کور ڈیزائن: ثروت نجیب

آخری قسط

_____

وہ جو ایک شرط تھی وحشت کی اُٹھا دی گئی کیا

میری بستی کسی صحرا میں بسا دی گئی کیا

پورا چاند بادلوں سے آنکھ مچولی کھیل رہا تھا اور رات اندھیرے میں ڈوب کر بھی روشنی کے کناروں پر ٹھر چکی تھی۔چند دن پہلے کی منہ زور ہوائیں بند دروازے اور کھڑکیوں پر ہلکی سی دستک دینے میں مگن تھیں مگر اُن کی سانسوں کی آواز اُس سے بھی کم تھی۔اندر باہر لہو کی گردش بڑھاتی ہوئی ،لمحوں کی نبض روکتی ہوئی پراسرار سی خاموشی تھی۔ نہ صرف باہر کا موسم اپنے اصلی رنگ سے ہٹ چکا تھا بلکہ اندر کا عالم بھی کسی اجنبی کیفیت کے شکنجے میں تھا ۔یوں لگتا تھا کوئی بھی شئے اپنے آپ میں نہ تھی بس اِک وہی پورے ہوش و حواس میں اُسے اطمینان سے دیکھ رہا تھا۔اُس کے پرسکون انداز میں اِس قدر انہماک تھا جیسے وہ سامنے کھلی کتاب کو لفظ لفظ گھول کر پینا چاہتا ہو۔صاحبہ کو وہ آج اُس بستی کا مکیں لگ رہا تھا جس کے مقدر میں بس صحرا کی خاک تھی۔ سرمئی بغاوت سے بھری نظروں پر نظریں جمائے ہوئے اُسے بیس منٹ گزر چکے تھے،لیکن یہ نظر پیار کی نہیں تھی،کچھ کھوجتی اور تلاشتی ہوئی آر پار اُترنے والی نظر تھی۔اُس نے اپنے جذبات کو ابھی تک زبان نہیں دی تھی اور صاحبہ نے بھی چپ رہ کر اُس کا حصار نہیں توڑا تھا۔صاحبہ نے پلکوں کو جنبش نہ دینے کی سزا دے رکھی تھی تو اُس نے دل کو نہ دھڑکنے کی۔ایسا ساکت لمحہ یا تو محبت میں ہوتا ہے یا نفرت میں جب نگاہوں کو نگاہوں سے کہنے سننے کی رضامندی دی جاتی ہے ،لفظوں کے اُمڈتے سیلاب کو آنکھوں تک آنے دیا جاتا ہے ،مگر لبوں کو بھیگنے کی اجازت نہیں ہوتی۔بس تیر جیسی نظریں باز جیسی آنکھوں سے خاموشی کی جنگ لڑتی ہیں۔ایسا لمحہ اُن دونوں کی زندگی میں کافی دیر سے آیا تھا اور یہ محبت کا لمحہ ہرگز نہیں تھا۔

وہی لہجہ ہے مگر یار تیرے لفظوں میں

پہلے اک آگ سی جلتی تھی بجھا دی گئی کیا

’’اگر وہ تمھیں نہ ملا تو کیا۔۔۔۔مر جاو گی؟‘‘اچانک اُس کے لب ہلے اور صاحبہ کی پلکیں۔

’’محبت کا جسم جب ایک لافانی جذبے کا سرور پا لے تو اُس میں مرنے کا تصور نہیں ہوتا ۔محبت میں دیا جلانے سے غرض ہوتی ہے، اِس بات سے نہیں کہ اُس دیے کی روشنی منتوں میں بسے شخص تک پہنچتی ہے یا نہیں۔‘‘سنتے سنتے اُسے صاحبہ کی آنکھیں بڑی اور روشن نظر آنے لگی تھیں۔

’’تو تمھیں اُس کے مرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا؟اُس کی موت کے ساتھ تمھارا عشق فنا نہیں ہوگا؟‘‘جازم نے اُسی کیفیت میں بے اختیار پہلو بدلتے ہوئے اگلا سوال کیا تھا۔

’’میں جس مقام پر کھڑی ہوں وہاں سانسوں کی ڈوری ٹوٹنے سے فرق نہیں پڑتا،کیونکہ اِس مقام پر دو روحوں کا وجود ایک ہوا کرتا ہے۔‘‘صاحبہ کے الفاظ نہیں پگھلتا ہوا سیسہ تھا،جازم کو اپنا سر پھٹتا ہوا محسوس ہونے لگا۔

’’کیا ہے اُس عام سے شکل والے میں ایسا؟ کیا ہے ایسا جو جازم خان میں نہیں؟‘‘ وہ سیخ پا ہوتا ہوا اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا ۔سکوت کا لمحہ پوری طرح سے ٹکڑے ٹکڑے ہوچکا تھا۔

’’اُس کے اندر عشق ہے اور تمھارے اندر ایک خلا۔۔۔وہ پورا آسمان ہے اور تم زمین کا ایک ٹکڑا بھی نہیں۔۔۔وہ عشق کے رنگ بانٹنے والا فقیر ہے ۔۔۔تم بے رنگ بادشاہ۔۔۔تم نے بہت سے رنگ دیکھے ہونگے۔۔۔اگر عشق کا رنگ دیکھنا ہے تو سیف کی آنکھیں دیکھو۔۔۔صبح کی طرح روشن چمکتی ہوئی آنکھیں صرف اُن لوگوں کی ہوتی ہیں جو کسی کی زندگی میں اندھیرے نہیں بھرتے۔‘‘وہ پر سکون انداز میں چلتی ہوئی اُس کے سامنے آگئی تھی۔

’’خاموش ۔۔۔مت کرو صاحبہ۔۔۔مت کہو ایسے۔۔۔واپس آجاؤ۔۔۔اِس بے نام عشق کو چھوڑ دو۔۔۔اپنے گناہ کا اعتراف کرلو۔۔۔میں تمھاری ساری سختیاں ختم کردونگا۔۔۔ہر سزا معاف کردونگا۔۔۔میرے سامنے جھک جاؤ۔۔۔اپنی ہار مان لو۔‘‘جازم کی کپکپاتی غصیلی آواز میں کچھ بے چارگی سی تھی۔

’’ہاہاہا۔۔۔اِتنے کمزور اِتنے بے بس ہوگئے ہو کیا تم؟ جب ہاتھ اُٹھانے سے بات نہیں بنی تو ہاتھ جوڑ کر جنگ ختم کرنا چاہتے ہو۔‘‘

’’بکواس بند کرو اپنی۔‘‘صاحبہ کی تمسخرانہ ہنسی اور الفاظ اُسے سر تا پیر سلگا گئے تو اُس نے بے قابو ہوتے ہوئے دایاں ہاتھ اُٹھا دیا تھا۔ایسے کئی تھپڑ صاحبہ کئی بار کھا چکی تھی ۔اُس کے چہرے کی مسکراہٹ نے جازم کو یہ باور کرایا کہ جیسے یہ تھپڑ اُسے نہیں جازم نے اپنے منہ پر مارا ہے۔

’’تم اِس قابل ہی نہیں ہو کہ میں اب تمھیں بیوی بنا کر رکھو اور نہ اِس قابل کہ تمھیں آزاد کردوں۔‘‘جازم نے اُسے حقارت سے دیکھتے ہوئے تحقیر بھرے انداز میں کہا۔

’’جب میں کسی قابل ہی نہیں ہوں تو اپنے وقت کو میرے لیے کیوں برباد کر رہے ہو۔یا اِس کھیل کو ختم کردو یا مجھے فنا کردو۔‘‘وہ اُس کے قریب آتے ہوئے بلند حوصلے سے نڈر لہجے میں بولی تھی۔اُس کی آنکھوں میں موت کا کوئی خوف نہیں تھا۔

’’میں جانتا ہوں۔۔۔میں سارے دروازے کھول بھی دوں تو تم نہیں بھاگو گی۔۔۔اِس لیے میں تمھیں اُس کے پاس بھیجونگا۔۔۔بولو ! جانا چاہتی ہو اپنے محبوب کے پاس؟‘‘جازم نے اُس کی بلا خوف نگاہوں کے سامنے وہ سنہری موقع رکھا کہ وہ کچھ پل کے لیے ہکّا بکّا رہ گئی۔

