SOS! Save the Souls!

یہ ایک ڈوبتے ہوئے کی پکار ہے جب اسے لگتا ہے سب کچھ اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہے!

Mayday!

وہ چلاتا ہے جب وہ تباہی کے دھانے پر ہوتا ہے،جب وہ ہر امید کھو دیتا ہے

میں یہ کال ایک بار ذندگی میں پہلے بھی دے چکی ہوں

اگرچہ تباہی سے بچ نہ سکیں تھی،تباہی میں سے گزر کر سروائیور بنکر نکلی تھی۔

اس دوسری کال کا وقت نہیں آیا, الحمداللہ!

پر جانے کیوں دل اور دماغ اک خوف کی زد میں ہے،یوں لگتا ہے چمکتے جزیرے کہیں پیچھے رہ گئے ہیں،جیسے زندگی کا بحری جہاز کسی چٹان سے ٹکرا کر ٹکروں میں بٹ رہا ہے،اس حادثہ میں ڈوبیں گے یا پار نکلیں گے کچھ خبر نہیں!،میرے گلے میں سانسیں اٹک رہی ہیں چیخیں ابھی بھی نہیں نکلیں تو گھٹ جائیں گی۔

ہم ان وضع داریوں میں لپٹے ہیں کہ زخم دکھاتے بھی ڈرتے ہیں۔ہم مسیحا کے سامنے بیٹھے دکھ بتاتے گھبرا جاتے ہیں۔ہمیں اپنی زندگیوں کو زرق برق لبادوں میں چھپا کر رکھنے کی عادت ہے،ہم سے اپنے تار تار وجود کی رونمائی نہیں کی جاتی،چناچہ بادل ہو کہ بادوباراں ہو،ہماری سسکیاں ساتھ بیٹھے لوگ سن نہیں پاتے!ہمیں خود کو جنجھوڑنا پڑتا ہے،توڑنا پڑتا ہے،اندر دبی ہوئی درد کی لہر کو سرنگیں بنا کر نکالنا پڑتا ہے،اس سے پہلے کہ موت ہمارے اندر سے نکل کر باہر پھیل جائے،ہمیں سورج کی روشنی کو اندر تک پہنچانا پڑتا ہے!تا کہ حیات کی منتظر نم زمیں میں حرارت اترے،اور امید کی شاخوں کا جنم ہو سکے!

سو میری تماتر کوشش ہے کہ کچھ شاخیں کتر کر میں سورج تک ظلمت کو پہنچا سکوں،کچھ دعا اٹھانے والے ہاتھ جو زمین کی مختلف سرحدوں میں کبھی کبھی میرے لئے اٹھتے ہیں ان تک ایک صدا پہنچا سکوں!

جانے آس پاس پھیلی دھند میں سے اجالا نکلے کہ نہیں،میرے لئے ہاتھ اٹھائیں اور اپنے رب سے میرے لئے رحم اور کرم مانگیں!مجھے آج ذندگی میں اس کی شدید ضرورت ہے!

کبھی کبھی انسان اس قدر کم ہمت ہو جاتا ہے کہ چھوٹی سی جھیل کو بھی سمندر سمجھ کر ڈوب مرتا ہے،اور کبھی سمندر سے بھی ڈوبتا ڈوبتا ابھر آتا ہے۔یہ سارا کھیل تماشہ انسانی دماغ کا ہے۔ابھر آئے تو سمندر بھی جھیل بن جائے،مر جائے تو جھیل بھی کافی ہے!دعا کریں میری کم ہمتی بلند حوصلگی میں بدل جائے، میری مشکلیں آسانیوں میں ڈھل جائیں!

ایک لمبے سفر کی داستان جسے کئی کئی ٹکروں میں بانٹ کر ہزار کوششوں سے حرفوں میں ڈھالنے کی کوشش میں ہوں مگر کچھ بوجھ انسانی قلم اٹھا نہیں سکتے،ہر اذیت دل سے کھرچ کر صفحات پر الٹنی مشکل ہے۔درد سینے میں دہائیاں دینے لگتا ہے کہ مجھے مت چھیڑو ،میں آخری سانسوں میں ہوں،مر جاؤں گا،میری انگلیاں کانپ کر رہ جاتی ہیں،لفظ اور فقرے بیچ راہ میں بکھر جاتے ہیں!وہ جو سینے میں چھپا رکھے ہیں کون جانے کتنے گہرے ہیں زخم! قطرہ قطرہ کر کے روح سے نچوڑے جائیں گے تو انکی ماہیت اور حجم واضح ہو گا!بہت عرصے سے دم سادھے زخموں کے سلنے کی منتظر ہوں تا کہ ان کو نئی کہانیوں میں ڈھال سکوں،میرے لئے دعا کریں کہ اس پل صراط سے گزر سکوں!

__________

تحریر و فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف