شمس نے کہا”مجھے کوئی پچھتاوہ نہیں،میرے دوست!!

مگر میں اس دنیا سے اکتا چکا ہوں

میں ایسا خانہ بدوش ہوں جو درد اور زخموں کی تلاش میں ہے!

مجھ سے رستوں پر احتیاط کی خواہش مت کرنا!میں موت کی لگن میں نکلا ہوں روزی کمانے نہیں!

مجھے خزانوں کی تلاش نہیں ،بلکہ حدوں سے دور جانا ہے

مجھے بستیوں اور دکانوں سے ادھر اپنے آپ سے بھی گمشدہ ہو جانا ہے!”

___________

کلام: جلال الدین رومی

ترجمہ: صوفیہ کاشف