’’تمھارا اِتنا ظرف نہیں ہے جازم خان۔‘‘وہ محظوظ ہوتے ہوئے نخوت سے مسکرائی تھی۔

’’کیا تمھارا اِتنا حوصلہ ہے۔‘‘جازم نے اپنے چیلنج سے اُس کی ہنسی نوچنی چاہی۔

’’تم کئی بار آزما چکے ہو مجھے۔۔۔اِس سوال کی اب گنجائش ہی کہاں باقی ہے۔‘‘اُس نے پر اعتماد لہجے میں جواب دیا تو جازم کے پاس اُسے اگلے امتحان میں ڈالنے کے سوا کوئی راستہ نہ بچا تھا۔

’’جاؤ صاحبہ آج میں تمھیں نہیں روکو نگا۔۔۔تمھارا رستہ تمھیں خود بتا دے گا کہ تمھاری منزل کہاں ہے۔۔۔جاؤ۔۔۔جا سکتی ہو تو چلی جاؤ سیف کے پاس۔۔۔ اپنے عشق کے پاس۔‘‘جازم نے اعلانیہ اجازت دیتے ہوئے کمرے کا دروزہ کھول دیا تو صاحبہ نے لحظہ بھر کے لیے اُسے متعجب نگاہوں سے دیکھا،مگر دروازے کے باہر قدم رکھتے ہی اُس کی ساری حیرانی دور ہوگئی۔یہ کیسے ممکن تھا کہ جازم خان اُس کے عشق کو آسانی سے تسلیم کرلے۔۔۔اُسے فتح کا تاج پہنا کر اپنی ہار مان لے ۔اُس کے سامنے جازم کی جارحیت اور درندگی کی ایک اور مثال تھی۔کمرے کے سامنے سے زینوں تک دہکتے انگاروں کا ایک رستہ بنا دیا گیا تھا اور وہ سمجھ گئی تھی کہ یہ رستہ وہی ختم ہوگا ۔۔۔۔ جہاں سیف ہے!!!

’ ’یہ عشق نہیں آساں اِتنا ہی سمجھ لیجے

اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے ۔‘‘

جازم گنگناتے ہوئے بلند آواز میں ہنسا تو ہنستا چلا گیا۔صاحبہ کو یقین ہوگیا تھا کہ اُس کا گھمنڈ پاگل پن بن چکا ہے۔

’’تم بس یہ بات کہہ سکتے ہو۔۔۔سچ میں کر دیکھاؤنگی۔‘‘صاحبہ نے اپنا دایاں پیر دروازے کے کنارے پر رکھتے ہوئے اُسے نیچا دیکھایا تھا۔

’’کیا تم چل سکتی ہو اِس رستے پر؟‘‘جازم نے ایک بار پھر اُس کی ہمت کو للکارا۔

’’اِس راستے پر تو صرف عشق والے ہی چل سکتے ہیں۔‘‘صاحبہ کی روشنی سی بھری آنکھیں اُس کی بہادری کی گواہ تھیں۔

’’اگر تم اُس تک پہنچ گئی تو میں مان لونگا تمھارا عشق سچاّ ہے ۔۔۔اور میری انا۔۔۔میرا تعلق ۔۔۔میرا وقار جھوٹا۔‘‘جازم خان آج کا کھیل انصاف سے کھیلنا چاہتا تھا۔

’’حویلی کے سارے آئینوں میں تمھارا جھوٹا عکس تمھارا منتظر ہے۔خدا حافظ!‘‘یہ کہتے ہی وہ دروازے سے یوں بھاگتے ہوئے نکلی جیسے تتلی بند مٹھی سے آزاد ہوتی ہے۔

’’قدم ڈگمگائے تو راستہ بدل لینا صاحبہ ۔‘‘اُس نے طنز بھری آواز میں چلّا کر بلند و بالا قہقہہ لگایا۔جسے وہ ان سنا کرتی ہوئی آگے بڑھ گئی تھی۔

وہ ہر درد چبھن جلن سے بے نیاز بھاگتی ہوئی جارہی تھی۔۔۔اُسے لگا وہ آج رک گئی تو کبھی جیت نہ پائے گی۔۔۔بھاگتے بھاگتے اُس نے آنکھیں بند کرلی تو چاروں طرف پھول ہی پھول اُگ آئے ۔۔۔اُس کے سامنے سینکڑوں ستارے تھے جو اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے خود سے ملانے لے جارہے تھے۔۔۔روح کو ایسی بے خودی کی پرواز ملی کہ کوئی تکلیف جلتے قدموں کو روک نہ پائی۔۔ ۔وہ اور تیز بھاگی ۔۔۔وہ اپنے آپ میں کہاں تھی۔۔۔وہ اپنے آپ میں نہیں تھی ۔۔۔وہ تو کوئی اور تھی ۔۔۔وہ صاحبہ نہیں ۔۔۔عشق تھی۔۔۔عشق کا ایسا مظاہرہ جازم اور حویلی کے نوکروں نے پہلی بار دیکھا تھا۔۔۔پوری حویلی کی سانس رک گئی تھی۔۔۔وقت تھم گیا تھا۔۔۔دیکھنے والی سب آنکھیں اُس کے آگے جھک گئیں۔۔۔کچھ کمزور دل خادماؤں نے اپنے ہونٹوں اور کانوں پر انگلیاں رکھ لی تھیں۔

’’سیف ۔۔۔سیف۔۔۔ سیف۔‘‘دیواروں پر جلتے عکس میں صاحبہ کا عشق تھا۔۔۔چھت پر لٹکتے فانوس میں صاحبہ کا عشق تھا۔۔۔چاروں طرف لگے شیشوں میں درر نہیں، ہار نہیں، بس جیت تھی، بس عشق تھا۔

’’سیف۔۔سیف۔‘‘ وہ دو بار لڑکھڑاتے ہوئے نیچے گری تو سیف کا نام اُس کے لبوں سے پوری شدت سے نکلا۔پیروں کے ساتھ ساتھ اُس کے ہاتھ بھی جھلس گئے تھے،مگر آنکھوں کے سامنے سیف کا چہرہ اِس تپتے صحرا میں بارش کی ٹھنڈی پھوار کی طرح تھا۔

’’رک جاؤ۔۔۔رک جاؤ صاحبہ۔۔۔مت بڑھو آگے۔۔۔مت آؤ یہاں۔‘‘زنجیروں سے جکڑے سیف نے کھلے دروازے سے پہلی بار اُس کا نام پکارا ۔قید خانے کا دردوازہ جان بوجھ کر کھولا گیا تھا تاکہ صاحبہ کی درد بھری چیخیں سیف سن سکے۔ اُس کے لیے یہ لمحہ جان نکلنے جیسا تھا،مگر اُسے ایک جگہ باندھ کر اِتنا بے بس کردیا گیا کہ وہ ایک زندگی کو بچانے کے لیے آخری کوشش بھی نہیں کرسکتا تھا۔

’’میں آرہی ہوں سیف ۔۔۔میں آرہی ہو۔۔۔وہ اِس جذبے کو مات نہیں دے سکتا ۔۔۔نہ ہمیں جدا کرسکتا ہے ۔‘‘ سیف کی آواز نے اُس کے جنون اور حوصلے کو اور بڑھا دیا تھا۔وہ دھواں دھواں منظر سے ہوتی ہوئی قید خانے کے قریب پہنچی تو جازم خان ہارے ہوئے جواری کی طرح پیچھے دیوار سے جا لگا۔

راستہ اور امتحان دونوں ختم ہوچکے تھے ۔قید خانے کے اندر داخل ہونے تک اُس کے پیر بری طرح سے جھلس گئے تھے اور اب اُس کی ہمت، اُس کا جنون اور اُس کی جنگ بھی ختم ہوچکی تھی،کیونکہ اُس کی منزل سامنے تھی۔

’’سیف ف ف ف ف ف۔‘‘وہ اُس کا نام لمبی سانس کے ساتھ لیتے ہوئے اُس کے سامنے گر گئی تھی اور سیف نے زنجیروں سے جکڑے ہاتھوں سے اُسے اپنے آپ میں سمیٹ لیا تھا۔

