کور ڈیزائن: طارق عزیز

تحریر: شازیہ خان


قسط نمبر 13

_____________
ثنا اکثر سوچتی رہتی کہ سامعہ کو آخر اس گھر میں کس چیز کی کمی ہے؟ جس کی تلاش میں وہ اِدھر اُدھر پھرتی رہتی ہے۔۔۔ ایک محبت کرنے والا شوہر۔۔۔ ایک خوبصورت بچہ۔۔۔ جسے اس نے کبھی پیار سے نہیں دیکھا۔۔۔ جو اب تک نانی اور آیاؤں پر پل رہا تھا۔۔۔ کیوں کہ اس کی ماں کے پاس اس کو دینے کے لیے ٹائم ہی نہ تھا۔۔۔ ایک بڑا گھر۔۔۔ بنک بیلنس۔۔۔ جب چاہتی جتنا چاہتی خرچ کرتی کوئی پوچھ گچھ نہ تھی۔۔۔ لیکن اسی آزادی کا وہ ناجائز فائدہ اُٹھا رہی تھی۔کبیر علی کو تو وہ کچھ سمجھتی ہی نہ تھی۔۔۔ بلکہ جب سے اپنا شیئرز کا کام شروع کیا تھا اور اس سے کما رہی تھی اس کے بنک بیلنس میں اضافہ ہو گیا تھا۔۔۔ مگر وہ کبیر علی کی کسی طور پر بھی شکر گزار نہ تھی۔۔۔ ابھی تک وہ ان سے وہ رشتہ نہ بنا پائی جو کہ ایک میاں بیوی کے درمیان ہوتا تھا۔۔۔ آج بھی جب ثنا نے فون کیا تو خالہ سے کبیر علی کی بیماری کے بارے میں معلوم ہوا کہ بزنس کی تھکا دینے والی سرگرمیوں نے کبیر علی کا بی پی شوٹ کر دیا تھا اور آج بھی وہ آفس کی بجائے گھر میں ہی تھے۔ جب ثنا وہاں پہنچی تو شام کے پانچ بج رہے تھے اور حسبِ توقع آج بھی سامعہ گھر پر موجود نہ تھی۔۔۔ خالہ نے بتایا کہ کبیر علی دوائی کے اثر میں سو رہے ہیں۔رات کو بی پی شوٹ کر گیا تھا سامعہ اسے لے کر ڈرائیور کے ساتھ ہاسپٹل گئی تھی۔۔۔ ڈاکٹرز نے فرسٹ ایڈ دے کر گھر بھیج دیا۔۔۔ سامعہ کے گھر پر نہ ہونے کی وجہ سے خالہ بہت شرمندہ شرمندہ سی تھیں۔ حسبِ توقع اس وقت سامعہ کو کبیر علی کی تیمارداری کی وجہ سے گھر پر ہونا چاہیے تھا۔۔ لیکن وہ انہیں دوائیوں کے زیرِ اثر سوتا چھوڑ کر بڑے آرام سے کسی دوست سے ملنے چلی گئی۔۔۔ ان کے بہت سمجھانے کے باوجود نہ رُکی۔ اماں آپ تو ذرا ذرا سی بات کا افسانہ بنا دیتی ہیں۔۔۔اب کام کا اتنا پریشر ہوگا تو بندے کا بی پی شوٹ تو ہونا ہی ہے۔۔۔ اس میں کیا بڑی بات ہو گئی۔ اب آپ کے داماد نوجوان تو نہیں ہیں۔۔۔ اس عمر میں تو ایسی چھوٹی موٹی بیماریاں ہو ہی جاتی ہیں۔۔۔ ان کے خیال میں وہ بہت بے رحم ہو رہی تھی۔۔۔ انہیں بالکل اچھا نہیں لگا کہ وہ اپنے شوہر کے بارے میں ایسی بات کر رہی تھی جیسے کسی غیر کا ذکر ہو۔۔۔وہ گواہ ہیں کہ ان کی بیٹی کی ایک تکلیف پر ان کا داماد شدید پریشان ہو جاتا تھا۔۔۔ اپنے سامنے دوائی کھلاتا اور بستر سے اُٹھنے نہیں دیتا تھا یہاں اسے کوئی پروا ہی نہ تھی۔۔ انہیں بھانجی کے سامنے بہت شرمندگی تھی لیکن ثنا نے کچھ ظاہر نہ ہونے دیا۔۔۔ بس کام والی سے بھائی کے لیے دو تین پرہیزی کھانے پکوائے اور فریز کر دیئے۔اور اُسے بھائی کے کھانے پینے میں پرہیز کے متعلق ہدایات دیں۔۔۔ خالہ کے ساتھ تھوڑی دیر باتیں کیں اور رات ہونے سے پہلے وہاں سے نکل آئی۔۔ وہ شاید خود بھی سامعہ کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ اسی لئے کبیر علی کے بے دارہونے کا انتظار بھی نہیں کیا۔۔۔ لیکن وہ ان کے لیے پریشان بہت تھی۔۔۔ اس کے پریشان ہونے سے کیا ہوتا وہ بھائی کے لیے جو کر سکتی تھی کر آئی تھی۔۔ سامعہ اتنے سالوں کے بعد بھی کبیر علی کو وہ محبت اور توجہ نہ دے سکی جوبہ حیثیت شوہر کبیر علی کا حق تھا۔۔۔
جب سامعہ واپس لوٹی تو اماں نے اُسے آڑے ہاتھوں لیا۔۔” کم از کم آج تو نہ جاتیں تھوڑی دیر اپنے میاں کی خدمت ہی کر لیتیں۔۔۔ ثنا آئی تھی کبیر علی کے لیے کچھ کھانے بنوا کر رکھ گئی ہے اور کام والی کو بھی تیل، نمک، مرچ کم رکھنے کی ہدایت کر گئی ہے۔۔۔” انہوں نے اپنے طور پر اُسے شرم دلانے کی کوشش کی۔۔۔ تو سامعہ کے آگ لگ گئی۔۔۔” ایک تو اس ثنا سے اپنے گھر نہیں بیٹھا جاتا۔۔۔ جب منہ اُٹھا بھائی کی محبت میں بھاگی چلی آتی ہے۔۔۔ ” وہ بلبلا کر بولی۔۔۔ ہاں تو اُسے الہام تو نہیں ہوا تھا۔۔۔ بھائی کی محبت نے ہی اُسے اس کی طبعیت کا احسا س دلا یا تو وہ آئی تم سے تو اتنا نہ ہوا کہ میاں کے پاس اس کی بیماری میں چند گھڑی گذار لو۔۔ نہ جانے کون سا کام شروع کیا ہے جو روز بھاگے ہی چلے جاتی ہو۔۔ میاں کا خیال اور نہ ہی بچے کا۔۔۔ سارا گھر کام والیوں پر چھوڑا ہوا ہے۔۔۔ سیاہ کریں کہ سفید کوئی فکر نہیں۔۔۔ اس بار انہوں نے بھی کوئی لحاظ نہ کیا کہ ان کی بیٹی کو کتنا بُرا لگے گا۔۔۔ اور واقعی اماں کی بات اس کے اندرتک آگ لگا گئی۔۔۔ اور وہ تنتناتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔ جہاں کبیر علی ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی بیدار ہوئے تھے اور عصر کی نماز پڑھ رہے تھے۔۔۔ سلام پھیر کر انہوں نے سامعہ کی طرف دیکھا، جہاں غصہ اپنے عروج پر تھا۔۔۔ اپنا پرس اس نے زور دار انداز میں الماری کے اندر پھینکا اور واش روم میں گھس گئی۔۔۔ واپس آئی تو وہ دُعا مانگ کر جائے نماز سے اُٹھ چکے تھے۔۔۔ وہ چاہتے تھے کہ سامعہ ان کی خیریت پوچھے مگر ادھر تو ایسے کوئی آثار نہ تھے۔۔۔” سُنیں! ” آخر سامعہ سے برداشت نہ ہوسکا تو وہ ان کی طرف گھوم کر بولی۔۔۔” یہ ثنا کو کیا پرابلم ہے۔۔۔ روز روز کیوں آجاتی ہے۔۔۔” ” ثناآئی تھی” اس بار وہ حیران ہو گئے۔۔۔ کیوں کہ ایسا کبھی نہ ہوا تھا کہ ثنا ان کے گھر میں ہوتے ہوئے آئی ہو اور ان سے ملے بنا ہی چلی گئی ہو۔۔۔ آپ تو یوں حیران ہو رہے ہیں جیسے وہ بہت دنوں کے بعد آئی تھی۔۔۔ ابھی پچھلے مہینے ہی تو دونوں میاں بیوی آئے تھے۔۔۔” کبیر علی کی بے تابی سامعہ کو زہر لگ رہی تھی ۔۔۔” یار اس کا گھر ہے وہ جب چاہے آسکتی ہے۔۔۔” کبیر علی نے اس کے لہجے کی بے زاری محسوس کرتے ہوئے بات ختم کرنی چاہی تو وہ اور بھڑک گئی۔۔۔” وہ آتی ہے اور اماں کو بھڑکا کر چلی جاتی ہے۔۔۔ ” وہ غصے سے بولی تو کبیر علی نے ہاتھ کے اشارے سے اُسے آہستہ بولنے کو کہا۔۔۔ ” یار میری طبیعت نہیں ٹھیک۔۔۔ بی پی ہائی لگ رہا ہے کل بات کریں گے۔۔۔” وہ واقعی دُکھی تھے وہ ثنا کواس کے گھر میں آنے سے کس طرح منع کر سکتے تھے۔۔۔ اس عورت کی بے تکی باتوں سے وہ اب خود بھی بے زار ہونے لگے تھے۔۔۔ پرانی محبت کہیں کھو چکی تھی۔۔۔ محبت اپنے جواب میں بھی تو محبت مانگتی ہے۔اگر نہ ملے تو ختم ہونے لگتی ہے۔ کمزور پڑنے لگتی ہے۔۔۔ اس عورت سے تو انہیں کبھی ایک اچھا جملہ سننے کو نہ ملا۔۔۔کبیر علی کو لگتا تھا کہ اب ان کی محبت تھکنے لگی ہے سالوں جس کو پوجنے کی حد تک چاہا وہ کبھی ایک محبت بھرا جملہ اس کے یا اس کے گھر والوں کے لیے نہ کہہ سکی۔۔۔ محبت کی تھکن کا بار اٹھانا بہت مشکل عمل ہے۔۔۔ انسان خود اپنے اندر ہی دفن ہونے لگتاہے۔۔۔ اور اب وہ اس تھکن سے واقعی بیما ر ہونے لگے تھے۔۔۔کیا کچھ نہ کیا تھا انہوں نے اس عورت کے لیے او ر وہ ان کے اکلوتے رشتے کو برداشت نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ کوئی اور عورت ہوتی تو اپنے شوہر کا احسان مانتے ہوئے نہیں تھکتی کہ اس کی ماں کو اپنے گھر میں رکھا ہوا ہے۔۔۔ بے شک خالہ ہیں لیکن ہیں تو ساس ہی۔۔۔ مگر وہ احسان ماننے کے بجائے اس کی بہن کا داخلہ ہی اس گھر میں بند کرنا چاہتی تھی۔۔۔ حالاں کہ وہ ثنا سے سامعہ کی دوستی اور محبت سے خوب واقف تھے اور جانتے تھے کہ شادی سے پہلے کس طرح کھُلے اور پوشیدہ ثنا سامعہ کی ہر مدد کرتی رہتی تھی۔۔ وہ سامعہ کے اس رویے پر بہت تکلیف میں تھے۔۔۔ اور اندر ہی اندر اس سے شادی پر ایک پچھتاوا سا محسوس کر رہے تھے کہ کاش!!!!! مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
سیما نے بہت جلد ترقی کی منازل طے کر لی تھیں۔۔۔ آفندی صاحب اپنے بدقسمت بیٹے کے بارے میں سوچ کر دکھی ہو جاتے کہ کاش عمر ایسے ہیرے کی قدر کرتا تو آج ان دونوں کا نام کاروباری افق پر ایک ساتھ چمکتا۔۔۔مگر واقعی وہ اتنی اچھی لڑکی کے بالکل قابل نہ تھا۔۔۔ آفس سے واپس آکر وہ پوری طرح خالو جان کو ٹائم دیتی ان کے ساتھ دن بھر کی نیوز شیئر کرتی۔۔۔ سارا دن کی روداد انہیں سنا کر ان سے بزنس میں مشورے لیتی اور پھر دونوں مل کر کھانا کھاتے۔۔۔ آج بھی وہ کھانا کھاتے ہوئے انہیں ایک ایک چیز بہت محبت سے سرو کر رہی تھی کہ خالو جان کا موبائل بجنے لگاخالو نے فون اُٹھا کر دیکھا اور لائن کاٹ کر ایک طرف رکھ دیا۔۔۔ لیکن ان کے پاس کھڑی ان کی پلیٹ میں چاول ڈالتی سیما یہ سب دیکھ چکی تھی عمر کی کال کاٹی تھی انہوں نے۔۔۔۔ اس کا دل دُکھ سے بھر گیا۔۔۔ اس کی وجہ سے باپ بیٹے میں دوری تھی۔۔۔ وہ نا چاہتے ہوئے تھی خود کو مجرم سمجھ رہی تھی۔۔۔ اس نے چاول ان کی پلیٹ میں ڈالتے ہوئے دوبارہ فون کی طرف دیکھ اور پھر اپنی کرسی پر جا کر بیٹھ گئی۔۔۔ کئی بار اس نے حوصلہ کیا کہ خالو جان سے عمر کی معافی کی درخواست کرے گی لیکن حوصلہ نہ ہوا۔۔۔وہ اب اس کا نام سننے کے بھی روادار نہ تھے۔۔۔ لیکن وہ جانتی تھی رات کو اکثر ان کے کمرے کی لائٹ جب بہت دیر تک جلتی رہتی تو وہ سمجھ جاتی کہ عمر آج پھر انہیں شدت سے یاد آرہا ہے اور ان کی نیند اسی کو یاد کر کے اُڑی ہوئی ہے۔۔۔” خالو جان ایک بات کرنا تھی آپ سے۔۔” اس نے ڈرتے ڈرتے حوصلہ کیا ” ہاں بولو بیٹا کوئی آفس کا مسئلہ ہے کیا۔۔۔” انہوں نے فورک پلیٹ میں واپس رکھتے ہوئے کہا۔۔۔”مسئلہ ہے بھی اور نہیں بھی۔۔” اس نے تھوڑا ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔۔
” دیکھو بیٹا میں تمہیں بیٹی کہتا ہی نہیں سمجھتا بھی ہوں۔۔۔ تم مجھے بہت عزیز ہو۔۔۔ اگر کوئی بات ہے تو کھُل کر کہو۔۔۔” وہ اب پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھے۔۔۔” خالو جان میں چاہتی ہوں کہ میں نانو بی کے گھر شفٹ ہو جاؤں۔۔” تمہید باندھنے کے لیے کچھ سمجھ نہ آیا تو اس نے نانو بی کا سہارا لیا۔۔۔” کیا اپنے بوڑھے خالو سے بے زار ہو چکی ہو؟” وہ تھوڑا حیران تھے مگراس کی بات کو لائٹ موڈ میں لیا۔۔۔” خدا کی قسم ایسی کوئی بات نہیں ہے بس میں چاہتی ہوں کہ آپ عمر کو معاف کردیں اور اسے یہاں بلا لیں۔۔۔” اس نے ہمت کر کے کہہ دیا۔۔۔” اس کو میں کبھی معاف نہیں کر سکتا۔۔۔ تم اگر اس بوڑھے کو چھوڑ کر جانا چاہتی ہو تو چلی جاؤ مگر اس خبیث کی اس گھر میں کوئی گنجائش نہیں۔۔۔ میں نے اُسے اس گھر اور اپنی جائیداد سے عاق کر دیا ہے یہ بات تم اچھی طرح جانتی ہو ” اُن کی آواز تھوڑا بلند ہو گئی۔۔۔ ” خالوجان شرعی اور قانونی طور پر عاق کرنے کی کوئی حیثیت نہیں اور پھر وہ نادم بھی ہے۔۔۔ پلیز اُسے معاف کردیں۔۔۔ میں نے بھی اُسے معاف کر دیا۔۔۔” بے شک تم ایک بڑے دل کی مالک ہو لیکن یہ بوڑھا اس معاملے میں عمر کا نہیں تمہارا باپ بن کر سوچ رہا ہے۔۔۔ کیا کوئی میری سگی بیٹی کے ساتھ ایسا کرتا تو میں اُسے معاف کر دیتا؟ کبھی نہیں۔۔۔ اور” سنو میں عمر کو جیتے جی تو معاف نہیں کر سکتا۔۔ میرے مرنے کے بعد وہ یا تم جو چاہو کرو۔” ۔۔۔” وہ یہ کہتے ہوئے غصے میں کھڑے ہو گئے اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔ سیما کی آنکھوں میں ان کی محبت پر نمی سی آگئی۔۔۔ لیکن وہ جانتی تھی کہ ایک بوڑھا باپ بیٹے کی غلطیوں پر اس سے کتنا شرم سار ہے اور اُسے کو عاق کرکے خود کو سزا دے رہا ہے۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
میڈم صباح فیس بُک اکاونٹ پر اپنی اَپ ڈیٹس ڈال رہی تھیں اور ساتھ ساتھ کمنٹس بھی چیک کر رہی تھیں۔۔۔اسکرول کرتے ہوئے اُن کے ہاتھ ایک کمنٹ پر رُک گئے۔۔۔ کمنٹ سے زیادہ پرفائل پکچر نے انہیں رُکنے پر مجبور کیا۔ ہلکے پھلکے میک اپ کے ساتھ لگی پروفائل پکچر کو دیکھ کر وہ سوچنے لگیں کہ اس چہرے کو انہوں نے کہاں دیکھا تھا۔۔۔ ذہن پر بہت زیادہ زور ڈالنے کے بعد انہیں یاد آیا کہ سامعہ کبیر نام کی یہ لڑکی انہیں پچھلے ویک اینڈ پر ایک دوست کی پارٹی میں ملی تھی اور جب باتوں باتوں میں اُسے معلوم ہوا کہ وہ میگزین اور ٹی وی آرٹسٹ کا میک اَپ بھی کرتی ہیں تو اس نے خود کو ماڈل کے طور پر متعارف کروانے کا عندیہ ظاہر کیا۔ میڈم صباح نے بھی اُسے اپنے پارلر کا نام بتا کر اور آنے کی دعوت دیتے ہوئے جان چھڑائی۔۔۔ اس بار واقعی وہ اسے چانس دینے کے لیے مجبور ہو گئی کیوں کہ پروفائل پکچر میں لگی سیلفی سے وہ بے تحاشہ فوٹو جینک ظاہر ہو رہی تھی اور میگزین یا ایڈ کمپنیز کو خوب صورت چہروں سے زیادہ فوٹو جینک چہرے چاہیے ہوتے ہیں۔۔۔ لیکن وہ خوب صورت ہونے کے ساتھ ساتھ فوٹو جینک چہرے کی بھی مالک تھی۔۔۔ پہلی فرصت میں انہوں نے میسج کر کے اُسے اگلے دن اپنے پارلر آنے کا کہہ دیا۔۔ سامعہ کو یہ میسج ملا تو وہ تقریباً پاگل ہی ہو اُٹھی۔۔۔ وہ جلد از جلد کبیر علی کو یہ خبر سُنانا چاہتی تھی۔۔ مگر وہ اجازت لینے کے لیے نہیں بلکہ اپنا فیصلہ سنانے کے لیے اُن کو یہ سب بتانا چاہتی تھی۔۔۔ وہ کسی بھی قیمت پر یہ موقع ضائع نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ سالوں بعد اس کے دل میں دبی خواہش بھڑکتا شعلہ بن رہی تھی۔۔ اور وہ اس خواہش کو ہر قیمت پر پورا کرنا چاہتی تھی۔۔۔ اِسی لیے اس نے کبیر علی کے آتے ہی میڈم صباح اور اپنی ساری چیٹنگ ان کے سامنے رکھ دی۔۔۔ اور وہ حیران نظروں سے اُسے دیکھ رہے تھے کہ اس کا کیا مطلب؟۔۔” مجھے ہر قیمت پر یہ ایڈ کرنا ہے۔۔” اس نے گویا اپنا فیصلہ سُنا دیا۔۔۔” آپ جانتے ہیں کالج کے زمانے سے مجھ ایڈ کرنے کا شوق تھا۔۔۔ آپ کو یاد ہے انارکلی بنی تھی تو سب نے کتنی تعریف کی تھی۔۔۔ کتنا سراہا تھا۔۔۔ بس مجھے نہیں معلوم میں یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی۔۔۔ ” وہ بچوں کی سی معصومیت سے کہہ رہی تھی اور وہ حیران تھے کہ ایک بچے کی ماں بن کر بھی اس کا روپ نہیں گہنایا بلکہ مزید نکھر گیا تھا۔۔۔ نئے برانڈز کے کپڑے، جیولری اور میک اَپ نے اس کے حسن میں چار چاند لگا دیئے تھے۔۔۔ لیکن اب وہ کالج گرل نہیں تھی خود ایک بچے کی ماں تھی۔۔۔ ایسی بچگانہ باتوں پر اُسے خود سوچنا چاہیے۔۔ ” لیکن تم جانتی ہو۔۔۔ یہ میگزین اور ایڈورٹائزنگ کمپنیوں کے ماحول۔۔۔” انہوں نے اُسے سمجھانا چاہا تو اس نے ان کی بات بیچ میں ہی اُچک لی۔۔۔ انسان جہاں جاتا ہے اپنا ماحول خود بناتا ہے۔۔۔ ہم خود اچھے ہوں تو کوئی ہمیں برا نہیں بنا سکتا۔۔۔ میں نے کہہ دیامیں یہ ایڈ ہر حال میں کروں گی۔۔۔” اگر میں اجازت نہ دوں پھر بھی۔۔” انہوں نے بڑے مان سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔” ہاں پھر بھی کیوں کہ یہ میرے مستقبل کا سوال ہے۔۔۔ مجھے اپنی زندگی جینے کا پورا اختیار ہے۔۔۔ مڈل کلاس میں یہ بڑی خرابی ہے عورت مردوں کو سارے اختیار سونپ دیتی ہے۔۔۔ ورنہ جن بڑی کلاس کی عورتوں میں بیٹھتی ہوں۔۔۔ وہاں تو ہر شخص اپنی مرضی سے زندگی جیتا ہے۔۔۔ شوہر بیوی سے کوئی سوال کرتا ہے اور نہ ہی بیوی شوہر سے۔۔۔ لیکن مجھے معلوم ہے آپ نے آج تک میری خوشی کا خیال رکھا ہے آپ اس خواب کی تعبیر میں میرا ساتھ دیں گے۔۔۔ وہ ایک دم پٹڑی بدل کران کے پاس آگئی اور ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔وہ اتنے سالوں میں اچھی طرح واقف ہو چکی تھی کہ کبیر علی سے اپنی بات کس طرح منوائی جا سکتی تھی۔۔۔ ان کو کیسے موم کیا جا سکتا تھا۔۔ اور کبیر علی کا ہاتھ سامعہ کے ہاتھ میں آتے ہی موم کا بن گیا۔۔۔ وہ اپنی چمکیلی بڑی بڑی کتھئی آنکھوں سے اُن کی طر ف دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ اپنی یہ بات غصہ کر کے یا ضد کر کے نہیں منوائی جا سکتی تھی۔۔۔ وہ ان کا ہاتھ ہاتھ میں لے کر بیٹھی تھی اور بڑی محبت سے انہیں دیکھ رہی تھی اور وہی ہوا۔۔۔ کبیر علی پگھل گئے جیسے کوئی عاشق معشوق کی ناجائز بات پر سر ہلا دیتا ہے۔۔۔ انہوں نے بھی اس کی بات مان لی۔۔۔” مگر میری ایک شرط ہے۔۔” وہ کچھ سوچتے ہوئے بولے ” ہاں بولیں کیسی شرط” وہ بے تابی سے بولی۔۔۔”یہ پہلا اور آخری ایڈہوگااس کے بعد تم کوئی اشتہار نہیں کرو گی۔۔۔” ” لیکن ” اس نے کچھ کہنا چاہا تو کبیر علی نے ہاتھ اُٹھا کر روک دیا۔۔۔” یہ میری شرط ہے اگر مان سکو تو میری طرف سے اجاز ت ہے ورنہ مشکل ہوگا۔۔۔”وہ نہیں چاہتے تھے کہ سامعہ اُس دنیا کی چکا چوند میں گُم ہو جائے۔۔۔ ایڈ کی اجازت دے کر اس کا دل بھی نہیں توڑنا چاہتے تھے۔۔۔چاروناچار سامعہ نے ان کی بات مان لی۔۔۔اسے یقین تھا کہ ایک ایڈ کے بعد ہی اُسے اتنی کامیابی مل جائے گی کہ اس پر اشتہارات کی برسات برس پڑے گی اور اُس وقت کبیر علی کسی طور اُسے منع نہیں کر سکیں گے۔۔۔ تو اس وقت ان کی بات ماننے میں کوئی حرج نہیں کیوں کہ اماں کو صرف وہ ہی منا سکتے تھے۔۔۔ اگر انہیں کوئی اعتراض نہ ہوگا تو پھر اماں کیا کہہ سکیں گی۔۔۔ یہ سوچ کر اُس نے ان کی شرط مان لی۔۔۔” چلواب جلدی سے اچھی سی چائے پلادو سر میں بہت درد ہے۔۔۔” وہ صوفے پر دراز ہوتے ہوئے بولے۔۔۔ وہ خوشی سے نہال ہوتے ہوئے کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ تاکہ کام والی کو چائے کے ساتھ چند لوازمات کا بھی کہہ سکے۔۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
چائے کی ٹیبل پر ہی یہ بات اس نے اماں کو بھی بتا دی۔۔۔ وہ تو غصے سے کھول گئیں۔۔۔ کالج تک تو وہ بھی اس کی فیور کرتی تھیں لیکن اب جب کہ وہ شادی شدہ اور ایک بچے کی ماں تھی تو اس قسم کی خرافات کی اب اس کی زندگی میں کوئی گنجائش نہ تھی۔۔۔ انہیں حیرانی تھی کہ کبیر علی نے کیسے اجاز ت دے دی۔۔۔ انہوں نے اُسے سمجھانے کی کوشش کی تو کبیر علی نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں خاموش رہنے کوکہا۔۔۔ اور بتایا کہ ان کی پہلی شرط ہی یہ ہے کہ یہ اشتہار اس کی زندگی کا پہلا اور آخری اشتہار ہوگا۔۔۔ اس کے بعد وہ سب کچھ چھوڑ کر گھر اور بچے کو پوری توجہ دے گی۔۔۔۔” ٹھیک ہے بھائی! یہ تم دونوں میاں بیوی کا آپس کا معاملہ ہے میں کون ہوتی ہوں اس معاملے میں ٹانگ اڑانے والی۔۔۔” وہ تھوڑا ناراض تھیں انہیں اپنی بیٹی کی فطرت اور ہٹ دھرمی کا اچھی طرح اندازہ تھا۔۔۔ وہ اتنی جلدی بات ماننے والوں میں سے نہ تھی لیکن بھلا وہ اب کیا کہہ سکتی تھیں جب کبیر علی کو کوئی اعتراض نہ تھا۔۔۔دوسرے دن ہی وہ میڈم صباح سے ملنے اُن کے پارلر گئی۔۔ انہوں نے پارلر کے سب سے ایکسپرٹ آرٹسٹ سے اس کا میک اَپ کروایا میک اَپ کروا کر وہ خود حیران تھیں وہ کہیں سے بھی ایک بچے کی ماں نہیں لگ رہی تھی۔۔۔ اور انہوں نے اسے سختی سے منع کر دیا کہ اُسے کوئی ضرورت نہیں کسی کو اپنے شادی شدہ اور ایک بچے کی ماں ہونے کے بارے میں بتانے کی اس طرح اس کی مارکیٹ ویلیو گر جائے گی۔۔ میرے پاس سے تیار ماڈل کی تصاویر جب بھی کسی بڑے کلائنٹ کو گئیں اس نے فوراً رابطہ کیا۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ کل ہی کلائنٹ کافون ایڈورٹائزنگ کمپنی کو آجائے گا۔ ایک بہت بڑی میک اَپ پراڈکٹ سے اس کا ڈیبیوہو رہا تھا سامعہ کو ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔ کہ اتنی جلدی اس کے خواب پورے ہو جائیں گے۔۔۔ وہ بہت خوش تھی۔۔ میک اپ آرٹسٹ ٹونی اس کی اتنی فریش جلد کا راز پوچھ رہا تھا۔۔ اور وہ اماں کو دعائیں دے رہی تھیں بچپن سے ہی انہوں نے اُسے بادام کا تیل کی ہلکی سی مالش کی عادت ڈالی تھی۔۔۔جو وہ سونے سے پہلے آج تک اپنے چہرے پر کرنا کبھی نہیں بھولتی۔۔۔ ہلکا سا نیم گرم تیل اپنی ہتھیلی پر لگا کر وہ پورے چہرے پر انگلیوں کے پوروں سے مالش کرتی اور زائد تیل کو کاٹن سے صاف کر کے سو جاتی۔۔۔اسی لیے اس کی جلد آج بھی کسی بچے کی طرح نرم و ملائم تھی۔ میں نے اب تک بہت ساری ماڈلز کا میک کیا ہے اور یقین کرو ” اتنی نرم و ملائم اور فریش جلد کسی کی نہیں تھی۔۔۔ کیا خاص کرتی ہو۔۔۔” وہ بہ ضد تھا اس سے اس کی خوبصورت جلد کا راز جاننے کے لیے۔ ” کچھ نہیں ڈھیر سارا فروٹس کھاتی ہوں اور پانی پیتی ہوں۔۔” وہ پہلے بتانے لگی تھی پھر اُسے ایک ماڈل کا انٹرویو یاد آگیا جس نے ٹی وی پر اپنی چمک دار جلد کا یہی راز بتایا تھا۔ آخر اُسے بھی تو ایسے جواب آنا چاہیے۔
