیران تھیں کہ ڈانٹ پر آج جواباً نہ ہی وہ بھنّائی اور نہ ہی تپ کر کوئی جواب دیا۔ سوتے ہوئے آیان کو گود میں اُٹھا کر اُوپر لے گئی۔۔۔ کپڑے بدل کر جب وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی تواپنے روپ پر خود ہی شرما کر رہ گئی۔۔۔ کیا محبت کا احساس انسان کو بنا کسی بیوٹی پراڈکٹ کے خوب صورت بنا سکتا ہے۔۔۔ اپنے چہرے پر آہستہ آہستہ موسچرائزر لگاتے ہوئے وہ اس کی بہار پر خود ہی حیران تھی۔۔۔ عمر نے اس کی تعریفیں ہی اتنی کیں کہ وہ محسوس کر رہی تھی کہ خوشی پہلی بار اس کے دل سے پھوٹ رہی تھی۔ کبیر علی بھی اکثر تیار ہونے پراس کی تعریف کرتے لیکن وہ تعریفیں کبھی اس کے دل کو چھو کر بھی نہ گذریں۔۔۔کبھی کوئی جذبہ نہیں جاگتا۔۔۔ اورنہ ہی دل میں کوئی کلی پھوٹتی تھی۔۔۔ لیکن آج تو اپنی تعریفیں سُن کر اسکے دل کا پورا باغ ہی مہک اُٹھاتھا۔۔۔ وہ واقعی بہت خوش تھی۔۔۔ سب سے زیادہ خوشی اُسے عمر کے کام آنے پر ہورہی تھی۔۔۔ دس لاکھ کی رقم شاید اس کے لیے اتنی بڑی رقم نہ تھی مگر یہ رقم عمر کے کام آجائے اس سے اچھی کیابات ہو سکتی تھی۔۔۔
“تم ایک شادی شدہ عورت ہو کیا ایسے ایک غیر مرد سے محبت کے نام پر ملنا تمہارے لیے جائز ہے؟” شیشے میں کھڑی سامعہ نے اس سے سوال کیا۔۔۔ تو اس نے فوراً جواب دیا۔۔۔۔جس شادی سے آپ کا دل ہی خوش نہ ہو وہ کیسی شادی؟۔۔ ” “لیکن اس وقت تم نے اپنی مرضی سے یہ شادی کی اور کبیر علی کا ساتھ قبول کیا تھا۔” شیشے والی سامعہ کا ضمیر یقینا زندہ تھا اسی لیے وہ ایسے سوال کر رہی تھی۔۔۔ او ر اس کا ضمیر مردہ ہو چکا تھا اس لئے وہ ایسے جواب دے رہی تھی۔۔” مجبوری کا نام شکریہ ہوتاہے اگر عمر اورمیرے راستے میں اتنے پہاڑ نہ آتے تو شاید عمر اور مجھے ایک ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔۔۔ اور اب اگر وہ مجھے دوبارہ ملا ہے تو شاید قدرت ہمیں دوبارہ ملانا چاہتی ہے۔۔۔” وہ غصّے سے بولی۔۔۔” کبیر علی اور آیان کے بارے میں کیا سوچا ہے؟کیا وہ تمہارے بغیر رہ پائیں گے؟” آئینے والی ابھی تک مایوس نہیں ہوئی تھی اسی لیے اس کے دل پر وار کیا۔ اپنے بچے کوکون چھوڑتا ہے۔۔۔ وہ بیوی کے علاوہ ایک ماں بھی تھی۔۔۔ اور ماں تو اپنے بچوں کے لئے دنیابھر کی دولت چھوڑ سکتی ہے۔۔۔ سامعہ کو ایک لمحے کے لیے محسوس ہو اکہ کسی نے اس کا دل اپنی مُٹھی میں لے لیا۔۔۔ مگر پھردوسرے لمحے وہ غصّے سے بولی۔۔۔ “کبیر علی کا تو میں نہیں جانتی مگر آیان میرا بیٹا ہے۔۔۔ وہ میرے ساتھ رہے گا۔۔۔ اُسے میں کسی صورت نہیں چھوڑ سکتی۔۔” اس بار وہ آئینے سے ہٹ کر بیڈ پر آکر بیٹھ گئی اور سوئے ہوئے آیان کے بالوں پرہاتھ پھیرنے لگی۔۔۔ آیان سے الگ ہونے کا تو وہ تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔اور اگر عمر نہ مانا تو۔۔۔ اس بار اس نے خود سے سوال کیا۔۔۔ اگر وہ مجھ سے محبت کرتا ہے تو اُسے آیان کو قبول کرنا پڑے گا ابھی تک اس نے عمر سے آیان کے بارے میں کوئی بات نہیں کی تھی۔۔۔ واقعی بعض اوقات ہم کتنے خود غرض ہو جاتے ہیں۔۔۔ ارد گرد کے لوگوں کا خیال کئے بغیرایک ایسی دنیا میں رہنا چاہتے ہیں جہاں صرف ہمارے من پسند اور محبوب لوگ ہوں جہاں زندگی ہمارے لئے گلزار ہو۔۔۔ لیکن زندگی ہمہ وقت پھولوں کا بستر تھوڑی ہے جہاں اپنے من پسند پھولوں کو سجا کر اپنی مرضی کی نیند لی جائے اور جب آنکھ کھلے تو دوبارہ اسی طرح کا تازہ پھولوں والا منظر ہو۔۔۔ پھول تو کھِلتے ہی مرجھانے کے لیے ہیں۔۔۔ جسے بہار کے ساتھ خزاں لازم و ملزوم ہے تو زندگی بھی صرف اپنے من پسند موسموں کے ساتھ گذارنے کا نام نہیں۔۔۔ یہ کوئی اپنے ہاتھ سے لگایا ہوا باغ تھوری کہ من پسند پودے لگا کر ان کے ساتھ چند لمحے گذار لیں۔۔۔ یہاں تو مالی کا دیا ہوا پھولوں کا ایسا گلدستہ قبول کرنا پڑتا ہے جس میں شاید کئی پھول آپ سخت نا پسند کرتے ہوں لیکن گلدان میں لگانے ہی پڑتے ہیں۔۔۔ لیکن سامعہ اس وقت صرف عمر کے ساتھ اس کی رفاقت کے بارے میں سوچ رہی تھی کیوں کہ عمر چاہتا تھا کہ اب شادی میں دیر نہ کی جائے۔۔۔ وہ جلد از جلدکبیر علی کو چھوڑ کر اس کے پاس آجائے۔۔۔ شاید قدرت کو ہمارا ملنا منظور تھا اسی لیے دوبارہ ملے ہیں۔۔۔ اب یہ دوری اور برداشت نہیں ہوتی۔۔۔ اور وہ اس کی بے قراری پر فدا ہو گئی۔۔۔ اُسے اپنی قسمت پر ناز ہو رہا تھا کہ وہ کتنی قسمت والی تھی جو اُسے عمر آفندی جیسا محبوب ملا تھا۔۔۔ بے شک کچھ غلط فہمیوں کی وجہ سے دوری آگئی تھی لیکن وہ دوبارہ ملے تو یقینا قدرت بھی انہیں ایک دوسرے سے ملانا چاہتی تھی۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔x
کبیر علی اگلے دن صُبح ہی سیالکوٹ سے لوٹ آئے۔۔۔ نئی بزنس ڈیل ہوئی تھی۔۔۔ اور وہ بہت خوش تھے۔۔۔ بہت بڑا پراجیکٹ تھا۔۔۔ ناشتے کی میز پر انہوں نے خالہ کو یہ خوش خبری سنائی اور ان سے دعائیں لیں۔۔۔ سامعہ بھی ناشتے کی میز پر موجود تھی۔۔۔ آیان سکول جا چکا تھا۔۔۔” یقین کریں خالہ اماں کے بعد آپ کی دعاؤں کا سہارا تھا۔۔۔ جو میں آج اتنا کچھ پا سکا ہوں “۔۔۔ وہ ان کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھے تھے۔۔۔ اور شکر گذاری ان کی آنکھوں سے برس رہی تھی۔۔۔ “ارے نہیں بیٹا تم خود بھی اتنی محنت کر رہے ہو۔۔ مگر میری ایک بات مانو تو تھوڑا وقت خود کو اور گھر کو بھی دو۔۔ بچے اور بیوی کے ساتھ کچھ وقت گذارو۔۔ گھن چکر بن کر بی پی اور کولیسٹرول کے مریض بن چکے ہو۔۔۔ اتنی محنت کس کے لیے کر رہے ہو۔۔۔ پیسے سے زیادہ اس گھر کو تمہاری ضرورت ہے۔۔۔” ” ارے اماں پیسا تو جتنا بھی ہو کم ہے۔۔۔ یہی دن تو ہیں یہ جتنا کما لیں کم ہے۔۔۔ پھر تو بڑھاپا آجائے گا اور جو اس وقت کمایا ہے پھر اسی سے کام چلائیں گے۔۔” وہ دونوں کے اتنے محبت بھر ے اظہار سے بور ہو چکی تو بیچ میں لقمہ دینے سے باز نہ آئی۔۔۔ ” جی خالہ! سُن لیں اپنی بیٹی کی باتیں بالکل صحیح کہہ رہی ہے میں واقعی اس کے اور آیان کے لیے اتنا کمانا چاہتا ہوں کہ میری نسلیں بیٹھ کر کھائیں۔۔۔ اورجو محنت میں نے بچپن سے کی ہے وہ ان کو نہ کرنا پڑے۔۔۔” وہ مسکرا کر بولے۔۔۔ ” لیکن یہ وقت دوبارہ نہیں آئے گا۔۔۔ جب اخروٹ ہوں گے اور دانت نہیں تو پچھتاؤ گے کہ کاش ہم بھی کچھ عیش کر لیتے۔۔۔” وہ اب بھی بھانجے کو اسی بات پر راضی کرنے میں لگی ہوئی تھیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ وقت بیوی اور بچے کے ساتھ گذارے۔۔۔ اس نے تو خود کو بالکل گھن چکر ہی بنالیا تھا۔۔۔ ایک پیر فیصل آباد میں تو ایک سیالکوٹ میں۔۔۔ وہ ہفتے کے زیادہ تر دن ٹور پر ہی رہتا اور سامعہ الگ اپنے کاموں میں لگی رہتی۔۔۔ دونوں کے پاس ایک دوسرے کے لیے بالکل وقت نہ تھا۔۔۔ سامعہ کو تو سمجھانا فضول تھا۔۔۔ لیکن شاید ان کے سمجھانے پر بھانجے کے دماغ میں دولت کے پیچھے بھاگنے کا خمار اتر جائے۔۔۔ انہیں پوری طرح اندازہ تھا کہ سامعہ کی نت نئی فرمائشوں نے اُسے ایسا کر دیا تھا۔۔۔ ورنہ وہ اپنے لیے تو بالکل ہی ایک مرنجان مرنج سا شخص تھا۔۔۔ جیسے دنیاوی آسائشوں سے کوئی رغبت نہ تھی۔ مگر ان کی بیٹی کی نت نئی مہنگی فرمائشوں کے بعد وہ بھی تقریباً اس جیسا ہی ہو گیا تھا۔۔۔