*****

ملن کی گھڑی بیشک مختصر تھی ، مگر اُس کا اثر صدیوں تک رہنے والا تھا۔کبھی کبھی ایک جھلک ہی کرب کو راحت میں بدل جاتی ہے ،کبھی کبھی ایک نظر ہی طویل انتظار کی اذیت کو زائل کردیتی ہے ۔ صاحبہ کو تو صرف ایک نظر ہی نہیں اُس کے لمس کا سرور بھی ملا تھا جسے پاتے ہی اُس نے آنکھیں بند کر لی تھیں۔سب کے لیے وہ درد اور تکلیف سے بے حوش تھی ،مگر یہ وہ جانتی تھی کہ وہ اُس لذت میں گم ہے جو ایک تھکے ہارے مسافر کے سوکھے لبوں پر چند قطرے پانی کے گرنے سے نصیب ہوتی ہے ۔یہ وہ راحت تھی جو بنا سائبان کے بھٹکے ہوئے قدموں کو اپنا ٹھکانہ اپنا آشیانہ مل جانے پر ملا کرتی ہے۔ سیف کی خوشبو سیف کا احساس اُسے اندھیرے کے پار اُس طلمساتی خواب میں لے گیا تھا،جو نہ ٹوٹ سکتا تھا نہ توڑا جاسکتا تھا۔انگارے ٹھنڈے کردئیے گئے تھے ،لیکن جو آگ حویلی کے کونے کونے میں اِس سچّے جذبے نے بھڑکائی تھی اُسے بجھانا اب کسی کے اختیار میں ہی کہاں تھا۔

’’اُٹھ جاؤ صاحبہ۔۔۔تم ابھی نہیں جا سکتی۔۔۔تم ابھی نہیں مر سکتی ۔۔۔میں نے ایک بار محبت کو قبر میں اُتار دیا ہے۔۔۔میں پھر کسی محبت کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔۔۔میں پھر یہ حوصلہ نہیں کرسکتا۔‘‘سیف نے بندھے ہوئے ہاتھوں سے اُسے جھنجھوڑنے کی کوشش کی۔اُسے لگا اُس کی گود میں صاحبہ کا نہیں جیون کا چہرہ ہے۔وہی جیون جس نے اپنے آپ کو آگ میں جھونک دیا تھا۔جسے کھونے کے بعد اُس نے عشق کو پایا تھا اور اب وہ اُسی عشق سے صاحبہ کی صورت مل رہا تھا۔

’’کبھی محبت کا چہرہ جل جاتا ہے تو کبھی پاؤں۔۔۔مگر یہ پھر بھی دیکھتی ہے۔۔۔پھر بھی چلتی ہے۔۔۔یہ رکتی نہیں ہے۔۔۔یہ جھکتی نہیں ہے۔‘‘سیف اُس کا چہرہ دیکھتے ہوئے پہلی بار محبت سے بولا تھا۔اُس کے آنسو صاحبہ کا چہرہ بھگو رہے تھے تو صاحبہ کا جذبہ اُس کا دل۔

’’میں جانتا ہوں تم مجھے سن رہی ہو۔۔۔تم مجھے سننا ہی چاہتی تھی ناں۔۔۔سنو صاحبہ میری ختم ہوتی زندگی کی تم آخری امید ہو۔۔۔مجھے تمھارا ساتھ چاہیے۔۔۔مجھے تمھاری بہت ضرورت ہے۔‘‘ اپنی جکڑی ہوئی انگلیاں اُس نے صاحبہ کے لبوں پر رکھیں تو مدھم سانسوں نے جیسے پھر سے زندگی سے ملا دیا تھا۔

’’میں مانتا ہوں تم مجھ سے بہت محبت کرتی ہو۔۔۔۔اور اِس بہت محبت نے میرے بنجر دل میں پھول کھلا دیئے ہیں۔۔۔میں تمھارا روٹھنا برداشت نہیں کر پاؤنگا۔۔۔میں اِس خوشبو کی جدائی نہیں سہہ پاؤنگا۔‘‘اُس نے مِنت بھرے لہجے میں صاحبہ کو ایسے مخاطب کیا جیسے وہ پلکیں گرائے اُسے ہی سن رہی ہو۔

’’ہم ایک ہیں۔۔۔ہم آزاد ہیں۔۔۔ہم عشق ہیں صاحبہ۔۔۔سنو سنو ۔۔۔ہوائیں پرندے ستارے سب یہی کہہ رہے ہیں۔‘‘وہ بچے کی طرح پچکارتے ہوئے اُسے اُن آوازوں کی طرف متوجہ کر نے لگا،جو شاید صاحبہ اُس کے ساتھ ہی سن رہی تھی۔

اِس سے پہلے وہ اپنا دل اور کھول کر سامنے رکھتا اُسی پل چاچی شگو دیگر خادماؤں سمیت قید خانے میں داخل ہوئیں اور صاحبہ کو اپنے ساتھ لے گئیں۔خادماؤں کی روتی آنکھیں پشیمان چہرے دیکھ کر اُسے ڈھارس ہوئی تھی کہ صاحبہ جلد ہی آنکھیں کھول دے گی۔یوں تو وہ چلی گئی تھی،مگر قید خانہ معطر کر گئی ۔اُس کا احساس سیف کے دامن پر جو رہ گیا تھا۔

ہوگا یہ معجزہ بھی

زندگی لوٹ کر آئے گی پھر

چند ستمگروں نے دوا کی ہے

درد کو مٹنا ہی پڑے گا

چاچی شگو سے جو بن پایا اُس نے صاحبہ کو ہوش میں لانے کے لیے کیا۔آج پہلی بار تھا کہ وہ اُس درد اذیت جلن کو کم کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی تھیں جس سے اُن کی مالکن بے نیاز تھی۔

’’ظلم ہے یہ۔۔۔ظلم کی انتہا ہے۔۔۔ظالم ہے وہ۔۔۔اور ہم سب بھی ظالم ہیں۔‘‘چاچی شگو نے بلند آواز میں روتے ہوئے دہائی دی تو باقی خادمائیں بھی زار و قطار رونے لگیں۔آج وہ صرف صاحبہ کی تکلیف بڑھ جانے پر نہیں بلکہ اپنی انسانیت مرجانے پر بھی رو رہی تھیں۔

’’آپ کو اُٹھنا ہوگا۔۔۔اُٹھنا ہوگا۔۔۔آپ نے یہ پوری جنگ لڑی ہے ۔۔اب تو ہم جیسی تماش بینوں کو کٹھ پتلیوں کو سزا دینے کا وقت ہے۔۔۔اب تو آپ کی جیت منانے کا وقت ہے۔‘‘اُنھوں نے شفقت سے صاحبہ کے سفید چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے خود کو ملامت کی گہری کھائی میں گرتا ہوا محسوس کیا۔

’’ہم شرمندہ ہیں بہت شرمندہ۔۔۔آپ سے اپنے آپ سے۔۔۔انسانیت سے ضمیر سے۔۔۔ہم کبھی خود سے آنکھیں نہیں ملاسکتیں ۔۔۔کبھی نہیں۔‘‘چاچی شگو کی شکست خوردہ آواز میں آہ و بکا کرتی کئی آوازیں شامل ہوچکی تھیں۔

’’آنکھیں کھول دیجیے بی بی۔۔۔اگر آج آپ نے آنکھیں نہیں کھولیں تو ہم پر معافی کے سب در بند ہو جائیں گے۔‘‘چاچی شگو نے ڈوبتے دل کے ساتھ اُس کے پیر آزردگی سے پکڑے تو تمام خادمائیں اُن کی تقلید میں آگے بڑھیں۔اُن سب کی عرش تک جاتی ہوئی دعائیں تھیں اور سیف کی محبت کہ چوبیس گھنٹے بعد صاحبہ نے ایک بار پھر اِس دنیا کو دیکھا تھا۔

ٌٌٌٌ*****

سامنے دیوار پر نصب بڑے آئینے کے سامنے وہ اپنی شاہی کرسی پر اُسی شان کے ساتھ بیٹھا اپنے ہی عکس کو غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔اُس کا چہرہ پہلے جیسا نہیں تھا،نہ اُس کی آنکھیں۔۔۔اُس کے چہرے پر شکست کی تحریر لکھی جاچکی تھی اور اُس کی آنکھیں بار بار وہ تحریر پڑھ کر سنا رہی تھیں۔۔۔شروع سے اب تک کی کہانی میں وہ بھاگتا ہی رہا تھا۔۔۔وہ کہیں نہیں رکا تھا۔۔۔اُس نے وہ سانس نہیں بھری تھی جو زندگی کی اصل حقیقت بیان کر جاتی ہے۔۔۔کڑی مسافت کے بعد پہلی بار اُسے ٹھرنے سانس لینے کا موقع ملا تھا۔۔۔پہلی بار اُسے ہر شئے محسوس ہورہی تھی۔۔۔طویل سفر ۔۔۔لاحاصل تھکان۔۔۔بے نام منزل ۔۔۔یکدم آئینے کے اندر دھواں سا بھرنے لگا تھا۔۔۔وہ تو جلانے والا تھا۔۔۔مگر اُس نے جلتے دیکھا۔۔۔ایک گنگار شخص کو۔۔۔ایک مغرور عکس کو۔۔۔اچانک اُس نے ایک کے بعد ایک سگریٹ جلا کر نیچے پھینکنا شروع کردی اور دوسرے ہاتھ میں پکڑی شراب کی بوتل سے کچھ قطرے ہر جلتی سگریٹ پر گرانے لگا۔۔۔جلانے بجھانے کا یہ کھیل جانے کتنی ہی دیر چلتا رہا،مگر ہر گزرتے پل کے ساتھ اُس کی اذیت دوگنی ہوتی جارہی تھی۔