ٹونی ہنس پڑا۔۔۔” بڑی تیز ہو۔۔۔ ابھی پہلا شوٹ ہے اور تمہیں دوسری ماڈلز کی طرح جھوٹ بولنا بھی آگیا۔۔۔ یہ تو آن سکرین جوا ب ہے آف سکرین بتاؤ کیا محنت کرتی ہو۔۔۔ کیوں کہ ایسی اسکن پانی اور ڈھیر سارے فروٹس کے بعد نہیں ملتی۔۔۔ اس کے لیے اس سے کچھ زیادہ کرنا پڑتا ہے۔۔۔” وہ ٹونی کے طنز پر شرمندہ ہو گئی۔۔ اور سب کچھ بتا دیا۔۔۔ “بہت معصوم ہو۔۔ تمہاری جگہ کوئی عیّار اور چالاک ماڈل ہوتی تو کبھی نہ بتاتی اور بہ ضدرہتی کہ میں تو ڈھیر سارا پانی اور فروٹس کھاتی ہوں۔۔” اس نے ماڈل کے انداز میں لہک کر بتایا تو وہ بھی ہنس پڑی۔۔۔ وہ باتوں کے ساتھ ساتھ بہت مہارت سے اپنے ہاتھ بھی چلا رہا تھا۔۔ ماڈل بننے کا خواب سالوں سے اس کی آنکھوں میں تھا۔۔۔اور آج اس کی تکمیل کا دن تھا وہ بھلا خوش کیوں نہ ہوتی۔۔۔ اس کے ہر انداز سے خوشی جھلک رہی تھی۔۔۔” بہت خوش لگ رہی ہو؟” ٹونی نے اس کی آنکھوں میں تیار ہونے کے بعد جھلملاتے ستارے دیکھ کر پوچھا۔۔۔” کیا مجھے خوش نہیں ہونا چاہیے؟ سالوں کے بعد میری اتنی بڑی خواہش پوری ہو رہی ہے۔۔۔ میڈم صباح بتا رہی تھیں کہ کوئی انٹرنیشنل میک اَپ پروڈکٹ ہے جن کے لئے میگزین شوٹ ہے۔۔۔ ابھی میگزین شوٹ ہے انشاء اللہ کل ٹی وی اور سوشل میڈیا کے لیے بھی آفرز آئیں گی۔۔۔” ٹونی کے ہونٹوں پر اس کی بات پر ایک طنزیہ مسکراہٹ اُبھر آئی۔۔۔” تمہیں تو بہت خوش ہونا چاہیے تم راتوں رات مشہور ہو جاؤ گی لیکن کیا تم جانتی ہو یہ وہ راستہ ہے جو اپنی چکا چوند میں آنے والوں کی آنکھیں خیرہ کر کے انہیں ان کی اصل منزل سے دور کر دیتا ہے۔۔۔” وہ چاہتا تھا کہ اتنی پیاری اور معصوم سی لڑکی اس کے حلقے میں آکر خراب نہ ہو۔۔۔ اسی لیے دبے دبے انداز میں اُسے سمجھا رہا تھا کھُل کر نہیں کہہ سکتا تھا کہ بی بی یہ وہ بھول بھلیاں ہے جہاں آکر اگر ایک بار بندہ پھنس جائے تو نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔۔۔” تم تو مجھے بہت اچھے خاندان کی لگتی ہو پھر کیوں اس بھیڑ میں گم ہونا چاہتی ہو۔۔۔” وہ اب بھی اُسے دبے دبے انداز سے سمجھا رہا تھا۔۔۔” تم یہاں کتنے سال سے ہو؟۔۔۔” سامعہ نے اچانک اس سے سوال کر لیا۔۔۔ تو وہ چونک کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔ میں کب آیا تھا؟۔۔۔ یہ تو مجھے بھی یاد نہیں لیکن یہ ضرور یاد ہے کہ تمہاری طرح اپنی آنکھوں میں ماڈل بننے کے بہت سارے خواب لے کر آیا تھا اور پھر وقت نے کیا سے کیا بنا دیا۔۔۔” وہ اس کے لمبے بالوں سے رولز نکالتے ہوئے بولا “مطلب”۔ مطلب تمہیں ابھی سمجھ نہیں آئے گا۔۔۔تمہاری طرح مجھے بھی شروع میں مطلب سمجھ نہیں آیا مگر وقت نے سارے مطلب سمجھا دئیے۔۔۔ تم سمجھنے کی کوشش کرو گی تب بھی ابھی کچھ سمجھ نہیں آئے گا۔۔۔ مجھے بھی بہت سالوں بعد سمجھ آیا کہ میں ایسا تو نہیں تھا جیسا بن گیاہوں۔۔۔” سامعہ کو اس کے لمبے لمبے بالوں میں ہیئربینڈ انگلیوں میں انگوٹھیوں کلائی میں سجے رنگ برنگے بینڈز اور اُس کی بات کرنے کے انداز سے سمجھ آگیا کہ کسی زمانے میں وہ ایک خوبصورت لڑکا رہا ہوگا۔۔۔ اور پارلر میں کام کرنے اور خاص طور پر خواتین کے ساتھ کام کرنے کے بعد وہ ناچاہتے ہوئے بھی تیسری جنس کا زبردستی روپ اختیار کر گیا تھا۔۔۔” کیا تم خوش نہیں ہو۔۔” سامعہ نے اس کی چمکتی آنکھوں میں پانی کی نمی دیکھ لی تھی۔۔ اسی لیے پوچھا” کیا کوئی کبوتر اپنے بندھے ہوئے پروں کے ساتھ بھی خوش رہ سکتا ہے۔۔۔ خیر چھوڑو یہ باتیں تم ابھی نہیں سمجھو گی۔۔۔ جب وقت کے تھپیڑے تجربوں کی لاٹھی سے بات سمجھاتے ہیں تو بات بہ خوبی بندے کی سمجھ آجاتی ہے۔۔۔ چلو سب چھوڑو آئینے میں دیکھو کتنی پیاری لگ رہی ہو۔۔۔ قاتل خود قتل ہونے کو تیار ہو جائیں گے۔۔۔” اس نے پھر ایک معنی سی بات کی لیکن سامعہ نے اس کی بات پر کوئی توجہ نہ دی۔۔۔ جب انسان خود اپنے خوابوں کی شکست دیکھتا ہے تو دوسروں کو بھی خواب توڑنے پر مجبور کر دیتا ہے۔۔۔ سامعہ کے خیال میں وہ ایک ماڈل بننے آیا تھا ماڈل نہ بن سکا تو اندر کا زہر باہر نکال کر دوسروں کو بھی ڈرا رہا تھا۔۔۔ یقینا وہ ایک بڑی ماڈل بن سکتی ہے اور اپنے سفر کے آغاز پر ایسے لوگوں کی باتوں پر دھیان دینے سے اس کا راستہ کھوٹا ہو سکتا تھااسی لیے خاموشی ہی بہتر تھی۔۔۔ واقعی اس کی فوٹو گراف بہت اچھی آئی تھیں۔۔۔ پورے دن کا شوٹ تھاجو ایڈورٹائزمنٹ کمپنی کے ذریعے کلائنٹ کو بھیجا گیا۔ جن میں سے کلائنٹ نے چند اچھی فوٹو گراف سلیکٹ کر کے اُسے اگلے ہفتے میٹنگ کا بھی کہہ دیا۔۔” مگر میٹنگ کس لیے۔۔۔” اس نے میڈم صباح سے فون پر پوچھا۔۔۔ ارے بھئی وہ تمہیں اپنی اگلی پراڈکٹ کے لیے ماڈل لینا چاہتے ہیں۔۔۔ بہت بڑی کمپنی ہے ملنے سے انکار مت کرو ورنہ اگلا ایڈ کیسے ملے گا۔۔ انہوں نے سمجھایا تو وہ سوچ میں پڑ گئی۔۔۔ کبیر علی سے تووعدہ کر بیٹھی تھی کہ اگلا کوئی ایڈ نہیں کرے گی۔۔۔ پھروہ کیسے مل سکتی تھی؟۔ وہ شش و پنج میں مبتلا تھی ابھی تو اس کا آغاز تھا اور آغاز بھی اتنا دھماکے دار کے ایک بڑی برانڈ نے اُسے اپنے اگلے ایڈ کے لیے چُن لیا تھا۔۔۔ ابھی تو اس کی تصاویر چند لوگوں نے ہی دیکھی تھیں اور جس نے بھی دیکھیں اُسے بہت سراہا۔۔۔ تو کیا اس کا یہ سفر اپنے آغا ز سے پہلے ہی اختتام کی طرف چل پڑا تھا۔۔۔ لیکن دوبارا کبیر علی سے بات کرنا اس کے لیے مشکل تھا۔۔۔وہ جانتی تھی کہ کبیر علی کبھی نہیں مانیں گے۔۔۔ تو کیا کروں ایک بار ان کو بتائے بغیر برانڈ منیجر سے مل لوں۔۔۔ بعد میں کرنا نہ کرنا تو میرے اختیار میں ہے ملنے میں کیا حرج ہے۔۔۔ ملنے کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ میں نے وہ ایڈ ضرور کرنا ہے۔۔۔ وہ اپنے دل کو اس طرح کی تاویلیں دے کر منا رہی تھی۔۔۔ آخر دل بھی تو اس کا ہی تھا۔۔۔ اگر دماغ کو منانے کی کوشش کرتی تو دماغ کبھی نہ مانتا۔۔۔ دل تھا اور دل آخر اپنی من پسند بات منوا کر ہی دم لیتا ہے۔۔۔ اس نے میڈم صباح کو فون کر کے اوکے کر دیا۔۔۔ وہ بہت خوش ہوئیں۔۔۔” سنو! ماڈلز کی زندگی میں ایسے مواقع بہت مشکل سے آتے ہیں۔۔۔ بہت خوش نصیب ہو جو اپنے پہلے فوٹو شوٹ کے بعد ہی کلائنٹ کی نظروں میں آگئیں ورنہ ماڈلز کو تو کلائنٹ سے ایک اشتہار کے لیے پتا نہیں کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں “۔۔۔ مگروہ پوچھ نہ سکی کہ وہ پاپڑ کیا ہوتے ہیں اُسے کچھ اندازہ تو تھا کہ اس انڈسٹری میں اپنی جگہ بنانے کے لیے لڑکیوں کو بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔۔۔ اور وہ خوش قسمت تھی کہ اُسے ایسا کچھ نہیں کرنا پڑا۔۔۔ اور ایک بڑی برانڈ کا ایڈ اس کی جھولی میں خود بہ خود آگرا۔۔۔ وہ میڈم صباح کو یہ بھی نہ بتا سکی کہ اس کے شوہر نے آگے ایڈ نہ کرنے کی شرط رکھ دی ہے اور شاید وہ آگے کوئی ایڈ نہ کرے۔۔۔ وہ پہلے برانڈ منیجر سے ملنا چاہتی تھی پھر اس کے بعد کوئی فیصلہ۔۔۔ تمہاری اور منیجر کی میٹنگ اگلے ہفتے پی سی ہوٹل میں ہے۔ تم لنچ اس کے ساتھ کروگی۔” مگر”۔۔۔ وہ کہتے کہتے رُک گئی کہ آفس کے بجائے منیجر نے اُسے ہوٹل میں کیوں بلایا ہے۔۔۔ شاید یہ میٹنگز اسی طرح ہوتی ہوں وہ تیزی سے منیجر کا نمبر نوٹ کر رہی تھی۔۔۔ میڈم صباح نے اُسے ہدایت کی اگلے ہفتے 25 تاریخ کو ایک بجے اُسے فون کر کے چلی جانا۔۔ اگر اس کی کوئی اور میٹنگ نہ ہوئی تو وہ تم سے کھانے کی ٹیبل پر ہی مل لے گا۔۔۔ اچھا ہے نا تم دونوں کھانے کے دوران ہی اچھی گپ شپ لگا لوگے۔۔۔ اس بزنس میں دونوں پارٹنرز کاایک دوسرے کے ساتھ بے تکلف ہونا بہت ضروری ہے۔۔۔” تم سمجھ رہی ہو نا میری بات۔۔۔ جب تک تم دونوں کے درمیان بے تکلفی کی فضا نہیں ہو گی تو تم کیسے سمجھ پاؤ گی کہ تمہاری برانڈ تم سے کیا چاہتی ہے۔۔۔”وہ درِ پردہ وہ اُسے بہت کچھ سمجھانا چاہتی تھیں۔۔۔ اور وہ صرف یہ سوچ رہی تھیں کہ گھر سے کیا بہانہ کر کے وہ ملنے جائے گی۔۔۔ آج کل اماں اس سے باہرجانے پر بہت سوال کرنے لگیں تھیں۔۔۔ کہاں جارہی ہو؟۔۔۔ کیوں جا رہی ہو؟۔۔۔ کب تک آؤ گی؟ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ حالاں کہ وہ جانتی تھیں کہ اس نے شیئر ز کا کام بھی شروع کر رکھا تھا۔۔۔ اور اسی لیے اُسے کئی بار اسٹاک ایکسچینج کے دفتر بھی جانا پڑتا تھا۔۔۔ لیکن وہ اس کے باہر آنے جانے پر بہت اعتراض کرنے لگیں تھیں۔۔۔ جس سے وہ چڑ گئی۔۔۔ان کا خیال تھا کہ شیئرز کا کام کر کے اس نے اپنے لیے فضول کی مصیبت مول لی ہے۔۔ جب میاں اچھا کماتا ہے تو اُسے فضول اپنا ٹائم باہر لگانے کی کیا ضرورت تھی۔۔ وہ گھر اور بچے کو پورا ٹائم دے۔۔۔ اور وہ ان کی بات کو سر سری اُڑا کر باہر نکل جاتی۔۔۔ وہ بہت کچھ کرنا چاہتی تھی۔۔۔ پچھلی چند پارٹیوں میں تو اس کی دوستوں نے اس کا کچھ پیسا جوئے میں بھی لگوا دیا۔۔ جو کہ اس نے بآسانی جیت لیا۔۔۔ اور حرام پیسا جیتنے کے بعد تو انسان کا حوصلہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔۔۔ وہ ایلیٹ کلاس کی ساری برائیاں اچھائیاں سمجھ کر اپناتی جارہی تھی۔۔۔ بنا سوچے سمجھے کہ جس دن ان باتوں کی خبر کبیر علی کوہو گئی تو وہ کتنا ناراض ہوں گے۔۔۔ لیکن وہ ایسا موقع آنے ہی کب دے گی اگر چھپ چھُپا کریہ کھیل چل رہا تھا تو چلنے دیتے ہیں۔۔۔ کسی کا کیا جا رہا تھا۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔x
آج اُسے ایک بجے نکلنا تھا اس نے ایک اچھا اور جدید تراش خراش کا سوٹ نکالا اس کے ہم رنگ شوز اور جیولری۔۔۔۔ وہ ہر حال میں سامنے والے کو چت کر دینا چاہتی تھی۔۔۔ بے شک وہ یہ ایڈ نہ کرتی لیکن اس بات کا احساس ہی کتنا خوش کن تھا کہ اتنی بڑی کمپنی کے منیجر سے ملنے جا رہی تھی۔۔۔ یقینا اُسے وہ پسند آئی تھی اسی لیے تو بلایا تھا۔۔۔ بھلا مل لینے میں کیا حرج تھا۔۔۔ اُسے احساس بھی نہ تھا وہ مکڑی کے جالے میں پھنسنے جا رہی تھی۔۔۔ جس میں قید ہونے کے بعد واپسی کا کوئی راستہ نہ تھا۔۔ وہ تیار ہو کر اماں کو بتانے آئی تو وہ دوائی کے اثر میں سو رہی تھیں۔۔۔اس نے شکر ادا کیا اور کام والی کو بتا کر نکل آئی۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔x
وہ ڈرائیور کے ساتھ پی سی ہوٹل پہنچ گئی اور ڈرائیور کو واپس بھیج دیا کہ کال کر کے بلالے گی۔۔۔برانڈ منیجر کو فون اس نے پہلے ہی کر دیا تھا۔ ٹھیک ایک بجے وہ اور برانڈ منیجر آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔ اس کے سامنے پینتالیس سالہ عیار سا شخص موجو دتھا۔۔ جس کی ہر نظر اُسے اپنا جسم ٹٹولتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔” میڈم صباح نے آپ کی تعریف غلط نہیں کی تھی۔۔۔ پہلے تو مجھے لگا وہ سارافوٹو شوٹ ان کے میک اَپ کا کمال تھا۔۔ مگر مس سامعہ اب آپ کو دیکھنے کے بعد میڈم صباح کی بات سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں کہ آپ میں کچھ الگ ہی بات ہے۔۔۔”وہ کچھ زیادہ ہی بے باکی سے اس کی تعریف کر رہا تھا۔۔۔ لیکن نہ جانے کیوں سامعہ کو وہ تعریف اچھی لگ رہی تھی۔۔۔ اُس کے دماغ میں ایک فلم چلنے لگی اور اس فلم میں صرف ایک ہی چہرہ گردش کر رہا تھا۔۔۔ وہ چہرہ جو شاید وہ کبھی بھول نہیں پائی تھی۔۔۔ وہ بھی تو اس کی ایسے ہی تعریف کرتا تھا۔۔۔ کھُلے ڈلے انداز میں۔۔۔ ایسی تعریف کبیر علی نے کبھی نہیں کی تھی۔۔۔ اس کی نظریں مسلسل سامعہ کے چہرے سے پھسل کر اس کے جسم پر اٹک جاتیں۔۔۔ چلیں پہلے پیٹ پوجاکر لیں بزنس کی باتیں تو ہوتی ہی رہیں گی۔۔۔ برانڈ منیجر بلال نے کھڑے ہوتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔۔۔ حالاں کہ وہ ارادہ کر کے آئی تھی کہ ایسی کسی آفر کو وہ نرمی سے شکریہ کے ساتھ منع کر دے گی۔۔۔ لیکن اس سے منع نہ ہو سکا۔۔۔وہ نہ جانے اس کے انکار کو کیا سمجھے۔۔۔ اسی لیے بلال کے ساتھ اُٹھ کر بوفے ایریا میں آگئی جہاں ایک خلقت کھانوں کی ڈشز پر ٹوٹی پڑ رہی تھی۔۔۔ بلال نے بھی کچھ سامان پلیٹ میں ڈالا اور اُسے اشارے سے کہا کہ وہ بھی پلیٹ میں کھانا ڈال کر میز پر ہی آجائے۔۔۔ اُس نے چند چیزیں اس خیال کے ساتھ پلیٹ میں ڈال لیں کہ وہ کھائے یا نہ کھائے اس کی پیمنٹ تو بلال نے کر دی ہے۔۔۔ یقینا اچھا نہیں لگے گا اگر وہ اس وقت کھانے میں اس کا ساتھ نہ دے۔۔۔ ” ارے مس آپ نے تو کچھ نہیں لیا۔۔۔ میں جانتا ہوں آپ جیسی خواتین انتہائی ویٹ کانشس ہوتی ہیں لیکن کبھی کبھی تو سب چلتا ہے۔۔۔ وہ برے مزے سے اپنا فوڈ انجوائے کر رہا تھا۔۔۔ اسی لیے اس کی پلیٹ میں سلاد کے چند پتے اور چکن تکہ دیکھ کر وہ بولے بنا نہ رہ سکا۔۔۔”نہیں سر! میں بس اتنا ہی کھاتی ہوں۔۔” وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔۔۔ سر نہیں بلال نام ہے میرا۔۔۔مجھے خوشی ہوگی اگر آپ میرا نام لیں۔۔۔ ویسے مس سامعہ آپ زیادہ سے زیادہ مسکرایا کریں۔۔۔
