یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر لوگوں کی رہنمائ فرمانا بہت ضروری ہے۔خود کشی کے خیالات انسانی ذہن میں کیوں ابھرتے ہیں، کیا وجوہات ہوتی ہیں؟اور یہ کہ ہمیں کوئ حق نہیں کسی انسان کو بھی یہ کہنے کا کہ تم خود کشی کا سوچ بھی کیسے سکتے ہو؟ کیا تم کافر ہوگۓ ہو؟ تمہیں اللہ پر یقین نہیں رہا؟یا کسی شخص کے خود کشی کرلینے کے بعد اس کے بارے میں یہ کہنا کہ اب یہ شخص جہنم میں جاۓ گا! پہلی بات تو یہ کہ میرے یا آپ کے کہنے سے کویئ بھی واصلِ جہنم نہیں ہوسکتا، اس بات کا فیصلہ کرنے کا اختیار صرف اللہ کو ہے۔ وہ جسے چاہے معاف کردے، جسے چاہے سزا دے۔تاریخ گواہ ہے کہ ایسے ایسے انسان جنہوں نے اپنی پوری زندگی گناہوں میں گزاردی، مگر کسی ایک نیکی کی بدولت اللہ نے انکو معاف کردیا۔لہٰذاا کفر کے فتوے لگانے کا ہمیں کوئ حق نہیں۔ خود کشی حرام ہے، تو بیشک آپ اسے غلط کہیں لیکن ہرگزیہ نہ کہیں کہ فلاں شخص جہنمی ہے۔ کیا پتا کہ آپ کے انہیں لفظوں کی وجہ سے اللہ آپ پر جنت حرام کردے۔ اللہ پر ایمان بہت ضروری عمل ہے مگر خود کشی کے خیالات کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ انسان مکمل طور پر اللہ سے منکر ہوگیا ہے۔ اور اس کی مثال میں آپ کو ہمارے پیارے نبیﷺ کی حیاتِ مبارکہ سے دینا چاہوں گی۔

آپﷺ کی نبوت کا ابتدائ دور تھا، آپﷺ پر جب وحی نازل ہوا کرتی تو آپ اس کی ہیبت کو بہت مشکل سے برداشت کرپاتے تھے۔ آپ کو سردی لگتی تھی، بخار چڑھ جاتا تھا، آپ کو محسوس ہوتا تھا جیسے آپﷺ کے جسم پر بہت بھاری بھرکم بوجھ ڈالا جارہا ہے۔ اللہ اپنا کلام نازل کررہا ہو تو یہ کویئ عام بات تو نہیں۔اس پورے قرآن کو اگر ہم نے کسی پہاڑ پر نازل کیا ہوتا تو آپ دیکھتے کہ وہ پھٹ جاتا، ریزہ ریزہ ہوجاتا (سورہ الحشر)۔آپ ﷺ تو پھر انسان تھے۔ لہٰذا کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ وحی آنے میں کئ دن گزر جاتے، اور آپﷺ والہانہ اللہ کے پیغامات کا انتظار فرمایا کرتے تھے۔ جب کبھی جبرائیل امین وحی لے کر پہنچتے تو آپﷺ ان سے کہا کرتے کہ جبرائیل تم دیر سے آتے ہو۔ جس کے جواب میں جبرائیل فرماتے: اے نبیﷺ، ہم اپنی مرضی سے نازل نہیں ہوسکتے (سورۃ المریم)۔ ایسے میں مکہ والوں کو بھنک پڑجاتی کہ گویا اللہ کے پیغامات آنا بند ہوگۓ ہیں، تو وہ آپﷺ کو طعنے دیا کرتے کہ تمہارے رب نے تمہیں چھوڑ دیا۔ آپﷺ کی چچی، امِ جمیل نے تو آپﷺ کو یہاں تک کہ ڈالا: اے محمدﷺ، معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے شیطان نے تمہیں چھوڑ دیا (صحیح حدیث)۔نعوذُ باللہ۔ایک مرتبہ جبرائیل کو آنے میں اچھے خاصے دن گزر چکے تھے تو آپﷺ بہت پریشان رہنے لگے۔ آپﷺ کی ان دنوں حالت اس قدر ناساز رہنے لگی کہ آپﷺ راتوں کو اٹھ کرنماز پڑھنے سے بھی قاصر تھے(صحیح حدیث)۔ آپﷺ کی اتنی ہمت ہی نہیں ہوپارہی تھی کہ آپﷺ نماز ادا کرلیں کیوں کہ آپﷺ کو لگنے لگا تھا کہ شاید واقعی آپﷺ کے رب نے آپﷺ کوچھوڑ دیا ہے۔ یا شاید وہ آپﷺ سے ناراض ہوگیا ہے۔ آپﷺ فرماتے ہیں کہ مجھ پر وہ وقت اس قدر سخت گزرا تھا کہ میرے دل میں یہ خیال آتا،پہاڑ پر چڑھ کر خود کو نیچے گرادوں (صحیح بخاری)۔ عام انسانوں کو بھی اکثر ایسے خیالات آتے ہیں کہ شاید ان کے رب نے انہیں چھوڑ دیا ہے۔ یا شاید اللہ ان سے ناراض ہوگیا ہے۔ تبھی تو کوئ امید کی کرن نمودار ہی نہیں ہورہی۔ ایسا ہوتا ہے جب انسان کسی مشکل یا کسی آزمائش سے دو چار ہوتا ہے، اور ساتھ ہی لوگوں کی باتیں اور لعن طعن بھی اسے سہنی پڑتی ہے۔ زمانہ اس کا جینا حرام کردیتا ہے۔ یہ ڈیپریشن کی کیفیت ہوتی ہے، جب انسان مایوسی میں گھرا چلا جاتا ہے۔ بے شک وہ اللہ سے بہت محبت کرتا ہو، مگر اس پر بھی یہ کیفیات نازل ہوتی ہیں جب اس کا نہ تو دنیا میں دل لگرہا ہوتا ہے اور نہ ہی دین میں۔وہ نماز پڑھنے کی بھی ہمت نہیں کرپاتا، یوں جیسے اللہ اسے اپنے در پر بلانا ہی نہ چاہتا ہو۔ مگر ایسا ہم سوچتے ہیں، اللہ نہیں۔ ملاحظہ فرمایا کہ جب نبیﷺ جیسی اعلیٰ شخصیت کو ایسے خیالات آسکتے ہیں، تو ہم لوگ کس کھیت کی مولی ہیں؟ اور کیا نبیﷺ سے زیادہ محبت کوئ اللہ سے کرسکتا ہے؟ تو جب آپﷺ کفار کے طعنوں کی وجہ سے پریشان ہوسکتے تھے تو ہم کیوں زمانے کی باتوں سے دل برداشتہ نہیں ہوسکتے؟ میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی ہمارے معاشرے میں کویئ خود کشی کرلیتا ہے تو اکثر لوگ یہ کہرہے ہوتے ہیں کہ اللہ سے مایوسی کیسے؟ کیا اللہ کچھ نہیں کرسکتا؟ جب اللہ ہے تو زمانے کی باتوں کو دل پر کیوں لگانا؟ یہ لوگ بات تو ایسے کرتے ہیں جیسے خود اپنے ایمان میں بہت اعلیٰ درجے پرپہنچ چکے ہوں، یا انہیں تو کبھی مایوسی کی کیفیت لاحق ہی نہ ہوئ ہو۔ یاد رہے کہ ہر انسان اس کیفیت سے دوچار ہوتا ہے۔ یہ ایک فطری عمل ہے۔ اسے نظر انداز کیا نہیں جاسکتا۔ اور جو لوگ خود کشی کرلیتے ہیں، انہیں یہ زمانہ کہتا ہے جہنمی۔ عجیب بات ہے کہ لوگوں کی نظر میں جھوٹ بولنا،چغلیاں کرنا، دوسروں کی زندگیوں میں زہر گھولنا،ایک دوسرے کو نیچا دکھاناتو حلال ہے لیکن انہیں لوگوں نے مرنا حرام کردیا۔ کیا اس زمانے نے کبھی اپنی غلطیوں کو تسلیم کیا؟ کیا لوگوں نے کبھی اس بات پر غور کرنے کی کوشش کی کہ فلاں نے کیوں اپنی زندگی ختم کردی؟ مجھے یقین ہے کہ اگر اس پہلو پر روشنی ڈالی جاۓ تو غلطی زمانے کی ہی نکلے گی۔ اور ایسے میں اگر اس شخص نے اللہ کی عدالت میں لوگوں کو قصوروار ٹھہرادیا تو کیا ہوگا ان لوگوں کا؟ وہ انسان تو شاید بچ جاۓ لیکن یہ لوگ جو اس کی موت کی وجہ بنے، بچ سکیں گے؟میں ہرگز یہ نہیں کہ رہی کہ خود کشی حلال ہے، یا یہ بہت ہی اچھا عمل ہے، لیکن ہمیں تمام پہلوؤں کو مدِ نظر رکھنا چاہئے۔ گر خود کشی اور مایوسی کا خیال اس قدر گراں ہوتا تو اللہ قرآن میں جگہ جگہ اپنے نبیﷺ کے ذریعے سے انسانیت کو تسلیاں نہ دیتا۔ یہ قرآن بے شک نبیﷺ پر نازل ہوا لیکن یہ مخاطب عالمِ انسانیت سے ہے۔ اس میں ہر انسان کے لۓ ہدایت کا سرچشمہ روشن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص بھی اسے سمجھ کر پڑھتا ہے، اسے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اللہ مجھ سے ہی کلام کررہا ہے۔