’’تم ہار گئے ہو جازم۔۔۔وقت محبت رشتے ۔۔۔تم سب ہار گئے۔۔۔صاحبہ جیت گئی ہے۔۔۔سیف فتح پا چکا ہے۔۔۔جیون سرخرو ہو گئی ہے۔۔۔اور تم۔۔۔تم بس ہار گئے ۔۔۔سب کچھ ہار گئے۔‘‘شیشے میں دیکھائی دیتے اُس کے دھندلے عکس نے اُس پر ہنسنا شروع کردیا تھا۔

’’شش ۔۔۔شش ۔۔۔نہیں۔۔۔ایسا کیسے ممکن ہے ۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ میں ہار جاؤں۔۔۔جازم خان کو ہارنا نہیں آتا۔۔۔جازم خان ہار نہیں سکتا۔‘‘وہ ایک جھٹکے سے اُٹھا اور منہ پر انگلی رکھ کر اپنے عکس کو خاموش کروانے والے انداز میں سرگوشی کرنے لگا۔

’’ہر ہارا ہوا اُجڑا ہوا شخص ایسے ہی بولتا ہے۔۔۔خود فریبی کا یہ دھواں ابھی تمھیں حقیقت سے دور کر رہا ہے۔۔۔جلد ہی تم اپنی شکست قبول کرلو گے۔‘‘عکس چپ کہاں رہنے والا تھا وہ مزید ٹھوس لہجے میں بولا۔

’’تم جھوٹے ہو۔۔۔فریبی ہو۔۔۔تم جھوٹ بول رہے ہو۔‘‘اب کی بار وہ سخت لہجے میں سرگوشی کرتے ہوئے جھنجھلایا تھا۔

’’فریبی تو تم ہو۔۔۔کب تک اپنے آپ کو دھوکہ دو گے۔۔۔تمھارے اِس گھمنڈ نے تمھیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔۔۔دیکھو تمھارے پاس پتھر کی حویلی اور بے جان مورتیاں ہیں۔۔۔کوئی زندہ انسان تمھارے پاس نہیں۔۔۔اکیلے رہ گئے تم۔۔۔بالکل تنہا۔‘‘اُس کی آواز جتنی دھیمی تھی اُس کا عکس اُتنا ہی گلا پھاڑ کر بولنے لگا۔

’’تمھارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں۔۔۔مت کہو ایسا ۔۔۔مت کہو ایسا۔۔۔نہیں ہوں میں اکیلا۔۔۔سب میرا ہے۔۔۔سب کچھ میرے پاس ہے۔‘‘اُس نے بلند آواز میں پورے وثوق سے چیخ کر کہا اور دونوں آنکھیں سختی سے بند کرکے پیچھے ہونے لگا۔چند آنسو اُسے بے خبر رکھتے ہوئے اُس کی گالوں پر پھسل گئے تھے۔

’’یہ کیا۔۔۔تم تو رو پڑے۔۔۔تم تو مرد ہو۔۔۔تم تو وڈیرے ہو۔۔۔تم تو بہادر ہو۔۔۔تم تو حاکم ہو۔۔۔تم تو طاقت ور ہو۔۔۔تم تو جازم خان ہو ۔۔۔تم کیسے رو سکتے ہو آخر!‘‘عکس آئینے سے نکل کر اُسے زور زور سے جھنجھوڑتے ہوئے تمسخر اُڑانے لگا ۔

’’مت بولو۔۔۔چپ ہوجاؤ۔۔۔چھوڑ دو مجھے ۔۔۔چھوڑ دو مجھے ۔۔۔میں پاگل ہو جاؤ نگا ۔۔۔پاگل ہوجاؤنگا۔‘‘بے بسی کی انتہا پر جاکر اُس نے چلاتے ہوئے شراب کی آدھی بوتل شیشے پر دے ماری۔وہ اپنے ہی عکس کو سینکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا دیکھ کر وحشت زدہ سا ہوا اور کھینچ کھینچ کر سانسیں لیتے ہوئے پیچھے دیوار سے جا لگا۔

’’چلے جاؤ۔۔۔میں تمھاری کوئی بات نہیں سننا چاہتا۔۔۔چلے جاؤ۔۔۔۔میں تم سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔۔۔چلے جاؤ جازم خان۔۔۔یہاں سے دور کہیں چلے جاؤ۔‘‘اُس نے ہر ٹکڑے میں نظر آتے اپنے عکس کو جیسے حکم دیا اور دونوں ہاتھوں سے چہرہ پکڑ کر کانپنے لگا۔

’’میں تمھیں اور نہیں دیکھ سکتا جازم خان۔۔۔تمھیں اور نہیں سن سکتا۔۔۔تمھیں دیکھ کر میرا دل پھٹنے لگا ہے۔۔۔تمھاری باتیں۔۔۔تمھاری ہر بات میرا گلا گھونٹ رہی ہے۔۔۔مجھ پر رحم کرو۔۔۔میں نے ہمیشہ تمھارا ساتھ دیا۔۔۔خدا کے واسطے اب میرا ساتھ چھوڑ دو۔‘‘کپکپاتے لبوں سے کہتے ہوئے وہ اپنے آپ میں سمٹ کر نیچے جھک سا گیا تھا۔

’’نکلو میرے اندر سے۔۔۔نکلو میرے اندر سے۔۔۔چھوڑ دو میرا وجود۔۔۔چھوڑ دو میرا دل۔۔۔تم نے مجھے برباد کردیا۔۔۔نفرت ہے مجھے تم سے۔۔۔شدید نفرت جازم خان!‘‘اچانک اُس کا سر اوپر اُٹھا اور ایک زور دار ابکائی کے ساتھ اُس نے ساری شراب باہر انڈیل دی جو وہ کچھ دیر پہلے پی چکا تھا۔

’’کوئی بھی نہیں ہے۔۔۔کوئی بھی نہیں ہے میرے پاس۔۔۔یہ سگریٹ۔۔۔یہ شراب۔۔۔یہ ٹوٹا ہوا آئینہ۔۔۔باقی سب کہاں ہیں۔۔۔کہاں چلے گئے تم سب۔۔۔میرا بچپن۔۔۔میری حویلی۔۔۔امی جان۔۔۔جی جی جیون۔۔۔کوئی تو آواز دے۔‘‘وہ ایک جھٹکے سے اُٹھا اور دوڑتا ہوا کھڑکی کے پاس آگیا جیسے کسی کو پکار رہا ہو۔کتنی ہی دیر وہ باہر خلاؤں کو گھورتا رہا دفعتاً ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا تو وہ تقریبا دوڑتے ہوئے جہازی سائز بیڈ کے دوسری طرف رکھی لکڑی کی بڑی الماری کی طرف بھاگا۔ایک ہی پل میں الماری سے ایک ایک چیز نکال کر نیچے پھینک دی گئی تھی۔اُس نے یہی کہیں کچھ سنبھال کر رکھا تھا جس کے کھونے کے دھڑکے نے اُس کی حالت پاگلوں جیسی کردی۔اچانک فائلوں کے اندر رکھے ڈھیروں کاغذوں کو عجلت میں ٹٹولتے ہوئے ہوا میں اچھالا گیا تو کہیں سفید لفافے میں لپٹا اُسے وہ خط نظر آیا جیسے دیکھ کر اُس کی جان میں جان آگئی تھی۔اِس لفافے میں کسی نے اپنی آخری خوشبو قید کی تھی اور وہ یہ خوشبو ایک بار پھر محسوس کرنا چاہتا تھا۔اُس نے شدت سے کپکپاتے ہاتھوں میں تھاما وہ خط کھولا۔۔۔۔جیون کا چہرہ اور ہلتے ہوئے لب اُس کے سامنے تھے۔

’’یہ شادی کا خواب کتنا خوبصورت ہوتا ہے ناں۔۔۔

لڑکیاں آنکھیں بند کرتی ہیں تو اِرد گرد پریاں سرگوشی کرتی ہیں۔۔۔تتلیاں گیت گاتی ہیں۔۔۔خوشبوئیں جھومنے لگتی ہیں۔۔۔کئی راگ۔۔۔کئی دھنیں سماعتوں میں ایسے رس گھولتی ہیں کہ ہاتھ اِس خواب کی انگلی پکڑتے ہیں اور زمین کو چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔

