بعض اوقات میڈیا پر ایسے پروگرامز نشر کیے جاتے ہیں جن کا نہ تو کویئ مقصد ہوتا ہے اور نہ وہ ہمیں شارٹ ٹرم یا لانگ ٹرم کویئ فائدہ پہنچاسکتے ہیں بلکہ ایسے پروگرامز سے معاشرے کو الٹا نقصان ہی ہوتا ہے۔ مثلاً مارننگ شوز۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ مارننگ شوز کا کیا مقصد ہے؟ کیا یہ معاشرے کی فلاح و بہبود یا انسانیت کی ترقی کے لئے ہیں؟

بد قسمتی سے ان میں سے کچھ بھی نہیں۔ بلکہ ان کے ذریعے سے معاشرے میں مزید بگاڑ، خرابیاں،اور فحاشی و عریانی کو فروغ دیا جارہا ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو برباد کردیا جاۓ۔ بجاۓ اس کے کہ حقیقی مسائل پر بحث و مباحثے ہوں،قوم کو ایجوکیٹ کیا جاۓ، یاحقوق و فرائض کو زیرِ بحث لایا جاۓ،چند ایک کو چھوڑ کر ان میں سے اکثر شوزمیں آپ کو سراسر فضول باتیں، جگت بازی، ناچ گانا، چھوٹی چھوٹی بچیوں کو قوم کے سامنے نچوانا، فضول رسم و رواج،اور بے ڈھنگے طریقے سے ٹھٹھے مارتے ہوۓ ہی سب دکھایئ دیں گے۔آپ ان مارننگ شوز میں کبھی بھی علمی، دینی اور اخلاقی گفتگو کرتے ہوۓ کسی کو نہیں سنیں گے بلکہ لوگوں کا مذاق اڑاتے ہوۓ، اور ان کے ذاتی گھریلو مسائل پر بحث کرتے ہوۓ ہی پائیں گے۔ یہ چاہے کسی بھی موضوع پر گفتگو کر لیں، اِن کا علم انتہایئ سطحی قسم کا ہوتا ہے، اور ان کی گفتگو معیار سے گری ہوئی ہوتی ہے جس کی وجہ سے دیکھنے والے ان سے علم حاصل کرنے کے بجاۓ مزید جہالت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس کی مثال یوں سمجھیئے، جیسے ہی رمضان المبارک اور ماہِ محرم شروع ہوتا ہے، تو خواتین اپنا ناچ گانا چھوڑ کر، شرافت کی دیویاں بن کر، سر پہ ڈوپٹے اوڑھ کر مذہبی پروگرامز کی میزبانی شروع کردیتی ہیں حالانکہ ان کا اسلام سے کیا واسطہ؟ وہ(نیم ملا خطرہِ ایمان) والی مثال بن کر اپنا اور پوری قوم کا ایمان خطرے میں ڈا ل دیتی ہیں۔ اور جوں ہی یہ ماہِ مقدس ختم ہوتے ہیں، ان کی فحاشی پھر سے شروع ہوجاتی ہے۔اور اس فحاشی کا ذمہ دار ہے ہمارا میڈیا، چینلز، شوز کے پروڈیوسرز اور ڈایئریکٹرز۔ان لوگوں کا مقصد صرف اور صرف اپنی ریٹنگز بڑھانا ہے، اب چاہے ریٹنگز نیگٹو ہی کیوں نہ ہوں، کویئ ان پر بات تو کررہا ہے، بس اور کیا چاہیۓ؟ پھر چاہے انہیں کسی کے جذبات سے ہی کیوں نہ کھیلنا پڑے، انہیں صرف اپنی شہرت، اور ریٹنگز ہی سے مطلب ہے۔

