آج یاد کی الماری سے
اُس کے ہاتھوں سے بُنا وہ سوئٹر نکلا
جو اُس نے
اُس سردی میں
نظم کہتے کہتے
بُنا تھا
جب محبت سرد نہیں تھی
اس نے دھاگوں سے عین اسی جگہ
دل کی شکل بنائی تھی
جہاں میرا دل دھڑکتا تھا
آج کی گلابی سردی میں
اُس کی انگلیوں کا لمس
میں اپنے دل کے قریب محسوس
کر رہا ہوں
لیکن وہ نظم اور محبت دونوں سرد پڑ چکی ہیں

احمد نعیم