تمھاری سنگت میں یقین مانو! میں نے کتنے پل کتنے لمحے کتنے دن زمین پر پاؤں نہیں رکھا۔۔۔۔

میں اِس خواب میں آنکھیں رکھ کر سوتی تھی اور اِسی خواب کے تکیے پر سر رکھ کر کئی کئی راتیں جاگتی تھی۔۔۔

یہ خوبصورت سپنا تم نے مجھے دیکھایا تھا جازم۔۔۔۔وہ لال جوڑا تم لے کر آئے تھے۔۔۔

جانتے ہو جب تم نے مجھے سر عام ٹھکرا دیا، بھری محفل میں رسوا کیا ،وہ لال جوڑا میرا کفن بن گیا تھا۔۔۔

مر تو میں اُسی دن گئی تھی جس دن یہ جان پائی کہ تم میرے ساتھ جینا نہیں چاہتے۔۔۔

میں نے یہ تکلیف صرف جسم یا دل تک محسوس کی ہوتی تو میرے آنسوؤں سے آہیں ٹپکتیں۔۔۔لبوں سے بددعائیں نکلتیں۔۔۔مگر یہ درد تو میری روح میں آکر ٹھر گیا ہے ۔۔۔

یہ محبت کا پہلا درجہ نہیں ہے کہ میں ’’جیون حیات ‘‘جازم کے ساتھ جازم جیسا کرکے جاؤں۔۔۔

یہ محبت کا آخری مقام ہے اور عشق کا پہلا پڑاؤ۔۔۔بالکل اُس لاعلاج مرض کی آخری سٹیج جیسا جہاں کوئی دعا کوئی دوا شاید میرے زندگی سے دور جاتے قدم روک نہ پائے ۔۔۔۔

جانتے ہوئے اِس مقام پر بددعائوں کا سہارا نہیں لیا جاتا۔۔۔آہوں کا آسرا نہیں کیا جاتا۔۔۔بس ایک حصار باندھا جاتا ہے۔۔۔

اِس حصار کو تم میری دعا سمجھ لو، آخری خواہش، یا آخری وعدہ۔۔۔میں تمھیں لاعلاج نہیں چھوڑنا چاہتی۔۔۔

میری قربانی کا تقاضا یہی ہے کہ تم اِس قربانی کو مانو۔۔۔میرے آنسوؤں کی تمنا یہی ہے کہ تم اِ ن آنسوؤں کی وقعت پہچانو۔۔۔میرے درد کا مداوا یہی ہے کہ تم یہ درد کسی اور کو نہ دو۔۔۔میرے عشق کا حاصل یہی ہے کہ تم عشق کو سمجھو۔۔۔

میری دعا تمھارے حق میں ہے کیونکہ میرا دل کبھی تمھارے خلاف نہیں ہوا۔۔۔

میں نے تمھیں اُس موسم میں بھی چاہا جب گلاب کھلے تھے۔۔۔میں نے تمھیں اُس موسم میں بھی چاہا جب سارا چمن اُجڑ چکا تھا۔۔۔

میرا عشق تب بھی قائم رہا جب تمھارا پیار سامنے تھا۔۔۔میرا عشق تب بھی زندہ رہا ۔۔۔جب تم نے راستہ بدل لیا۔۔۔۔

میں جانتی ہوں کہ تم اب زندگی سے کیا چاہتے ہو۔۔۔کیا چاہنے والے ہو۔۔۔

تمھارے سامنے نئی محبت کا سمندر ہے اور حُسن کے ستاروں سے جھلملاتا فلک۔۔۔

مگر میری دعا ہے تم یہ سمندر پار نہ کر پاؤ۔۔۔۔

تم یہ آسمان چھو نہ سکو۔۔۔

جب تک تم محبت کو جان نہ لو۔۔۔سمجھ نہ لو۔۔۔محبت تمھیں حاصل نہ ہو۔۔۔

جب تک تم دل اور روح کی خوبصورتی کا فلسفہ پڑھ نہ لو ،روپ کے کسی بھی دلکش صفحے کو چھو نہ پاؤ۔۔۔

میں نہیں چاہتی تم ایسے ہی جازم رہو۔۔۔

میں نہیں چاہتی کہ کوئی اور جیون پیدا ہو۔۔۔

میں نہیں چاہتی کہ تم اِس جہاں یا اُس جہاں کبھی میرے سامنے آؤ تو تمھاری آنکھوں میں۔۔۔غرور ہو۔۔حوس ہو۔۔سفاکیت ہو۔۔۔۔

میں تمھیں اُجلا دھلا پاک دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔

بالکل ویسے جب تم سات سال کی عمر میں سفید کرتا پہنے باغ میں بھاگ کر میرے پاس آتے تھے۔۔۔۔

شاید میری یہ باتیں آج تمھیں غصہ دلائیں۔۔۔ہو سکتا ہے تمھیں یہ کبھی تکلیف دیں۔۔۔۔

ممکن ہے تم اپنے نفس کی تسکین کرلو ۔۔۔لیکن یاد رکھنا کہ حاصل کرنے اور جیتنے میں فرق ہوتا ہے۔۔۔۔

اگر میری کوئی بھی بات تمھارے دل میں رہ گئی تو ۔۔۔تو تم حسن اور عشق کے گرد جال بنو گے۔۔۔اپنی محبوب چیز پر پہرے بیٹھاؤگے۔۔۔اپنی پسندیدہ چیز کو سینت سینت کر رکھو گے۔۔۔اُس امیر شخص کی طرح جس کی جمع پونجی ساری دولت تمام عمر تجوری میں پڑی رہ جاتی ہے،مگر اُسے نصیب نہیں ہوتی۔۔۔

میری دعا ہے تمھیں حسن اور عشق نصیب ہو،مگر تب جب تم بدل جاؤ۔۔۔۔

تمھارے اردگرد کھینچا گیا میرا یہ حصار۔۔۔تمھارے آس پاس رہنے والی میری یہ دعا تمھیں تب تک عشق اور سکون کے سچّے موسموں سے ملنے نہیں دے گی۔۔۔جب تک تم اپنے اندر انسانیت کا دروازہ کھول نہیں لیتے۔۔۔۔

نہ ہو کر بھی بس تمھاری!

جیون حیات۔۔۔

*****

کیوں چلتے چلتے رک گئے ویران راستو

تنہا ہوں آج میں ذرا گھر تک تو ساتھ دو

وہ گاڑی سے باہر نکلا تو کچھ دیر حسرت بھری نظروں سے حویلی کو دیکھتا رہا۔یہی وہ جگہ تھی جہاں سے زندگی کی بہاریں شروع ہوئی تھیں اور اب وہ گزری بہاروں سے کچھ پل اُدھار لینے آیا تھا۔۔۔یہی وہ جگہ تھی جہاں محبت نے جنم لیا تھا اور اب وہ دفنائی گئی محبت سے کچھ سانسوں کی بھیک مانگنے آیا تھا۔۔۔یہی وہ جگہ تھی جہاں اُس نے ہر رشتہ اپنی مرضی سے چھوڑا تھا اور وہ یہ دیکھنے آیا تھا کہ کیا اب بھی کوئی اُس کا منتظر ہے۔بری یادوں اور اچھی یاداشت کا کھیل بڑا ہی عجیب ہے انسان مستقبل کے رستے پر سفر نہیں کرسکتا،وہ بھی نہیں کر پایا تھا اُسے بھی واپس لوٹنا پڑا تھا۔کچھ انسانوں کو محبت اور زندگی کی اہمیت بڑی دیر سے سمجھ آتی ہے۔۔۔ہر خسارے۔۔۔ہر طوفان۔۔۔ہر کمی کے بعد۔۔۔اُنھیں اپنے اندر کا کھوکھلا پن محسوس ہوتا ہے۔وہ بھی بڑی دیر سے جان پایا تھا کہ وہ کچھ بھی نہیں ہے،کچھ بھی نہیں۔

’’چھوٹے بابا آپ؟‘‘اُس نے بیرونی دروازے سے اندر قدم رکھا تو پودوں کو پانی دیتے مالی بابا فوراً دوڑ کر آئے اور اُس سے بغل گیر ہوگئے۔اُن کے چہرے پر کوئی شکوہ نہیں تھا بلکہ آنکھوں میں محبت کا ایک سمندر تھا ۔وہ اُسے آج وہی معصوم بچہ سمجھ کر دل صاف کر چکے تھے، جسے کبھی اُنھوں نے اپنی گود میں کھلایا تھا۔