” ارے چھوڑیں خالہ! کچھ سال ہی تو ہیں کمانے کے پھر انشاء اللہ میں او ر سامعہ اُس پیسے سے ساری دنیا گھومیں گے۔۔۔ آپ تو جانتی ہیں خالہ بغیر پیسے کے زندگی کا کوئی مزہ نہیں۔۔۔ کیوں سامعہ میں صحیح کہہ رہا ہوں نا”۔۔۔ انہوں نے خالہ کو چھوڑ کر سامعہ کو اپنا ہم نوا بنایا۔۔۔ تو وہ ان کی بات پر چونک گئی۔۔۔ کیا واقعی وہ خود بھی ایسا سوچ رہی تھی؟۔ مگر فوراً جواب دیا۔” اور کیا بغیر پیسے کے زندگی کچھ نہیں اماں۔۔۔ اب وہ وقت نہیں جب ابا کی کم تنخواہ میں بھی آپ نے رودھو کر گذارا کر لیا تھا۔۔۔ اور ہم بھی بنا کسی شکوہ شکایت، بنا تقاضوں کے بڑے ہو گئے۔۔” اس کی بات اماں کے دل کو جا کر لگی۔۔۔” لڑکی ناشکر ا پن اللہ کو سخت نا پسند ہے۔ تیرے ابا جی نے بے شک شیر کی نظر رکھی لیکن تمہاری اور مظہر کی مقدور بھر ہر خواہش پوری کی۔۔۔ ان کے مرنے کے بعدتم ان پر ایسے الزامات لگا کر ایک بیٹی ہونے کا ثبوت نہیں دے رہی ہو بیٹا۔۔۔ واہ بھئی واہ!بھئی اماں کے مرنے کا انتظار کرلو۔۔۔ پھر جو چاہے کہنا۔۔” وہ اس کی بات پر جیسے تڑپ کر رہ گئیں۔ بے شک ان کے شوہر تلخ مزاج تھے لیکن بچوں کو زندگی کی ضروری اشیاء سے محروم رکھنے کے قائل نہ تھے اور نہ ہی کبھی رکھا۔۔۔ جتنا کماتے تھے بچوں کی ضروریات پر خرچ کر دیتے۔۔۔ آج ان کی بیٹی ان کے مرنے کے بعد ایسے الزامات لگا رہی تھی۔۔۔ اور وہ بھی داماد کے سامنے انہیں بالکل برداشت نہ ہوا۔۔۔ کبیر علی نے معاملہ خراب ہوتے دیکھا تو فوراً بات سنبھال لی۔۔۔” ارے خالہ چھوڑیں یہ ساری بحث۔۔۔ یہ بتائیں کہ آپ نے رات کو اپنی دوائی لی تھی۔۔۔ لگتا ہے اس وقت آپ کا بی پی ہائی ہے۔۔۔” ان کے غصّے کو کم کرنے کے لیے انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا تو وہ خاموشی سے میز سے اُٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔ ” اچھا یاد دلایا۔۔۔ میں ذرا دوا لے لوں رات کو بھی بھول گئی تھی۔۔۔” وہ خود ان دونوں کے درمیان سے نکل جانا چاہ رہ تھیں۔۔۔ انہیں اندازہ ہو گیا تھا۔۔۔ بیٹی اور داماد کو سمجھانا فضول تھا۔۔۔ دونوں اپنی اپنی دنیاؤں میں خود کو آرام دہ محسوس کر رہے تھے۔۔۔ مشکل میں تھاتو چھوٹا سا آیان جو اکثر ان کے گلے لگ کر اپنی ماں کو یاد کرتا، تو وہ خود بھی دُکھی ہو جاتیں۔۔۔ انہیں یقین نہیں آتا کہ ان کی بیٹی اتنی بدل جائے گی۔۔۔ دن رات پارٹیاں اور پیسے کمانے کا جنون نے ان کی بیٹی کواپنے سگے بیٹے کی محبت سے محروم کر دیا تھا۔۔ شکر تھا کہ آیان کے پاس اس کی نانی تھیں لیکن ماں تو ماں ہوتی ہے کئی بار وہ سکول سے گھر آکر اپنی ماں کو ڈھونڈتا اور پھر تھک ہار کر بنا کھائے پیئے ضد کرتا ہوانانی کی گود میں سر رکھ کر سو جاتا۔۔۔اس دن اکثر ان کی بیٹی سے لڑائی ہو جاتی تھی۔۔۔ لیکن اس کو بالکل پرواہ نہ تھی۔۔ یہ دُکھ ان کوبہت تکلیف دیتا۔۔۔ مگر وہ کیا کر سکتیں تھیں۔۔۔
اس بار وہ عمر کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچی تو وہ وہاں پہلے سے ہی اس کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔ ڈیفنس کے پوش علاقے میں موجود یہ ہوٹل باہر سے بالکل ایک عام گھر جیسا تھا۔۔۔۔ ایک کنال پر مشتمل ہوٹل بڑی اور ایلیٹ کلاس کے لیے عیاشی کا اڈا تھا۔۔۔ جہاں عورت کے ساتھ ساتھ ہر طرح کا نشہ بھی بآسانی مل سکتا تھا۔۔۔ وہ اندر کے ماحول سے پہلی بار تو ٹھٹھکی لیکن عمر کو دیکھ کر اس نے خود کو سنبھال لیا۔۔۔ اور اس کی طرف آگئی۔۔ وہ ایک میز پر بیٹھا تھا۔۔۔ جہاں اس کے آگے کوئی مشروب پڑا تھا۔۔۔ ” تمہارے لیے جوس منگواؤں۔” اس نے سامعہ کو مشروب کا گلاس گھورتے دیکھا تو وضاحت کی۔۔۔” کیا یہ واقعی جوس ہے؟” اُسے اب بھی تسلی نہیں ہوئی۔۔۔ کیوں کہ رنگت سے وہ کسی طرح جوس نہں لگ رہا تھا۔۔۔” تمہارا کیا خیال ہے میں کوئی نشہ کر رہا تھا۔۔” وہ تھوڑا rudeہوا۔۔۔” ارے نہیں میرا یہ مطلب نہیں تھا۔۔۔ میں تو بس یونہی۔۔” وہ اس کے لہجے سے گھبرا گئی کہ کہیں وہ ناراض نہ ہو جائے۔۔۔ ” تمہیں تھوڑا دیر ہو گئی تھی۔۔۔ تو میں نے یہ جوس منگوالیااب بتاؤ کیا کھانے کا موڈ ہے۔۔” اس نے ویٹر کو اشارہ کیا وہ بوتل کے جن کی طرح حاضر ہوگیا۔۔۔
” سنو عمر! ہم کیا کسی اور ریسٹورنٹ نہیں جا سکتے یہاں کتنا دھواں اور میوزک کا شورہے۔۔” اُسے یہاں کے ماحول سے الجھن ہورہی تھی۔۔۔” ارے یہ میرے دوست کا ریسٹورنٹ ہے اور یہاں صرف خاص لوگوں کو ہی آنے کی اجازت ہے۔۔۔ ابھی کھانا کھاؤ گی تو مزہ آجائیگا۔۔۔” اس نے اُلجھن دور کرنے کے لیے اِدھر اُدھر نظر دالی سارے کپل ایک دوسرے سے خوش گپیاں کر رہے تھے۔۔۔ کچھ تو ایک دوسرے کے ساتھ اتنے مشغول تھے کہ انہیں ارد گرد کا بھی ہوش نہ تھا۔۔۔ دونوں نے خوش گوار ماحول میں کھانا کھایا۔۔۔ کھانا واقعی بہت مزے کا تھا۔۔ پھر عمر نے کافی منگوالی۔۔۔ اور اُسے لے کر باہر ٹیرس کی طرف آگیا جہاں چند اور جوڑے بھی وہاں پڑی میز اور کرسیوں پر بیٹھے تھے۔۔۔ عمر نے ایک تاریک سا گوشا چنا جہاں روشنی بہت کم تھی۔۔۔ اس رات پورا چاند تھا۔۔۔ اور پہلی بار سامعہ کو احساس ہوا کہ پورا چاند کتنا خوب صورت ہوتا ہے۔۔۔ وہ ہلکی ہلکی سرگوشیوں میں اس کے حُسن کے قصیدے پڑھ رہا تھا۔۔۔ اور اُسے احساس ہو رہا تھا کہ اپنے پسندیدہ مر دکے منہ سے اپنی تعریف سُننا دنیا کا سب سے خوب صورت احساس ہے۔۔۔ ارد گرد کی فضا خوب صورت ہو جاتی ہے۔۔۔۔
اس بار عمرنے اس سے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ اس کے بغیر نہیں رہ سکتا اُسے جلد از جلد کبیر علی سے طلاق لینی ہوگی۔۔۔
