تحریر: شازیہ خان

کور ڈیزائن: طارق عزیز

________________

پا داش
قسط نمبر (12)

سلمیٰ بیگم کی موت کا غم ان کی دونوں اولا دوں کوہی شدید تھا، مگر کبیر علی تو ہر وقت کفِ افسوس ہی ملتے رہتے کہ ان کی طرف سے ماں کے لیے ایسی کوتاہی کیسے ہوگئی؟کیسے وہ گہری نیند سوئے رہ گئے اور ان کی ماں انہیں چھوڑکر چلی گئی۔۔۔ وہ اس وقت کیسے میٹھی نیند سوئے رہے جب ان کی ماں نیند سے اٹھ کرانہیں تکلیف میں آواز دے رہی تھی۔۔۔نہ جا نے کتنی شدید تکلیف ہو گی۔۔۔اب ہر رات یہ تکلیف دہ سوا ل ان کے آگے کھڑا انہیں سر سے پیر تک لرزا دیتا۔۔۔وہ ماں جو رات رات جا گ کر ان کی بیما ری میں ان کی نگرانی کرتی تھی اور وہ ایک رات بھی ان کے پاس نہ رہ سکے لیکن انہیں حیرانی تھی کہ اگر اما ں نے بیل بجا ئی تھی تو ان کی آنکھ کیوں نہ کھل پا ئی۔۔۔ یہ سوال انہو ں نے بہتے آنسوؤ ں کے ساتھ سا معہ سے بھی کیا۔۔۔” آپ دن بھر کے تھکے اتنی گہری نیند سوتے ہیں کہ مجھے تورشک آتا ہے آپ کی نیند پر”۔۔۔لیکن وہ سا معہ سے یہ سوال نہ کر سکے کہ آخر میں تھکا ہوا گہری نیند میں تھا تو تم تو اٹھ سکتی تھیں تم کیوں نہ اٹھ سکیں۔۔۔ ثنا کی حا لت بہت خراب تھی۔۔۔وہ صرف چند دن رُک کر واپس چلی گئی۔ گھر میں اب سامعہ کا راج تھا۔چند دنوں کے بعد ہی اس نے اماں کا سارا ساما ن کام والی کو دے دیا اور اس کمرے میں نیا بیڈ اور دیگر ساما ن ڈلوایا۔۔۔بس کونے میں ایک پرانی سی الماری رہ گئی تھی ایک دن ثنا جب بھائی سے ملنے آئی تو اسے اماں کے کمرے کی ایک نئی صورت دیکھ کر بہت دُکھ ہوا۔۔۔”کم ازکم سامعہ ان کا بیڈ تو نہ نکالتیں۔۔۔ اس کمرے میں داخل ہوتے ہی بیڈ پر نظر پڑتی تھی اور اماں یا د آجا تی تھیں “۔۔۔وہ روہا نسی تھی۔۔۔ ”اسی لیے تو نکال دیا تمہا رے بھا ئی بھی گھنٹوں ان کے بیڈ پر بیٹھ کر روتے رہتے۔۔۔بلکہ ایک رات تو یہیں سو گئے۔۔۔رات بھر میں اکیلی اوپر ان کا انتظا ر کرتی رہی۔۔۔اور ڈرتی رہی۔۔۔دیکھو اب خا لہ تو زند ہ نہیں لیکن جو زندہ ہیں انہیں تو درگو ر نہ کیا جائے۔”
وہ اس با ر بہت سخت دل ہو رہی تھی۔۔۔ اسے ذرا احسا س نہ تھاکہ اس کی با تیں ثنا کے دل پر کتنا بوجھ بڑھا رہی ہیں۔۔۔گھر کے بزرگ چلے جا تے ہیں تو ان کی یا دوں سے ہی دعائیں لی جا تی ہیں اور یہا ں اس کو احساس تک نہ تھاکہ وہ کتنی پتھر دل ہو چکی تھی۔۔۔ ایک بیٹی کے سامنے اس کی ما ں کا اس طرح ذکر کر رہی تھی جیسے کسی غیر کا ذکر ہو رہا ہو۔۔۔ثنا نے سو چ لیا تھا اب کوشش کرے گی کہ کم سے کم ہی اس گھر میں آئے۔۔۔۔وہ کمرے میں موجود ماں کی خوشبو سے لپٹ کر خوب روئی۔۔۔جا نے والے اپنے ساتھ اپنی خوشبو کیوں نہیں لے جا تے۔۔۔ ان کے کپڑے میں بسی ہوئی خوشبو سا لوں ان کا احساس دلا کر رُلا تی ہے۔۔۔ وہ اس دن ان کی خوشبو سے لپٹ کر آخری با ر روئی۔۔۔اتنا روئی کہ ہچکیا ں بندھ گئیں۔۔۔اسی لمحے سامعہ کسی کام سے ادھر آئی تو اسے روتا دیکھ کر رُک گئی۔۔۔۔لیکن اس سے کچھ بولی اور نہ ہی گلے لگا کر چپ کر وایا۔۔۔بس ایک نظر ڈال کر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ثنا نے بھی اس کا آنا محسوس کر لیا تھا۔۔۔اسی لیے جلدی سے آنسو پونچھ لئے۔۔۔شام کو کبیر علی کے آنے پر وہ گھر چلی گئی۔۔۔ان کواماں کی بچی کھچی الما ری کو کسی کے حوالے کرنے کا کہہ کر۔۔۔ اس میں سے کبیر علی کو دِکھا کر اماں کی چند ضروری چیزیں ساتھ لے گئی۔۔۔ویسے بھی زیورات وغیرہ تو سلمیٰ بیگم نے اپنی زندگی میں ہی بہو اور بیٹی دونوں کے درمیان برابر برابر تقسیم کر دیئے تھے۔۔۔اور کوئی قیمتی چیز اس الما ری میں موجود نہ تھی۔۔۔لیکن پھر بھی یہ با ت سامعہ کو سخت نا گوار گذری کہ اماں کی الماری سب کے سامنے کھلنی چا ہیے تھی جس طرح ثنا بیٹی ہے کبیر علی بھی سلمیٰ بیگم کی اولاد تھے اور انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ماں کے جا نے کے بعدانکا بقیہ سامان کتنا تھا۔۔۔ وہ شاید الماری بھی کھول لیتی لیکن اسکی چابی ثنا کے پاس تھی اسی لیے الما ری کُھلنے اور بکنے سے بچ گئی۔۔۔ ثنا سمجھ چکی تھی کہ اب اس کی اہمیت اس گھر میں وہ نہیں رہی تھی جو کبھی ما ں کے زمانے میں تھی۔۔۔اسے بہت دکھ تھا۔۔۔سامعہ یوں بدل چکی تھی جیسے اس کا سلمیٰ بیگم سے کوئی رشتہ ہی نہ تھا۔۔۔ساس سمجھ کر نہیں کم ازکم خا لہ سمجھ کر ہی ان کی یادوں کو تازہ رکھنے کی کوشش کر لیتی۔۔۔ نہ جا نے اسے ثنا سے اتنا بیر کیوں ہو گیا تھا۔اس کے آنے پر خوشی کا کوئی لمحہ اس کے چہرے پر نہ ابھر تا اکتائی اکتائی سی پھر تی۔۔۔چلتے پھرتے چائے پانی پوچھ لیایا اس کی نوکرانی نے چائے کے سا تھ چند لوازمات اس کے سامنے رکھ دیئے اور وہ چائے سے زیا دہ آنسوپیتے یہی سوچتی کہ واقعی ماں کے بعد میکا میکا نہیں رہتا۔۔۔بھائی کتنی بھی کوشش کر لیں۔۔۔اگر بھا بھیا ں نہ چاہیں تو بہنوں کو چند دنوں میں ہی پرایا بنا دیا جاتا ہے۔۔۔اور آج گھر کے چپے چپے کی مالک ثنا بالکل پرائی بنا دی گئی۔۔۔کبیر علی آفس میں تھے۔۔۔وہ آئی اسی لیے تھی کہ اماں کی واحد نشانی الماری میں موجود چند بچی کھچی یادوں کو اپنے ساتھ لے جا ئے لیکن اس کی چابی ثنا سے بھی کہیں گم ہو گئی تھی۔۔۔فون کر کے کبیر علی سے الماری کا تالا توڑنے کا پوچھا اور کارپینٹر کو بلوا کر الماری کھولی گئی۔ اُس میں اماں کا ساما ن نکا لا جو ان کے کپڑے تھے وہ کام والی کو دیے باقی چھوٹی موٹی پرانی چیزیں البمز، عطر اور اسی طرح کی دوسری چیزیں جو شاید کسی کے کام کی نہیں لیکن اس کی عمر کی کمائی تھی۔۔۔سامعہ کا خیال تھا کہ ضرور الماری میں قیمتی چیزیں تھیں ثنا نے نکال لیں۔۔۔لیکن کبیر علی نے اس کی با ت پر کوئی توجہ نہ دی۔۔۔انہیں سامعہ فضول با توں سے کو ئی دلچسپی نہ تھی وہ نظر انداز کرنا بہ خوبی جا نتے تھے۔۔۔ان کے خا ندان کی آخری نشا نی اب ایک بہن ہی رہ گئی تھی اور وہ اس کے اور اپنے درمیا ن کوئی فرق نہیں لانا چاہتے تھے۔۔۔اسی لئے سامعہ کی بات سن کر نظر اند از کردیا۔۔۔ظاہرسی بات ہے فضول با توں کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔۔۔ حالاں کہ جواب تو تھا کہ تم نے اماں کے کمرے سے ان کی با قی سامان ادھر ادھر کر دیا میں یا میری بہن کچھ نہیں بولے تو ا ب کیو ں بولوں۔۔۔سامعہ کلس کر رہ گئی۔۔
x۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔x
ثنا پریگنینٹ ہو چکی تھی۔۔۔اور اسے لمحہ لمحہ اماں کی کمی محسوس ہو رہی تھی کتنا خو ش ہوتیں وہ اس خبر کو سن کر۔۔۔اس نے پھر بھی سامعہ کو بتا نا ضروری سمجھا۔۔۔اور فون کر ڈالا۔۔۔”سنو سامعہ اللہ نے مجھے بھی اس درجے پر فائز کرنے کا اعزاز بخش دیا جس درجے پر تم ہو۔۔۔”وہ بڑی خوشی سے سامعہ کو بتا رہی تھی۔۔۔بے وقوف ہو تم ابھی شا دی کو دن ہی کتنے ہو ئے ہیں کم ازکم ایک سا ل تو انجوائے کرتیں ”دوسری طرف سے تلقین شاہ کا تلقین نا مہ شروع ہو گیا نا کہ اس کو مبارک با د دیتی اس نے ثنا کو سمجھا نا شروع کردیا۔۔۔جس سے ثنا نے بور ہو کر فون بند کردیا۔۔۔اس کا د ل تھا کہ کسی نہ کسی اپنے کو تو یہ بڑی خبر سنا تی اور وہ جواب میں اسے ڈھیر ساری دعا ئیں دیتا اب کبیر علی سے وہ کتنی ہی فری کیو ں نہ ہوتی یہ با ت تو نہیں بتائی جا سکتی تھی۔۔۔اچانک یا شاید اماں کا خیا ل آنے کے بعد دوسرا خیا ل اسے خالہ کا آیا اس نے فورا بے ارادہ خا لہ کا نمبر ڈائل کر دیا اور انہیں یہ خبر سنائی۔۔۔وہ تو پھولے نہیں سمائیں اور ڈھیر ساری دعائیں دیں بالکل اماں کے اندا ز میں۔۔۔او ر آگے آنے والے وقت کے لئے ڈھیروں نصیحتیں بھی شروع کر دیں۔۔۔میں تمہیں بھی میوؤں والا حلوہ بھجواؤ ں گی۔۔۔سامعہ کو بھیجا تھا اس نے تو بڑا اعتراض کیا اگر تمہیں کو ئی اعتراض نہ ہو تو بھجوا دوں۔۔۔ تمہارے اور بچے کی صحت کے لئے یہ بہت اچھی چیز ہے۔۔۔ اللہ بخشے تمہا ری اماں نے میر ے دونوں بچوں پر ڈھیرسا رے اصلی گھی میں بنا کر بھیجا تھا۔۔۔اسے کھا کر ہڈیا ں مضبوط رہتی ہیں ماں اور بچے کی۔۔۔”وہ بڑے مان سے کہہ رہی تھیں۔۔۔اور ان کی یہی محبت تو وہ اس وقت چا ہتی تھی بھلا کس طرح انکا ر کر دیتی “ارے خا لہ ضرور بھجوائیں بلکہ جب تیا ر ہو جا ئے تو بتا دیجئے گا میں خود ہی آکر لے جا ؤں گی “۔۔۔ وہ بہت محبت سے کہہ رہی تھی اور خالہ اس کی با ت پر نہا ل ہو گئیں۔۔۔آخروہ ان کی اسی بہن کی بیٹی تھی جس کے پورپور میں محبت بھری تھی۔۔۔آج اس کے کام آکر وہ کتنی خوشی محسوس کر رہی تھیں یہ کو ئی ان سے ہی پوچھتا۔۔۔اور پھرانہوں نے دودن کے اندر ہی دکا ن پر کام کرنے والے لڑکے سے سارا ساما ن منگواکر میوے والا نرم سوجی کا حلوہ دیسی گھی میں بنا یا اور ثنا کو فون کر دیا۔۔۔وہ خود خا لہ کے پاس پہنچ گئی۔۔۔ کا فی عرصے سے وہ خا لہ اور خا لو کے پا س بھی نہ گئی تھی اسی بہا نے وہ ا ن سے مل بھی لی۔۔۔ان کے پاس سے بھی اماں کی خوشبو آتی تھی۔۔۔خالہ اس سے گلے لگا کر رو پڑیں۔۔۔اس کے سر سے ہزار کا نوٹ اتا را اور غریب کو دینے کی تا کیدکرتے ہوئے ثنا کو دے دیا۔۔۔وہ اتنی محبت پر ہی فدا ہو گئی۔۔۔ خا لہ خا لو کے لئے وہ کا فی سارے گفٹس اور فروٹ لا ئی تھی۔۔۔ اس نے دوپہر کا کھا نا ان کے ساتھ ہی کھا یا۔۔۔ سب نے مل کر اماں کو خوب یا د کیا۔۔۔خا لہ تو انہیں یاد کر کے کئی با ر رو پڑیں شاید انہیں بھی اپنی بیٹی کے بدصورت رویے کا احسا س تھا اسی لئے اپنی طرف سے ہر کوشش کر رہی تھیں کہ ثنا کا غم بٹا سکیں اور ثنا کو بھی اس وقت اپنی اس خبر کے بعد پہلی بار دل سے خوش ہوئی۔۔۔ لگ رہاتھا کہ وہ اپنا وقت اما ں کے سا تھ گزار رہی ہے۔۔۔اور وہ اس کی خد متیں کرکے اپنی خوشی کا اظہا ر کر رہی ہیں۔۔۔اس نے وہ پور ا دن خا لہ خالو کے سا تھ خو شی خوشی گزارا۔۔۔ رات کو رضوان خود اسے لینے آئے جس پر خالہ اور خالو اور زیا دہ خوش ہو گئے۔۔۔اور دونوں کو لمبی عمر اور ڈھیر ساری خو شیوں کی دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔۔۔نابید بیگم کو جو خو شی اور خوبصورتی ثنا کے چہر ے پر نظر آرہی تھی وہ خو د ان کی اپنی بیٹی کے چہرے پر مفقود تھی۔۔۔وہ تو آنے والی اولا د کو ایک بوجھ تصور کئے بیٹھی تھی بلکہ باتوں میں ماں سے کہہ چکی تھی کہ وہ ابھی اس بوجھ کو نہیں اٹھا سکتی اگر وہ پسند کریں بچے کی پیدائش کے بعد بچہ ان کے حوالے کردے گی۔۔۔ انہوں نے فورا منع کر دیا۔۔۔کہ نہیں بھائی تمہا رے ابا کی ذمہ داریا ں ہی بہت ہیں میں مزید کوئی اور ذمہ داری نہیں اٹھا سکتی اپنی اولاد خود پالو۔۔۔میری بوڑھی ہڈیوں میں اب اتنا دم نہیں کہ تمہا ری اولا دسنبھال سکوں۔
x۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔x