’’اپنے آنسو مجھ جیسے انسان کے لیے ضائع مت کیجیے۔‘‘اُس نے تسلی دینے والے انداز میں اپنا ہاتھ مالی بابا کے کندھے پر رکھا تو اُن کی بھیگی نگاہیں شکر ادا کرتے ہوئے آسمان کی طرف اُٹھ گئی تھی۔وہ جان گئے تھے کہ وہ جازم خان ہے،مگر پہلے والا نہیں۔وہ کچھ دیر مالی بابا کے گلے لگ کر کھڑا رہا اور پھر آگے بڑھ گیا۔

یہ پہلی بار تھا جب وہ داخلی راستے کے دونوں اطراف لگے پھولوں کو غور غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔لال گلابوں کی پنکھڑیوں پر اُنھیں لگانے والی کی تصویر تھی تو سفید کلیوں کے اُجلے رنگ میں اُن کے ساتھ جھومنے والی کی جھلک۔اُس نے ایک ایک پھول کو چھو کر دیکھا ۔۔۔وہ چاہتا تھا آج ہر پھول اُس سے شکایت کرے۔۔۔پھولوں سے ملنے کے بعد وہ اُس ستون کے پاس آیا جس سے وہ بچوں کی طرح جھولا کرتی تھی۔۔۔اُس کا دل کیا یہ ستون اُس سے خفا ہو ۔۔۔اُسے دیکھنا بھی گوارا نہ کرے۔۔۔حویلی کے اندرونی حصے کی حدود میں آتے ہی وہ سب آئینے اُس سے ٹکرائے تھے جو کسی کی صورت کے وفادار تھے۔۔۔اُس نے خواہش کی کہ ہر آئینہ اُس سے جھگڑا کرے۔ ۔۔ہر شئے کو نظر بھر بھر کر دیکھتا وہ جیون کے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔کمرے کی ہر چیز کو دھیان سے دیکھتے ہوئے اُس نے اعتراف کیا کہ جیون نہ صرف زندہ انسانوں کو بلکہ بے جان چیزوں کو بھی محبت سے رکھنے والی تھی۔۔۔اُس نے میز پر رکھی ہوئی شاعری کی کتابوں میں سے وہی کتاب اُٹھا لی جو وہ کبھی سینے سے لگائے اُس کے سامنے آئی تھی۔

’’آؤ میں تمھیں محبت پر ایک نظم سناتی ہوں۔مذاق تھوڑی ہے ۔اِس کتاب میں لکھی ہے۔‘‘وہ اپنے پسندیدہ شاعر کی کتاب ہاتھ میں پکڑے اترا کر کہتی ہوئی اُس کے سامنے بیٹھ گئی تھی۔

’’ غور سے سننا ۔۔۔کیونکہ تمھیں شاعری کی ذرہ بھی سمجھ نہیں!‘‘اُس نے جان بوجھ کر جازم کو چھیڑا تو وہ بھی شرارت کرتے ہوئے اُس کے قریب آبیٹھا ۔

تم جب چاہے

کوئی تحفہ دے دو

وہ دن خود خاص بن جائے گا

تم ہاتھ پکڑ کر ساون کا گیت چھیڑو

بارش خود ملنے آجائے گی

تم جب بھی ہنسو گے میرے پیا

بہاروں کو آنے کا موقع ملے گا

تم محبت پکاروں گے تاریک راتوں میں جب

یہ چاند دیکھنا ساتھ چلے گا

یوں تو

غموں کے پتے بھی گرے گے

خفگی کے کانٹے اُگے گے

رسموں کے طوفان اُٹھے گے

ٓاگر تم ساتھ ہوگے

آنکھ برسے گی نہیں ، دل تھکے گا نہیں

محبت کا موسم !!!

بیتے گا نہیں۔۔۔۔

ابھی اُس نے آدھی نظم ہی پڑھی تھی کہ جازم سو گیا تھا۔اُس نے غصے سے اُس کا دایاں کان کھینچا تو وہ ایک جھٹکے سے جاگ گیا۔آج پھر وہ اُس یاد میں سو گیا تھا۔آج اُس نے وہ نظم پوری پڑھی تھی ،ا ور یہ نظم اُس کے کسی پسندیدہ شاعر کی نہیں بلکہ جیون حیات کی تھی جو کتاب کے اندر آخری صفحے پر اُس نے اپنے نام سے لکھی تھی۔

’’جانے کیا کیا سوچتی تھی تم اور میں نے کیا کردیا۔‘‘اُس نے ایک کرب سا اندر اُترتا ہوا محسوس کیا اور کتاب کو وہیں رکھ کر کمرے سے باہر نکل آیا۔

اِس کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلا آیا تھا۔۔۔جہاں سب سے پہلے اُس نے جیون کو محبت کا گیت سنایا تھا۔۔۔جہاں عزت کے مقام کی حقدار چاہت کو اُس نے نفس کے قدموں میں گرایا تھا۔۔۔اور جہاں سے وفا کی بھیک مانگتی جیون کو وہ دھکّے مار کر نکال چکا تھا۔اپنا کمرہ اُسے وہ سفاک جگہ جیسا لگا جہاں کسی بے گناہ کو پھنسی دی جاتی ہے۔۔۔معصوم رشتے قتل کیے جاتے ہیں۔یہاں آکر اُس کا سانس مزید تنگ ہونے لگا تھا ۔اُس نے جلدی سے اِس کمرے کو بند کردیا پھر کبھی نہ کھولنے کے لیے۔پوری حویلی میں بے سبب گھومنے کے بعد وہ ذکیہ بیگم کے حجرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔

’’تم نے میرا مان بچا لیا۔۔۔مجھے میری نظروں میں پھر سے اُٹھا دیا۔۔۔تم آگے آخر۔۔۔تم لوٹ آئے میرے بیٹے۔‘‘ذکیہ بیگم نے آگے بڑھ کر اُسے گلے لگایا تو وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔ایسے وہ تب رویا تھا جب بچپن میں اُس کے پیروں میں کانچ چبھا تھا۔ذکیہ بیگم نے اُسے رونے دیا۔وہ جانتی تھیں کہ آج پھر وہ ویسے ہی درد میں مبتلا ہے ،ویسے ہی اندر باہر سے لہولہان ہے۔

’’میں چاہتا تھا وہ میرے راستے سے ہٹ جائے جس کے لیے میں نے ایک غلط راستہ چنا۔۔۔شاید ہر گناہ سے پہلے انسان اندھا ہو جاتا ہے۔۔۔مجھے بھی اُس وقت کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔میری منصوبہ بندی میں کہیں بھی اُس کی موت نہیں تھی۔۔۔مگر اُس نے خود کو ما ر دیا ۔۔۔میری وجہ سے میری خاطر۔۔۔میں سچ کہتا ہوںاپنی شادی شدہ زندگی کا ایک بھی دن چین سے نہیں گزارا میں نے۔۔۔وہ کبھی میرے خیال میں آتی تو میں اور ستم ڈھاتا۔۔۔وہ کبھی میرے خواب میں آتی تو میں مزید ظلم کرتا۔۔۔اپنے نفس اور انا کے پیچھے بھاگتے بھاگتے میں گر گیا ہوں۔۔۔ میں تھک گیا ہوں اپنے اندر کے انسان سے ۔۔۔مجھے اپنی پناہ میں لے لیجیے کہ میرے بے چین دل کو قرار آئے۔۔۔میرا دل پتھر کا ہوچکا تھا،مگر اِس میں درد ہے بہت درد ۔۔۔میں اور نہیں سہہ سکتا۔۔۔مجھے ایسی دعا دیجیے کہ جازم خان پھر سے نیا ہو جائے۔۔۔اچھا ہوجائے۔ ‘‘وہ دیوانہ وار ہاتھوں سے اپنے بالوں کو نوچتے ہوئے ذکیہ بیگم کے قدموں میں گر گیا تھا۔

’’وہ کتنی قیمتی تھی۔۔۔کتنی۔۔۔یہ احساس مجھے اُسے کھو دینے کے بعد کیوں ہوا ہے۔۔۔میرے ہاتھوں پر اُس کا لہو ہے۔۔۔صاحبہ اور سیف کی بربادی کی لکیریں ہیں۔۔۔میں کس قدر ظالم اِنسان ہوں کہ میں نے اپنے آپ کو بھی نہیں بخشا۔۔۔میں نے خود کو بھی مٹا ڈالا امّی جان۔‘‘وہ یوں دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا جیسے کوئی اُس کا اپنا مر گیا ہو۔ذکیہ بیگم کے اندر ایک بار پھر ندامت اور گناہ کا احساس گہرا ہوا اور اُن کے آنسو ٹپ ٹپ اُس کے سر پر گرنے لگے ۔

