اس دنیا میں ہر کوئی کسی نہ کسی لگن میں مبتلا ہے
کوئی محبوبہ کا منتظر ہے
کسی کو مال اسباب چاہیے
کوئی دولت کی چاہ میں
کوئی علم کی تلاش میں
اور ہر کسی کو لگتا ہے بس
یہی اس کی تماتر ذندگی کا حاصل ہے!
یہ بھی خدا کا کرم ہے!انسان اپنی لگن کے تعاقب میں نکلتا ہے
مگر ناکام رہتا ہے،اور لوٹ جاتا ہے
پھر کچھ دیر بعد دوبارہ اسےمحسوس ہوتا ہے
‘اس خواہش اور ‘طلب’کو ضرور پا لینا چاہیے
شاید پچھلی بار جی جان سے کوشش نہیں ہوئی
چلو پھر ایک بار کوشش۔۔۔!’
پھر سے کوشش ناکام رہتی ہے
اور وہ باربارکوشش میں مگن رہتا ہے_ یہاں تک کہ
‘طلب’ نقاب الٹ کر اپنا اصل چہرہ آشکار کرتی ہے!
اور انسان جان جاتا ہے
کہ آج تک وہ ایک غلط رستے پر گامزن رہا ہے!
(مولانا رومی)
————

ترجمہ: صوفیہ کاشف