ہم اکتوبر میں ملے
جب پتے درختوں سے
الگ ہونے کی تیاری کر رہے تھے

ہم اکتوبر میں ملے
جب دھوپ نرم پڑ چکی تھی
اور آسمان
سفید بادلوں کے مرغولوں سے
چمک رہا تھا

ہم اکتوبر میں ملے
جب پہاڑ
دور سے بھی صاف دکھائی دے رہے تھے

ہم اکتوبر میں ملے
جب پرندے
پانیوں سے ہم آغوش تھے
اور جھیلیں
ان کی پھڑپھڑاہٹ سے لبالب تھیں

ہم اکتوبر میں ملے
لیکن ہم اکتوبر میں جدا نہیں ہوں گے
کیوں کہ ہماری جڑیں
اپریل میں پیوست ہیں!!

کلام:

نصیر احمد ناصر

کور ڈیزائن و فوٹوگرافی:

صوفیہ کاشف