اللہ نے اپنے نبیﷺ کوقرآن میں جگہ جگہ تسلیاں دی ہیں۔ اللہ فرماتا ہے: اے نبیﷺ، ہمیں معلوم ہے کہ آپﷺ کا سینہ بھینچتا ہے ان باتوں سے جو یہ کہ رہے ہیں (سورۃ الحجر)۔ اسی طرح اللہ سورہ الضحیٰ میں فرماتا ہے: قسم ہے آفتاب کی روشنی کی، اور رات کی جب وہ چھا جاۓ۔ یہاں اللہ نے جو رات اور دن کی قسم کھائ ہے، اس کی ایک مناسبت ہے اور وہ یہ کہ جس طرح انسان کے لۓ بھاگ دوڑ ضروری ہے ویسے ہی آرام بھی ضروری ہے۔ جیسے دن کے وقت محنت کرنا ضروری ہے، ویسے ہی رات کے وقت کا سکون ضروری ہے۔ کیوں کہ انسان ہمیشہ ایک ہی حالت میں نہیں رہ سکتا۔ اللہ نے جیسے انسان کو تخلیق کیا ہے، اس کے لۓ روشنی اور اندھیرا دونوں معنی رکھتے ہیں۔ اسی طرح غم بھی اہم ہیں اور خوشیاں بھی۔ اگر غم نہ دیے جائیں تو انسان خوشیوں کا ناقدرا ہوجاۓ۔ اور اگر خوشیاں نہ ہوں تو وہ بالکل ہی مایوس ہوجاۓ۔ مکمل ایک ہی حالت میں رہنا انسانی صحت کے لۓ خطرے کا باعث ہے۔ یہاں اللہ یہی فرمارہا ہے کہ جس طرح یہ سب کچھ اہم ہے، ویسے ہی وحی کا آنا بھی ضروری ہے، اور منقطع ہونا بھی ضروری ہے۔ ورنہ آپﷺ، مسلسل وحی کا نزول سہ نہیں پائیں گے، اس کے ربط کو برداشت نہیں کرپائیں گے۔ کیوں کہ یہ قرآن بہت بھاری ہے۔ پھر آگے اللہ اپنے نبیﷺ کو تسلی دیتا ہے: نہ ہی تمارے رب نے تمہیں چھوڑا اور نہ ہی وہ ناراض ہوا۔ اس سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ یہی کہ غم اور مصیبتیں آجانے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ تمہارا اللہ تمہیں بھول گیا ہے یا تم سے ناراض ہوگیا ہے، بلکہ یہ غم ضروری ہیں تاکہ تمہیں راحت کا سکون میسر ہو۔ لہٰذا زندگی کی تکالیف سے گھبرا کر مایوسی کا شکار نہ ہوجاؤ اور عنقریب وہ تمہیں اتنا دے گا کہ تم خوش ہوجاؤگے۔ مطلب کے بہت جلد اللہ ان غم کے بادلوں کو ختم کر کے تمہیں خوشیاں بھی دے گا اور جس چیز کے پانے کے لۓ تم تگ و دو کررہے ہو، اللہ تمہیں نامراد نہیں کرے گا۔ البتہ یہ سختیاں، یہ انتظار، یہ غم، اور یہ کوششیں بہت ضروری ہیں۔ لہٰذا جب کبھی خود کشی اور مایوسی کے خیالات ہمیں آگھیریں، ہمیں اللہ کی رحمت کو بھلانا نہیں چاہیئے۔ جس ذات نے ہمیں پیدا فرمایا ہے، ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ ہمیں تنہا چھوڑ دے۔ وہ بہتر جانتا ہے کہ ہمارے لۓ کیا ضروری ہے اور کیا نہیں۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے ایمان کو کامل کر کے ہمیں سہی و صالح عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین۔