ایک انسان میں اس قدر محبت،جزبہ،چاہت،خواہش،اور حسرت ہوتی ہے کہ اسے لاکھوں دنیائیں بھی دے دی جائیں تو اس کے دل کو چین نہیں ملتا۔لوگ ہزاروں طرح کے روزگار اور کاروبار اپناتے ہیں،سائنس اور میڈیکل سیکھتے ہیں،لیکن ان کو پھر بھی چین نہیں ملتا کیونکہ ان کے دل کی طلب ادھوری رہتی ہے۔محبوب کو “دل آرام” اسی لئے تو کہتے ہیں کہ ان کو پا کر دل کو چین مل جاتا ہے۔پھر یہ سکون کہیں اور سے نہیں مل پاتا!

یہ طلب اور خواہشات دراصل ایک سیڑھی ہیں،اور سیڑھی کے پائے پر پاؤں دھر کر آگے گزر جایا جاتا ہے ان پر بیٹھا نہیں جاتا۔انسان جتنی جلدی یہ بات سمجھ جائے اتنا جلدی رستہ کھلتا چلا جاتا ہےاور انسان سیڑھی پر وقت ضائع کرنے سے بچ جاتا ہے۔

____________

کتاب:فیہ ما فیہ

ترجمہ و فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف