اے خدا میں پناہ مانگتی ہوں حب الوطنی کے پرچار کے نام پر قومی زبان کا قصیدہ پڑھنے والوں سے

اور ان سے جنہوں نے ساری عمر ان راہوں پر گھٹنے رگڑے،نامراد ٹھہرے اور اب اپنے سے پچھلوں کو بھی اپنی طرح ناکام و نامراد دیکھنا چاہتے ہیں اور ان کے جیسی ہونے سے!

میں،ایک اردو لکھاری،اردو ادب پڑھنے اور لکھنے کی شوقین،اردو سے اور اس کے ادب سے اور اس ادب کے والیوں سے تیری پناہ مانگتی ہوں۔میں پناہ مانگتی ہوں اپنے عزیز و اقربا میں ریوڑیاں بانٹنے والوں سے اور اردو کے ننھے سے آسماں پر اپنے مفید دوستوں اور ساتھیوں کو ستارے بنا کر اندھیرے قائم رکھنے والوں سے!میں پناہ مانگتی ہوں میرٹ کو کیک اور مٹھائی کے ڈبوں میں،فون نمبروں میں،میسنجر میں ، دوستیوں اور خلوت میں تلاش کرنے والوں سے!اور ایسے آسمانوں سے جن پر ان ڈبوں ،دوستیوں اور خلوت سے نکلنے والا میرٹ سج جاتا ہے،

اور پناہ مانگتی ہوں ایسے اداروں سے جو میرے رائے سے تو اتفاق نہیں کرتے مگر اپنی رائے پر مجھے قائل کرنا چاہتے ہیں، اور پناہ مانگتی ہوں ان سے جو جگہ کا جھانسہ دے کر دماغ کے خیال پر سمجھوتہ کرواتے ہیں

میں پناہ مانگتی ہوں میری تحریر سے پہلے صورت اور گفتگو دیکھنے والوں سے،میری تحریر میں سے مفادات ڈھونڈنے والوں سے،جی حضوری کے طالب،دل لگانے کے خواہشمندوں سے۔

پناہ مانگتی ہوں ان سے جو کہتے ہیں کہ تحریر بہت اچھی ہے اور پھر پاؤں کے نیچے دبا لیتے ہیں کہ اب اسے پہیے لگاؤ تو چلے۔ میرے دماغ میں آج بھی زمانہ قدیم کی وہ متروک شدہ روایت چلتی ہے جس کے مطابق ہنر کو خوشامد کی ضرورت نہیں ہوتی۔میں حساب میں بھی کمزور ہوں اس لئے جتنے بھی فارمولے مجھے سمجھا لو میں سمجھ ہی نہیں پاتی کہ آجکل ہر چیز ہر شعبہ like for like،follow to follow مانگتا ہے۔میں آج کی اخلاقیات کو سمجھنے سے قاصر ہوں۔میں نوے کی دہائی کی وہ بھٹکی روح ہوں جو جانتی ہے کہ نوے کی دہائی گزر چکی ہے پھر بھی اکیسویں صدی کی اخلاقیات میں ڈھل جانے سے قاصر ہے۔مجھے آج بھی میسنجر کا صحیح استعمال نہیں آیا،مجھے تعلقات کا جادو سر چڑھ کر بولتا دکھائی تو دیتا ہے مگر میں کافر ہوں اور دیکھ کر آج بھی اس کے وجود سے انکار کر دیتی ہوں۔اسی لئے ،میرے الفاظ کی قیمت نہیں لگتی،میرا رحجان میرا روزگار بن نہیں پاتا!ہمیں نہیں ملتے ایسے لوگ جو الفاظ میں جادو دیکھ کر تقدیر کا ہما ہمارے سر پر بٹھا دیں یا ایسے پارس جو ہمارے ہنر کو جادواں کر دیں،کیونکہ آج کل کے پارس بیٹری سے چلتے ہیں اور ان کی بیٹریاں ہم چارج کرنے سے قاصر ہیں چناچہ ہم لولے لنگڑے اور اپاہج ہیں۔

اب میں اپنے پانچ سالوں کی طرف مڑ کر دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں یہ سودا خاصا برا کیا۔پانچ سال میں میں کوئی انٹرنیشنل زبان زیرو سے شروع کر کے بھی سیکھ جاتی،ان پانچ سالوں میں میں ایک زبان میں اس قدر مہارت حاصل کر سکتی تھی جسے پا کر میرے پر کھل جاتے،میں زمان و مکاں کی پابندیوں سے نکل جاتی،کھلے آسماں میری پرواز کے مقدر ہو جاتے۔میں ایسے معاشروں اور زبانوں میں لکھتی جہاں پڑھنے والوں کی فراوانی ہے،جہاں قلم کی عزت ہے،جہاں آج بھی لکھنے والا عام لوگوں سے برتر ہے،بدتر نہیں۔مجھے ایک گلا سڑا سسٹم اگر مارنے پر تلا ہے تو میں ہجرت کیوں نہیں کرتی؟ ہجرت تو عین ایک مذہبی حق اور فریضہ ہے۔جس ملک،جس معاشرے اور جس زباں میں میری سانسیں ضبط ہو جائیں مجھے اس میں سے نکل جانا چاہیئے۔یہ ساری زمیں انساں کے لئے ہے یہ ساری دنیا خدا نے میرےلئے بنائی ہے پھر کیوں میں محض اپنی گلی،اپنے محلے کے چار بے ایمان لوگوں کے اندر خود کو قید رکھوں۔ہم اپنی علاقائی روایت کو کندھے پر اٹھاتے ہیں اور کائناتی مزہب سے مکر جاتے ہیں جو بشر کے وجود اور اس کے مقام کو اہمیت دیتا ہے۔کائناتی فارمولہ جو کہتا ہے تمام زماں اور مکاں تمھارے لئے بنے ہیں،تمام زبانیں اور سرحدیں تمھاری ہیں،مگر ہمیں پورے آسماں سے پیار نہیں ہم صرف اپنی ہی دو گز زمیں پر جینے اور مرنے کے متلاشی ہیں۔ہم صرف اپنے ہی کنویں کو حیات سمجھنے پر بضد ہیں۔ہم اپنی تنگ نظری اور کم عقلی پر غرور کرتے ہیں،ہم اپنی بانجھ زمین کو ماں بنانے کی ضد پر تلے ہیں۔

مجھے آج یہ سوچنا ہو گا کہ کیا اگلے پانچ سال بھی مجھے پانی اسی ریگزار سے ڈھونڈنا ہے یا سبز میدانوں کی زمیں کی طرف نکلنا ہے۔مجھے سوچنا ہو گا کہ سفر کی برکت کی طرف لپکوں یا یہیں کھڑے کھڑے تعفن زدہ ہو جاؤں!