دِل لگاتی ہوں اب دِل نہیں لگتا
اب کوئی ان سا ملے، نہیں لگتا

ہائے کیا ہو گیا نظر کو میری
کوئی ان سا حَسِین نہیں لگتا

بارش تیروں کی ہے مسلسل
دِل كے تیرکوئی نہیں لگتا

بظاہر صورتوں کی کمی تو نہیں
ان کی صورت سا کوئی نہیں لگتا

بہل تو سکتا دو گھڑی كے لیے
لگے گا دِل اب کہیں نہیں لگتا

مر كے مل جائے سکون دلکش کو
موت سے بھی پھر خوف نہیں لگتا

___________

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف