جناب والا آئیے آج آپ کو اپنے بارے میں بتاتا ہوں۔ تشریف رکھئے جناب اس حبس کے موسم میں شدتِ گرمی سے نڈھال معلوم ہورہے ہیں، پہلے آپ شربت کا گلاس پئیں اور اپنے سانس بحال کریں، میرے تھوڑے سائے پہ اکتفاء کریں اور اپنے اعمال  کے ساتھ مجھ سے اپنے سلوک پہ بھی غور کریں۔
جی جناب! آپ یقینی طور پہ تخلیق کے عمل سے آگاہ ہیں پھر بھی جان لیں کہ تخلیق کے عمل کا ایک ایک لمحہ کرب کی چادر اوڑھے ہوتا ہے تو کہیں آنکھ کی کوکھ کے سمندر میں مشاہدہ کے لیے غوطے لگانا پڑتے ہیں تو کبھی دل کے نہاں خانوں میں چھپے احساس کا جامہ پہنانا پڑتا ہے ایسے ہی چلتے چلتے اسے وقت کے تھپیڑوں کے تیز و تند رَندوں سے اپنی جلد کو کھردرا بنانا پڑتا ہے پھر اسے خونِ دل کے جام پلانا پڑتے ہیں تو زمانے کی باتیں سن کر صبر و تحمل کے ساتھ ساتھ غور و فکر کو بڑھانا پڑتا ہے تب کہیں جا کر ایک سانچہ سامنے آتا ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ وہ ہر ایک کو وہ سکون مہیا کر سکے جس کی وہ جاہ و طلب رکھتا ہے۔
ابھی کل کی بات ہے کہ ایک کسان نے مجھے زمیں میں ایک ننھے منے بیج کی مانند بویا تھا۔زمیں کی کوکھ میں جاتے ہی مجھے اپنے نا ہونے کے احساس نے گھیر لیا یقین جانئے یہ نا ہونے کا احساس ہی انسان کو اکثر معراج کی بلندیوں سے ملواتا ہے۔یہ احساس جیسے جیسے زور پکڑتا ہے ویسے ویسے انسان مختلف ذرائع  سے اپنا رزق حاصل کرنا شروع کر دیتا ہے بالکل اسی طرح زمیں میں موجود نمکیات نے مجھے چاروں طرف سے اپنی آغوش میں لے لیا تو وہیں مجھے اپنی پیاس بجھانے کے لیے پانی کی فراوانی بھی میسر آ گئی۔
چند ایام کے بعد میں نے اپنے اندر نامعلوم مخفی توانائی کے ذریعے زمیں کے پردے کو چاک کر کے اپنی آنکھ کی پُتلی سے باہر جھانکا تو آفتاب کی تابندگی سے مجھے دوبارہ اپنی آنکھوں کو مُوندنا پڑا مگر مجھے علم نہ تھا کہ آفتاب کی رَخشندگی ہی آنے والے ایّام میں میری زندگی کا سبب بنے گی اور میرے قد کاٹھ ، جسامت ، شکل و صورت ، میرے بناؤ سنگار ، میرے لباس ، آواز یعنی سرسراہٹ جو کبھی تیز تند ہوا کا پیش خیمہ بنے گی تو کبھی میرے اندر چھپے کرب کو عیاں کر کے پھل یا پھول کی صورت عیاں کرے گی پھر یہی آفتاب مجھے میرے ہونے کا احساس دلائے گا تو مجھ پہ ہریالی لائے گا کبھی مجھے اپنی ہی شیریں دھوپ میں تڑپائے گا اور کبھی ننھے بچوں کو میری چھاؤں میں بٹھائے گا۔
وقت کا پہیہ اتنی تیزی سے گھومتا ہے مجھے اس بات کا قطعی اندازہ نہ تھا میرے اندر سے نکلنے والی شاخیں ، پھل یا پھول کسی کے لیے فائدہ  مند بھی ہوں گے یا نہیں یہی احساس مجھے اندر ہی اندر دیمک کی طرح کھائے جا رہے تھا جو میری بنیادیں خالی کیے جا رہا تھا۔مجھے علم نا تھا کہ کسی مہربان کے ہاتھ سے ڈالی گئی کھاد ، پانی کی چند بوندیں ، میری اردگرد موجود جڑی بوٹیوں کی تلفی کب مجھ میں اک نیا نکھار لائیں اور میری شاخیں کب نئے پتوں سے روشناس ہوئیں مجھے احساس بھی نہ ہوا۔