” لیکن وہ مجھے کسی صورت طلاق نہیں دے گا۔۔۔ میں اُسے اچھی طرح جانتی ہوں “۔۔۔ اُسے معلوم تھا اسی لئے اس نے عمر کو صاف صاف جواب دیا۔۔۔”تو پھرخلع لے لو۔۔۔ مگرجلد از جلد میری زندگی میں آجاؤ نہیں رہ سکتا۔ میں تمہارے بغیر۔۔۔کیسے گذارے ہیں تمہارے بغیریہ دن صرف میں جانتا ہوں۔۔۔” وہ بہت جذباتی ہو رہا تھا۔۔۔ اداکار تو وہ ہمیشہ سے اچھا تھا لیکن اس وقت اس کی اداکاری اپنی انتہاؤں پر تھی۔۔۔ اور وہ ان انتہاؤں کو اپنی محبت کا اعجاز سمجھ رہی تھی۔۔۔ کتنی بے وقو ف تھی۔۔۔کبیر علی سے خلع لینے کی صورت میں اُسے بہت ساری چیزوں سے محروم ہونا پڑتا خاص طورپر آیان سے۔۔اور پھر وجہ کیا بتانی ہوگی خلع کی وہ خود نہیں جانتی تھی۔۔۔ کبیر علی نے تو آج تک اس کی ہر خواہش پوری کی تھی۔۔۔ اس کی کسی خواہش پر انکار تو کبیر علی کی لغت میں شامل ہی نہ تھا۔۔۔ اسے کچھ ایسا کرنا ہوگا کہ وہ خود اسے اپنی زندگی سے نکا ل دے۔۔۔” سنو کچھ کہہ رہاں ہوں تم کن سوچوں میں گُم ہو گئیں۔۔۔” عمر نے اس کو سوچوں میں گُم دیکھا تو اس کی نظروں کے سامنے چٹکی بجائی۔۔ وہ ٹھنڈی سانس لے کر رہ گئی۔۔۔کبیر علی کی زندگی سے الگ ہونا شاید اتنا آسان نہ تھا۔۔۔ جتنا عمر سمجھ رہا تھا۔۔۔ اس شخص نے آج تک کبھی بھول کر بھی اُس پر غصّہ نہیں کیا۔۔۔ بلکہ اکثر اماں ڈانٹتیں تو وہ اُسے بچا لیتا۔۔۔ شادی سے لے کر اب تک اس کی خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے کتنی محنت کی۔۔۔ اس کے کہنے پر بزنس شروع کیا نوکری چھوڑی۔۔۔ جہاں دن کے ساتھ رات کو بھی کام کرنا پڑتا تھا۔۔۔اس نے گاڑی مانگی۔۔۔ گاڑی دی۔۔۔ گھر مانگا۔۔ گھر دیا۔۔۔ ہر قیمتی سے قیمتی چیز اس کی خواہش سے پہلے اس کے آگے لا کر رکھ دی۔۔۔ وہ آیان کے بعد مزید بچے پیدا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ وہ اس بات پر بھی دل پر پتھر رکھ کر راضی ہوگیا، حالاں کہ اُسے خود چار پانچ بچے چاہیے تھے۔۔ مگر سامعہ کی مرضی کے بغیر وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ اماں جب بھی ان دونوں کو آیان کے اکیلے پن کا احساس دلا کر کچھ جتانے کی کوشش کرتیں وہ اس کا الزام بھی اپنے سر لے لیتا کہ اُسے ابھی مزید بچے نہیں چاہئیں ذرا زندگی سیٹ ہو جائے تو سب کچھ پلان ہو جائے گا۔۔ اور اماں بھانجے کی بات پر خاموش ہو جاتیں۔۔۔ انہیں اچھی طرح اندازہ تھا کہ اُن کی اپنی بیٹی دراصل خود نہیں راضی تھی۔۔۔ اُسے اپنے فِگر کی بہت فکر تھی کہ مزید بچوں سے اس کا فِگر خراب ہو جائے گا۔۔۔ وہ کہاں کہاں نظر بچا سکتی تھی کبیر علی کی اتنی careاُسیبہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہی تھی۔۔ لیکن اس کی careکے لیے وہ اپنی زندگی برباد نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ عمر اس کی زندگی میں دوبارہ آیا تھا۔۔۔ اور یہ کسی طرح بھی اتفاق نہیں تھا۔۔۔ قدرت اُسے عمر کی محبت سے نوازنا چاہتی تھی۔۔۔ اور وہ ایسی نوازش کو کیسے نظر انداز کر سکتی تھی۔۔۔ لیکن سوچنا یہ تھا کہ کیسے اتنا بڑا قدم اٹھایا جا سکتا تھا۔۔۔ اماں تو کسی صورت اس کا ساتھ نہیں دے سکتی تھیں۔۔۔ کافی ختم ہو چکی تھی اور رات بھی بہت ڈھل چکی تھی۔۔۔ اماں سے وہ اپنی دوست کے گھر پارٹی کا کہہ کر آئی تھی۔۔۔ کیبر علی آج پھر گھر پر نہیں تھے۔۔۔ کسی بزنس ٹور پر نکلے تھے اسی لئے اس نے یہ ڈنر پلان کیا تھا۔۔۔ اور یہ تین گھنٹے عمر کی صحبت میں کیسے گذرے۔۔۔ اُسے پتا بھی نہ چلا۔۔۔ بہت اچھا وقت گذرا لیکن گھر آتے وقت اس کے دل میں ملال تھا۔۔ خلش تھی۔۔۔ چبھن تھی۔۔۔ کسک تھی کہ کس طرح اپنی خواہش کو پورا کیا جائے نہ تواپنا گھر چھوڑا جا سکتا تھا۔۔۔ اور نہ ہی اس بار وہ عمر آفندی کو چھوڑے گی۔۔۔ کوئی نہ کوئی تو بیچ کا راستہ نکالنا پڑے گا اور وہ راستہ کیا تھا؟۔۔۔اب تک اس کی کچھ سمجھ نہیں آیا۔۔۔ وہ کوئی الزام خود پر بھی نہیں آنے دینا چاہتی تھی۔ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔۔۔یہی سوچتے ہوئے گھر آگیا۔۔۔اماں اور آیان سو چکے تھے۔۔۔ اس نے ملازم سے کہہ کر آیان کو اپنے کمر ے میں شفٹ کروایا۔۔۔ تو وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا۔۔ ” ماما آج میں نے آپ کو بہت یاد کیا تھا۔۔۔” وہ شاید اُسے یاد کرتے اور روتے ہوئے سویا تھا۔۔۔ اس کے گالوں پر خشک آنسوؤں کے نشان دیکھ کر ایک لمحے کو سامعہ کا دل کسی نے اپنی مٹھی میں لے لیا۔
” ارے میری جان! ویری سوری مجھے آنے میں تھوڑا وقت لگ گیا۔۔۔ دراصل ماما کوبہت کام ہوتے ہیں “۔ اس نے جھک کر آیان کے گال پر پیار کیا تو وہ اس کے گلے لگ گیا۔۔۔”ماما آپ مت جایا کریں۔۔۔ میں آپ کو بہت مِس کرتا ہوں “۔۔ اس کی بات پر پہلی بار سامعہ کو شرمندگی سی ہوئی۔۔۔ لیکن عمر کے خیال نے اس کی شرمندگی کو دور بھگا دیا۔۔۔ بیٹا ماما یہ سب آپ کے لیے تو کر رہی ہیں۔۔۔ ڈھیر سارے پیسے ہوں گے تو میں اور آپ خوب گھومیں پھریں گے اور شاپنگ کریں گے۔” اس نے آیان کو آنے والے اچھے وقت کا لالچ دیا۔۔۔ وہ خوش ہو گیا۔۔بچے بہت معصوم ہوتے ہیں چھوٹی موٹی لالچ سے بہل جاتے ہیں۔۔ ” ماما پاپا بھی ہمارے ساتھ ہوں گے نا ” وہ خوش ہوتے ہوئے بولا تو سامعہ کو جیسے چُپ لگ گئی۔۔۔ اس کے مستقبل کے پلان میں کبیر علی تو کہیں نہیں تھے۔۔۔ عمر کا ساتھ تو ابھی سے اُسے بہت سکون دے رہا تھا۔۔ لیکن وہ اتنے سے بچے کو نہیں بتا سکتی تھی کہ اس کے پاپا اس کے آئندہ کے فیوچر پلان میں کہیں نہیں تھے۔۔۔ ” اچھا زیادہ باتیں مت کرو رات بہت ہو چکی ہے اب تم سو جاؤ “۔۔۔ سامعہ نے اسے کروٹ دلائی اور تھپکنے لگی۔۔۔ وہ ماں کے ہاتھوں کے لمس سے منٹوں میں ہی سوگیا۔۔۔ لیکن عمر، کبیر علی اور آیان کی مثلث نے سامعہ کی نیند اُڑا دی۔۔۔ وہ جانتی تھی عمر سے شادی کی صورت میں آیان کو کبیر علی کسی صورت اس کے حوالے نہیں کریں گے۔۔ وہ آیان اور عمر کو کسی صورت نہیں چھوڑ سکتی تھی۔۔۔ لیکن ایسا کیا کرے کہ کبیر علی اُسے بآسانی طلاق دے دیں۔۔۔ انہی سوچوں میں غلطاں کب اس کی آنکھ لگ گئی۔۔۔ اُسے معلوم نہ ہوا۔۔۔اگلے دن کبیر علی ٹور سے واپسی پر اس کے لئے ایک بہت خوب صورت گولڈ کا سیٹ لائے۔۔۔ جس کی فرمائش اس نے بہت پہلے سے کی ہوئی تھی۔۔۔ آج موقع مل گیا بزنس میٹنگ جلد ختم ہو گئی۔۔۔ فلائٹ میں ابھی کافی ٹائم تھا تو بازار سے انہوں نے سامعہ کے لئے ایک خوب صورت سیٹ بھی خرید لیا۔ انہیں امید تھی کہ سامعہ سیٹ دیکھ کر بہت خوش ہوگی۔۔ لیکن اس نے سیٹ بے دلی سے میز پر رکھ دیا۔۔۔ ایک دبا دبا سا تھینکس بھی اُس کے منہ سے برآمد نہ ہوا تھا۔۔۔ حالاں کہ کوئی اور موقع ہوتا تو وہ اتنا قیمتی تحفہ دیکھ کر اچھل پڑتی۔۔۔ لیکن عمر آفندی کے دوبارہ آجانے کے بعد ایسے تحفے اس کی زندگی میں کوئی معنی نہیں رکھتے تھے۔۔۔ کبیر علی نے قدرے حیرانی اور اماں نے غصّے سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔ شوہر نے اتنی محبت سے تحفہ دیااور اس کی یہ ناقدری۔۔۔ انہیں توقع نہ تھی کہ وہ اس طرح کا رویہ بھی اختیار کر سکتی ہے۔۔۔ کبیر علی تو تھکے ہوئے تھے کمرے میں آرام کرنے چلے گئے لیکن اماں نے اُسے بے بھاؤ کی سنائیں۔۔۔” تو کتنی کم ظرف ہے سامعہ۔۔۔شوہر تو محبت کی ایک نظر ہی ڈالے تو عورت کے لیے اس سے بڑا کوئی تحفہ نہیں ہوتا اور تیرا شوہر تیرے لئے اتنا خوب صورت سیٹ لایا تو نے اُسے ایک کونے میں ڈال دیا۔۔۔ بے چارہ تیری طرف کتنی محبت سے دیکھ رہا تھا کہ تو کم از کم ہنس کر مسکرا کر ایک لفط شکریہ کا ادا کرے گی، لیکن تو تو منہ میں گونگلو بھر کر بیٹھی رہی۔۔۔ جیسے اس نے سونے کا سیٹ نہیں تیری موت کا پروانا تیرے ہاتھ میں دے دیا”۔۔۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ دو تھپڑ لگا دیں۔ وہ دیکھ رہی تھیں پچھلے چند دنوں سے وہ کبیر علی سے بالکل ہی بے پرواہ ہو چکی تھی۔۔۔ انہیں اندازہ تھا کہ کبیر علی سے وہ خوشی خوشی شادی پر راضی نہیں ہوئی لیکن اتنے سال گذر جانے کے بعد اب تو انہیں دل سے قبول کر لینا چاہیے تھا۔۔۔ جب کہ وہ اس کا اتنا خیال رکھتے تھے۔۔۔” اماں اس سیٹ کی فرمائش کو کافی عرصہ گذر چکاہے۔ آپ کو تو معلوم ہے جب مجھے اپنی مرضی کی چیز وقت پر نہ ملے تو دل سے اُتر جاتی ہے۔۔۔” اس نے بھی ماں کی بات کا جواب بڑی بے پروائی سے دیا جیسے اُسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ تو ناہید بیگم اس کی کم نصیبی پر سر پیٹ کر رہ گئیں۔۔۔” عورتیں تو اتنے خیال کرنے والے شوہروں کی تمنا کرتی ہیں اورتجھ جیسی کم نصیب کو ابھی تک اتنے اچھے شخص کی قدر ہی نہیں آئی۔۔۔” بچے کی ماں بن گئی لیکن خود اپنا بچپنا نہیں گیا۔۔۔ تو نہیں جانتی سامعہ ایسی حرکتوں سے عورت مرد کے دل سے اتر جاتی ہے۔۔۔ شکرکر کہ تیرا شوہر اتنا خیال کرتا ہے۔۔۔ اس نے تیری فرمائش کو یاد رکھا اور تو اتنے نخرے دکھا رہی ہے جا کر شکریہ ادا کر اس کا۔۔۔ یہ نہ ہو کہ وہ ایک دن تیری بالکل فکر کرنا چھوڑ دے۔۔۔اور پھر تیرے پاس پچھتانے کے لیے بھی وقت نہ ہو۔۔۔” وہ ہر صورت اُسے سمجھانا چاہتی تھیں لیکن وہ سمجھنے کے لئے تیار ہی نہ تھی۔۔۔” ارے چھوڑیں اماں ایسے مرد کو جب میری جیسی خوب صورت مل جائے تو پھر وہ کہیں نہیں جاتا۔۔۔ آپ وہم کرنا چھوڑ دیں۔۔۔” اس نے بے پروائی سے کہا اور سیٹ کا ڈبہ اُٹھا کر کھڑی ہوگئی۔۔۔ وہ اماں سے مزید بحث کرنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔” خوش فہمی ہے تمہاری۔۔۔” عورت کتنی بھی حسین اور خوب صورت ہو بیوی کی صورت ہر مرد کو اُسے ایک قدر کرنے والی عورت کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ جو اس کی پروا کرے۔۔۔ خیال رکھے۔۔۔ اگر یہ دونوں چیزیں اُسے اپنی خوب صورت حسین اور پڑھی لکھی بیوی میں نہ ملیں تو وہ بآسانی کسی اور عوت کے چنگل میں پھنس سکتاہے۔۔۔ بڑی روپ والیوں کو اسی خوش فہمی میں روتا دیکھا ہے میں نے۔۔” اس بار انہوں نے اُسے ڈرانا چاہا تو سامعہ کی ہنسی نکل گئی۔۔۔” اماں میرے جیسی حسین عورت کے مل جانے کے بعد کبیر علی کو کوئی اور مل سکتی ہے؟۔۔۔ کبھی نہیں وہ تو اسے بھی اپنی خوش نصیبی سمجھتے ہیں۔۔۔ اور آپ اپنی بیٹی کو بد نصیب ثابت کرنے پر تُلی ہیں۔۔۔ مجھے بڑی حیرانی ہوتی ہے کہ سگی بیٹی تو آپ کی میں ہوں۔۔۔ لیکن آپ کی ساری ہمدردیاں اپنے بھانجے اور داماد کے ساتھ ہیں اور اسی لیے آپ مجھے منہ بھر بھر کر کوسنے دے رہی ہیں۔۔” جاتے جاتے پلٹ کر جواب دیتی ہوئی سامعہ نے اماں کو یقین دلا دیا کہ اُسے ان کی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔ وہ پوری طرح یقین کر چکی تھی کہ کبیر علی اسے اپنی خوش قسمتی کا باعث سمجھتے تھے اور خوش قسمتی کا پتھر تو انگوٹھیوں میں سجایا جاتاہے۔۔ اور وہ ان کی ہاتھ میں سجی انگوٹھی کا ایساموافق پتھر تھی جس کو پہننے کے بعد کبیر علی کی زندگی میں یقینا بہار آچکی تھی۔۔۔ اب بھلا اماں اُسے کتنے ہی کوسنے دیں کبیر علی نے اس سے ہر حال میں محبت ہی کرنا ہے۔۔۔ لیکن یہاں اسی خوش فہمی میں وہ بھول گئی۔۔۔ کہ واقعی مرد کی محبت اور عورت کی محبت میں سوائے خوش فہمی اورکوئی فرق نہیں ہوتا۔۔۔ مرد خوش فہمی دے کر محبت کا یقین دلاتا ہے اور عورت خوش فہمی میں مبتلا ہو کر محبت کا یقین کر بیٹھتی ہے۔۔۔ اور یہی دونوں کی فطرت ہے۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
عمر آفندی کے ساتھ ہربار ملاقات میں کبیر علی سے جان چھڑانے کے تقاضے مسلسل بڑھتے جا رہے تھے۔۔۔ لیکن وہ خود سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ وہ کس طرح کبیر علی سے طلاق کی بات کرے۔۔۔ اب تو ان دونوں کے درمیان بات چیت کا تعلق بھی بہت محدود ہو چکا تھا۔۔۔ وہ دونوں صُبح ناشتے کی میز پر ملتے اور پھر رات کے کھانے کی میز پر۔۔۔ ان کے تعلق میں سامعہ کی طرف سے ایک سرد مہری سی آ چکی تھی اور کبیر علی کو بھی اس کا پوری طرح اندازہ تھا۔۔۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ ان کی حد سے زیادہ بزنس ایکٹوٹیز کی وجہ سے سامعہ ناراض ہے۔۔۔ وہ گھر اور بچے کو پورا ٹائم نہیں دے پا رہے تھے۔۔ اسی لیے اس بار انہوں نے اُسے دبئی ٹور کروانے کا ایک سر پرائز پلان بنا لیا۔۔۔ اس کے بارے میں صرف انہیں اور خالہ کو پتا تھا۔۔ وہ دبئی ایک دن کے بزنس ٹور پر جا رہے تھے جس کے بعد باقی ہفتہ وہ سامعہ کے ساتھ چھٹیوں پر گذارنے کا پلان بلا بیٹھے۔۔ ایک ہفتہ دبئی کے فائیو اسٹار ہوٹل میں بکنگ کروائی۔۔۔ لیکن سامعہ کو خبر نہ ہونے دی۔۔۔ آیان نانو کے پاس رہے گا۔۔۔ وہ اور سامعہ کافی دنوں کے بعد نکل رہے تھے۔ اس بار وہ اس کی ساری فرمائشیں پوری کرنا چاہتے تھے۔۔۔۔ اور وقت نہ دینے کی کوئی شکایت باقی نہ رہ جائے اس کے لیے پورے ایک ہفتے کا پلان بنایا۔۔۔ حالاں کہ کئی نئے پراجیکٹس ان کی توجہ کے مستحق تھے لیکن وہ سامعہ کی گھر سے اور خود سے حد سے زیادہ بڑھی ہوئی بے زاری کوپوری طرح محسوس کر چکے تھے۔۔۔ اسی لیے اس کے ساتھ وقت گذارنے کے لیے پورا ایک ہفتہ ہوٹل کی بکنگ کرائی۔۔۔ لیکن سامعہ کو خبر نہ ہونے دی۔۔۔ جس رات جانا تھا۔۔ صبح ہی انہوں نے اپنا اور سامعہ کا بیگ پیک کرنے کو کہا۔۔ ” مگر کیوں؟” سامعہ نے بے زاری سے پوچھا۔۔۔” ارے تمہارے لیے ایک سر پرائز ہے۔۔” ” کیسا سرپرائز؟”۔۔ سامعہ نے سلائس کو دانتوں سے کترتے ہوئے پوچھا۔۔۔” ہم کافی عرصہ سے کہیں گئے نہیں۔۔۔ چلو کہیں چلتے ہیں۔۔” انہوں نے ابھی بھی پورا پلان اُسے نہیں بتایا۔۔۔ ” لیکن ایسے کیسے چلتے ہیں بھئی آپ کا بزنس، میرا بزنس بہت کام ہے۔۔۔کوئی تیاری نہیں ہے ابھی۔۔۔” اس نے بے زاری سے انکار کیا۔۔۔” سب چیزیں ایک طرف رکھو اور بس چلو میرے ساتھ ہم کافی عرصے سے کہیں نکلے نہیں میں نے بکنگ کروالی ہے۔۔” سوری کبیر میں ابھی کہیں نہیں جا سکتی۔۔۔میرے چند نئے پراجیکٹس ہیں جنہیں ادھورا چھوڑ کر جانا میرے لئے بالکل ممکن نہیں۔۔” اس نے ٹکا سا جواب دیا تو کبیر علی نے مدد کے لیے خالہ کی طرف دیکھا۔۔۔ ” میں نے تو پہلے ہی کہا تھا سرپرائز کے چکر سے نکل آؤ اور اسے بتا دو۔۔۔ اب یہ خوامخواہ نخرے دکھائے گی۔۔۔” وہ اپنی بیٹی کو اچھی طرح جانتی تھیں اس لئے بھانجے کو گھُرکا۔۔” اماں آپ تو جانتی ہیں میں آج کل کتنی بزی ہوں۔۔۔ نیا کام شروع کیاہے۔۔۔ سارا آن لائن ہے۔۔۔ کام ٹھپ ہو جائے گا کم از کم آپ لوگوں کو مجھے بتانا تو چاہیے تھا۔۔” اس نے اُلٹی کاروائی ڈال دی۔۔ ارے تمہیں کیا ضرورت ہے کسی کام کی شیئرز کا کام کرتی ہو بس کافی ہے۔۔۔ اب یہ نیا بکھیڑا کیوں پال رہی ہو۔۔۔” وہ ویسے بھی اس کے کاموں سے بے زار تھیں۔۔۔ انہیں لگتا تھا کہ سامعہ کبیرعلی کی دی ہوئی آزادی سے ناجائز فائدہ اُٹھا رہی ہے۔۔۔اس کی ہر ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہی تو وہ اتنی محنت کر رہا تھا۔۔۔ پھر سامعہ کو اپنا وقت برباد کرنے کی کیا ضرورت۔۔۔ اماں پیسا تو جتنا بھی ہو کم ہے۔۔۔ اب یہ بزنس میرے لیے کافی سود مند ہوگا۔۔۔پلیزکبیر ابھی نہیں پھر کبھی۔۔۔” اس نے کبیر علی کو صاف انکار کیا۔۔” لیکن اب تو ٹکٹس بھی ہو گئیں۔۔۔ میری خاطر ہی کچھ وقت نکال لو۔۔۔ میں بھی اس بھاگ دوڑ سے بہت تھک گیاہوں۔۔۔ تھوڑاریلیکس کرنا چاہتا ہوں۔۔۔” ان کے لہجے میں التجا تھی۔۔۔ جس سے اماں کو شدید غصّہ آیا۔۔۔ ان کا دل چاہ رہا تھا کہ اُٹھ کردو تھپڑبیٹی کو لگائیں۔۔ واقعی لوگ محبتوں کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہیں۔۔۔اگرانہیں معلوم ہو جاے کہ سامنے والا ان سے شدید محبت کرتا ہے تو بس اس کی محبت کو اپنے نخروں میں قید کر لیتے ہیں۔۔۔ ا س کے آدھے نخرے بھی اگر ان کے شوہر نے اُٹھائے ہوتے تو شاید وہ اُن کے پاؤں دھو کر پیتیں لیکن یہاں تو ان کی بیٹی کے مزاج ہی نہیں ملتے۔۔۔کتنی محبت سے بھانجے نے اُسے لے جانے کی بات کی اور وہ نخرے دکھا رہی ہے۔۔۔” پلیز کبیر آپ سب کینسل کروا دیں۔۔۔ ابھی میں بہت مصروف ہوں، جیسے ہی مصروفیت ختم ہوگی میں خود آپ کو کہہ کر ٹکٹس کرواؤں گی۔۔” اس نے کبیر سے زیادہ اماں کا آف موڈ دیکھا تو درمیانی راہ نکالی۔۔” لیکن ” کبیر علی نے کچھ کہنا چاہا تو اس نے ہاتھ اُٹھاکر ان کی بات کاٹ دی۔۔۔” لیکن ویکن کچھ نہیں۔۔ پلیز انڈر سٹینڈ می! میں واقعی بہت بزی ہوں اگر آپ مجھے پہلے بتا دیتے تو شاید میں کچھ راہ نکال لیتی لیکن ابھی یہ ممکن نہیں۔۔ آج میری میٹنگ ہے کلائنٹ کے ساتھ اس لئے سوری۔۔۔” اس نے بہت نرمی سے کبیر علی کو انکار کیا۔۔۔ تو کبیر علی کو اندازہ ہوگیا کہ اس نرمی میں بھی کتنی قطعیت تھی۔۔۔ اب چاہے دنیا اِدھر کی اُدھر ہو جائے وہ ان کی بات قطعاً نہیں مانے گی۔۔۔ وہ ہمیشہ سے ان کے ساتھ ایسی ہی تھی۔۔۔ اپنی مرضی چلانے والی۔۔۔ ایک بار جو بات کہہ دی۔۔۔ دنیا اِدھر کی اُدھر ہو جائے اس نے بات نہیں ماننی اور پھر شام کو ہی کبیر علی کو معلوم ہو گیا کہ اس کی وہ ضروری میٹنگ کیا تھی۔۔۔ وہ اپنے بزنس پارٹنر کے ہمراہ جب ایک ریسٹورنٹ میں پہنچے تو وہاں کچھ دیر کے بعد ہی ایک جوڑا ان کے پیچھے والی سیٹ پر آکر بیٹھا۔۔۔ وہ اس طرح بیٹھے کہ آنے والوں کو وہ تو دیکھ سکتے تھے لیکن وہ خود آنے والوں سے پوشیدہ تھے۔۔ اُن کا پارٹنر ابھی تک نہیں پہنچا تھا۔۔۔ انہیں لگا کہ ان کی سماعتوں کو سُننے میں غلطی ہوئی ہے۔۔ ان کی سماعتوں سے سامعہ کی آواز ٹکرائی۔۔” میں تمہارے اس دوست کے جیل نما ریسٹورنٹ میں قطعاً کمفرٹیبل نہیں ہوتی۔۔۔ دم گھٹتا ہے میرا وہاں۔۔ اسی لیے اس جگہ کا انتخاب کیاہے۔۔۔” یہ آواز یقیناً وہ ہزاروں میں پہچان سکتے تھے۔۔۔ وہ سامعہ کی آواز تھی۔۔” لیکن اس ماحول میں جہاں ہرشخص آجا سکتاہے۔۔۔ایسی جگہ تمہیں ڈر نہیں لگتا کہ کوئی ہمیں دیکھ لے گا۔۔۔” دوسری آواز کسی مرد کی تھی۔۔ ” I dont Care “۔۔۔ سامعہ نے شاید کندھے اچکائے۔۔۔ عورت گناہ پر مشکل سے تیارہوتی ہے لیکن اگر آمادہ ہو جائے تو پھر اُسے کسی کی پروا نہیں ہوتی اور واقعی وہ اتنی دیدہ دلیر ہو چکی تھی۔ اس کے خیال میں کبیر علی نے اس کی ٹکٹ کینسل کروا دی لیکن وہ خود ایک دو دن کے لئے دبئی کے ٹور پر نکل گئے ہیں۔۔۔ اور یہی اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔۔ بھلا وہ اس کے بغیرکیسے جاتے۔۔۔ ان کی ایک دن کی میٹنگ بھی انہوں نے کینسل کراکر ااگلے ہفتے کی رکھی کہ اگلے ہفتے وہ اور سامعہ ساتھ ہی جائیں گے۔۔”ارے واہ سامعہ!یہ تو میں تمہارا نیا روپ دیکھ رہا ہوں۔۔۔ جسے اب کسی کا ڈر نہیں۔۔۔ تمہیں یاد ہے شادی سے پہلے تم جب پہلی بار مجھ سے ملنے آئی تھیں تو کتنا خوف زدہ تھیں۔۔” کبیر علی کے دماغ پر یہ دوسرا بم پھٹا انہیں اب تک یقین نہیں آرہا تھا کہ ان کی پشت پر بیٹھی عورت ان کی بیوی سامعہ تھی۔۔۔” وہ وقت اور تھا اس وقت میرے سر پر ابا جی کا ڈنڈا لٹک رہا تھا اور تمہیں معلوم تو ہے ابا جی مرحوم کتنے سخت مزاج تھے۔۔۔”
وہاں بیٹھے بیٹھے کبیر علی کو وہ ساری باتیں سُننی پڑیں۔۔۔ان کے خیال میں جن کو سننے سے پہلے انہیں موت کیوں نہیں آئی؟۔۔ انہوں نے اپنے حواس مجمتع کئے اور خود کو گھسیٹتے ہوئے بہ ظاہر اپنے زندہ وجود کو گاڑی میں ڈالا لیکن گھر تک پہنچتے پہنچتے ان کی ہمت جواب دے چکی تھی۔۔۔ انہیں سمجھ انہیں آرہا تھا کہ اب وہ کیا کریں؟ انہیں کیا کرنا چاہیے۔۔۔؟ اگر کوئی اور یہ سب سامعہ کے بارے میں بتاتا تو شاید وہ یقین نہ کرتے لیکن یہ سب ان کے گناہ گار کانوں نے سُنا تھا، جسے جھٹلانا ان کے بس کی بات نہ تھی۔۔۔ بستر پر ڈھیر ہوتے ہی وہ دنیا اور مافیہا سے بے خبر ہو چکے تھے ان کا بی پی شوٹ کر گیا تھا۔۔۔ کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کس حالت میں ہیں۔۔۔ وہ تو ناہید بیگم نے ان کی گاڑی دیکھی اور نوکر سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ صاحب تو کافی دیر ہوئی آچکے ہیں اور کمرے میں سو رہے ہیں۔۔۔ وہ فوراً ان کے کمرے میں پہنچیں تو انہیں بیڈ سے نیچے آدھا لٹکا ہوا دیکھ کر حیران رہ گئیں۔۔۔ کافی آوازیں دیں لیکن وہ بے سدھ تھے۔۔۔ شاک انتہائی شدید تھا۔۔۔ وہ برداشت نہ کر پائے۔۔۔ انہوں نے فوراً ڈاکٹر کو کال کیا۔۔۔ اور ساتھ ہی سامعہ اور ثنا کو بھی فون کر ڈالا۔۔۔ ڈاکٹر پہنچ گیا اور فوری طور پر ہاسپٹل لے جانے کا کہا۔۔۔ جہاں چیک اَپ کے بعد پتا چلا کہ بی پی کافی شوٹ کر گیا تھا۔۔۔ بروقت لے آئے ورنہ آسٹروک کا خطرہ تھا۔۔۔ سامعہ بھی حیران تھی کہ اچانک بی پی کیوں ہائی ہو گیا؟۔۔۔ بروقت ٹریٹمنٹ سے ان کی جان بچ گئی تھی۔۔۔
