(ڈان نیوز پر شائع شدہ)

گیٹ کے سامنے کھڑے ہوئے اسے عجیب سا احساس ہوا۔۔۔کیا یہ وہ گھر تھا جس میں سے وہ ایک دفعہ نکالی گئی تھی۔یہ چھوٹا سا ایک چوبارہ،گھروں کے بیچ میں دھنسا ہوا سانس لینے کی کوشش کرتا چوبارہ جس کی کبھی گردن اتنے مغرور تھی کہ زمین کی طرف نظر تک نہ ڈالتی تھی۔آج یہ چوبارہ شکست و ریخت کی انتہاؤں کو چھو رہا تھا،اب دیواروں پر ںنیا روغن نہ رہا تھا!جہاں کسی زمانے میں لال اینٹ بھی چمکتی تھی وہاں پر دو تین کمروں کے اضافے سے اب لال اینٹ دیکھنے کو بھی ملتی نہ تھی ۔

دہلیز پر پاؤں دھرتے ہی بند کمروں کا سلسہ شروع تھا،کمرے بے ترتیبی سے بوقت ضرورت اس طرح وجود میں آئے تھے کہ اب ہر کمرہ تاذہ سانسوں کے لئے ترستا تھا،آکسیجن ادھار مانگنے کے لئے ہر دیوار دوسرے کی طرف تکتی تھی۔کبھی یہ گھر حکمران لگتا تھا آج یہ ماتحت تک لگنے کے قابل نہ رہا تھا۔ہمیشہ کی طرح گیٹ کے اوپر سے کنڈا اٹھا کر گیٹ کھولا تو گیٹ اسی طرح کھلتا چلا گیا جیسے آج سے پندرہ بیس سال پہلے کھلتا تھا۔ہاں مگر پندرہ بیس سال پہلے اس گیٹ کے کھلتے ہی بہتا پانی نظر آتا تھا جسے ایک ملازمہ برآمدہ اور گیلری دھوتی دھکیلتی چلے آتی اور اس ملازمہ کے پیچھے گھر کی مالکن،اس کی ساس پانی کا پائپ لئیے گردن اکڑائے چلی آتی۔کبھی” ہم طاقتور ہیں سب کچھ تن تنہا کر سکتے ہیں” کا غرور بھی انسانوں کے سر پر چڑھ کر ناچنے لگتا ہے پھر اتنا ناچتا ہے کہ سر ہی ختم ہو جاتا ہے۔

ڈان نیوز پر پڑھیں

آج یہی برآمدہ اور گیلری جیسے صدیوں سے دھلنے کو ترس گئے تھے اور اس قدر شکستہ حال ہو چکے تھے کہ اگر دھل بھی جاتے تو چم چم نہ کر پاتے جیسے پندرہ بیس سال پہلے کرتے تھے . سر اکڑا کر انہیں مانجھوانے والے ذندگی سے بیزار خستہ حال جسموں میں چھتوں کو گھورتے رہتے تھے۔طاقت چلی جائے تو ملازم بھی چلے جاتے ہیں۔دنیا کی سٹیج پر ہر حسن کو زوال ہے، ہر کاملیت ایک دن شکستہ حالی بن جاتی ہے۔یہ مقدمہ اس کے سامنے بچھی گیلری کی سیم زدہ دیواروں کے بیچ چلتی بوجھل اینٹوں پر لکھا تھا۔بس اتنی ہی عمر تھی اس حسن کی شان کی بھی،اتنا ہی غرور تھا دھوتے چمکاتے ہاتھوں کے مقدر میں،بس اتنا ہی عرصہ تھا زندگی کے شاندار ہونے کا۔۔۔۔

انسان جب چمکتے سورج کی چکا چوند میں گم ہو،حسن ،طاقت اور جوانی کے عروج پر ہو تو ہمیشہ اٹھلا اٹھلا کر چلتا ہے،ایسے جیسے اس کے ماتھے پر چمکتا جواں سورج کبھی نہیں ڈھلے گا،جیسے اس کے حسن کو کبھی زوال ہی نہ ہو گا،جیسے اس کی طاقت کو کبھی للکار نہ پکڑے گی۔وہ سمجھ ہی نہیں پاتا کہ اس دنیا کا کاروبار ہی ایک پہلے سے ترتیب شدہ تسلسل پر چلتا ہے،یہی ترتیب جسے کبھی کوئی بدل نہ سکا،جو سر آج اکڑا ہے کل لازما جھکے گا،جو ہاتھ آج اٹھا ہے کل کو شکستہ حال ہو کر ایک بے جان شے کی مانند لڑکھے گا۔