سامعہ نے ثنا کی دیکھا دیکھی کبیرعلی سے زبر دستی کہہ کرایک بہت بڑے ہا سپٹل میں نا م لکھوایا تھا۔۔۔جس کی ڈاکٹر نا رمل کیس کو بھی آپریشن کیس میں بد لنے میں مشہور تھی اور فیس لا کھو ں میں وصول کرتی۔۔۔کبیر علی خر چے کا سن کر پریشان تھے لیکن کچھ نہ کہہ سکے اورناچار آفس سے لون کے لیے اپلا ئی کر دیا۔۔۔لون سائن کرنے سے پہلے رضوان نے انہیں بلا بھیجا اور پو چھا کہ اتنا بڑا لون لینے کی کیا ضرورت۔۔۔اگر زیا دہ مجبوری ہے تو میں آپ کو ویسے ہی دے دیتا ہوں۔۔۔لیکن انھوں نے شکریہ کے ساتھ لون پر ہی اصرار کیا۔۔۔یہ بات رضوان نے ثنا کو بتائی تو ثنا نے کبیر علی سے خود بات کر نے کا فیصلہ کیا۔۔۔لیکن اس کے لیے فون پر بات نہیں کی جا سکتی تھی۔۔۔وہ ایک شام گھر پہنچ گئی۔۔۔کبیر علی گھر پر اکیلے تھے۔۔۔سامعہ بچے کی شاپنگ کے لیے اپنی کام والی کے ساتھ با زار گئی ہوئی تھی۔۔۔اس نے موقع دیکھ کر با ت چھیڑی تو وہ بھی پھٹ پڑے۔۔۔ آج پہلی با ر انہیں ثنا نے سامعہ کی شکا یت کرتے سنا تھا آخر انسان تھے دوسرے انسان کی بے حسی کب تک برداشت کرتے۔۔۔ بے شک وہ ان کی محبوب بیوی ہی کیوں نہ ہو۔۔۔یہ لون کا فیصلہ انہوں نے آخری حد پر جا کر کیا تھا اور یہ بھی بتا یا کہ شاید وہ اب رضوان کی نوکری چھوڑ کر خو داپنا کوئی بزنس اسٹا رٹ کر لیں گے۔۔۔ اتنے خرچوں کے بعد اب تنخواہ میں گزارا نہیں ہورہا۔۔۔”لیکن بھا ئی ہم نے تو اس سے بھی کم تنخواہ میں گزاراکیا تھا آپ کو یا د ہے بلکہ اماں اس میں سے بھی بچتیں کرتی تھیں۔۔۔ جب کبھی آپ کو ضرورت ہوتی ان کے پاس سے پیسے نکل آتے اور آپ کو آفس سے ادھار لینے کی کبھی ضرورت نہیں پڑی۔۔۔ رضوان بتا رہے تھے کہ آپ نے اس سال چھٹی با ر لون لیا تھا ”وہ حیران تھی کہ بھائی کو اتنا لون لینے کی کیوں ضرورت پڑرہی ہے ”وہ اما ں تھیں ثنا یہا ں سامعہ ہے جسے اپنے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔۔۔ شا پنگ شاپنگ اور صرف شاپنگ پتا نہیں کون سی حرص ہے جو بھرتی نہیں ہر مہینے 15تا ریخ کو پیسے ختم ہو جاتے ہیں اور پھر دوبا رہ لیتی ہے۔۔۔اب تمہا ری حرص میں اسی ہا سپٹل میں نام لکھوایا حالا نکہ پرانے ہاسپٹل میں اتنے مہینوں سے لیڈی ڈاکٹرسے چیک کرارہی ہے مطمئن بھی تھی لیکن اچانک میٹر آؤ ٹ ہو گیا۔”
وہ بہت افسوس کر رہے تھے اور ساتھ ہی ثنا کو بھی افسوس ہو رہا تھا کہ اسے سامعہ سے اتنی حما قتوں کی بالکل توقع نہ تھی سمجھتی تھی کہ نئی نئی شادی ہوئی ہے چند دنوں میں عقل آجائے گی لیکن یہاں تو اس کے بھائی کی پریشانیوں میں روزبہ روزاضا فہ ہو رہا تھا۔۔۔مگروہ کچھ بھی نہیں کہہ سکتی۔۔۔سوائے بھائی کا دکھ بٹا نے کے۔۔۔” “اوہوآج موقع مل گیا تو بھائی بہن میں بھاوج کی برائیاں ہورہی ہیں۔۔۔اچھا موقع مل گیا آپ دونوں کو میری برائیا ں کرنے کا۔۔۔”بوتل کے جن کی طرح نہ جانے وہ کب نمودار ہو ئی اور دونوں کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔۔۔”نہیں نہیں سامعہ ایسی بات نہیں بھا ئی تمہاری برائی نہیں کررہے تھے وہ تو ہم۔۔۔ثنا نے اس کی آنکھوں میں غصے کے شرارے دیکھتے ہوئے ہکلا کر کہا لیکن اس نے ہاتھ اٹھا کر اس کی با ت کاٹ دی۔۔۔” بس!تم تو خاموش ہی رہو تمہیں تو میری خوشیا ں کبھی ہضم ہی نہیں ہوتیں۔۔۔جو میرے میاں کو بھڑکا نے چلی آتی ہو۔۔۔خودعیش کر رہی ہو۔۔۔اور میری ذرا سی خواہش اور خو شی تم دونوں بہن بھائیوں سے برداشت نہیں ہوتی۔۔۔”وہ بہت غصے میں تھی اس نے باہر کھڑے دونوں کی با ت سن لی تھی۔۔۔کبیر علی بھی شرمندہ سے تھے۔۔۔آج پہلی بار ان سے یہ جرم سرزدہو ا اور پہلی بار ہی پکڑے گئے۔۔۔حالا نکہ یہ جرم نہ تھا اپنے دل کا غم اپنی بہن سے شیئر کرناکوئی گناہ تو نہ تھا۔۔۔لیکن وہ مجرم ٹھہرائے گئے۔۔۔اور اس کی پا داش میں اب ساری عمر انہیں اسی جرم کی باتیں سننا پڑیں گی۔۔۔
”دیکھو سامعہ!بھائی اتنا غلط بھی نہیں کہہ رہے تھے ان پر کمپنی کا اتنا زیا دہ لون ہو گیا ہے کہ اب مزید لون نہیں لے سکتے یہی با ت بھا ئی کو سمجھا نے آئی تھی۔۔۔وہ اسے سمجھا نے لگی تو سامعہ مزید بھڑک گئی۔۔۔میرا میاں جتنی محنت تمہاری کمپنی کے لیے کرتا ہے اتنی تنخواہ تم لوگ کب دیتے ہو؟اگر کبھی کبھا رلو ن لے لیا تو تمہارا میاں تمہیں بھیج کر کہلوا بھیجتا ہے کہ اب بس کرو۔۔۔اسی لیے میں ان سے کہتی ہوں کہ بس کریں یہ غلا میاں اب اپنا کام شروع کریں۔۔۔جتنی محنت دوسروں کے کام میں کرتے ہیں آدھی بھی اپنی کمپنی کے لیے کریں گے تو مالا مال ہوجا ئیں گے یہ تو وہی مثا ل ہوئی۔۔۔دکھ سہیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھا ئیں۔۔۔وہ موقع سے پورا فائدہ اٹھا رہی تھی۔۔۔اسے معلوم تھاکہ کبیر علی کو موقع پر پکڑکر اس نے ان کا مقدمہ کمزور کر دیا تھا اور اب جس طرح چاہے وہ ان دونوں کے ساتھ سلوک کر سکتی تھی۔۔۔” یہ تم کیسی با تیں کر رہی ہو سامعہ! رضوان نے کبھی ایسا سو چا بھی نہیں۔۔۔”وہ حیرانی سے اس کے دل میں بھرے زہر کو سن رہی تھی۔۔۔کتنا زہر بھرا تھا اس کے دل میں۔۔۔”تم کیوں سوچو گی تمہارا شوہر تو میرے شوہر کی صلا حیتیوں سے سالوں کا فائد ہ اٹھا چکا ہے۔۔۔اب بس کرو۔۔۔جان چھوڑ و ہماری”۔۔۔اس نے ہا تھ جوڑے۔۔۔تو ثنا نے بہت بے بسی سے بھا ئی کی طرف دیکھا کہ وہ کچھ تو بولیں تو کبیر علی نے کمرے سے نکل جا نا ہی مناسب سمجھا۔۔۔ثنا کی طرف سے بولنے کا مطلب تھا ان کے گھر میں سامعہ کی بھڑکا ئی ہوئی آگ مزید بھڑک اٹھے گی۔۔۔