” کیوں سر! میرا مطلب ہے بلال۔۔” وہ جھینپ گئی اُس نے فوراً اس کی بات مان لی۔۔۔ بھئی حیرت ہے! اتنی خوبصورت مسکراہٹ والی لڑکی کو کبھی کسی نے بتایا نہیں کہ اس کی مسکراہٹ بہت خوبصورت ہے۔۔۔” اس بار تیر نشانے پر لگا۔۔۔ اور وہ دوبارہ کھُل کر مسکرا دی۔۔۔ ا سن نے بات ہی ایسی کہہ دی تھی۔۔۔ اور پھر دونوں کے درمیان بہت جلد بے تکلفی پیدا ہو گئی۔۔۔ ویسے بھی وہ اب گھر میں بیٹھنے والی عام سی لڑکی تو رہی نہ تھی، جو ایسی باتوں پر مردوں سے شرمائے یا گھبرائے۔۔۔ اُسے بھی اندازہ ہو گیا تھا کہ سامنے والا اس سے بے تحاشا متاثر ہو چکا ہے۔۔۔ لیکن اُسے بالکل یہ اندازہ نہ تھا۔۔۔ کہ وہ اس کے ساتھ مکڑے اور جالے کا کھیل کھیلنے والا ہے۔۔۔ اس کے ارد گرد ایسا جالا بُن رہا تھا جس سے باوجود کوشش کہ وہ نکل نہیں سکتی تھی۔۔۔ عورتوں کے لیے قدرت نے اپنی کتنی نشانیاں کھول کھول کر رکھی ہیں لیکن ہے کوئی جو سوچے اور سمجھے۔۔۔ مرد فطرتاً شکاری ہے اور عورت شکار۔۔۔لیکن ایک شکار کرنے سے باز نہیں آتا اور ایک شکار ہونے سے۔۔۔ سب کچھ جاننے کے باوجود عورت تارِ عنکبوت میں پھنس جاتی ہے اور بے چاری کہلاتی ہے۔ دنیا جہاں میں مرد کی ریا کاریوں کے قصّے سننے کے باوجودجب اُسے کوئی اپنی میٹھی اورچکنی چپڑی باتوں سے شکار کرنے کی کوشش کرتا ہے تو بآسانی شکار بن جاتی ہے۔۔۔ شکار کرنا مرد کی فطرت اور جانتے بوجھتے شکار ہونا عورت کی فطرت۔۔۔مگر بُرا صرف مرد بنتا ہے کہ اس نے بے وفائی کی۔۔۔ عورت کو دھوکا دیا۔۔۔ مگر بات اتنی ہے کہ عورت نے جانتے بوجھتے دھوکا کھایا کیوں؟ سامعہ کو اندازہ تھا کہ بلال اپنی چکنی چپڑی باتوں سے اس کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔۔۔ لیکن فطرتاً عورت ایسی چکنی چپڑی تعریفیں سُننے اور ان پر ایمان لانے سے باز نہیں آتی۔۔۔ جتنی دیر ان دونوں نے وہاں کھانا کھایا وہ صرف اس کے حُسن کے قصّے ہی پڑھتا رہا۔۔۔ کہ اس جیسی ماڈل آج تک اُن کے برانڈ کو نہیں ملی۔۔۔ اس ایڈ میں آنے کے بعد دنیا بھر میں سامعہ کے حسن کے قصیدے پڑھے جائیں گے۔۔۔ وہ راتوں رات مشہور ہو جائے گی۔۔۔ اور وہ جو صرف ایک ملاقات کے لیے آئی تھی۔۔۔ کھانے کے اختتام تک وہ کبیر علی کی لگائی ہوئی شرط پر لعنت بھیج چکی تھی۔۔ جب اُس کا ایڈ چلے گا تو خود کبیر علی ہی اپنے دوستوں کو اس کے بارے میں فخر سے بتائے گا۔۔۔ سامعہ تم یقین کرو جب تمہاری تصاویر مجھے ملیں تو میں نے فوراً میڈم صباح کو فون کیاکہ بس مجھے اپنے برانڈ کے نئے ایڈ کے لیے یہی لرکی چاہیے اور پہلی فرصت میں کراچی سے فلائٹ لے کر لاہو رآگیا۔۔۔ وہ آپ سے تم کا راستہ طے کرنے میں بھی کسی طرح کی دیر نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ نہ جانے اس کے ذہن میں کیا پل رہا تھا۔۔۔ بہت جلدی میں تھا ” میں چاہتا تھا کہ جلد از جلد دبئی میں اس ایڈ کی شوٹنگ سٹارٹ کر دی جائے۔۔۔” اس نے کافی حیرت سے بلال کو دیکھا۔” کیوں کیا ہوا؟ کوئی اعتراض ہے کیا؟” بلال نے اس کی آنکھوں کی حیرت پڑھ لی۔۔ ایک گھنٹے میں تو ماڈلز کے ساتھ اس کے ایگریمنٹ بھی ہو جاتے تھے۔۔ یہاں ابھی تک وہ صرف اُسے گھیرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ اس ایڈ کے لیے وہ تیار تھی۔۔۔ تب ہی تو ملاقات کے لیے آمادہ ہوئی۔۔ لیکن اپنی بات کے جواب میں ہاں کے بجائے حیرت دیکھ کر وہ خود بھی حیران رہ گیا۔۔۔ اس کا خیال تھا کہ سامعہ خوشی سے جھوم اُٹھے گی لیکن اس کے تذبذب نے بلال کو سوال کرنے پر مجبور کر دیا۔۔۔” نہیں اعتراض تو کوئی نہیں مگر میرے لیے دبئی جانا مشکل ہو جائے گا گھر سے پرمیشن نہیں ملے گی “۔۔۔ وہ کبیر علی اور اس کی شرط کے بارے میں نہیں بتا سکتی تھی۔۔۔ میڈم صباح نے سختی سے منع کیا تھا کہ اپنی شادی اور بچے کے بارے میں کسی کو نہ بتائے اور وہ اسی لیے یہ بات نہ بتا سکی۔۔” ارے یہ کون سی بڑی بات ہے آپ اپنے فادر سے میری بات کروائیں ان سے پرمیشن لینا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔۔۔” وہ ہنس پڑا اس کا خیال تھا کہ کوئی اور بڑی وجہ ہو گی لیکن یہاں تو وہی گھریلو پرابلم نکلا۔۔ سامعہ کی آنکھوں کے سامنے مرحوم ابا جی آگئے۔۔۔ تو اسے جھُر جھری آگئی اگر وہ زندہ ہوتے تو شاید آج سامعہ کسی ایڈ میں کام کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہ سکتی۔۔۔ ” نہیں نہیں آپ ان سے بات نہیں کر سکتے میں انہیں خود ہی منالوں گی۔۔۔”وہ گھبرا کر بولی جیسے بلال واقعی ابا جی سے بات کرنے جا رہا ہو۔۔۔” دیکھو سامعہ یہ ایڈ تمہاری موجودہ زندگی کو یکسر بدل دے گا۔۔۔ ہر طرف تمہارے بڑے بڑے بِل بورڈز نظر آئیں گے۔۔ تو سوچنا بند کرو اور ایگریمنٹ سائن کرو 6بجے میری فلائٹ ہے مجھے واپس بھی جانا ہے۔۔۔”وہ یکدم بور ہو گیا کتنا دماغ کھپانا پڑا تھا اس لڑکی میں۔۔۔ اور وہ ابھی تک سوچ میں پڑی ہوئی تھی کہ ایڈ کرے یا نہ کرے۔۔۔