گیلری کی طرف کھلتے غسل خانے کے دروازے کو سیم جانے کب سے ہڑپ کر چکی تھی۔ اس کا پیلا رنگ جیسے صدیوں سے پہچان کھو کر لکڑی کے گھسے پٹے رنگ میں ڈھل چکا تھا،لکڑی خستہ حال ہو کر جگہ جگہ سے پھول چکی تھی۔کبھی ان دروازوں کو باقاعدگی سے رگڑا اور چمکایا جاتا تھا اور اسی چمکتے دروازے سے وہ ایک دن اپنا سب سامان باہر پہنچانے کے بعد اسی دروازے کو اندر سے کنڈی لگا کے صحن کے رستے ساس اور سسر کو الوداع کرتے نکلی تھی۔نکل تو وہ اسی دروازے سے بھی سکتی تھی مگر وہ چور نہ تھی جو چھپ کر نکلتی اور پھر اسے اس گھر کے مکینوں کی حفاظت بھی مقدم تھی۔بن بتائے دروازے کھلے چھوڑ کر کیسے نکل جاتی۔ اسے روکنے والا یہاں کوئی نہ تھا اور کوئی روکنا چاہتا بھی نہ تھا۔ حالات تو شاید اس رنگ میں ڈھالے ہی اس لئے جا رہے تھے کہ وہ نکل جائے، سو وہ نکل آئی تھی۔ان دروازوں سے جو ہر وقت دھوئے اور چمکائے جاتے تھے وہ ایسے انساں کی صورت نکلی تھی جسے صدیوں سے کسی نے نظر بھر دیکھنے کی ضرورت بھی محسوس نہ کی ہو۔وہ آخری بار اپنی متاع جاں بیٹی لئے اس گھر سے نکلی تو پھر کبھی نہ لوٹی ۔

صدیاں نہیں کچھ ہی دن پہلے اس کا شوہر اسے اپنے عزیز اہل وعیال کی محفوظ رفاقت میں چھوڑ کر پردیس کے لئے نکلا تھا۔ہر بیٹے کی طرح اسے بھی لگتا تھا یہ دیواریں اور دروازے تک چمکانے والے میرے اہل وعیال میرے بیوی بچوں کو سنبھال سنبھال رکھیں گے۔پہلی ہی صبح نکلتے ساس نے سارے گھر سے اضافی بستر،گدے اور چیزوں کے اضافی ڈھیر اکٹھے کر کے اس کے کمرے میں دھکیل دھکیل ٹھونسے،ایسے جیسے اب وہ خالی ہو چکا تھا،اس چھوٹے سے کمرے میں جس میں وہ اور اس کی دو سالہ بیٹی ابھی باقی تھیں۔سلیقہ شعار گھر کے اس کمرے میں سامان ایسے بے ترتیبی اور پھوہر پن سے ٹھونسا گیا کہ ان کا بستر ان چیزوں کے ڈھیر کے پیچھے چھپ سا گیا۔شام تک سلے ہونٹوں کے ساتھ کچھ نہ کچھ دھکیل کر اس کے کمرے میں پہنچایا جاتا رہا،ایسے جیسے اس کمرے میں بیٹھے دو وجود دکھائی دینے کی صلاحیت کھو بیٹھے ہوں یا ہوا میں تحلیل ہی ہو گئے ہوں،جیسے وہ تو سب کچھ دیکھ سکتے ہوں مگر کوئی ان کو دیکھ نہ سکتا ہو،ہوتے ہوتے ایک چھوٹا سا کمرہ ایک چھوٹے سے سٹورروم میں بدل گیا جسکے پیچھے ٹٹول کر ایک پلنگ اور اس کے ساتھ رکھی کرسی دکھائی دیتی ہو۔وہ بھی ستی ساوتری بہو کی طرح چپ چپیتے بغیر سوال کے دیکھتی رہی۔

اگلے کئی دن اس کے کان کسی بولنے والوں کو ترس گئے،جانے کس عذر کی بنا پر خموشی سی طاری ہو گئی تھی،کوئی اس سے بات کرتا نہ پاس رکتا۔بولتے بولتے اسے دیکھ کر سب چپ ہونے لگے،وہ گھر میں ایک بے وقعت بوجھ کی مانند دکھنے لگی تھی۔ایک پراسرار سی قطع تعلقی ہر طرف طاری تھی۔ خود تو بول ہی نہ پاتی تھی کہ ساس نے پہلے ہی دنوں میں اسے روک کر سکھا دیا تھا کہ”ہم زیادہ بولنے والوں کو پسند نہیں کرتے ہیں” چناچہ پسند آنے کی خواہش میں وہ بغیر کچھ بولے سب کچھ دیکھتی رہی۔سارا عذاب ہی اس پسند آنے کی خواہش سے شروع ہوتا ہے کہ لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی پسند آنے کی خواہش میں دھکیل دیا جاتا ہے،اور وقت کے ساتھ ساتھ یہی پسند ان کی زندگی کا عذاب بن کر رہ جاتی ہے۔۔۔۔۔ ،

