میرے ہمسفر! میرے ہمنوا!
مجھے یہ بتا
ہمیں ساتھ چلنے سے کیا ملا؟
تو جو چل پڑا تو اداس تھا
میں بھی بے دلی سے رواں دواں
تو سفر میں میرا شریک ہے
میری منزلیں کہیں اور ہیں
تو کسی کے خواب میں مست ہے
میرے خواب میں کوئی اور ہے
تجھے “میرے” ہونے کی چاہ کیا؟
میری خواہشوں میں بھی تو نہیں
مگر اے مسافر! اے ہمسفر!
تو میری ہی راہ پہ گامزن
میرے ساتھ ساتھ قدم قدم
ہے عجیب ساتھ میرا تیرا
ہم ایک کتاب کے ورق ہیں
بڑے پاس ہو کے بھی دور ہیں
میری مان لے! مجھے چھوڑ کر
نئی منزلوں کو تلاش کر
نہ یوں چاہتوں کو لُٹاتا جا!
میرے ہمسفر! میرے ہمنوا!
میری مان لے۔۔۔

_____________

کور ڈیزائن و فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف