اے میری تربت پہ رقصاں پاکیزہ روح

کیا تجھے بھی محبت ہو گئی ہے؟

محبت تو روحوں کا سفرِ مسلسل ہے

جو آئینہ دل میں القاء کیا جاتا ہے

جو دل سے دل تک محوِ پرواز ہوتا ہےتو 

پھر آسماں کی وُسعتوں کی سمت قلانچیں بھرتا ہے

یہ سفر ہواؤں کے دوش پہ اڑتا ہے

لمحات کے لمبے لمبے حسیں ڈگ بھرتا ہے

یہ صدیوں میں سِمٹتا ہے

یہ اشک کے موتیوں میں نکھرتا ہے

اس سفر کا مسافر کبھی صحرا کے طوفاں سے شناسا ہوتا ہے

تو کبھی وہیں نخلستاں تلاش لیتا ہے

یہ سِسکیاں بھرتا ہے،غم کھاتا ہے

پھر خواب و خیال کی مے پیتا ہے

جمال کا لبادہ لپیٹتا ہے، احساس کی چادر اوڑھتا ہے

آفتاب سینکتا ہے،

ماہتاب سے بغلگیر ہوتا ہے

بوئے گُل کو اپنی سانسوں سے

جسم میں اتارتا ہے،

بادہ نسیمِ صبح میں کِھلتا ہے

قطرہ شبنم کی طرح

خود کو فراموش کرتا ہے

تو قُلزم آشنا ہوتا ہے

____________