’’مجھے آج کوئی درس دیجیے امّی جان۔۔۔بتائیے کہ سچّی محبت کیا ہے؟۔۔۔خونی رشتے کیا ہیں؟ عزت کیا ہے؟ بتائیے مجھے۔۔۔سمجھائیے مجھے کہ جب کسی کا دل توڑا جاتا ہے تو کیسی سزائیں ملتی ہیں۔۔۔جب زندگیوں سے کھیلا جاتا ہے تو کیسے عذاب اُترتے ہیں۔۔۔جب گھمنڈ کا ساتھ دیا جاتا ہے تو کیسے خاک ہوتا ہے انسان۔‘‘اُس کی پچھتائی آواز اور آنسوؤں کی شدت نے ذکیہ بیگم کو ملامت کی گہری کھائی میں دھکیل دیا تھا۔

’’کاش! زندگی میں کچھ سبق پھر پڑھے جاتے پھر دہراے جاتے تو زندگی اپنی زیادتیاں ہمیں معاف کردیتی۔محبت تمھارے اندر اُتر چکی ہے۔احساس کے دیپ جل چکے ہیں۔بس اِس روشنی کو پھیلا دو جازم۔‘‘ذکیہ بیگم نے جھک کر دونوں ہاتھوں سے اُس کا چہرہ تھاما اور اُس کے آنسو صاف کرتے ہوئے ایک بار پھر اُسے گلے سے لگا لیا۔

’’میں کچھ بھی کرلوں وہ واپس نہیں آسکتی۔۔۔وہ مجھے معاف نہیں کرسکتی۔۔۔وہ پھر سے میرا یقین نہیں کرسکتی۔۔۔وہ پھر سے میری نہیں ہوسکتی۔‘‘ذکیہ بیگم کے کندھے پر سر رکھ کر وہ زور زور سے ہچکیاں لیتے ہوئے سسک رہا تھا۔

’’تم جاؤ اُس کے پاس۔۔۔تمھارے یہ آنسو اُس کی معافی ہے۔۔۔تمھاری یہ ندامت اُس کی معافی ہے ۔۔۔تمھاری یہ تڑپ اُس کی معافی ہی ہے۔۔۔جیون جیسے نیک دل کبھی کسی سے خفا نہیں رہتے۔۔۔کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیتے۔۔۔اُس نے دیکھو تمھیں بدل دیا۔۔۔وہ اب بھی تمھاری ہے۔۔۔تمھارے دل میں ہے۔۔۔تم بات کرو۔۔۔وہ ضرور سنے گی۔‘‘ذکیہ بیگم نے اُس کے بال سہلاتے سہلاتے محبت سے کہا تو وہ سر اُٹھا کر اُنھیں متعجب نظروں سے دیکھنے لگا۔

’’کیا نئے پرندے اُڑا دئیے جائیں تو پرانے پرندوں کو مار دینے کا جرم معاف ہوجاتا ہے؟‘‘وہ بمشکل سانس کھینچ کر بولا۔ذکیہ بیگم کو اُس کی لال آنکھوں میں امید کی روشنی نظر آئی تھی۔

’’ہاں میرے بچے! یہ اُنھی بے جان پرندوں کی دعا ہوتی ہے جو زندہ پرندوں کو آزادی دلاتی ہے۔۔۔ہم دونوں اپنی انا کے پنجرے توڑ چکے ہیں۔۔۔جاؤ باقی کے پنجرے بھی توڑ دو جازم!‘‘ذکیہ بیگم نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے جیسے اُس کی امید کو یقین کی ڈوری سے باندھا۔وہ ایک جھٹکے سے اُٹھا اور فوراً حجرے سے نکل گیا۔اُسے اب وہی جانا تھا جہاں جانے میں اُس نے دیر کردی تھی۔

*****

تپتے صحرا میں دو گھونٹ پانی آسانی سے نہیں ملتا۔۔۔سوکھی پتیوں میں زندہ خوشبو کا احساس مشکل سے دریافت ہوتا ہے۔۔۔خالی آنکھیں کونے کھدروں میں چھپے خواب کا پتا جلدی نہیں دیتیں۔۔۔نفرت کے پجاری محبت کا درس سیکھ بھی لیں تو کچھ پل تک یقین نہیں آتا۔۔۔یہ سب ہوتا ہے۔۔۔یہ سب حقیقت ہے۔۔۔مگر اِس کے پیچھے محبت کی جستجو رہتی ہے۔۔۔دعاؤں کا ہاتھ ہوتا ہے۔

اُس کے اندر کی محبت اور انسانیت یکدم نہیں جاگی تھی بلکہ محبت نفرت کی یہ جنگ اُس نے تب سے اپنے اندر لڑنا شروع کردی تھی جب سے وہ پیدا ہوا تھا۔بس اِس جنگ سے آگاہی اُسے صاحبہ ہی دے پائی تھی اور اِس جنگ کو لڑنے کی جستجو جیون۔نفرت اور ظلم کا پرچم بلند رکھنے کے لیے وہ اپنی جھوٹی محبت سے بہت لڑا تھا،مگر ایک سچّی محبت کا پودا بھی تو اپنی جگہ موجود تھا جس کے بیج جیون نے اُس کے دل میں بوئے تھے۔ضد انا غرور کی پتھریلی زمین پر خود سے لڑتے لڑتے جب ہار مقدر ٹھری تو وہ پودا اُسے تب نظر آیا۔پہلی بار اُس پر ادراک ہوا تھا کہ اُس کے اندر بھی کچھ سرسبز ہے۔۔۔اُسے دھلنے میں۔۔۔مہکنے میں۔۔۔محبت تک پہنچنے میں ایک پل نہیں لگا تھا۔۔۔ایک مدت لگی تھی۔

مالی بابا اُسے قبرستان تک چھوڑ کر واپس جا چکے تھے۔وہ اُس کی قبر سے دور کچھ فاصلے رکھ کر کچی زمین پر بیٹھ گیا تھا۔وہ کچھ دیر خشک آنکھوں سے قبر کو ایسے دیکھتا رہا جیسے کوئی دھندلی تصویر غور سے دیکھتا ہے،اور اُس تصویر میں اپنے محبوب کو پاکر آس بھری نظروں کی تشنگی مٹاتا ہے۔اچانک اُسے کچھ یاد آیا تو وہ لرزتے ہوئے قدموں کے ساتھ اُٹھا اور دامن میں سمیٹ کر لائی کلیاں قبر پر گرا نے لگا۔جمع کی گئی ہمت ختم ہونے لگی تو وہ پیچھے لگے درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا۔

’’میں خالی ہاتھ گیا تھا۔۔۔

خالی ہاتھ نہیں آنا چاہتا تھا۔۔۔

تمھیں کلیاں پسند تھیں۔۔۔

کلیاں ہی لایا ہوں۔۔۔

میں تم سے معافی مانگنے نہیں آیا۔۔۔

میں جانتا ہوں میرا گناہ قابلِ معافی نہیں ہے۔۔۔

میں تمھیں یہ بھی بتانے نہیں آیا کہ میرے اندر برسوں سے سوئے انسان کی آنکھ کھل چکی ہے۔۔۔

کیونکہ آنکھ کھل بھی جائے تو کچھ خساروں کی تلافی نہیں ہوتی۔۔۔

میں محبت کو سمجھنے کا دعوی کرنے کے لیے بھی نہیں آیا۔۔۔

کیونکہ محبت مجھ جیسوں کو کم ہی پسند کرتی ہے۔۔۔

کبھی تم میرے پاس آئی تھی۔۔۔مجھ سے بولنا چاہتی تھی۔۔۔میرے ساتھ جینا چاہتی تھی۔۔۔

تب میرا دل نہیں مانا ۔۔۔

آج اُسی دل کی مان کر آیا ہوں۔۔۔

یہ تمھاری محبت کی اعلی ظرفی ہے کہ تم مجھے یہاں تک لے آئی۔۔۔

ورنہ شاید زندگی مہلت نہ دیتی اور انا توفیق۔۔۔

امی جان کہتی ہیں میرے یہ آنسو تمھاری معافی ہے۔۔۔میری یہ ندامت تمھاری معافی ہے۔۔۔میری یہ تڑپ تمھاری معافی ہے۔۔۔اگر وہ سچ کہتی ہیں تو میں تمھارا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں۔۔۔