اس کے موڈکو تبدیل ہوتا دیکھ سامعہ نے ایکدم فیصلہ کر لیا کہ وہ یہ ایڈ ضرور کرے گی اور کسی نہ کسی طرح کبیر علی سے اجازت لے کر دبئی بھی جائے گی۔۔۔”اوکے بلال! میں تیار ہوں لائیں دیں ایگریمنٹ۔۔”وہ بڑی ادا سے بولی تو بلال جیسے کھِل گیا۔۔ لائک آگڈ گرل۔۔۔ اوکے تو چلو کمرے میں۔۔۔” ” کمرے میں مگر کیوں۔۔۔” وہ گھبرا گئی۔۔۔ بھئی ایگریمنٹ کے کاغذات میں اپنی کوٹ کی جیب میں لے کر تو نہیں پھر رہا یقینا اوپر کمرے میں ہی آجاؤ کھانا تو ہم کھا چکے ہیں کافی اوپر ہی منگوا لیتے ہیں اور پھر سائن بھی کردینا”۔۔۔وہ پریشان ہو گئی لیکن بلال بڑے آرام سے کھڑا ہو کر اُسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتے ہوئے لفٹ کی جانب بڑھ گیا۔۔۔ اور نا چاہتے ہوئے بھی اُسے بلال کی پیروی کرنی پڑی۔۔۔ پورے رستے اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ بھاگ جائے۔۔۔ لیکن ماڈلنگ کی دنیا میں نام بنانے کا خیال اس خیال پر حاوی ہو گیا۔۔۔ کمرے میں جاتے ہی وہ بڑے آرام سے بیڈ پر بیٹھ گیا اور فون پر دو کافی کا آرڈر کر دیا۔۔۔ بلال میں کافی نہیں پیوں گی مجھے ویسے ہی بہت دیر ہو چکی ہے۔۔۔ لائیں ایگریمنٹ دیں میں سائن کردوں۔۔۔”اس نے کمرے میں کافی کے بہانے مزید گزرنے والے وقت کو avoidکرنے کی کوشش کی۔۔۔ تو وہ ہنس پڑا۔۔۔ ارے بھئی اتنا گھبرا کیوں رہی ہو۔۔۔ بس پانچ منٹ میں کافی آجائے گی کافی پی لو پھر چلی جانا۔۔۔ کیا دبئی جا کر بھی اسی طرح پریشان کرو گی۔۔۔ وہ اٹھ کر اس کے قریب آیا تو سامعہ گھبرا کر کھڑی ہو گئی۔۔۔ لیکن بلال نے سامعہ کی کرسی کے ساتھ رکھے ٹیبل سے لائٹر اٹھایا اور واپس اپنی جگہ جا کر بیٹھ گیا تو سامعہ کو سکون ملا ورنہ وہ سمجھ رہی تھی کہ وہ اس کا ہاتھ پکڑ لے گا۔۔۔ وہ دوبارہ کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔ اس باربلال ایک بار پھر بیڈ سے کھڑا ہوااور بلال نے میز کی دراز کھولی پھر بلال نے میز کی دراز سے ایگریمنٹ نکال لیا۔۔۔ اور اس کی طرف بڑھایا۔۔۔”اچھی طرح پڑھ لو۔۔۔ بعد میں کسی پوائنٹ پرشور نہ مچاناکہ مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔۔ اس ایگریمنٹ کے بعد دو سال تک تم کوئی اور بیوٹی پراڈکٹ کا ایڈ نہیں کر سکو گی۔۔۔”
وہ اسے رولز بتا رہا تھا۔۔ اور وہ سوچ رہی تھی کہ جس خواب کو اس نے برسوں پہلے اپنی آنکھوں میں سجایا تھا کتنی آسانی سے اس نے خواب کی تعبیر پالی تھی۔۔۔ ملازم کافی کی ٹرے رکھ کر چلا گیا۔۔۔ سامعہ نے نا چاہتے ہوئے بھی کافی کا سِپ لیا۔۔ آج پہلی بار کڑوی کسیلی کافی بھی سامعہ کو اچھی لگ رہی تھی۔۔۔ اس نے زندگی میں کافی نہیں پی تھی اور بلیک کافی سے تو اُسے شدید چڑ تھی۔۔نہ جانے لوگ کیسے کڑوی کسیلی کافی حلق سے اتار لیتے ہیں۔ وہ پہلی بار کڑوی کسیلی کافی امرت گھونٹ کی طرح پی رہی تھی۔۔۔ اور ساتھ ہی اس نے رولز پڑھ کر ایگریمنٹ بلال کی طرف بڑھا دیا۔۔۔ جو پاس ہی کھڑا اس کی بے چینی کو پوری طرح نوٹس کر رہا تھا۔۔۔ ” بہت بہت مبارک ہو یار lets Celebrate ” یہ کہہ کر اس نے سامعہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ اُچھل کر کھڑی ہو گئی۔۔۔” کیا ہوا؟ میرے اتنے سے ٹچ نے تمہیں پریشان کر دیا۔۔۔ا بھی تو بہت سارے لوگوں کو خوش کرنا پڑے گا۔۔۔” وہ اپنی تمام تر خبیثانہ مسکراہٹ کے ساتھ اُسے گھورتا ہوا بولا۔۔۔وہ پریشان ہو کر دروازے کی طرف بھاگی لیکن اس سے پہلے ہی بلال نے اُسے دبوچ لیا اور اُٹھا کر بستر پر پٹخ دیا۔۔ سامعہ بلبلا کر رہ گئی اور دوبارہ دروازے کی طرف بھاگی۔۔۔ اس سے واقعی بہت بڑی غلطی ہوئی تھی اسے بلال کے ساتھ کمرے میں نہیں آنا چاہیے تھا۔۔۔ ” یا اللہ مجھے اس جانورسے بچا لے۔۔۔ اس نے اللہ سے بے بسی کے ساتھ مدد کی درخواست کی۔۔۔ کیوں کہ غلطی کوسوائے اللہ کے کوئی نہیں سدھار سکتا۔۔۔بلال نے اُسے دوچارموٹی موٹی گالیاں دیں اور دوبارہ کھینچ کر بیڈ پر پھینک دیا۔۔۔ وہ بے بسی سے روپڑی۔۔۔ “بڑی حاجن بی بی بنتی ہو۔۔ اگر ان سب باتوں پر اعتراض تھا تو کمرے میں آئی کویں تھیں۔۔ تم جیسی تو روز مجھ سے ایک ایڈ کی بھیک مانگتی ہیں۔۔۔ اور تم یہ موقع ضائع کر رہی ہو۔۔۔” وہ اتنا ٹائم ضائع ہونے پر چِلّا اُٹھا۔” خدا کے لیے مجھے جانے دو میں اس ٹائپ کی لڑکی نہیں ہوں۔۔” سامعہ نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دئیے۔۔” جانتا ہوں تم کسی ٹائپ کی لڑکی ہو۔۔۔ ایسی لڑکی جو اپنے ماں باپ سے چھُپ کر ایک غیر مرد سے تنہا ملنے پر تیار ہو جائے۔۔۔ وہ کس ٹائپ کی ہوگی یہ میں اچھی طرح جانتا ہوں۔۔۔ بندکرو اپنا یہ ناٹک۔۔۔سیدھی طرح سے میری بات مان لو ورنہ مجھے اپنی بات منوانے کے اور بہت سے طریقے آتے ہیں۔۔۔”وہ بڑی خباثت سے اس طرف مُسکراتا ہوا بڑھا۔۔۔ اور اس لمحے سامعہ کو بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھا ہو الیمپ نظر آیا۔۔۔ اس نے جان اور عزت بچانے کی آخری کوشش میں وہ لیمپ کھینچ کر بلال کے سر پر مار دیا۔۔۔ بلال کو بالکل اُمید نہ تھی کہ وہ ایسا بھی کر سکتی ہے۔۔۔لیمپ بھاری تھا۔۔۔ اس کے سر پر قوت کے ساتھ لگا اور وہ زمین پر ڈھیر ہوگا۔۔ یہی وہ اولّین اور آخری لمحہ تھا جب سامعہ نے اس کی طرف دیکھا اور دروازے کی سمت دوڑ لگا دی۔۔۔دروازہ کھول کر باہر دوڑ لگاتی ہوئی سامعہ کو بہت سے ہوٹل ملازمین کے ساتھ ساتھ کمروں سے باہر نکلتے رہائشیوں نے بھی حیرت سے دیکھا۔۔۔اس کا حلیہ بہت خراب تھا۔۔مگر وہ جلدی میں بھی اپنا ڈوپٹہ اٹھانا نہ بھولی۔۔۔ کار پارکنگ سے اپنی گاڑی نکالتے عمر نے گھبرائی گھبرائی سی سامعہ کو ایک نظر میں ہی پہچان لیا۔۔۔ وہ پی سی سے نکلی تھی اور اس کی حالت کافی خراب تھی وہ بھاگ دوڑ میں اپنے ہاتھ میں پکڑا موبائل سے کوئی نمبر ڈائل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔نئی مصیبت یہ کہ فون کی بیٹری آف ہو گئی۔۔۔اسی وقت عمر نے گاڑی بالکل اس کے پاس لے جا کر دروازہ کھول دیا۔۔۔ وہ اچھل پڑی اور پھر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے عمر کو دیکھ کر قدرے پیچھے ہٹ گئی۔۔ ” آجاؤ سامعہ مجھے لگتا ہے تمہیں جلدی ہے۔۔۔میں چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔” سامعہ نے اس کی آفر سن کر مڑ کر دروازے کی طرف دیکھا کہ کہیں بلال یا ہوٹل ملازمین اس کے پیچھے تو نہیں آرہے۔۔۔ اور پھر کچھ سوچ کر جلدی سے گاڑی میں بیٹھ گئی کیوں کہ فوراً ہوٹل سے باہر نکلنے کے سوا کوئی اور چارا نہ تھا لیکن کچھ دور جا کر اس نے عمر کو گاڑی روکنے کے لیے کہا۔۔۔” ارے تمہیں کہاں جانا ہے میں چھوڑ دیتاہوں۔۔” بہت شکریہ میں رکشہ لے لوں گی پلیز گاڑی روکیں۔۔۔”اس نے مضبوط لہجے میں عمر سے بات کی وہ اس پر اپنی کسی قسم کی کمزوری ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ ہر چندکسی زمانے میں اس نے عمر سے شدید محبت کی تھی۔۔ لیکن اُسے دھوکا دینے کے بعد وہ اس کی زندگی میں کہیں نہیں تھا۔۔۔ مردوں نے ہمیشہ اس کے اعتبار کو دھوکا دیا تھا اور عمر نے اعتبار کے علاوہ اس کی پر خلوص محبت کو بھی دھوکا دیا تھا یہ بات بھلا وہ کیسے بھول سکتی تھی۔۔۔
