ایک عرصہ سے سورج نہیں نکلا ہر طرف اندھیرا نچا رہا ہے، خوف کا پہرا ہے، سیاہ دیواریں چیخوں سے کانپ رہی ہیں۔ دیس میں برفباری ہوئی تو حب الوطنوں نے اپنے ہاتھ تاپنے کے لیے گھر ہی جلا دیے آج جب شعلے بھڑک اٹھے ہیں تو گلیوں میں خوابوں کے لاشے بچھے ہیں۔ہر طرف آگ،دھواں،جلتے مکاں،آہ و فغاں،گرم لہو،کمسن آنکھیں، بھوکے بچے،لنگڑے بوڑھے____انسانی اذیت کی بلند صدا اور وحشت طاری کردینے والی اسکی رونے کی آواز۔میں اس کو دو دہائیوں سے روتا سن رہی ہوں۔ میرے کانوں کے پردے پھٹ چکے ہیں۔میری قوتِ سماعت کھوچکی ہے۔ مگرپھر بھی اسکے رونے کی آواز میرے کانوں کے ذریعے اندر پہنچ کر میرے پھیپھڑوں اور گردوں کو نکارہ کر رہی ہے۔ “یہ کون ہے ،کیوں روتی ہے؟ “___ میں نے جھکی کمر، لنگڑی ٹانگ والے روتے ہوئے بوڑھے سے پوچھا جس کے چہار اطراف لہو ہی لہو ہے۔ناک کے نتھنوں میں ، آنکھوں کی پتلیوں میں، کانوں میں، سینے میں حتٰی کہ پورے بدن پر لہو۔میں بھی گرم گرم لہو میں نہائی ہوئی ہوں۔لیکن میرے جسمانی اعضاء سلامت ہیں اسکے باوجود مجھ میں جسمانی اعضاء ہلا کر چھونے کی طاقت نہیں ہے۔”یہ بانجھ۔۔۔۔ “اس نے لمبی تکلیف دہ ہچکی لے کر بہت اونچی آواز میں کہا تاکہ میں سن سکوں۔”افسوس یہ بانجھ ہے۔”مگر بانجھ تو عورت ہوتی ہے ،ہاں بانجھ مرد بھی ہوتا ہے۔انہونہہ۔۔ نہیں نہیں مرد بانجھ کیسے ہو سکتا ہے۔ بانجھ پن تو ویران، بے بس، محکوم کر دیتا ہے۔ مرد تو سدا سے حاکم رہا ہے، نہ وہ بےبس ہوتا ہے نہ اس کا دربار باندیوں، گوپیوں، داسیوں،لونڈیوں سے ویران ہوتا ہے۔ یا یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ مرد بانجھ ہو کر ویران ہونے کے بجائے آزاد ہو جاتا ہے۔ ارے بھئی بانجھ پن کا بھاری گٹھڑ محبت کے دو بول کے ساتھ دھیرے سے عورت کے سر پر جو رکھ دیتا ہے___”لیکن یہ کیسے بانجھ ہوئی”۔۔۔۔ میں نے حیرانی سے سوچا” نہیں نہیں یہ بانجھ نہیں،بانجھ کے اندر توبیج نہیں پنپتا اسکی کوکھ میں تو بہت سارے بیج تھے۔ ہر جنس، ہرنسل، ہر مخلوق، ہر تخلیق کا بیج “___ زچگی کروانے والی بونی اور ڈراؤنی شکل والی دائی نے دھوئیں میں لہو بدن کے ساتھ مجھ سے کہا “تو پھر روتی کیوں ہے”میں نے اکتا کر پوچھا۔ میرے لہجے سے برہم ہو کر دائی نے مخالف سمت رخ کیا اور آنکھوں سے اوجھل ہو گی۔”اب میں بانجھ کر دی گئی ہوں”__ بلاآخر وہ خود بولی”مگر تمہاری کوکھ میں تو بہت سے بیج تھے” میں نے کانوں پر ہاتھ رکھ کر چیخ کر کہا”ہاں بہت سارے بیج تھے مگر اب میں بانجھ ہو گئی ہوں،میری کوکھ کے سارے بیج ضائع ہوگئے ہیں۔میری کوکھ کے بیج اور خون ہر طرف پھیل گیا ہے، اب مجھ میں صرف راکھ ، تباہی، آنسو، بدصورتی، بانجھ پن اور ویرانی ہے۔ “مگر تم بانجھ ہوئی کیسے”؟ میں اب بھی الجھی ہوئی تھی۔”میری چھاتی پر جنگ کا تجربہ دہرایا گیا ہے۔میں بانجھ کر دی گئی ہوں۔” اس نےچھاتی پیٹ کر زور زور سے بین شروع کر دیا۔ اوہ تبھی چاروں اور لہو ہے،جوان سر نیزوں پر سجے ہیں،ساری ریاکاری راستوں پر ڈھیر ہے۔اب کی بار کس کی جنگ ہوئی” میں نے متجسس ہو کر پوچھا”دو قوموں کی ،دو نظریوں کی، دو نسلوں کی” اس نے لمحہ بھر کو رونا چھوڑ کر میرے کان میں سرگوشی کی۔اندھیرا گہرا ہو گیا۔ لہو سے میرے ذائقے کے شامے نکارہ ہو گئے،لہو کی تیزباس سے میری سونگھنے کی حس بھی ختم ہو چکی ہے۔”تم جنگجو، خون کے پیاسے دہرائے ہوئے تجربات دہراتے کیوں ہو، کیوں تمہیں اجاڑ آنکھیں اور بھنچے لب اچھے لگتے ہیں، کیوں میری کوکھ خالی کر دیتے ہو، کیوں تم صلح و آشتی کی بات نہیں کرتے”_____ بانجھ زمین کے سوالوں سے میرے اندر موجود آخری قوت قوتِ گویائی سلب ہوچکی ہے۔ میں وہیں راکھ پر ڈھیر ہوگی ہوں۔ ہاتھ بڑھا کر اس سیاہی اور اندھیرے میں ٹٹول کر کچھ لکھنا چاہتی ہوں مگر چونکہ میری ساری قوتیں مرچکی ہیں سو یہ کوشش بےسود______

————————

تحریر:مائرہ انوار راجپوت

کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف