اسے چھوڑ دو!”

“کیا”,,,,تحیرذدہ نظروں سے مجھے گھورنے لگی

“اسے چھوڑ دوں؟ اسے جو میرے بچوں کا باپ ہے؟ جو مجھے دس سال سے کما کر کھلا رہا ہے؟ اسے چھوڑ دوں؟”

اس کے چہرے پر کرب تھا اذیت تھی،مگر وہ جانتی تھی اس سے بڑھ کر اس کے دل میں اور کوئی طلب بھی نہیں تھی!

کیا ذندگی اتنی ہی آساں ہوتی ہے جسے جب چاہو جہاں چاہے چھوڑ کر آگے چل دو؟ نہیں ایسی نہیں ہوتی ذندگی۔خصوصا ان لوگوں کے لئے تو بالکل نہیں ہوتی جنہوں نے سکول میں کبھی کسی سہیلی کا دل توڑتے بھی سو بار سوچا ہو خود کو کوسا ہو!وہ کس طرح سے سالہا سال کی مسافت ساتھ طے کرکے ایک دن اچانک ہاتھ چھڑا کر دوسری طرف نکل سکتے تھے۔مگر بات تھی یہ کہ اس کے بنا اور کوئی چارہ نہ تھا۔وہ دو ٹکروں میں ٹوٹ بیٹھی تھی۔اب نہ گھر کی تھی نہ باہر کی۔جہاں قدم رکھتی وہیں ادھورا قدم رکھتی۔اس کا خود ہر جگہ ٹوٹتا بکھرتا پھر رہا ہے۔اور جب ایک رشتے میں ،ایک تعلق میں ایک گھر اور خاندان میں بستے بھی وہ ہزار ٹکروں میں بکھر رہی تھی تو مجھے اسے سمجھانا تھاکہ وہ اس گھر خاندان اور لوگوں میں اب نہیں رہی تھی۔مجھے اسے بتانا تھا کہ اب وہ کچھ بھی جوڑ نہیں سکے گی جب تک کہ وہ خود کو جوڑ نہ لے گی۔وہ خود ٹوٹ بکھری تھی اور ٹوٹے ہوئے شیشے دوسروں کو بھی لہو لہان تو کر سکتے ہیں انکو جوڑنے میں ناکام رہیں گے۔

مگر وہ سنتی نہیں تھی۔اس کے آس پاس سے اٹھتی ہر آواز اس کے آس پاس بولتا ہر وقت معاشرہ اور لوگ اسے صرف ایک ہی بات بتاتے تھے کہ اس کا کام صرف اس گھر کو جوڑے رکھنا ہے،جی کر یا مر کر،ٹوٹ کر پگھل کر،مٹی ہو کر یا مندر ہو کر۔مگر ہر طرف گونجتی ان آوازوں میں کوئی بھی تو جانتا نہ تھا ٹوٹے شیشوں پر عمارتیں کھڑی نہیں ہو سکتیں۔جو اپنی بنیاد میں ہی مر مٹے وہ کیا گھر خاندان اور معاشرہ کھڑا کر سکے گا۔

اور وہ آج دس سال اس ذندگی کو بنانے کی جدو جہد کر کے جب اسے کھڑا کر چکی تھی تو اسے چھوڑنے کی ہمت نہ پاتی تھی۔اس میں اتنی ہمت ہوتی تو اس دن اپنے باپ کا ہاتھ نہ پکڑ لیتی جس دن اس نے باپ کی عزت رکھنے کے لئے اس کاغز پر دستخط کر دئیے تھے جس پر اس کی موت لکھی تھی۔جب اسے لال رنگ میں لپیٹ کر اس کے ہاتھ میں قلم دیا گیا تھا،اس میں ہمت ہوتی تو اس دن وہ قلم توڑ دیتی،لال رنگ کا دوپٹہ پھاڑ دیتی یا پہاڑ سے کود جاتی مگر اس کاغز پر دستخط نہ کرتی۔مگر وہ کر گئی۔کیونکہ وہ کمزور دل تھی۔وہ محبت کرنے والی تھی اور محبت کرنے والے ہمیشہ کمزور ہوتے ہیں ۔یہ کسی کی لمحہ بھر خوشی کے لئے کانٹے پر سینہ رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں تا کہ لال گلاب پیدا ہو سکے۔تو اس نے بھی اپنا سینی قلم کی نوک پر رکھ کر لال گلاب کو جنم دیا تا کہ باپ کے سر پر پگڑھ سلامت رہے اور بھائیوں کے شانوں پر

شان کی چادر پڑی رہے۔وہ کل باپ کی عزت کے بدلے اپنا حق نہ مانگ سکی تھی وہ آج ایک گھر ایک باپ اور تین بچوں سے اپنی خوشی کیسے مانگ لیتی۔مگر دل کا یہی المیہ ہے۔ٹوڑا گیا ہو تو ٹوٹے حصے ذندگی کی ہرنکڑ پر کھڑے ملتے ہیں،رستے ہر کچھ گام پر خزاؤں میں اتر جاتے ہیں،بادل ہر کچھ بارشوں کے بعد خون برسانے لگ کرتے ہیں۔

پھر ایک روز اس کی بیٹی کو میں نے اس کے سامنے لا کر کھڑا کر دیا
اسے دیکھو! یہ کل کو کیا بنے گی؟

میں نے اس سے پوچھا:

“یہ ضرور ایک مضبوط لڑکی بنے گی جو کبھی اپنے حق پر سمجھوتا نہیں کرے گی!”

اس نے خوب لگن سے کہا تھا

ہر ماں “دل والے دلہنیا لے جائیں گے “والی ماں ہوتی ہے جو خود نباہ کرتی ہے اور خواب یہ دیکھتی ہے کہ یہ نباہ اس کی بیٹی نہیں کرے گی!

“اور کیسے بنے گی یہ مضبوط لڑکی؟ ایک کمزور ماں ایک مضبوط بیٹی کیسے بنائے گی؟یہ بھی اپنی ماں کی طرح نباہ کرے گی اور خواب دیکھے گی کہ اس کی بیٹی نباہ نہیں کرے گی!”

اس کے پاس اب بولنے کو کچھ نہ تھا

“اسے مضبوط بنانا ہے تو آج خود کو مضبوط کر کے دکھاؤ!آج اپنا حق لو تا کہ کل کو یہ اپنا حق لے سکے!”

_____________

تحریر و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

(اس سیریز میں وہ کہانیاں ہیں جنہیں مکمل کہنا یا کرنا فی الحال میرے اختیار میں نہیں!____صوفیہ کاشف)