کتنی عجیب بات ہے کہ ایک خالی کھوکھلے ،درندہ صفت اِنسان کو بھی محبت نے آسرا دے دیا۔۔۔

یہ محبت مجھے تمھاری محبت کی قربانی سے ملی ہے۔۔۔

اور تمھاری دعاؤں کی کرم نوازی سے۔۔۔

میں اِس احسان کے لیے تمھارا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں۔۔۔

تم پھر سے نہیں آسکتی۔۔۔اور نہ میں گزرے وقت میں جا سکتا ہوں۔۔۔ورنہ تمھارے قدموں میں گر جاتا۔۔۔

ہاتھ باندھے کھڑا رہتا۔۔۔

آنسوؤں کو رکنے کی اجازت نہ دیتا۔۔۔

مگر کچھ اختیار میں نہیں رہا۔۔۔

میں بس اِتنا کرسکتا ہوں کہ اپنے سر کا یہ غرور ساری عمر کے لیے تمھارے قدموں میں رکھ جاؤں۔۔۔

اور اپنی سرکش نگاہیں اِس زمین کو سونپ دوں۔۔۔

میری سزا یہی ہے اور انعام بھی۔۔۔‘‘

نادم آنکھیں ساری برساتیں بہا چکی تو آسمان پر زور سے بادل گرجے۔اُس نے سر پر بندھے سفید رومال کو اُتارا اور عقیدت کے ساتھ جیون کے پیروں میں رکھ دیا۔ایک اُجلی مسکراہٹ اُس کے چہرے کا احاطہ کرچکی تھی۔کیونکہ اُس کے دل میں جنم لینے والی محبت کی یہ نشانی اب میلی نہیں ہوسکتی تھی۔

*****

انوکھے الگ راستے اِس کے

اپنی منزل بھی جدا رکھتا ہے

عشق کو آسان سمجھنے والو

عشق محشر سی ادا رکھتا ہے۔۔۔

ہاتھ میں بے خودی کا کاسہ ہے

سر پر سایہ ہے دعاؤں کا

کوچہ ِ یار میں دھمال ڈالے یہ

بس زیارت کی صدا رکھتا ہے

عشق کو آسان سمجھنے والو

عشق محشر سی ادا رکھتا ہے۔۔۔

فلسفہ جانے نہ دنیاداری کا

ہوش مند کچھ ،تو کچھ سر پھرا ہے یہ

آپ کو تو بنا لیتا ہے

’میں‘ میں ’تم‘ کی جگہ رکھتا ہے

عشق کو آسان سمجھنے والو

عشق محشر سی ادا رکھتا ہے۔۔۔

قدموں کی آہٹ پر جھوم اُٹھتا ہے

بنا کر ٹھکانہ محبوب کی چوکھٹ پر

بند آنکھوں میں کھلی آنکھیں ہیں

روح کے پار نگاہ رکھتا ہے

عشق کو آسان سمجھنے والو

عشق محشر سی ادا رکھتا ہے

مر کے جیتا ہے،جی کر مرتا ہے

ڈوب کر من میں پھر اُبھرتا ہے

کھو کر پانے کی دعا ہے اِس کو

ختم سے ابتدا رکھتا ہے

عشق کو آسان سمجھنے والو

عشق محشر سی ادا رکھتا ہے۔۔۔

پہن کر گھنگھرو خیال کے ہر دم

رقص میں ساری عمر رہتا ہے

آگ ایسی کہ تسکینِ جاں

درد ایسا جو دوا رکھتا ہے

عشق کو آسان سمجھنے والو

عشق محشر سی ادا رکھتاہے۔۔۔۔

*****

اُس وقت وہ حویلی کے بڑے کمرے میں بیٹھا خود کو چھوٹا محسوس کررہا تھا۔دور سے سنائی دیتی بیڑیوں میں جکڑے پاؤں کی چھم چھم بتا رہی تھی کہ صاحبہ کو اُس کے پاس ہی لایا جارہا ہے۔جوں جوں وہ اُس کے قریب آرہی تھی وہ اُتنا ہی کسی اور کے قریب جارہا تھا۔وہ اُس کے سامنے آئی تو اُس نے ایک آخری نظر اُس کے چہرے پر ڈالی۔وہ بہت کمزور لگ رہی تھی۔۔۔اپنی عمر سے کئی گناہ بڑی ۔۔۔کئی صدیوں کی بیمار،مگر اُس کا چہرہ روشن تھا،اِس قدر روشن کہ جازم خان کی آنکھیں پھر اُسے دیکھنے کی تاب نہ لا سکیں۔

’’کھول دو ساری زنجیریں۔‘‘اُس نے اونچی پشیمان آواز میں اپنے خادم کو جیسے حکم دیا۔صاحبہ نے سر اُٹھا کر جازم خان کو دیکھا تو دیکھتی ہی رہ گئی۔یہ وہ جازم خان نہیں تھا جس نے اُسے اذیتوں کی انتہا تک پہنچایا تھا۔۔۔یہ وہ جازم خان نہیں تھا جس نے اُسے گم نامی کے اندھیروں میں چھپایا تھا۔۔۔یہ وہ جازم خان نہیں تھا جس سے محبت اور عشق کوئی واسطہ نہیں رکھنا چاہتے تھے۔۔۔یہ تو کوئی اور تھا۔۔۔کوئی اور۔۔۔نام وہی تھا۔۔۔مگر انسان وہ نہیں۔صاحبہ کواُس کے چہرے پر وہی روشنی نظر آرہی تھی جس روشنی سے نظر چرا کر وہ زمین کی طرف دیکھ رہا تھا۔صاحبہ کے چہرے پر آسودہ سی مسکراہٹ پھیل گئی کیونکہ عشق کی لو وہاں جل چکی تھی ،جہاں یقین کیا،اُس کا گمان بھی نہ گیا تھا۔

’’اکژ ہم تب جھکتے ہیں جب اگلے انسان کو پوری طرح سے توڑ چکے ہوں۔۔۔

تب کوئی معافی زندگی کے لیے اہم نہیں ہوسکتی،لیکن ایک عنایت موت کی آخری ہچکی کو تسکین ضرور دے سکتی ہے۔۔۔

ایک عنایت صیاد اور پنچھی کے مردہ تعلق میں ایک سانس ضرور پھونک سکتی ہے۔۔۔

جاؤ مالا ۔۔۔اِس حویلی کے پار تمھاری زندگی ہے۔۔۔

تمھاری آزادی ہے ۔۔۔

اِس قید کا حاصل ہے۔۔۔

اِس حویلی کے باہر تمھارا عشق ہے۔۔۔

جاؤ۔۔۔آج کوئی دروازہ۔۔۔کوئی جازم تمھارا راستہ نہیں روکے گا۔۔۔

جاؤ مالا ۔۔۔تم آزاد ہو۔۔۔آزاد ہو۔۔۔آزاد ہو۔۔۔‘‘

اُس نے سر اُٹھا کر بلند آواز میں اعلان کرتے ہوئے صاحبہ کو نا صرف اُس کا نام لوٹایا بلکہ اِس بے نام رشتے سے بھی آزاد کردیا۔

’’کہتے ہیں جب کسی سے سچی محبت ہوجائے تو اُس کا صدقہ اُتار دینا چاہیے۔۔۔آج میں تمھاری محبت کی خاطر دو پنچھیوں کو آزاد کرتا ہوں جیون!‘‘ وہ آنکھیں بند کرتے ہوئے جیسے جیون سے مخاطب ہوا۔مالانے ایک نظر اُسے دیکھا اور جتنا تیز بھاگ سکتی تھی بھاگی۔اُس کا سفید آنچل ہوا میں ایسے اُڑ رہا تھا جیسے کسی پرندے کو نیا آسمان مل گیا ہو۔پوری حویلی نے آزادی کاایساخوبصورت منظر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ہر آنکھ اشکبار تھی،ہر دل شکرگزار تھا۔اُس کے چند قدموں سے پہلے حویلی کا بڑا دروازہ کھول دیا گیا تھا۔سامنے سیف اُس کا منتظر تھا ۔کئی پرندے خوش ہوتے ہوئے ہوا میں ایک ساتھ اُڑے تھے۔مالانے گردن اُٹھا کر عشق کے آسمان کو مسکرا کر چھو لیا اور دوسری طرف جازم نے گردن جھکا کر سکون سے عشق کی قبر پر سر رکھ دیا تھا۔

ختم شد

*****