“سنو! سامعہ میں اس دن کے واقعہ کے لیے بہت شرمندہ ہوں لیکن تم کوئی بھی قسم لے لو۔۔۔ مجھے بالکل نہیں معلوم تھا کہ وہاں ایسا کچھ ہونے والا ہے۔۔۔” پلیز عمر صاحب گاڑی روکیئے ورنہ میں چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا دوں گی۔۔”تم ایسا کچھ نہیں کروگی اور ایسا کرنے کی کوشش بھی کی تو میں گاڑی کسی فٹ پاتھ سے ٹکرا دوں گا۔۔”اس بار عمر نے بھی اسے دھمکی دی تو وہ چُپ ہو کر بالکل دروازے سے چپک کر بیٹھ گئی۔۔۔ او ر پھر اُسے گھر تک چھوڑنے میں وہ اس سے معافی مانگ چکا تھا۔۔۔ اور اپنی ایسی کہانی سُنا چکا تھا کہ نا چاہتے ہوئے بھی سامعہ کو عمر پر اعتبار کرنا پڑا۔۔ اس کے خیال میں سامعہ اس کی زندگی میں آنے والی پہلی محبت تھی جو سیما کی وجہ سے جدا ہو گئی۔۔ سیما چوں کہ خود اس سے شادی کرنا چاہتی تھی اسی لیے اس دن سامعہ اور عمر کے پروگرام کے بارے میں پولیس کو اطلاع دے کر چھاپہ پڑوا دیا۔۔ وہ جانتا تھا کہ سامعہ اور سیما میں بول چال بند ہے دونوں ایک دوسرے سے کوئی بات نہیں کرتیں۔ اس لیے سامعہ کے دل میں گھر کرنے کے لیے جتنا جھوٹ بول سکتا تھا اس نے بولا اور یہ یقین دلا کر ہی رہا کہ اس سے پہلے نہ کوئی لڑکی عمر کی زندگی میں آئی تھیاور نہ آئے گی۔۔۔سیما سے شادی بھی باپ کے دباؤ میں آکر کی لیکن جب سامعہ کی شدید محبت ستاتی تھی تو اُسے سیما زہر لگتی تھی۔۔۔ وہ اس دن سے آج تک سامعہ کو ڈھونڈ رہا تھا۔۔ اور آج قدرت نے اس کی محبت کو دوبارہ اس سے ملا کر یہ موقع اسے فراہم کر دیا۔۔ پلیز سامعہ میری بات کا یقین کرو شادی کی پہلی رات ہی سیما نے مجھے اس چھاپے کے بارے میں بت اکر معافی مانگی تھی۔۔ کیوں کہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ عمر اور سامعہ ایک ہو سکیں۔۔۔ وہ کتنی عیاری اور مکاری سے جھوٹ بول رہا تھا اور وہ کتنی آسانی سے اس کے ایک ایک لفظ پر یقین کر رہی تھی۔۔۔ بے وقوف عورت! کتنے بھی دھوکے کھا لے۔۔۔ اپنے پسندیدہ مرد سے دھوکا کھانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔۔ اس کی جھوٹی باتوں پر وہ پھر ایمان لے آئی۔۔۔” ویسے کدا کی قسم! تمہیں شادی راس آگئی۔۔ کہاں پانچ سال پہلے والی دبو سی سامعہ اور کہاں ماڈرن لُک کے کپڑوں میں سامعہ زمین آسمان کا فق ہے۔۔۔”لگتا ہے کبیر علی بہت محبت کرتا ہے۔۔۔” اس بار وہ اپنی باتوں سے کبیر علی اور سامعہ کی ازواجی زندگی کے Statusکے بارے میں اندازہ لگانا چاہتا تھا۔۔۔ کہ آیا سامعہ اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہ یا نہیں اگر خوش ہے تو پھر عمر کے کسی کام کی نہیں۔۔۔ جوباً سامعہ نے ایک چبھتی ہوئی نظر عمر پر ڈالی۔۔ تم نے بڑی بڑی خوب صورت پرانی عمارات دیکھی ہیں عمر جنہیں دوبارہ لیپ پوت کے نیا کر دیا جاتا ہے تاکہ عوام انہیں دیکھیں اور مالک کو سراہ سکیں جس نے پرانی اندر سے بوسیدہ عمارات کو کتنا خوبصورت بنا کر رکھا ہے۔۔۔میرے دل کی حالت بھی ایسی پرانی اور بوسیدہ عمارات جیسی ہے جیسے اوپر سے سجا بنا ر آنے والوں سے ایسی ہی داد وصول کی جاتی ہے جیسے ابھی تم کہہ رہے ہو نا کہ خوب صورت ہو گئی ہوں۔۔ ہاں مگر اندر سے دل مر گیا ہے صرف سانسیں چل رہی ہیں۔۔۔”اس نے آنکھوں میں آئے آنسو پونچھ لیے ایسا اس نے چپکے سے کیا تھا لیکن عمر سے یہ سب پوشیدہ نہ رہ سکا۔۔ اور پھر گھر آنے تک دونوں کے درمیان فون نمبرز اور دوبارہ ملتے رہنے کا وعدہ ہو چکا تھا۔۔۔ عمر سے دوبارہ ملنے کی خوشی میں وہ بلال تک کو بھول گئی۔۔۔ وہ تو جب میڈم صباح کا فون آیا اور انہوں نے اُسے اپنا کلائنٹ خراب کرنے کی پاداش میں خوب باتیں سنائیں۔۔۔ تم کوئی ننھی بچی نہیں کہ تمہیں معلوم نہ ہو کہ اس طرح کے ایڈز کی کیا قیمت چکانی پڑتی ہے۔۔۔ بلال کسی طور خاموش نہیں بیٹھے گا اس نے کہہ دیا ہے کہ تمہیں اس بات کی قیمت چکانی پڑے گی۔۔۔ وہ اُسے ڈرا رہی تھیں اور وہ مُسکرا دی۔۔۔ اچھا واقعی! میڈم صباح یہ تو آپ بھی اچھی طرح جانتی ہیں اگر میں نے زبان کھول دی تو اتنی بڑی برانڈ کا منیجر کہاں کھڑا ہوگا؟ اور ویسے بھی اُسے اور مجھے بہت سارے لوگوں نے کھانا کھاتے اور پھر اس کے کمرے میں جاتے دیکھاتھا۔پہلے تو وہ وضاحت دے کہ اس کے ماتھے پر یہ چوٹ کیسے لگی۔۔۔ ظاہر سی بات ہے وہ کمر ے میں میرے ساتھ ایسا کچھ کرنا چاہتا تھا جس کے لیے میں آمادہ نہ تھی یہ تو سیدھا سیدھا ہراسمنٹ کا کیس ہو گیا جو اس کی طرف سے نہیں میری طرف سے فائل ہوگا۔۔۔ آپ اُسے بتا دیں ہر لڑکی اشہتار میں آنے کی اتنی بڑی قیمت نہیں چکاتی۔۔ اور اگر اب دوبارہ ا سنے یا آپ نے اس بارے میں کوئی بات کرنے کی کوشش کی تو میں واقعی سوشل میڈیا پر بلال کی عزت کا فالودہ کردوں گی۔۔۔” وہ جانتی تھی اگروہ ڈر گئی تو دوسری پارٹی اُسے مغلوب کر لے گی اسی لیے اس سے پہلے میڈم صباح اُسے ڈرائیں سامعہ نے اپنی آواز کو ان کی آواز سے اونچا کر لیا۔۔۔ میڈم صباح نے تپ کرفون بند کر دیا۔۔۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ کسی لڑکی نے ان کے کلائنٹ کے ساتھ یہ حرکت کی تھی۔۔۔ وہ شدید غصے میں تھا اس کے ماتھے پر شدید چوٹ لگی تھی لیکن اس سے زیادہ اس کی انا مغروب ہوئی تھی۔۔ مرد کی انا وہ واحد شے ہے جو اُسے دم کٹے زہریلے سانپ کی طرح بنا دیتی ہے اور وہ اپنی جگہ پٹخیاں کھاتا رہتا ہے لیکن کر کچھ نہیں سکتا۔۔۔ وہ سمجھتا تھا کہ تھوڑی بہت مزاحمت کے بعد سامعہ ہتھیار ڈال دے گی لیکن اس نے تو بلال کو ہر طرح سے زخمی کر دیا۔۔ لیکن اس نے بھی سوچ لیا تھا کہ اس لڑکی کو چھوڑنا نہیں ہے۔۔۔
میڈم صباح اپنی جگہ حیران تھیں کہ اتنی بے ضر نظر آنے والی سامعہ میں اتنی ہمت کہاں سے آگئی کہ اس نے بلال کے سرپر بھاری لیمپ مار دیا۔۔۔ کچھ لوگوں کے سروں پر بُرے ہونے کے باوجود اپنے بزرگوں کی دعاؤں اور اچھائیوں کا سایہ ہمیشہ سایہ فگن رہتا ہے۔۔ ابا جی جب تک زندگہ رہے اپنی تمام دعاؤں کا مرکز سامعہ کو بنائے رکھا اور اب اماں اس کے گھر سے نکلتے ہی اس پر پتا نہیں کیا کیا پڑھ کر پھونک مارتی رہتی تھیں۔۔ اور سامعہ سمجھ گئی کہ ہمیشہ اس کا بچاؤ یہ دعائیں ہی کرتی تھیں۔۔۔ پہلے بھی ایک بُرے وقت سے اُسے ان دعاؤ ں نے ہی بچایا تھا اور آج بھی شیطان کے چنگل سے نکلنے کی ہمت اور طاقت اُسے ماں کی دعاؤں سے ہی ملی تھی۔۔۔ لیکن تقدیر اس کے آگے اب کون سا کھیل کھیلنے لگی تھی کہ عمر آفندی جس کو وہ ایک میٹھی یاد بنا بیٹھی تھی پھر اس کے سامنے آکھڑا ہوا۔۔۔ با صرف آکھڑا تھا بلکہ دوبارہ دل میں براجمان ہونے کی کوشش میں تھا۔۔۔
(باقی آئندہ)