گیلری میں قدم قدم آگے بڑھتی گئی دیوار کے ساتھ جا بجا بے ہنگم تاریں لٹک رہی تھی دیواروں کی اونچائی سے لمبے لمبے جالے لٹک رہے تھے،کونوں میں گندے کپڑے اور پوچیاں سجی تھیں۔گیلری کے دوسرے کونے تک پہنچتے پہنچتے گھر کی مفلسی اور پسماندگی چیخ چیخ کر اپنا مدعا سنا چکی تھی۔کبھی اس گیلری کے آخر میں ایک چم چم کرتا صحن تھا جس پر ٹائل لگا پکا فرش روز سنواراجاتا تو لشکارے مارنے لگتا۔صحن کے ایک طرف باورچی خانے کا دروازہ اور دوسری طرف کمروں کی طرف کھلنے والا دروازہ۔قبر بننے سے پہلے یقینا یہ ایک گھر تھا۔خدا انسانوں کو گھر ہی دیتا ہے مگر انسان اپنی مرضی سے ان کو قبروں میں بدل دیتےبہیں۔ایک عمر گھر سجانے میں لگ جائے تو دوسری گھر بچانے میں لگانی پڑتی ہے۔تو جب تک مہلت تھی سروں پر سورج میٹھی میٹھی دھوپ چمکاتا رہا،گھر سجتا رہا ۔

پھر مہلت گزری تو آہستہ آہستہ سجانے کا وقت ہاتھ سے نکلتا اور بچانے کا پھیلتا گیا۔جو جگہ گھر کی بہو کے لئے نہ نکلی وہ آخر بیوا بیٹی کے لئے سر کے بل نکالنی پڑی۔بیٹی کی خاطر گھر ایک سے دو ٹکرے ہوا پھر دوسرے بیٹے کا گھر بچانے کی خاطر دو سے تین_______ تین سے چار بھی ہو سکتا تھا اگر اس صبح وہ غسل خانے کے رستے سامان باہر رکھ کر اس گھر کو الوداع نہ کہہ آئی ہوتی۔اپنے اچھے یا برے مقدر پر اس روز اس نے آمین پڑھ کر مہر لگا دی تھی۔جئیے گی یا مرے گی مگر یہ سوچ لیا تھا کہ انساں نما مجسموں میں بےجان شے کی مانند نہیں رہے گی ۔بھائی کو اس کے سسر نے گلی میں کھڑا کر کے خوب باتیں سنائی تھیں اس کے چلے جانے کے بعد۔کہ شریف لڑکیوں کے ایسے لچھن نہیں ہوتے۔ ۔وہ توقع کرتے تھے کہ مٹی کا مادھو بن کر جہاں رکھیں گے رہ جائے گی مگر وہ سر پر الزام لیکر دوسری طرف اتر گئی تھی۔۔

“لو سنبھالو اپنا صاف ستھرا خوبصورت گھر”جس میں ان کی جگہ نہ تھی_ ۔،بھائی بھی گھر آ کر خوب چیخا،بیٹیاں بیاہ کر میکے بھی تنگ دامن ہو جاتے ہیں۔ مقدرِدختران کے دھکے میکے میں بھی کھائے۔خالی کی ہوئی جگہ واپس دینا اور اتاری ہوئی زمہ داری واپس اٹھانا ہر کسی کو کھلتی ہے۔

بلالآخر میاں نے جیسے تیسے کر کے بیوی اور بیٹی کو پاس بلا لیا۔پردیس کی سڑکوں کے سوا اب کوئی سہارا نہ بچا تھا۔ دنیا میں کوئی سہارا نہ رہے تو بھی آسماں پر ایک ہاتھ رہتا ہے جو تھام لے تو انساں ہر ہاتھ سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔خدا نے ان کا ہاتھ تھام لیا ، رزق ملنے لگا تو سر چھپانے کو چھت بھی مل گئی، پردیس نے بے آسرا لوگوں کو پناہ دے دی! ۔