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ۴ ستمبر کے دن ایک ۵ سالہ معصوم بچی کا ریپ ہوا۔ ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ ایک مارننگ شو کی میزبان نے اس معصوم کے باپ اور دادا دادی کو اپنے شو میں بلوالیا، تاکہ ان کے زخموں کو کرید سکے۔ یا پھر اس لیئےکہ لوگ میزبان کے اس قدم کو بہت سراہیں اور کہیں کہ بھئی دیکھیں، کتنی انسان دوست ہیں، کتنا دکھ درد رکھتی ہیں وہ انسانیت کے لیئے اپنے دل میں۔ اور کس طرح وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔ چلیں ٹھیک ہیں، آپ بہت درد رکھتی ہیں اپنے دل میں، لیکن اگر آپ کو آواز اٹھانی ہی تھی تو آپ اس معصوم کے گھر والوں کو بلاۓ بغیر بھی تو اٹھا سکتی تھیں، ایسے میں لوگ واقعی آپ کو سراہتے۔ لیکن نہیں! آپ نے انہیں بلایا اور ان سے ایسے گھٹیا اور بیہودہ سوالات کیے کہ اس بچی کی دادی وہاں بیٹھے بیٹھے رونے لگیں۔ کسی سے بار بار اس سانحہ کے بارے میں پوچھنا جو کہ اس کے لیئے ناقابلِ برداشت ہو، کہاں کا انصاف ہے؟ میزبان صاحبہ کیا پوچھتی ہیں ان سے، کہ آپ کی بچی کا ریپ ہوا، کیسا لگا آپ کو؟ اچھا، تو اگر کسی کی اولاد کا ریپ ہوجاۓ تو اسے کیسا لگنا چاہیئے؟ اور پھر آپ نے توحد کردی یہ پوچھ کر کہ اچھا، آپ کو آپ کی بیٹی ملی، کیسے پہچانا آپ نے اسے؟ اور آپ کو کیسے پتا چلا کہ اس کے ساتھ ریپ ہوا ہے؟ مطلب اب آپ کو شعور کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی دینی پڑے گی یا تعلیم سے آپ کو شعور ہی نہیں ملا؟ آپ کو اتنا نہیں پتا کہ بچی کا میڈیکل کروایا تو پتا چلا کہ کیا ہوا اس کے ساتھ! لیکن آپ کو کیا فرق پڑتا ہے؟ آپ کو تو بس اپنی ریٹنگز سے مطلب ہے۔ اور ہمارا پیمرا؟ وہ کیا کررہا ہے؟ اس کی آنکھوں پر تو جیسے پٹی بندھ گیئ ہے کہ اس نے ایسے شوز کو بند کرنے کے بجاۓ ان کو کھلی چھوٹ دی ہویئ ہے۔اس پروگرام پر لوگوں نے اتنا شور مچایاکہ اس شو کو بندکیا جاۓ، لیکن پیمرا کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔اور جب میزبان نے دیکھا کہ بات تو بگڑ گیئ ہے تو انہوں نے اپنے اگلے مارننگ شو میں اپنی اس حرکت کی معافی بھی مانگی۔ لیکن معافی مانگنے کا انداز بھی عجیب ہی تھا کہ ان کی معافی سے متاثرہ خاندان کو مزید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ معافی مانگتے ہوۓ انہوں نے کہا کہ میرا ایسا کویئ مقصد نہیں تھا کہ میں کسی کا بھی دل دکھاؤں بلکہ میں تو چاہتی تھی کہ بچی کے خاندان والوں کو انصاف ملے۔ چونکہ ان کی ایف آئ آر کوئ درج نہیں کررہا تھا تو اسی لیۓ انہوں نے خود میڈیا کی مدد لی اور ہم سے کانٹیکٹ کیا۔ اور جب میں نے شو کیا تو اس کے اگلے دن ایف آئ آر بھی درج ہوگئ اور ملزم بھی گرفتار ہوگیا۔ واہ بھئ! کیا اندازِ بیان ہے اور کیا شان ہے آپ کی کہ غریب لوگ، جن کے گھر میں ایک وقت کا کھانا نہ ہو، ان کے پاس آپ کا نمبر ہوتا پے۔ تو مطلب اب غریب لوگ بھی بڑی پہنچ رکھتے ہیں کہ فوراً سے میڈیا تک پہنچ گۓ؟ غریب لوگوں کے پاس عزت کے علاوہ اور پوتا ہی کیا ہے؟ نبیل نام کے ایک ایکٹیوسٹ نے خود بچی کے گھر جاکر اس کے گھر والوں سے پوچھا کہ آپ نے میڈیا نے اپروچ کیا تھا؟ اور کیا واقعی اس سے پہلے آپ لوگوں کی ایف آئ آر درج نہیں ہورہی تھی؟ تو بچی کے باپ اور تایا نے صاف انکار کردیا کہ ہم نے نہیں بلکہ اس سارے معاملے کے بعد میڈیا نے خود ہم سے رابطہ کیا، اور ہم تو غریب لوگ ہیں، ہمارے میڈیا سے تعلقات نہیں۔ اور ایف آئ آر تو پہلے ہی درج ہوگئ تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ میزبان نے ریٹنگز بڑھانے کے لیۓ جذبات کا کھیل کھیلا، اور پھر اپنی عزت بچانے کے لیۓ دوبارہ انہیں مظلوم لوگوں کے نام پر جھوٹ در جھوٹ بولے۔

عوام کا اور میرا سوال تو بس یہی ہے کہ پیمراآخر کس چیز کا انتظار کررہا ہے؟کیوں وہ خاموش تماشایئ بن کر بے حسی کے اس کھیل کو مزید بڑھاوا دے رہا ہے؟ پورا پاکستان چیخ رہا ہے کہ اس میزبان کے شو کو بندکرو لیکن نہیں، کیوں کریں گے بند؟ آخر سب میڈیا والوں کو اپنے شو کے لیئے اشتہارات اور ریٹنگز جو چاہئیں۔ کیوں انسانیت کا جنازہ نکالنے پر سب تلے بیٹھے ہیں؟ اور پیمرا کا تو کیا ہی کہنا!ماشاء اللہ وہ تو بڑی نیک نامی کما رہا ہے۔پیمرا والوں سے گزارش ہے کہ بھایئ آپ لوگ معاشرے کو کہاں لے جانا چاہتے ہو؟ یہ کس کا ایجنڈا ہے؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس ایجنڈے کے اثرات ہمارے پورے معاشرے کو انسانیت سے گراکر شیطانیت کی سطح پر لے آئیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب، قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: کہ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا فرمایا ارور پھر اسے اسفل السافلین کی گھاٹیوں میں پھینک دیا(سورہ تین)۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ انسان نے انسانیت کو وہ زخم دیے ہیں،و ہ ظلم کیے ہیں، اور وہ راستے دکھاۓ ہیں، کہ ابلیس تو بیچارہ وہاں تک سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ہم بحیثیتِ انسان شیطان کے بہت بڑے خدمت گزار بنے ہوۓ ہیں۔ وجہ اس کی صرف یہ ہے کہ ہمیں تو دنیا کی ہی زندگی چاہیئے۔ہمیں آخرت سے کیا مطلب؟ہمیں اللہ سے ملنے کی امید ہی نہیں ہے۔ہماری سوچ صرف اور صرف دنیا کی خواہشات، لذتوں اور فایئدوں تک ہی محدود ہے۔اگر ہمیں اپنے رب سے ملاقات کا یقین ہوتا تو ہم میڈیا کے ذریعے سے اپنی عوام کو جو دکھا رہے ہیں، ہم کبھی اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں پاتے، ہمت کرنا تو دور کی بات ہے۔ میری خواہش اور میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو بحیثیتِ قوم کے اور بحیثیتِ مسلمان کے سوچنے سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین، ثمہ آمین۔

___________

تحریر: رمشا یاسین

کور ڈیزائن: medium.com