ناہید بیگم اور ثنا رو رہی تھیں۔۔۔ ان دونوں کا تو سہارا ہی کبیر علی تھے۔۔۔ اگر خدا نہ خواستہ انہیں کچھ ہو جاتا تو ان کی ساری دنیا ہی ویران ہو جاتی۔۔۔ اماں اور ثنا نے کبیر علی کی خدمت میں دن رات ایک کر دیئے۔۔۔ کبیر علی بالکل خاموش تھے۔۔۔ سامعہ سے توبالکل بات نہیں کر رہے تھے جس کی سامعہ کو بہت تشویش تھی۔۔۔ اس نے سوچا کہ ایسی کیا بات ہو گئی۔۔۔ جو وہ اس سے ناراض ہیں۔۔۔ اُسے دیکھتے ہی منہ موڑ لیتے ہیں۔۔۔ ہسپتال سے گھر آکر بھی اُن کا یہی رویہ تھا۔۔۔ ہر کام کے لیے کام والی یا خالہ کو آواز دیتے۔۔۔ اور یہ بات ناہید بیگم نے بھی محسوس کر لی تھی۔۔۔ سامعہ اُن کی بیوی تھی۔۔۔ اب اگر دوائی یا کھانے کے لیے وہ نوکرانی یا ناہید بیگم کو آواز دیں اور سامعہ کمرے میں ہی موجود ہو۔۔۔ تو ان کا ماتھا تو ٹھنکے گا۔۔۔ انہوں نے علیحدگی میں بیٹی سے پوچھا تو اس کا جواب یہی تھا کہ اُسے خود نہیں معلوم کہ وہ کس بات پرناراض ہیں “اگر نہیں معلوم تو پوچھو کہ ایسی کیا بات ہوئی کہ وہ اس سے بات نہیں کر رہے” اماں نے ڈانٹا تو وہ بھی غصّے میں آگئی ” اماں ایک بندہ خود ہی ناراض ہو گیا اب جب خود ہی ٹھیک ہو جائے گا تو میں معلوم کر کے کیا کروں؟۔۔” اس نے بُرا سا منہ بنا کریوں کہا کہ جیسے کبیر علی سے اس کا کوئی دور پرے کا رشتہ ہے۔۔۔ ” مگر بیٹا وہ تمہارا شوہر ہے اور شوہر اگر کسی بات پر ناراض ہو تو بیوی کا فرض ہے کہ اُسے منائے اس سے پوچھے کہ ایسی کیا غلطی ہوئی ہے جس پروہ اس سے بات نہیں کر رہا۔۔” ” اماں آپ بھی پرانے زمانے کی باتیں کرتی ہیں۔۔۔ایسی باتوں نے ہی تو مردوں کا دماغ خراب کر کے رکھ دیاہے۔۔۔” ساری عمر آپ نے خود کو ابا جی کا غلام ثابت کرنے پر لگا دی اور اب مجھ سے توقع کر رہی ہیں کہ میں ان کے پیروں پر ہاتھ رکھ کر اپنی اس ناکردہ غلطی کی معافی مانگوں جو شاید میں نے کی ہی نہیں۔۔” وہ بھنّا کر رہ گئی۔۔۔ اس سے پہلے ہی اماں کی ایسی فرماں برداریاں برداشت نہیں ہوتی تھیں اور اب وہ چاہتی تھیں کہ وہ اسی قسم کی فرماں برداری میں کبیر علی کے ساتھ پوری زندگی گذار دے۔۔۔” جب تک وہ خود مجھے اس بات کے بار ے میں نہیں بتائیں گے اور اینٹھے رہیں گے میں بھی نہیں پوچھوں گی۔۔”سامعہ میں انا اور اکڑ بہت زیادہ تھی۔۔۔ وہ اچھی طرح جانتی تھیں سامعہ کبھی کبیر علی سے نہیں پوچھے گی۔۔۔ اس کا اندازہ ناہید بیگم کو بہ خوبی ہو گیا تھا۔۔۔
ہفتہ بھر ریسٹ پرکبیر علی گھر میں ہی رہے لیکن انہوں نے سامعہ سے کوئی بات نہ کی۔۔ وہ کیا بات کرتے شاکڈ تھے کہ سامعہ ان سے بے وفائی کیسے کر سکتی تھی۔۔۔ اس کے لیے انہوں نے ہر شے قدموں میں ڈھیر کر دی۔۔۔اور آج وہ اپنے کسی پرانے عاشق کے ساتھ ان کی ازدواجی زندگی کو نقب لگا رہی تھی۔۔۔ وہ جب یہ بات سوچتے ان کی نسیں پھٹنے لگتیں۔۔۔مگر وہ یہ راز کسی کے ساتھ شیئر نہیں کر سکتے تھے۔۔۔ حتیٰ کہ ثنا کے ساتھ بھی نہیں۔۔۔ آج اگر اپنی سگی ماں جائی کو پیٹ کھول کر دکھائیں گے تو کس طرح؟۔۔۔
خالہ سے بھی کچھ نہیں کہہ سکتے تھے او سامعہ کی تو شکل دیکھنے کے روادار نہ تھے۔۔۔ مگر مجبوری تھی کہ ایسا کڑوا گھونٹ انہیں پینا پڑ رہا تھا۔۔۔ وہ صرف ان کی بیوی نہ تھی بلکہ ان کے بیٹے آیان کی ماں بھی تھی اور خود اسے ان کی زندگی سے زیادہ اپنے بیٹے کا خیال بھی ہوگا۔۔۔ یقینا اس کے بارے میں بھی سامعہ نے کچھ نہ کچھ سوچا ہوگا۔۔۔ کیا وہ اُسے چھوڑ سکتی تھی؟۔۔۔ ناشتے کی میز پر انہیں لیپ ٹاپ کے بیگ کے ساتھ آتے دیکھ کر ناہید بیگم بولے بنا نہ رہ سکیں۔۔ “ارے تم کیا آفس جا رہے ہو؟”۔۔۔ “جی خالہ کافی چھٹیاں ہو گئیں۔۔۔ کام رک گیا ہے۔۔۔ آفس سے فون آیا تھاایک ضروری میٹنگ ہے۔۔۔” وہ چائے کا کپ اپنے آگے سِرکاتے ہوئے بولے۔۔۔ ساتھ ہی ناہید بیگم نے آملیٹ اور براؤن سلائس ان کی طرف بڑھائے، جو انہوں نے شکریہ کہتے ہوئے تھام لیئے۔۔۔ ” اماں مجھے بھی آج کچھ کام سے نکلنا ہے میرا بھی بہت سا کام رُکاہوا ہے”۔۔۔ وہ جو ہفتہ بھر سے اماں کی ڈانٹ کی وجہ سے گھر سے نہیں نکلی تھی۔۔۔ اس نے بھی موقع غنیمت جان کر اماں کے سامنے اپنا پروگرام رکھ دیا۔۔۔ اس کے دو ٹوک انداز سے جیسے کبیر علی کے اندر آگ سی لگا دی۔۔۔”تم آج کے بعد گھر سے کہیں نہیں جاؤ گی”۔۔ وہ اپنے لفظ چبا چبا کر بول رہے تھے۔۔۔ لیکن ان میں اتنی سر د مہری تھی جسے صرف سامعہ ہی محسوس کر سکی۔۔ مگر ترنت اس کی بات کا جواب دیا ” کیوں نہیں جاؤں گی؟” ” اس لیے کہ یہ میں کہہ رہا ہوں تمہارا شوہر! جسے شاید تم شوہر سمجھنا بھول چکی ہو۔۔” “کیا مطلب ہے آپ کاتنی اکڑ کیوں دکھا رہے ہیں؟۔” اس کو تو کبیر علی کے لہجے سے جیسے پتنگے لگ گئے۔۔۔ اور وہ پھٹ پڑے۔۔۔” خالہ اس سے پوچھیں۔۔۔یہ گھر سے نکلنے کے بہانے اپنے کس دوست سے ملنے جاتی ہے۔۔۔” خالہ کی تو آنکھیں پھٹ گئیں۔۔ اور سامعہ اپنی نظریں چرانے لگی۔۔۔اُسے کبیر علی کے رویے سے اندازہ تو ہو گیا تھا کہ انہیں اس کے اور عمر آفندی کے بارے میں بہت کچھ پتا چل چکا ہے۔۔۔ لیکن وہ پھر بھی ذرا نہ گھبرائی اوراماں کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔ ” یہ مجھ پر الزام لگا رہے ہیں اماں۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں۔۔” خالہ یہ دونوں اُس دن ریسٹونٹ میں بیٹھے شادی کے پلان بنا رہے تھے ان کو اندازہ بھی نہیں تھا پچھلی سیٹ پر میں نے کتنی تکلیف کے ساتھ ساری باتیں سنیں پہلے تو مجھے یقین ہی نہیں آیا کہ ٹیبل کی دوسری طرف میری بیوی بیٹھی ایک غیر مرد سے دل لگی کر رہی ہے۔۔۔ جب یقین آیا تو آپ نہیں جانتیں کہ میں نے کیسے برداشت کیا۔۔۔ ورنہ دل یہی چاہ رہا تھا کہ ان دونوں کو ختم کر کے خود کو بھی گولی مار لوں۔۔۔تماشا نہ بننے کے خوف سے میں نے خود کو وہاں سے بہت مشکل سے اُٹھایا۔۔” وہ بہت دلبرداشتہ تھے۔۔۔ اور ناہید بیگم الگ شاکڈ تھیں کہ واقعی وہ ان کی بیٹی کے بارے میں ہی یہ سب کہہ رہا ہے۔۔۔ وہ کبھی بیٹی کو دیکھتیں اور کبھی بھانجے کو۔۔۔ سامعہ نے دیکھا کہ بات جب کھل ہی چکی ہے تو اُسے بھی کوئی نہ کوئی فائنل بات فی الفور کر لینی چاہیے اس سے اچھا موقع دوبارہ نہیں مل سکتا۔۔۔
” سامعہ کیا کبیر ٹھیک کہہ رہا ہے؟” انہوں نے ڈرتے ڈرتے اور کپکپاتی آواز سامعہ کو دیکھا اور پوچھا اس امید پر کہ وہ ابھی کہہ دے گی نہیں اماں انہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔ آپ کی بیٹی ایسی نہیں ہو سکتی۔۔۔ لیکن سامعہ کے منہ سے برآمد ہونے والے جملوں نے ان کی روح تک جھنجھوڑ کر رکھ دی۔۔۔کیا واقعی سامنے کھڑی سامعہ ان کی ہی بیٹی ہے۔۔۔ انہیں اس کے جملوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔۔ ” اماں عمر آفندی میری زندگی میں شادی سے پہلے بھی تھا۔۔۔ چند لوگوں کی پیدا کردہ غلط فہمی کی وجہ سے وہ مجھ سے شادی نہ کرسکا لیکن اب میں مزید اس گھر میں نہیں رہنا چاہتی۔۔ قدرت نے مجھے میری زندگی اپنی مرضی سے جینے کا جو اختیار دیا ہے میں اُسے کسی صورت نہیں چھوڑ سکتی۔۔۔ آپ اپنے بھانجے سے کہہ دیں کہ مجھے چھوڑ دیں “۔۔ وہ اتنے آرام سے یہ سب کہہ رہی تھی جیسے زندگی الگ کرنے کا نہیں بلکہ کھانے میں اپنی پسندیدہ ڈش کے بارے میں انہیں بتا رہی ہے۔۔۔ انہوں نے آگے بڑھ کرایک زوردار تھپڑ سامعہ کے منہ پر مارا۔۔۔” بے غیرت کاش تیرے ابا جی زندہ ہوتے تو میں دیکھتی کہ اتنی بے غیرتی کی بات تو کس طرح کر سکتی تھی۔۔۔ شادی بیاہ گڈے گڑیا کا کھیل نہیں۔۔۔جب چاہا گڈا یا گڑیا بدل کے دوسرے سے بیاہ رچا لیا۔۔۔ تیری بد نصیبی ہے تجھے کبیر علی جیسے بندے کی قدر نہیں آئی۔۔ عورتیں تو ایسے شوہروں کے لیے دعائیں کرتی ہیں اور تو اُسے چھوڑ کر کسی اورکے پاس جانے کی بات کر رہی ہے۔۔۔” ایسی بات کرنے سے پہلے تجھے موت کیوں نہیں آگئی سامعہ۔۔” اس بار ان سے برداشت نہ ہوسکا تو پھوٹ پھوٹ کر روپڑیں اور صوفے پر گر گئیں۔
” اماں جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔ یہ میری زندگی ہے۔۔۔ آدھی عمر ابا جی کی سختیوں کے ساتھ گذار دی مگر اب میں اپنی زندگی میں خوشیوں کے لیے مر مر کر نہیں جی سکتی۔۔۔” وہ کوئی حتمی فیصلہ کرنے کے موڈ میں تھی۔۔۔ اور چاہتی تھی کہ کبیر علی اُسے آزاد کر دیں۔۔ کیسے مرد ہیں آپ۔ آپ کی بیوی آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی الگ ہونے کا مطالبہ کر رہی ہے لیکن آپ پر کوئی اثر ہی نہیں ہو رہا۔۔۔سُن رہے ہیں میں طلاق چاہتی ہوں آپ سے” اس بار وہ حلق کے بل چلائی تو کبیر علی کو جیسے جھُر جھُری آگئی۔۔۔ سامعہ سے الگ ہونے کا تصور ان کے لیے تکلیف دہ تھا بیوی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ان کے بیٹے کی ماں بھی تھی۔۔۔ اماں کو جیسے طلاق کے لفظ سے بچھو نے ڈنگ ماردیا۔۔۔” دیکھ سامعہ؛یہ میرے ہاتھ جڑے ہیں۔۔۔ اب چھورنے یا طلاق کا لفظ زبان پر بھی نہ لانا یہ لفظ ہمارے خاندان میں گناہ ہے اور پھر تو اتنی خود غرض ہو گئی ہے کہ تجھے آیان کا بھی خیال نہیں آیا کہ وہ تیرے بغیر کیسے رہے گا؟۔۔۔ اتنی معصوم سی جان پر اتنا ظلم۔۔” وہ بلبلا کر رو رہی تھیں اور سامعہ پر کسی طور کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ وہ تو صرف یہ سوچ رہی تھی کہ قدرت اگر اس پر اتنی مہربان ہے تو وہ اس کی مہربانی کا پوری طرح فائدہ اُٹھائے۔۔۔ کم صورت اور کم پیسوں کے ساتھ اس نے کبیرعلی کے ساتھ اتنے سال گزار لیے۔۔۔ اور اب جو بھی پیسا اس کی قسمت میں ہے خود کبیر علی کی وجہ سے نہیں اس کی اچھی قسمت کی وجہ سے ہے۔۔۔اور اس بار اگر اس کی قسمت عمر آفندی کے ساتھ جڑ گئی تو یقینا وہ بھی ککھ سے لکھ پتی تو ہو ہی جائیگا۔۔۔ لیکن خود اس کی زندگی عمر کے ساتھ سے کتنی خوب صورت ہو جائے گی۔۔۔ وہ صرف یہی سوچ رہی تھی کبیر علی کا اداس چہرہ اور اماں کا رونا اس کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا۔۔۔ اور جہاں تک رہی آیان کی بات تو ساڑھے سات سے کم عمر بچوں کو تو ویسے بھی عدالت ماں کے سپرد ہی کرتی ہے۔۔۔”آیان میرا بیٹا ہے وہ میرے ساتھ رہے گا۔۔” اس بار وہ اماں کے جواب میں کبیر علی کی طرف مُڑ کر بولی۔۔۔ تو کبیر علی نے اس کی بات کے جواب میں ایک فیصلہ کر لیا۔۔۔ ایک محبت کو دفنانے کے لیے دوسری محبت کی مٹی نہیں ڈالی جاتی۔۔۔ اور وہ آیان کی محبت کو کھونا نہیں چاہتے تھے۔۔۔آیان اُن کا خون تھا۔۔۔ انہیں اندازہ تھا۔۔۔دوسری شادی کے بعد سامعہ جیسی عورتوں کے بچے اپنے سوتیلے باپوں سے کیسے کیسے دُکھ اُٹھاتے ہیں۔۔۔” ٹھیک ہے میں طلاق دینے کے لیے تیار ہوں مگر میری بھی ایک شرط ہے۔۔” اس بار وہ جتنے حوصلے سے بات کر رہے تھے سامعہ کو یقین نہیں آیا کہ یہی وہ شخص ہے جو اس سے کبھی اپنی شدید محبت کا دم بھرتا تھا۔۔۔ واقعی اس بات پر خود کبیر علی کو بھی حیرانی تھی جس دن وہ اپنی بیوی کی بے وفائی سے واقف ہوئے تھے ان کے اندر اس عورت کی محبت جیسے کہیں دور ہی دفن ہو گئی۔۔۔ مرد کی محبت جب سچی اور شدید ہو تو نفرت اس سے کہیں زیادہ شدید ہوتی ہے۔۔۔ اس عورت سے انہیں نفرت بھی شدید ہو چکی تھی۔۔۔سامعہ کیا انہیں دنیا کی سب عورتیں نفرت انگیز لگنے لگی تھیں۔۔ یہ وہ جنس تھی جس سے وفا کی امید ختم ہو چکی تھی۔۔۔ کیا نہیں کیا تھا انہوں نے اس عورت کے لیے۔۔۔ لیکن اس وقت وہ جس انداز میں کھڑی ماں اور اپنے شوہر کے سامنے اپنے محبوب کا ذکر کر رہی تھی کوئی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ ” کیسی شرط؟” سامعہ نے تیکھی نظروں سے انہیں دیکھا۔۔۔ اُسے امید نہ تھی کہ وہ اس سے طلاق کے لیے کسی شرط کی بات کریں گے۔۔۔ تمہیں میں نے اب تک جو کچھ دیا وہ سب تمہارا لیکن آیان اس طلاق کے بدلے میرا ہوگا۔۔۔ وہ میں کسی صورت تمہیں نہیں دے سکتا۔۔” اُن کے لہجے میں حتمی سا انداز چھپا تھا،جیسے اگر آیان انہیں نہ ملا تو وہ اسے طلاق نہیں دیں گے۔۔۔” اور اگر میں یہ بات نہ مانوں تو۔۔۔” وہ اس خوش فہمی میں تھی کہ اولاد تو اس کی ہی تھی کسی نہ کسی صورت اسے مل ہی جائے گی۔۔۔۔ وہ خوامخوا اس قسم کی شرط رکھ رہے ہیں۔۔۔” اگر تم آیان نہیں دیتیں تو جاؤ پھر عدالت کے ذریعہ خلع لے لو ایسی صورت میں تمہیں عدالتوں کے چکر لگانے پڑیں گے اور بتانا پڑے گا کہ تمہارے شوہر میں ایسی کیا کمی تھی جس کی وجہ سے تم اس سے الگ ہو کر دوسرے شخص سے شادی کر رہی ہو۔۔۔” تم جانتی ہو وکیل کس کس طرح کے سوالات کر کے پوری عدالت میں عورت کو ننگا کرتے ہیں۔۔” اس بار وہ بہت زہریلے انداز میں بات کر رہے تھے لگتا ہی نہ تھا کہ یہ وہی کبیر علی تھے جو کسی صورت اس کے خلاف نہ تو بات کرتے تھے اور نہ ہی سُن سکتے تھے۔۔۔” خدا کے لیے بد نصیب باز آجا مت برباد کر اپنا گھر۔۔۔ کچھ حاصل نہیں ہوگا۔۔۔ طلاق جیسے لفظ سے تو پوری کائنات ہل جاتی ہے۔۔۔ اللہ کے نزدیک شدید نفرت انگیز عمل ہے۔۔۔” ناۂید بیگم نے بیٹی کے آگے ہاتھ جوڑے کہ شاید اس آخری کوشش کا کوئی اثر ہو جائے۔۔ مگر اس نے تہیہ کر لیا تھا کہ دنیا اِدھر کی اُدھر ہو جائے وہ عمر آفندی کے لیے کچھ بھی کرگذرے گی۔۔۔”اماں اس وقت بھی آپ نے اسی طرح ہاتھ جوڑ کر مجھے کبیر علی سے شادی کے لیے راضی کر لیا تھا۔۔ اور دیکھ لیں اس بے جوڑ شادی کا نتیجہ آپ کی بیٹی خوش نہیں ہے۔۔” ۔۔ اس نے اپنے طور اماں کا ہاتھ پکڑ کر سمجھانا چاہا۔۔۔ تو انہوں نے اس کا ہاتھ جھڑک دیا۔۔۔ کتنی خوش قسمت ہے تو جو تجھے کبیر علی جیسا محبت کرنے والا شخص ملا۔۔۔ ارے اسے ٹھکرائے گی۔۔۔ تو شاید کہیں چین نہیں پائے گی۔۔۔” اماں بد دعائیں تو مت دو۔۔” اس کا دل ایک لمحے کو کانپ سا گیا۔۔۔ لیکن پھر اس کپکپاہٹ پر عمر کی محبت غالب آگئی۔۔۔عمر کا دوبارہ ملنا اُسے قدرت کا ایسا اشارہ لگتا تھا جسے وہ کسی طور نظر انداز نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ ارے تو میری بددعاؤں کی مستحق بھی نہیں۔۔ کس وقت تجھے پیدا کیا۔۔۔ میں تو اس وقت کو کوس رہی ہوں۔۔۔ اللہ کرے تو کبھی خوش نہ رہے سامعہ تو نے جیسا دکھ ہم سب کو دیا۔۔ اللہ تجھے کبھی کوئی خوشی نہ دے۔۔۔” جیسے وہ اُسے کوس رہی تھیں لگ نہیں رہا تھا کہ کل تک ان کی ہر دُعا کا مرکز یہی بیٹی تھی۔۔۔واقعی انسان واحد شے ہے جو لمحوں میں دل سے اُترجاتا ہے۔۔۔ سامعہ بھی ان کی دعاؤں کا ماحسل تھی۔۔ ظفر کے بعد وہ سامعہ سے شدید محبت کرنے لگی تھیں۔۔مگر لگتا تھا کہ اس کے ایسے قدم کے بعد وہ کبھی اس کی شکل نہ دیکھ پائیں گی۔۔۔ کبیرعلی دم سادھے دونوں ماں بیٹی کی گفت گو سُن رہے تھے۔۔۔ اس وقت خالہ اور وہ سامعہ کے فیصلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد تھے انہیں اندازہ تھا کہ خالہ کو بیٹی کے اس قدم سے شدید تکلیف پہنچی ہے۔۔۔ لیکن سوائے انہیں دلاسہ دینے کے وہ کر بھی کیا سکتے تھے؟۔۔۔ آیان کے بارے میں سامعہ کو جو بھی فیصلہ لینا تھا وہ عمر آفندی کے مشورے کے بغیر نہیں کر سکتی تھی کیوں کہ اس نے ابھی تک آیان کے بارے میں عمر سے کوئی بات نہ کی تھی۔۔۔ وہ اس سے مشورے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کر سکتی تھی۔۔۔ لیکن آیان کو چھوڑنے کا فیصلہ اس کے لیے بھی بہت تکلیف دہ تھا۔۔۔ سامعہ نے کمرے میں جا کر سب سے پہلے عمر کو فون کیا۔۔۔ عمر نے فون اُٹھاتے ہی حیرانی کا اظہار کیا ابھی صبح کے گیارہ بج رہے تھے۔۔۔ پورے ایک ہفتے وہ کبیر علی کی بیماری کی وجہ سے اس سے فون پرکوئی بات نہ کر سکی کبیر علی کی طبعیت کے بارے میں بھی اس نے میسج کے ذریعے عمر کا آگاہ کیا۔۔۔ لیکن اب وہ ہفتے بھر کی ساری باتیں خاص طور پر یہ ہنگامہ اس کے علم میں لانا چاہتی تھی۔۔۔ وہ اس کے فون سے ہی بے دار ہوا اور آنکھیں پوری طرح اس ووقت کھُلیں جب اس نے بتایا کہ کبیر علی کو ہمارے بارے میں سب کچھ معلوم ہو چکا ہے۔۔۔ “ارے واہ! جو ہمت تم نہیں کر پا رہی تھیں۔۔۔ وہ تو اب خود ہی مل چکی ہے۔۔ پھر کیا کہتا ہے وہ؟” کہنا کیا ہے طلاق دینے پر تیار ہو چکا ہے۔۔۔ اور جو کچھ مجھے دیا ہے وہ بھی میرا ہے مگر۔۔۔” “مگر کیا؟” عمر نے بے تابی سے پوچھا۔۔۔” مگر اس کے بدلے مجھے آیان کی کسٹڈی اس کے حوالے کرنا ہوگی۔۔۔” سامعہ نے بڑے دکھی انداز میں کہا تو عمر فوراً بولا۔۔” تو کر دو “۔۔۔ اس میں سوچنے کی کیا بات ہے”۔۔ کیسے کر دوں وہ میرا بیٹا ہے۔ میرا خون ہے۔۔۔ میں اسے کیسے چھوڑ سکتی ہوں۔۔۔” اس کے دل پر ہاتھ پ ڑا۔۔۔” ارے میں کب کہہ رہا ہوں کہ ساری عمر کے لیے چھوڑ دوبچے تو ویسے بھی ماں کے ہی ہوتے ہیں۔۔ کچھ سالوں کے بعد تو وہ تمہارے پاس ہی ہوگا۔۔۔ لیکن اگر تم اس وقت جذباتی ہو گئیں اور اس کی بات نہ مانی تو اپنی دولت سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں گے اور خلع کے لئے عدالتوں کے دھکے الگ کھانے پڑیں گے۔۔” اس نے اپنی عینک سے اس کی دور کی نظر کو واضح کیا تو سامعہ کو بات سمجھ آنا شروع ہو گئی اس کا جذباتی پن یقینا اس کی اور عمر کی راہ میں روڑے اٹکانے کا باعث بنے گا۔۔۔ اس وقت اُسے سمجھ داری سے کام لینا ہوگا۔۔۔ آیان اس کا بیٹا ہے اُسے کوئی سامعہ سے جُدا نہیں کر سکتا۔۔۔” مگر اس کے بغیر میں کیسے رہوں گی۔۔” اس بار اس کے لہجے میں آمادگی نظر آرہی تھی۔۔” تمہیں اس کے بغیر رہنے کا کون کہہ رہا ہے تم بھی شرط رکھ دو۔۔ کہ ہر ہفتے تم اس سے ملنے جاؤ گی۔۔۔ میں تمہیں بالکل نہیں روکوں گا بلکہ مجھے بھی شادی کے بعد ایک پلا پلایا بیٹا مل جائے گا۔۔۔” اس نے بڑے مزاحیہ انداز میں کہا تو سامعہ کے دل کو اطمینان سا ہوا کہ اُسے آیان کی ذات سے کوئی پرابلم نہیں۔۔۔ وہ بآسانی اُسے قبول کرلے گا۔۔۔ کچھ وقت لگے گا اور پھر آیان اس کے پاس ہوگا۔۔۔ ابھی کبیر علی کی بات ماننے میں ہی مصلیحت تھی۔۔۔ ساڑھے سات سال کی عمر میں تو عدالت خود ہی فیصلہ کروا دے گی۔۔۔ کہ بچہ کس کے پاس رہے گا۔۔۔ تب تک وہ خودبھی مضبوط ہو جائے گی اور آیان کی کسٹڈی کا کیس دائر کر کے اسے کبیر علی سے چھین لے گی۔۔۔ فیصلہ کرنے کے بعد وہ مطمئن ہوگئی۔۔۔ وہ خود تو مطمئن تھی لیکن اُسے بالکل احساس نہ تھا کہ وہ گھر کے دیگر افراد کا سکون برباد کر چکی ہے۔۔۔ کبیر علی کو پوری طرح اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ اس کے ساتھ کسی صورت نہیں رہے گی۔۔۔ اس کو مزید سمجھانا بے کار ہے بلکہ بے سود ہے۔۔ لیکن اماں ایک کوشش اور کرنا چاہتی تھیں۔۔۔ انہیں اپنی بیٹی سے زیادہ اپنے نواسے کا دُکھ کھا رہا تھا۔۔۔ ماں یا باپ دونوں میں سے کسی ایک سے محرومی کے نتیجے میں بچے کے اندر ہزاروں محرومیاں پرورش پا سکتی ہیں۔۔۔ اس بات کا انہیں بہ خوبی اندازہ تھا۔۔۔ اس لیے انہوں نے ایک بار پھر سامعہ کے آگے ہاتھ جوڑ دئیے۔۔۔ ” دیکھ میری بچی! اپنی بوڑھی ماں کے ان جڑے ہاتھوں کو۔۔۔ ان بالوں کی سفیدی کو رنگ مت لگا۔۔۔ خاندان بھر میں میری تربیت پر انگلیاں اُٹھیں گی۔۔۔” وہ واقعی اُن کے آگے ہاتھ جوڑے کھڑی تھیں۔۔” تجھے ذرا س بچے کا خیال نہیں جوتیری محبت کو ترس کر رہ جائے گا۔۔” اماں خدا کے لیے مجھے ایموشنلی بلیک میل مت کریں زندگی پر میرا بھی پورا حق ہے۔۔ میں کھل کر خوش رہنا چاہتی ہوں۔۔۔ آپ جانتی ہیں جن خوشیوں کے لیے میں ساری عمر گھُٹ گھُٹ کر رہی۔۔۔ اب وہ میرے آگے کھڑی ہیں۔۔۔ کیسے نظر پھیر کر جا سکتی ہوں۔۔” اس نے کندھے اچکا کر بے پروائی سے ماں کو جواب دیا تو وہ اس کی خود غرضی پر تڑپ کر رہ گئیں۔۔۔ ایک ماں کو اپنی اولاد کو چھوڑنے کا بھی کوئی دُکھ نہ تھا ” پلیز اماں مجھے کچھ نہیں سننا میں نے جو فیصلہ کر لیا آپ کبیر کو اس کے بارے میں انفار م کردیں۔۔ بچہ تو میرا ہے آج یا کل وہ میرے پاس ہی ہوگا۔۔ میں فی الوقت اُسے آپ کے حوالے کر کے جارہی ہوں مجھے امید ہے آپ اُسے اچھی طرح رکھیں گی۔۔۔ اب تک بھی وہ آپ کے پاس ہی رہا ہے۔۔۔ میں اس کے لیے اپنی خوشیوں سے منہ نہیں موڑ سکتی۔۔۔ انہیں بہت حیرانی ہوئی کسی ماں کو اپنی اولاد سے زیادہ کوئی شے عزیز نہیں ہو سکتی لیکن یہ کیسی ماں تھی جسے بچے کا کوئی احساس نہیں۔۔۔ جو صرف اپنی خوشیوں کے با رے میں سوچ رہی تھی۔۔۔ جسے ذرا دکھ نہ تھا کہ طلاق کی صورت اس کا بیٹا اس سے دور ہو جا ئے گا۔۔۔ ان کی زندگی میں کبھی اتنا مشکل وقت نہ آیا تھا بیٹا مر گیا دُکھ سہہ لیا۔۔ شوہر مر گئے۔۔۔ انہیں اللہ نے صبر دے دیا۔۔۔ لیکن بیٹی کی اس حرکت نے جیسے ان کے اندر ایسا دکھ پیدا کردیا تھا کہ اب ان کے اندر جینے کی تمنا ہی ختم ہو گئی تھی۔۔۔ انہیں لگتا کہ اگر سامعہ نے ایسا قدم اٹھا یا تو شاید وہ زندہ نہ رہ سکیں۔۔۔لیکن سامعہ نے کسی کا لحا ظ نہ کیا۔۔۔ دوسرے دن اپنا ساما ن با ندھ کر جا نے کے لیے تیار ہو گئی۔۔۔ ” اما ں میں نے کرائے پر فلیٹ لے لیا ہے۔۔۔ وہاں شفٹ ہو رہی ہو ں۔۔۔ ہر ہفتے آیان سے ملنے آؤں گی۔۔۔ اور اسے مجھ سے ملنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔۔۔آپ کبیر علی سے کہیئے گا جلدازجلد طلاق کے پیپرز بنواکر مجھے انفارم کر دیں۔وہ واقعی بہت خود غرض تھی یا عمر آفندی کے ساتھ نے اسے ایسا بنا دیا تھا۔۔۔اس کے عشق میں سامعہ کو بالکل اندازہ نہ تھا کہ اس جنت کو ٹھوکرلگا کر جا نے کے بعد قسمت نے اس کے ساتھ کتنی بے رحمی کا سلوک کرنا تھا۔۔۔
آج پہلی با ر گھر سے نکلتے ہوئے اماں نے اس پر آیت الکرسی بھی پڑھ کر نہیں پھونکی۔۔۔ وہ و ہکّا بکّا سی اس کے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔
(باقی آئندہ)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.