 کمرے میں کھلتا لکڑی کا کھٹ کھٹ کرتا شور مچاتا بوسیدہ دروازہ دھکیلا تو سامنے پلنگ پر دو سوکھے جسم جھکی ہڈیوں کے ساتھ بیٹھے نظر آئے۔جسم سکڑ گئے تھے طاقت نچڑ گئی تھی اور کندھے آسماں سے اتر کر زمین سے آ لگے تھے۔ اب منہ سے چاہ کر بھی آواز نہ نکلنا مجبوری تھی،منہ مروڑا نہ جاتا تھا،کسی کی تضحیک کے لئے “ہنہ” میں سر مارا نہ جا سکتا تھا،۔ان کے سامنے بیٹھے اسے سالہا سال پہلے کے وہ دن پھر ایک ایک کر کے یاد آنے لگے تھے۔اس گھر میں کوئی کمی نہ تھی سوائے انسانیت کے۔چیزیں تھیں ،سلیقہ تھا،اسباب تھے اناج تھا مگر ان سب سے زیادہ غرور تھا،انسانوں سے بڑھ کرچیزوں پر،چیزوں سے بڑھ کر صفائیوں پر،صفائی سے بڑھ کر اپنے اختیار اور طاقت پر۔سٹار پلس گھروں میں چلتا تھا سو سب طاقتور ساسوں کی مانند جینا چاہتے تھے۔ وہ گھر جس میں کبھی کوئی پلیٹ میز پر پڑی رہ جاتی تو چار لوگوں کے چہرے سوج جاتے،چائے پکنے میں دو منٹ تاخیر ہونے پر بند زبانوں سے دیگچیاں چلانے لگاتیں۔اسی صفائی پسند گھر میں جسے ملازم سارا دن پونچھتے مگر اس کے کمرے تک پہنچ ہی نہ پاتے۔ایسا گھر جس میں سب ایک طاقت تھے اور وہ تنہا تھی،نہتی تھی۔جس کے ساتھ کوئی کھڑا نہ ہوتا تھا جس کی آواز پر کوئی ملازم کان نہ دھرتا تھا،آج ان کے سامنے بیٹھی تھی اور وہ خموش تھے۔آج وہ بول سکتی تھی،منہ مروڑ سکتی تھی،سر اٹھا کر آواز بڑھا کر،دیگچیوں سے اونچی آواز میں چلا سکتی تھی مگر وہ خموش تھی۔ اس کے کندھے جھکے تھے اور گردن میں سریا نہ تھا۔وہ خودمختار تھی نہ طاقتور تھی،سب کچھ نہیں کر سکتی تھی چناچہ اس نے غرور بھی نہ کیا تھا_ آج بھی عزت سے بیٹھی تھی وہ جس نے ظلم کیا تھا نہ سہا تھا. ۔ وہ جو کہتے ہیں دنیا میں ظلم کا سکہ چلتا ہے ادھورا علم دیتے ہیں۔ دنیا میں ظلم کا سکہ کھوٹا سکہ ہے جو جہاں سے چلتا ہے لوٹ وہیں آتا ہے۔۔جس نے خموشی سے ظلم سہا سمجھو اس نے فرعون کا سارا کارواں ڈبو دیا۔ کچھ مثالیں تو ابھی اس کے سامنے بیٹھی تھیں۔چھوٹی تھیں مگر مکمل تھیں!

 ہم انساں سب اپنی اپنی ذندگی میں ریاستوں کی مانند ہوتے ہیں،ہمیں ہمیشہ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں کی گئی انداز حکمرانی کا جواب دینا ہوتا ہے۔مگر ہم فرعون بن بیٹھتے ہیں اور پھر ہمیں سمندر میں ڈوبنا پڑتا ہے۔ جتنی دیر بیٹھی تھی وہ جھکی نظروں کے پیچھے سالوں پرانی بستر کی چادر کی طرف دیکھتی رہی تھی جس پرجانے کتنی سلوٹیں تھیں جو پہلے ماتھوں پر ہوتی تھیں جبکہ بستر بے شکن ہوتے تھے۔ اب چہروں کی طرف دیکھنے کا اس میں حوصلہ نہ تھا جو بے شکن تھے اور بستر سلوٹوں سے اٹ چکے تھے۔،دیوار سے لٹکتے جالے آج وہ دیکھ سکتی تھی،مگر اس کے سامنے بیٹھے انساں اب دیکھ سکنے کے باوجود بھی دیکھنے کے قابل نہ تھے۔۔۔۔وہ ہر لمحے چادریں سیدھی کر کر بیٹھنے والے آج بے ترتیبی پر بے نیازی سے بیٹھے تھے۔۔۔ 

واپسی کا وقت تھا وہ اسی خموشی سے جس سے آئی تھی واپسی کے لئے اٹھی تھی۔مگر یونہی چلے جاتی تو یہ ظلم در ظلم کا سلسلہ اسی کے ساتھ چل پڑتا۔ظلم کی داستان کو وہ نئے سرے سے اپنی زندگی میں ساتھ لیجانا نہ چاہتی تھی۔۔۔ ۔ تکیے کے نیچے کچھ نوٹ دباتے اس نے ظلم کو یہیں دفن کر دیا تھا۔___________

تحریر:صوفیہ کاشف

کور ڈیزائن: ڈان نیوز