ابھی چند ایام پہلے کی بات ہے کہ میں ایک سوکھا ، بُھربُھرا ، ناتواں اور ٹِھگنا سا درخت تھا جس کے بارے میں دوسرے کسانوں کی آراء تھی کہ یہ کبھی بھی نہیں پنپ سکتا ، اس کی شاخیں ایسے ہی ٹُنڈ مُنڈ سی ہو جائیں گی اور عنقریب یہ کسی کے گھر کا ایندھن بن جائے گا مگر انہیں کہاں معلوم تھا کہ یہ وہی بیج ہے جس نے زمیں میں جاتے ہی اپنے ہستی کو ختم کر دیا تھا یہ تو خود کو کسی شب کی تاریکی میں فراموش کر چکا ہے یہ وہی بیج ہے جس نے دوسروں کے لیے زندہ رہنے اور چھاؤں یا پھل دینے کا عزم کر لیا ہے اس بات سے قطع نظر کہ اس کی شاخیں کبھی چھاؤں یا پھل دے بھی پائیں گی یا نہیں۔ یہ چولہے کا ایندھن بن کر بھی کسی کے لیے چار نوالے پکنے کا ہی سبب بنے گا تو کسی نو بیاہتا کے لیے چارپائی و کرسی بنے گا گویا “ہو کر بھی نہیں ہو گا اور نا ہو کر بھی ہو گا”۔
تخلیق اِسی فنائیت کے لبادے سے نکلتی ہے اور دوسروں کے لیے عمومی طور پہ آسانیاں لاتی ہے تو کبھی دھویں کی شکل بن کر اوپر اٹھتی ہے اور خود کو گم کرتی چلی جاتی ہے کبھی آگ کی صورت خود کو گرماتی ہے تو کبھی خود دھوپ سینکتی ہے اور دوسروں کو چھاؤں دیتی ہے۔
میری چھاؤں کی الگ کہانیاں ہیں کبھی مجھ پہ منتوں کے دھاگے باندھے گئے تو کبھی بھیڑ بکریاں اور دوسرے جانور میرے سایہ میں باندھے گئے۔ننھی چڑیا نے مجھ پہ گھونسلا بنایا اور اپنے بچوں کو پروان چڑھایا، کوئل کُوکتی رہی تو طوطوں نے ٹَیں ٹَیں کی بولی لگائی، وہیں کوؤں نے کائیں کائیں کی آوازیں سنائیں تبھی بہت سے ننھی ہِیروں نے پینگیں جھولیں اور اپنی سَکھیوں کے ساتھ کھیل کھیلیں پھر بزرگوں نے اپنا پنڈال سجایا تو کتنی محفلیں سجائیں اور محبتوں کی رونقیں لگائیں۔وہیں ننھے فقیرو نے اپنی دوکان سجائی اور لوگوں کی حجامت بنائی تو بالکے نے اپنی مٹھائی؛ پکوڑے، سموسے اور جلیبی کی دوکان لگائی۔مائی کرمی نے رنگ برنگی چوڑیوں کی ٹوکری سجائی یوں جانئے کہ پورا مِینا بازار لگ گیا تھا۔خدا جانے کتنے مُسافروں نے چھاؤں میں پناہ لی۔
 اب مجھے حیرت ہے کے میری آبیاری کرنے والے چارہ گر کیوں کم ہو رہے ہیں؟کیا ان کا یقین دم توڑ گیا ہے یا بس یہ مجھ سے صرف لکڑی کے طلب گار ہیں؟میں امید کرتا ہوں کہ جلد یا بدیر انہیں زیاں کا احساس ہو جائے گا اور پھر میری طرف لوٹیں گے۔آپ بھی کبھی زمیں میں چند سانسیں بونے کی کاوش کریں یقیں کریں یہ زندگی اور اس کی خوشیاں بن کر آپ کی طرف لوٹیں گی۔خیر اندیش! آپ کا اپنا لگایا گیا شجر
محمد عظیم