اور وہی ہوا آیان کی پیدائش سے پہلے ہی کبیر علی نے اپنی جمع پونجی اور کمپنی کے پراویڈنٹ فنڈسے نیا کاروبا ر شروع کرلیا۔۔۔اور اللہ کا کرنا ایسا ہو ا کہ آیان کی پیدائش کی برکت سے اس میں دن بہ دن دگنی رات چوگنی ترقی ہو نے لگی۔۔۔سامعہ بیگم تو اپنے فیصلے پر اس قدر اترار ہی تھیں کہ یہ ساری ترقی ان کے مرہون منت تھی۔۔۔اب تو ان کے خرچوں میں مزید اضا فہ ہوگیا تھا۔۔۔ان کا خیا ل تھا کہ مرد کمانے کے لیے اور عورتیں ان کا پیسہ لٹانے کے لیے پیداہوتی ہیں۔۔۔اپنی پارٹیوں کی وجہ سے و ہ اپنے بچے کو بھی ٹا ئم نہیں دے پاتی تو اس کے لیے ایک اور نوکرانی رکھی گئی۔۔۔ آیان کی پیدائش کے چند مہینوں بعد ہی ایمان نے ثنا کے گھر جنم لیا۔۔۔پیاری سی گول مٹول گوری چٹی ایمان سب کی آنکھ کا تا را تھی۔۔۔وقت جیسے پر لگا کراڑ رہا تھا۔۔۔ دونوں بچے بڑے ہوگئے۔۔۔اسی دوران ابا بھی گزر گئے۔۔۔اماں شدید بیما ر تھیں جوڑوں کے درد نے انہیں کہیں کا نہ چھوڑا۔۔۔سامعہ اور کبیر علی انہیں اپنے پا س ہی لے آئے اور اماں والے کمرے میں ان کی رہا ئش کا انتظام کر دیا۔۔۔ساتھ ایک نوکرا نی رکھ دی تاکہ اکیلے ان کا دل نہ گبھرائے۔وہ زیا دہ تر وقت آیان کے ساتھ گزارتیں۔۔۔جب وہ کسی پارٹی یا شاپنگ پر جا تی تو آیان کی میڈآیان کو لے کر نیچے والے پورشن میں آجا تی۔۔۔اماں کو بھی اس کی روزانہ نت نئی رنگ برنگی سر گرمیوں پر بہت اعتراض تھا۔۔۔ وہ چاہتی تھیں کہ سامعہ ثنا کی طر ح اس وقت اپنے بچے کو بھرپور ٹائم دے لیکن اس نے تو جیسے اپنے ہر خواب کو پورا کرنے کی قسم کھارکھی تھی۔۔۔جنہیں پورا کرنے کے لیے وہ ہر حد سے گزر سکتی تھی۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔x
آج سامعہ پارٹی سے جلدی واپس آگئی۔اس کی طبعیت کچھ ٹھیک نہ تھی۔۔۔گھر آئی تو کمرے میں گھستے ہی آیان کی میڈ نے بتا یا کہ آیان کو صبح سے بہت تیز بخا ر تھا۔اسے یا د آیا کہ رات سے ہی اس کی نا ک بہہ رہی تھی، اور چھینکیں بھی آرہی تھیں لیکن سامعہ کی دوست کی اچا نک کال نے اسے بیٹے کی طرف سے لا پروہ کر دیا۔۔۔ حا دثا تی طور پر بننے والی اس نئی دوست کے گھر ایک بڑی پارٹی تھی۔۔۔ جہا ں اس کے دوست کی بہ قول کچھ ڈرا مہ آرٹسٹ بھی آرہے تھے۔۔۔بچپن سے اس کے دل میں دبی آرٹسٹ بننے کی خواہش شاید کوئی راہ پکڑلے۔۔۔یہی سوچ کر اس نے فورا تیا ری پکڑی مگر واہ ری قسمت وہا ں آرٹسٹ اپنی مصروفیا ت کی بنا پر نہ آسکے۔۔۔ وہ دل مار کر رہ گئی۔۔۔اسی لیے جلدی اٹھ کر آگئی۔۔۔کا لج میں سہیلیوں کا خیا ل تھا کہ سا معہ تم بنی بنائی پرفیکٹ ہیروئن ہو۔۔۔ بس کسی ڈرامہ بنا نے والی کی تم پر نظر پڑی اور تم ہیروئن بن جا ؤ گی۔۔۔ ابا جی کی سختی کی وجہ سے اس نے اپنے دل میں ہی اپنی خوا ہش کو مار رکھا۔۔۔ لیکن اب جہاں آزادی کے اتنے سارے راستے خود بہ خود کھل چکے تھے۔۔۔تو اس راہ کو بھی آزما نے میں کیا برائی تھی۔۔۔ پرانی خواہش ایک مکمل ارما ن کی صورت دل سے بہ رہی تھی۔۔دل ایک نئی راہ ڈھونڈ رہا تھا اور وہ اپنی جنت کو چھوڑ کر اس راہ پہ بھٹک رہی تھی جو شاید اسے سکون کبھی نہ دے سکتی۔۔۔ آیان اماں کے پاس تھا۔۔۔ وہ نیچے آئی اور آیان کو دیکھا تو وہ شدید بخا ر میں پھنک رہا تھا۔۔۔ ”سا معہ کتنی کالزکی ہیں تمہیں تمہارا فو ن بھی آف تھا۔۔۔ کہا ں تھیں تم؟۔۔۔کبیر نے ڈرائیور سے بھی پوچھا اس نے بتا یا کہ تمہیں کسی با جی کے گھر چھوڑ کر آیا ہے۔۔۔تمہیں تو اس ننھی سی جا ن کا بالکل خیا ل نہیں۔۔۔اماں نے بھی اس پر چڑھا ئی کر دی۔۔۔لیکن اس نے ان کی کسی با ت کا جواب نہ دیا آیان کو لے کر اوپر آگئی۔۔۔ میڈ نے بتا یا کبیر علی آفس سے اٹھ کر آئے تھے اور بیٹے کو ڈاکٹر کو دکھا کر دوائی دے کر واپس آفس چلے گئے ہیں۔۔۔ اس نے موبا ئل آن کیا تو ان کی بہت ساری مسڈکا ل تھیں لیکن وہ قطعی شرمندہ نہ ہوئی۔۔۔اس کی زندگی پر اس کا پو را حق تھا اب کوئی اپنی اولاد کے لیے اپنی خو اہشا ت کو تھوڑی ما ر سکتا ہے۔۔۔کا ش کوئی اسے بتاتا کہ ماں تو نام ہی اپنی اولا د کے لیے اپنی خوا ہشا ت کو ما ر نے کا ہے۔۔۔ کتنی خواتین اپنے کیرئیر کی peakپر جا کر صرف اپنی اولا د کے لیے سب کچھ چھوڑ دیتی ہیں۔۔۔ ما متا قربا نی ہی تو مانگتی ہے۔۔۔ اگر یہ قربا نی نہ ہوتی تو صفا اورمر وہ کی تپتی ریت پر ایک ماں اپنے بچے کی پیا س بجھا نے کے لیے کیسے ننگے پاؤں دوڑتی۔۔۔ تاریخ میں ما ؤں کی کسی نہ کسی قربا نی کے بعد ہی سو رما ؤں کی پر ورش ہو ئی تھی۔۔۔اسے بالکل شرمندگی نہ تھی کہ اس نے اپنی اولا د پر اس پا رٹی کو تر جیح دی۔۔وہ اب کسی بھی قیمت پر اپنی زندگی کی سا ری دلی خو اہشا ت کوپورا کرنا چاہتی تھی۔۔۔کتنی خود غرض ہو چکی تھی۔۔۔نہ اسے شوہر کا خیا ل تھا۔۔۔ نہ ماں اور بچے کا۔۔۔نئی نئی دوستیاں بن رہی تھیں۔۔۔جو صرف اس کے پیسے کو دیکھ کر اس کے اردگرد منڈلاتیں۔۔۔وہ کھل کر تحائف با نٹتی۔۔۔پا ر ٹیاں کرتی۔۔۔ مہنگے سے مہنگے بو فے اور ڈنر میں اپنی دوستوں کو انوائٹ کرتی۔۔۔ اماں بھی حیرا ن تھیں کہ یہ نئی دوستیاں کس طرح روز بہ روزاس کی لسٹ میں شامل ہو رہی تھیں۔وہ روزکسی نہ کسی نئی دوست کا قصہ سنا تی۔۔۔ جس سے دوستی کسی اور دوست کی پارٹی یا ڈنر میں ملا قا ت کے بعد ہو تی۔۔۔اب تو کبھی کبھار سگریٹ پینے والی دوستوں نے اسے سگریٹ کے بھی دو تین کش لگوا دیئے تھے۔۔۔یہ کہہ کر کہ اس کلاس میں اگر موو کرنا ہے تو یہ سب تو کر نا ہو گا۔۔۔لیکن اس نے پوری کوشش کی کہ اس کی عادی نہ ہو پائے۔۔۔شوقیہ پینے اور عا دی بننے میں بہت فرق تھا۔۔۔اور وہ اس فرق کو ملحوظ رکھنا چاہتی تھی۔۔۔ان پارٹیز میں اکثر شرا ب بھی کھلے عام پی جا تی مگر مولوی ظفر الحق بیٹی میں اب اتنی حیا تو با قی تھی۔۔۔کہ اس شیطان کی بیٹی کو ہا تھ نہ لگا ئے۔۔۔اس لائف میں اسے بہت مزہ آرہا تھا۔۔۔ وہ خود کبھی نہیں سوچ سکتی تھی کہ وہ اتنی آزاد خیا ل ہو سکتی تھی۔۔۔لیکن نہ جا نے کیسی گھٹن تھی جس سے با ہر آنے کے لیے وہ یہ سب کچھ رہی تھی مگرنہیں معلوم تھا کہ وہا ں سوائے اندھیروں کے اس کے ہا تھ کچھ نہیں آئے گا۔۔۔ جب انسان کی عقل پر پردہ پڑجا ئے اور اپنا اچھا برا سمجھنا چھوڑ دے توپھر اس کا رب بھی اس کا ہاتھ چھوڑ دیتا ہے۔۔۔شیطان اسے انہی خوا ہشات کا غلا م بنا دیتاہ ہے جن پر چل کر یہ اصل منزل کھو بیٹھتے ہیں۔۔۔اور اسے اندازہ بھی نہ تھا کہ اس کے ہاتھ سے وقت کی طنا بوں کے ساتھ منزل بھی دھیر ے دھیرے دور ہو رہی ہے۔
x۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔x
میم صباح آج بہت دیر سے بے دار ہوئیں۔رات پارٹی بہت دیر سے ختم ہوئی تھی۔۔۔لڑکیوں کو اپنے اپنے کمرے تک بھیجتے ہوئے کا فی ٹائم ہو گیا تھا۔۔۔پھر ایک پولیس والا اپنا حصہ لینے آیا تو اس کی ‘دلداری ”کرتے کا فی دیر گزر گئی۔۔۔ سوتے سوتے جسم کسل مندی کا شکا ر تھا۔۔۔رافیہ کا فی کا کپ دے گئی۔۔۔جو انہوں نے کچھ کھلتی اور بند ہو تی آنکھوں کے ساتھ ختم کیا۔ساتھ بہت کچھ سوچ بھی رہی تھی۔رات کا فی بڑا ہنگامہ ہوتے ہوتے رہ گیا تھا۔۔۔ایک بڑی پوسٹ پر موجود پولیس والے کا بیٹا ان کی پارٹی میں موجود تھا۔۔۔ جسے ان کی اس کی خدمت پر لگائی ہوئی لڑکی ا رمینہ نے غلطی سے اس لڑکے کے مسلسل اصرار پر ڈرگزکی اور ڈوز دے دی۔۔۔اور پھر وہ جیسے پا گل ہی ہو گیا۔۔۔نشے میں ہر دوسرے بندے سے لڑرہا تھا۔۔۔جھگڑرہاتھا۔۔۔پوری پارٹی درھم برھم ہو گئی۔اسے سنبھالنا مشکل ہو گیا ارمینہ بہت مشکل سے اسے با ہر لے کر گئی اور ڈرائیور کے ساتھ اس کے گھر چھوڑ کر آئی۔۔۔بیٹے کی حالت دیکھ کر گھر والوں نے فون کر کر کے انکا جینا حرام کر دیا۔۔۔اسی با پ نے پولیس والے بھیج کر انہیں دھمکی دلوائی جسے انہوں نے اپنے ” دلداری “سے کا فی دیر تک رجھائے رکھا۔۔۔انہوں نے سوچ لیا تھا کہ ابس اس لڑکے کی اینٹری ان کی محفل میں با لکل بند کروادی جائے۔۔۔وہ روز روزایسی دردسری مول نہیں لے سکتی تھیں۔۔۔وہ کا فی عرصے سے ایسی پا رٹیا ں ارینج کر تی آئیں تھیں اور بہت کم ایسا ہوا تھا۔۔۔کہ ان کی پارٹی کا اس طرح بیڑہ غرق ہوا ہو۔لا ہو ر کی ایلیٹ کلا س کے لڑکے لڑکیا ں بہت اعتما د سے ان کی پارٹی میں شریک ہوتے لڑکے لڑکیوں کے ساتھ ڈرگز کی سپلا ئی بھی ان کی طرف سے ہو تی۔۔۔ ان کی پارٹیز میں ان کے تنخواہ دار لڑکے لڑکیاں ایلیٹ کلاس کے نو جوان لڑکے لڑکیوں کو گھیر کر لاتے تھے اور پھر آہستہ آہستہ ان کو ڈرگز کا عادی بنا دیا جاتا۔۔۔ان کے والدین کی کمائی ہوئی دولت بہت آسانی سے ان کی جیب میں آجا تی لیکن اس کے لیے انہیں پولیس کو بھی ما ہا نہ بھتہ دینا پڑتا۔۔۔ان کا ریسٹ ہا ؤس ڈیفنس کے پاس بیدیا ں روڈ کے دوردراز علا قے میں موجود تھا۔۔۔اور ڈیفنس کی ایک بڑی یونی ورسٹی کے بہت سے بچے بچیا ں ان کے گاہک تھے۔۔۔
اور خودان کے تنخواہ دار بچے بچیا ں اسی یونی ورسٹی سے لڑکے لڑکیا ں گھیر کرلا تے کچھ Facbookاور دیگر سوشل میڈیا ایپس سے وہ خود ایسی پا رٹیوں میں اپنے بااعتماد کلائنٹس کو انوائٹ کر تیں۔۔۔بہ ظاہر وہ ایک بیوٹی سیلون کی مالک تھیں اور وہا ں سے اپنے کلا ئنٹ لڑکیوں کو ایسی پارٹیوں میں آنے کے لیے کہتیں اور کئی تو آبھی جا تیں۔۔۔اور ایک با ر آنے والا پھر کہیں جا نے کے قابل نہ رہتا۔۔۔لیکن اب کافی دنوں سے وہ محسوس کر رہی تھیں کہ پولیس کی طرف سے سختی ہو رہی تھی۔۔۔پولیس ڈیپا رٹمنٹ کی ایک بڑی پوسٹ پر موجود اس لڑ کے کے باپ نے انہیں آج جو دھمکی بھجوائی تھیں۔۔۔اس سے کہیں نہ کہیں وہ ڈرسی گئیں تھیں کہ کہیں وہ واقعی اپنے کہے پر عمل نہ کر دیں۔۔۔حا لا نکہ ارمینہ سے کہہ کر اس لڑکے کو انہو ں نے اسی لئے پھنسایا تھا کہ وہ مشکل وقت میں ان کی مدد کر دے گا۔۔۔لیکن یہ تو الٹی بلا ان کے گلے پڑگئی۔۔۔خیر نمٹ لیں گے انہوں نے ذہن پرمزید زور ڈالے بغیر پولیس کے ایک اعلیٰ افسر کو فون ملا یا۔اور جب تک انہوں نے اسے مدد کرنے کی پوری تسلی نہ کروالی فون بندنہ کیا۔۔۔کافی کے بعد انہیں سیگریٹ کی طلب ہوئی انہوں نے سگریٹ لگا لیا۔۔۔اور سا تھ ہی اپنے نا شتے کے لئے فون پر حنیف بابا کو ہدایا ت دیں۔۔۔آج انہیں صرف بوائلڈ ایگ اور اوٹس لینے تھے۔۔۔دل تھوڑا بھاری تھا۔۔۔ہیوی ناشتے کا بالکل موڈ نہ تھا ور نہ وہ ناشتہ ہمیشہ ہیوی کرتیں اور پھر رات کو ہی کھاتیں۔۔۔دن بھرصرف فروٹس لیتیں۔۔۔اسی لئے چالیس کے پیٹے میں بھی وہ تیس سے زیا دہ نہیں لگتیں چینی اور روٹی انہوں نے کئی سا لوں سے چھوڑ رکھی تھی۔۔۔ زیادہ دل کر تا تو glutan فری ڈبل روٹی کے ایک دو سلا ئسز پورے دن میں لیتیں۔۔۔اپنے فگر کو انہوں نے بہت تناسب میں رکھا ہوا تھا۔۔۔ان کا دھندہ چلتا ہی ان کے برنی تناسب پر تھا۔۔۔اگر وہ بگڑتا تو یقینا ان کے دھندے کا تنا سب بھی بگڑجا تا۔۔۔ میم صباح پچھلے پندرہ سال سے اس دھندے کو چلا رہی تھیں۔۔۔ پہلے اپنا ایک چھوٹا سا بیوٹی پارلر چلاتی تھیں۔۔۔شوہر کے مرنے کے بعد جب اکیلے گھر چلا نا پڑا تو پارلر کی معمول کمائی سے دو بیٹیوں کو پالنا تقریبا نا ممکن تھا۔اسی لئے اپنی ایک پا رلر والی دوست سے کہنے پر درپردہ یہ کام شروع کیا۔۔۔ ان کی کام کرنے والی لڑکیا ں ہی ان کے کلائنٹس کے پا س جا تیں۔۔۔اور واپسی پر لائے ہوئے مال سے چند مہینوں میں ہی وہ مالدار ہو گئیں۔۔۔آہستہ آہستہ انہوں نے اپنا دائرہ کا ر بڑھا نا شروع کیا اور ڈیفنس جیسے پوش علا قے میں بھی ایک پا رلر کھول لیا۔۔۔جہاں ان کے کلا ئینٹس بھی بڑے بزنس مین تھے۔۔۔وہیں سے کچھ ڈرگز ڈیلرز سے ان تعلقات بنے اورپھر وہ آہستہ آہستہ ان کی آلۂ کا ر بنتی گئیں۔۔۔جس وقت ان کے شوہر کا انتقال ہو ا تھا ان کا بنک بیلنس صفرتھالیکن چند سالوں میں ہی خود ان کو معلوم نہ تھا کہ ان کے بینک میں کتنا پیسا موجود ہے؟۔۔۔بیٹیوں کو پڑھا لکھا کر جلدی جلدی ان کی شادی کر دی۔۔۔دونوں شادی کرکے دوسرے ملک چلی گئیں تھیں۔۔۔بڑے داماد کے دوست سے ہی انہوں نے اپنی چھوٹی بیٹی کو بھی بیاہ دیا۔۔۔اب ان پر کسی قسم کی کوئی ذمہ داری نہ تھی۔۔۔کا فی لوگوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ دوسری شادی کر لیں لیکن پہلے شوہر کے مرنے کے بعد انہیں دوسری شادی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی بلکہ ان کا خیا ل تھا کہ شادی نراوبال جان ہے۔۔۔آزادی ختم ہو جا تی ہے۔۔۔وہ اپنی مرضی سے جیتی تھیں۔۔۔جو مردا نہیں پسند آجا تا اس کے ساتھ چند مہینے نکال کر اسے اپنی زندگی سے نکال باہر کرتیں۔۔۔ ہاں اس سے پہلے اس کا بنک بیلنس nill کرنا اپنا ذاتی حق سمجھتیں۔۔۔بہ قول میم صاح پنجرے میں قید پرندے اور درخت پر بیٹھے پرندے کی زندگی کا لطف اور مزہ کبھی ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔۔۔
آج کل عمر آفندی ان کے بہت قریب تھا۔۔۔جس سے اُن کی مُلاقات ایک دوست کی پارٹی میں ہوئی تھی۔۔۔ اور اتنے وجہیہ مرد کو دیکھ کر ایک لمحے کو اُن کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔۔۔ بے شک وہ ان سے عمر میں کافی چھوٹا تھا لیکن وہ خود بھی ان سے بہت متاثر ہوا۔ کافی دیر دونوں نے ایک دوسرے کی کمپنی کو انجوائے کیا اور پھر جلدہی دوبارہ ملنے کے وعدے پر یہ ملاقات تمام ہوئی۔۔۔ اور پھر وہ دونوں اکثر ملنے لگے۔۔۔ عمر ان کی کمپنی کو خوب انجوائے کرتا۔۔۔اب تک جتنی خواتین اس کی زندگی میں آئی تھیں سب اس سے چھوٹی تھیں اور ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ اس کا دل ایک بڑی عمر کی عورت پر آیا اور عورت بھی ایسی جس نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہوا تھا۔۔۔ مردوں کی ہر نسل کی خوب پہچان رکھتی تھی کس کو کس طرح اپنے جال میں گھیرنا ہے۔۔۔ اسے بہ خوبی علم تھا۔۔۔ وہ دونوں ہاتھوں سے عمر کی دولت بھی لوٹ رہی تھی۔۔۔ اور وہ جو ایک زمانے میں لڑکیوں سے تحفے تحائف وصول کرتا تھا۔۔۔ اب کھُل کر میم صباح کے ہا تھوں خوشی خوشی لُٹ رہا تھا۔۔۔
شادی کے پانچ سال گزرنے کے بعد بھی عمر نے کبھی سیما کو وہ حیثیت نہ دی جو کہ ایک بیوی کی ہوتی ہے۔ لیکن وہ بہت خاموشی سے اس رشتے کو نبھا رہی تھی۔۔۔ کیوں کہ اس کے لیے عمر کا اتنا ساتھ ہی بہت تھا۔۔۔ سیما کو عمر کی ساری عیاشیوں اور باہرکی سرگرمیوں کا معلوم تھا۔۔ وہ کب کس سے ملتا ہے؟ کہاں شامیں گزارتا ہے لیکن وہ صرف لڑائی کے خیال سے خاموش رہتی۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ اگر بات آفندی صاحب تک پہنچ گئی تو یقیناً بڑھ جائے گی۔ عمر نے پہلے ہی دھمکی دے دی تھی کہ اگر بات آفندی صاحب تک پہنچی تو وہ اُسے طلاق دے کر فارغ کر دے گا۔۔۔ اگر اُسے یہاں رہنا ہے تو خاموشی سے زبان اندر رکھ کر زندگی گزارنی پڑے گی۔۔۔ اور وہ ایسے ہی زندگی گذار رہی تھی۔۔ نانو بی کے گزرنے کے بعد تو اس کا پُرسان حال بھی کوئی نہ تھا جس کے پاس وہ پلٹ کر جاتی اسی لئے خاموشی ہی سب سے بڑا کیموفلاج تھا۔۔۔ لیکن دل کے اندر جو دُکھ اور تکلیف تھی وہ کس سے کہتی۔۔۔وقت بہت تیزی سے گذر رہا تھا۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
صباح نے آج ایک نیا “پرندہ” پھنسنے پر ایک پارٹی رکھی تھی۔ زاہد ایک جج کا بیٹا تھا اور اُن کی سب سے خوب صورت اورطرح دار لڑکی ارمینہ کے سحر میں پھنس چکا تھا۔۔۔ تھوڑی بہت ڈرگز کا وہ پہلے سے ہی عادی تھا لیکن اس کو”high” کرنے کے لیے کوالٹی ڈرگز ارمینہ نے اُسے فراہم کئے۔۔۔ جس کے بعد وہ ارمینہ کے ساتھ” آئس “کا بھی دیوانہ ہو گیا۔۔۔ ظاہر سی بات ہے باپ کے پاس حلال کی کمائی تو تھی نہیں جو وہ ان عیاشیوں پر لُٹا رہا تھا۔۔۔اور اس کے باپ کی حرام کی کمائی ان سب پر حلال تھی۔۔۔جسے وہ بڑے طریقے سے ارمینہ کے ذریعے اس گاؤدی سے نکلوا رہی تھیں۔۔۔ کل ہی ارمینہ کے fakeفیس بک پیچ پر ایک ڈی جے پارٹی اناؤنس کی گئی جس میں انہوں نے ملک کے ایک بڑے گلوکار کو بھی اچھی قیمت دے کر بلایا۔۔۔ لڑکے لڑکیوں کی ایک فوج تھی جو آج کی پارٹی میں موجود تھی۔۔۔ لیکن سب قابل اعتبار تھے۔۔۔ ایسی پارٹیوں میں صرف ایسے بچے اور بچیاں ہی ہوتے جو ان کے قابل اعتباراور نشے کے طلب گار ہوتے۔۔۔ پہلے بھی ایک بار ایک صحافی نے اپنی خبر بنانے کے لئے ان کی پارٹی جوائن کی اور کچھ تصاویر لیں۔۔۔ وہ تو میڈم صباح کے سب سے خاص بندے کو شک ہو گیا اُس نے پارٹی سے باہر لے جا کر پہلے تو اس کی خوب ٹھکائی کی اور پھر چوری کا الزام لگا کر اُسے پولیس کے حوالے کر دیا۔۔۔ ساتھ ہی اس کی جیب سے چند پڑیاں چرس کی بھی نکلوا دیں۔۔۔ وہ بے چارہ آج تک جیل میں سڑ رہا تھا۔۔۔ اس کے بعد میم صباح بہت محتاط ہو گئیں تھیں۔۔۔ایسی خاص پارٹیوں میں وہ لڑکے اور لڑکیاں آتے جو قابل ِ اعتبار اور ڈرگز کے عادی ہو جاتے تھے۔۔۔ آج کی پارٹی میں عمر آفندی بھی میم صباح سے بالکل جڑ کر بیٹھا ہو ا تھا۔۔۔ نہ جانے کیا خاص بات تھی اس عورت میں اُسے لگتا کہ اب تک اُ س کی زندگی میں آئی ہوئی ہرعورت بے کار تھی۔۔۔ کچرا تھی۔۔۔ اس میں ایک مقنا طیست اور ایک عجیب سے کشش تھی۔ وہ صباح سے ایک دو دن نہ ملتا شدیدبے چین ہو جاتا تھا۔۔۔ اسی لئے وہ پلان کر رہا تھا کہ دونوں کچھ دن مری جا کر انجوائے کریں اور اسکے لیے وہا ں جاکر کتنے دن کے لئے ٹھہرنا ہے یہ طے کرنا ابھی باقی تھا۔۔ اور وہ بہ ضد تھیں کہ صرف دو دن کا وقت ہے میرے پاس پھر مجھے دبئی بھی جانا ہے۔۔۔ اپنی لڑکیوں کے ساتھ ایک بڑی پارٹی بلا رہی ہے۔۔۔ جو میں کسی صورت منع نہیں کر سکتی۔۔۔” وہ بہت بد دل ہوا ” کیا یار دو دن میں تو دل نہیں بھرے گا” عمر نے اس کا ہاتھ پکڑا تو وہ بے اعتنائی سے کندھے اچکاتے ہوئے بولیں۔۔۔ ” سنو عمر آفندی!میرا ایک ایک دن بہت قیمتی ہے۔۔۔ تمہاری خوش قسمتی ہے کہ تمہاری ضد پر دو دن نکال رہی ہوں۔۔۔ مجھے کیا معلوم کہ اتنی تگ و دو کے بعد مجھے کیا ملے گا؟۔۔۔” ” کیا مانگنا ہے مانگو تم پر چاند تارے بھی لٹا دوں۔” عمرنے اس وقت شاید کچھ زیادہ ہی چڑھائی ہوئی تھی۔۔۔ صباح کا قہقہہ بہت زور دار تھا۔۔۔ سب لوگ مڑ کر انہیں دیکھنے لگے۔۔۔ تو عمر خائف ہو گیا۔” ہاں ہاں میں جھوٹ نہیں کہہ رہا بولو کیا چاہیئے؟” اس نے حاتم طائی کی قبر پر لات ماری اس سے پہلے بھی وہ کافی کچھ اس کے حوالے کر چکا تھا۔۔۔” چلو جب چلیں گے تب بتاؤں گی ابھی تم پارٹی انجوائے کرو۔۔۔ میں ذرا اُس نئے مہمان کو دیکھ کر آتی ہوں۔۔۔ ارمینہ شاید مجھے ہی ڈھونڈ رہی ہے۔۔۔” صباح نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر تھپتھپایا اور ارمینہ کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ اور وہ اکیلا وہاں بیٹھا اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔ کیا جادو تھا اس عورت میں جب تک اس کے پاس رہتامدہوش رہتا اور اس کے بعد اس کی خوشبو اُسے بے خود رکھتی۔۔۔ شاید اُسے کوئی کالا جادو آتا تھا۔۔۔ جو وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کو مخمور کر کے رکھتی تھی۔۔۔ وہ جب تک اس پارٹی میں رہا بے چین ہی رہا اس کی نظریں صباح کے وجود کا احاطہ کرتی رہیں۔۔۔ کسی سے ملتے ہوئے وہ کتنا مسکرائی۔۔۔ کتنا ہنستی۔۔۔ کیسے چلتی؟ حتیٰ کہ اس کے سیگریٹ پینے پر بھی وہ نظر رکھے ہوئے تھا۔۔۔ لیکن صباح نے اس پر دوبارہ نظر نہ ڈالی۔۔۔ وہ جانتی تھی تڑپتے کو مزید کیسے تڑپایا جاتا تھا۔۔۔ بے وقوف تھیں وہ عورتیں جو مردوں کو کھُل کر کھیلنے کا موقع دیتی ہیں اور خود کو ان کے اوپر چھوڑ دیتیں ہیں۔۔۔ مرد کو کبھی سیراب نہ ہونے دو۔۔۔۔ ایک بار پرندہ سیراب ہو گیا تو اُڑنے میں قطعی دیر نہیں لگائے گا۔۔۔ اور یہی تکنیک وہ سالوں سے اپنے ارد گرد رہنے والے مردوں پر اپلائی کر رہی تھیں۔۔۔ انہیں اس طرح کے تڑپتے، سسکتے اور ہاتھ جوڑتے مردوں کو دیکھ کر بہت اطمینان ہوتا۔بلکہ ایک عجیب سی لذت محسوس ہوتی۔۔۔ یہ صفت صرف ایک مرد کی تو نہیں ہو سکتی کہ تڑپتی بلکتی محبت کے لئے ہاتھ جوڑتی عورت کو دیکھ کر تسکین پائے۔۔۔ ایک عورت بھی اتنی گھٹیا ہو سکتی ہے۔۔۔ اور شاید وہ اتنی ہی گھٹیا بن چکی تھیں۔۔۔ انہیں مزہ آتا تھا ایسا دیکھ کر۔۔۔ کئی مرد تو ان کی قربت کے لئے ہاتھ جوڑ جوڑ کرروتے بھی تھے اور وہ ان پر ایک مُسکراتی نظر ڈال کر آگے بڑھ جاتیں۔۔۔ انہیں ذرا رحم نہیں آتا تھا ان پر۔۔۔ وقت نے انہیں بہت بے رحم بنا دیا تھا۔۔۔ کہیں مرد بے رحم ہوتا ہے اور کہیں عورت۔۔۔ مگر معاشرے میں ایسی عورتوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔۔۔مگر اسی نمک نے آٹے کا ذائقہ یکسر تبدیل کر دیا تھا۔۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔ x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
وہ دونوں مری میں ایک بہترین VIPکاٹیج میں رہائش پذیر تھے۔۔۔اور پھر دو دن عمر کے بہ قول اس کی زندگی کے بہترین دن تھے، جو اس نے صباح کی رفاقت میں گذارے۔۔۔کچھ وقت وہ مال روڈ پر مٹر گشتی کرتے اور پھر تھک کر چور اپنے بستر پر آکر ڈھیر ہو جاتے۔۔۔ صباح کی زلفوں سے کھیلتے ہوئے عمر نے اس سے شادی کی بات چھیڑی تو وہ بہت مُسکرا کر ادا سے اُس کی طرف دیکھنے لگی جیسے اس نے کوئی بہت funnyسی بات کر دی ہو۔۔۔” ڈرگز لیتے لیتے تمہارا دما غ بالکل سنہو چکا ہے۔۔۔ پہلی بات مجھے اگر شادی کرنا ہوتی تو میں اپنے شوہر کی ڈیتھ کے بعد ہی کر لیتی اب اتنے سال کے بعد یہ سب فضول لگتاہے اور پھر کیا رکھا ہے شادی جیسے فضول سے بندھن میں۔۔۔ ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے دو لوگوں کو باندھنے کے لئے۔۔۔ لو وہ تو ہم ویسے بھی آپ کے ساتھ بندھ چکے ہیں پھر یہ سب کیوں؟” میں ہروقت تمہارے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔۔۔اب تم سے دوری بالکل برداشت نہیں ہوتی۔۔۔ نہ جانے کیسا جادو کردیا ہے تم نے جتنی دیر تم سے دور رہتا ہوں لگتا ہے کہ وقت اپنی جگہ رُک سا گیا ہے۔۔۔ پہلے میرا بھی یہ خیال تھا کہ یہ کاغذ کا ایک فضول سا ٹکڑا ہے جس کی محبت کرنے والوں کے لیے کوئی وقعت نہیں لیکن اب لگتا ہے کہ تمہاری محبت کو میرے لیے صرف یہ کاغذ کا ٹکڑا ہی پابند بنا سکتا ہے۔۔۔” وہ آج اپنی ایک کہی ہوئی ایک پرانی بات سے ہی مُکر رہا تھا۔۔۔ دراصل پہلی بار محبت جیسے جادو کاشکار ہوا تھا۔۔۔ اس کے سحر میں تو اچھے اچھے لوگوں کا پتا پانی ہو جاتا ہے۔۔۔ وہ تو پھر ایک عام سا مرد تھا۔۔۔ وہ زور دار قہقہہ لگا کرہنس پڑی۔۔۔ “کتنے خود غرض ہوتے ہو تم مرد بھی عورت کو قابو کرنے کے لئے اس کے پاؤں میں زنجیریں پہناتے وقت یہ بھول جاتے ہو کہ آزادی تو ہر جنس کا حق ہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ مجھے پٹا ڈال کر کیوں رکھنا چاہتے ہو۔۔۔۔ میں اُن عورتوں میں سے نہیں جو کسی ایک مرد کے لیے اپنی پوری زندگی تباہ کر لیتی ہیں۔۔۔ ٹوبی ویری فرینک آج تو یہ بات کہہ دی۔۔۔آئندہ اگر کبھی ایسے الفاظ بھی منہ سے نکلے تو میری شکل کو بھی ترس جاؤ گے۔۔۔ وہ بڑی سفا کی سے کہتی ہوئی اپنی جگہ سے اٹھیں اور باتھ روم میں گھس گئیں۔۔۔ سانپ کا زہر انہیں بہ خوبی نکالنا آتا تھا۔۔۔ انہیں معلوم تھا عمر جیسے بندے کے لئے یہ دھمکی کافی ہو گی۔۔ باتھ روم سے واپس آکر اس نے عمر سے ایک نئی کار کا مطالبہ کر دیا۔۔۔۔ میں سوچ رہی ہوں کہ اپنی کار تبدیل کر لوں۔۔۔” ہاں ہاں بالکل کون سی لینا ہے؟” عمر نے بڑے آرام سے پوچھا۔۔۔ میرے خیال میں تم میرے لئے ” مرسڈیز کا نیا ماڈل بک کروا دو میری مرسڈیز کا ماڈل چار سال پرانا ماڈل ہے۔” وہ یہ کہہ کر سیگریٹ سلگا کر عمر کے پاس ہی بیٹھ گئی۔۔۔ عمر کے لیے آفر بوکھلا دینے والی تھی۔۔۔ اس کا اکاؤنٹ تقریبا پہلے ہی خالی ہو چکا تھا۔۔۔ بزنس بھی اتنا اچھا نہیں جا رہا تھا۔۔۔ وہ تھوڑا خاموش سا ہوگیا فوری طور پر اُسے کوئی جواب نہ سوجھا۔۔۔” کیا ہوا تم نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔”صباح نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے سیگریٹ کا کش لگایا۔۔۔” ہاں کرتے ہیں کچھ۔” وہ سوچوں میں ڈوباہوا تھا۔۔۔” کرتے ہیں کچھ نہیں۔۔۔ بلکہ ایک دو دن میں مجھے چاہیے۔۔۔ورنہ مجھے بھول جاؤ۔۔۔” وہ جانتی تھی کہ عمر جیسے بندے کو کیسے دام میں لایا جا سکتا تھا۔ نرمی کرنے کا مطلب بات دور تک چلی جائے گی۔۔۔اُسے ان دو راتوں کا پورا معاوضہ چاہیئے تھا۔۔۔ جو کہ وہ دینے سے تھوڑا ہچکچا رہا تھا۔۔۔ارے نہیں نہیں میں پوری کوشش کرتا ہوں کہ ایک دو دن میں ہی ایک نئی مرسڈیز تمہاری کار پورچ میں موجود ہوں۔ فکر مت کرو”۔ وہ پھر بوکھلا گیا۔۔۔ اس سے دوری کا خیال بھی عمر کے لیے روح قبض کرنے والا تھا۔۔۔اس سے کبھی پہلے ایسا وقت نہیں آیا تھا۔۔۔ پہلے لڑکیاں اس کی منتیں کرتی تھیں ملنے کے لیے اور وہ صرف ہنس کر رہ جاتا تھا۔۔۔ بے وقوف عورتیں کبھی کوئی کسی کے ساتھ ساری عمر بھی گذار سکتا ہے۔۔۔ لیکن وہ اب اس چوہے دان میں ایسا پھنسا کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن والی کیفیت تھی۔۔۔ اب اُسے اتنے پیسے کسی نہ کسی طرح ارینج کرنے تھے۔۔۔ اسے معلوم تھا پچھلے چند مہینوں میں اس نے کوئی نیا پراجیکٹ نہیں کیا اور اپنی ساری کمائی عیاشی اور ڈرگز میں اُڑا رہا تھا۔۔۔ آفندی صاحب نے پچھلی بار اُسے لون دیتے ہوئے صاف کہہ دیا تھا کہ صاحب زادے یہ آخری بار دے رہا ہوں براہِ مہربانی کوئی نیا پراجیکٹ جلدی شروع کرو اور میرے پیسے لوٹاؤ۔۔۔ اب ایک پیسہ نہیں دوں گا۔۔۔ نانو نے مرتے وقت اپنا سارا پیسا ان دونوں کے نام کر دیا تھاجو جوائنٹ اکاؤنٹ میں موجود تھا۔۔۔اور صرف دونوں کے کسی مشترکہ پراجیکٹ کی صورت میں ہی استعمال کیا جا سکتا تھا۔۔۔ وہ واقعی ایک بزنس مین تھیں اور سیما کی زندگی اور اپنے پیسے کو محفوظ طریقے سے چھوڑ کر گئیں تھیں۔۔۔ دونوں اس پیسے کو کسی صورت برباد نہیں کر سکتے تھے اور ایسا نانو نے آفندی صاحب سے مشاورت کے بعد ہی کیا تھا۔۔۔ آفندی صاحب کو بھی اپنے بیٹے کی عیاشیوں کے بارے میں بہت اچھی طرح علم تھا۔۔۔ اسی لیے آفندی صاحب نے ان کی اس بات کو مکمل سپورٹ کیا۔۔۔ اس وقت تو عمر کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہوا مگر اب عمر کو نانوبی پر شدید غصّہ آرہا تھا۔۔۔ اس نے واپسی پر سیما سے اسی کے بارے میں بات کرنے کا فیصلہ کیا۔۔۔ لیکن اس سے پہلے ہی عمر کی عیاشیوں کی داستان سیما تک پہنچ چکی تھی۔۔۔ سیما کی ایک دوست نے انسٹا گرام پر صباح اور عمر کی مری میں لی گئی کئی سیلفیاں اس کو واٹس اِپ کیں اور پوچھا کہ کیا عمر نے دوسری شادی کرلی ہے؟۔۔۔اور واقعی وہ تمام تصاویران کی بے انتہا قربت کو ظاہر کر رہی تھیں۔۔۔ ایسی قربت جو شاید کسی میاں بیوی کے درمیان ہی پائی جا تی ہے۔۔۔ سیما کو اس کی عیاشیوں کے بارے میں بہت کچھ معلوم تھا لیکن وہ ہمیشہ نظرانداز کرتی تھی۔۔۔۔ ان تصاویر کو دیکھ کر اس کے اندر آگ سی لگ گئی۔۔۔ عمر کے ساتھ موجود عورت عمر سے بڑی لگ رہی تھی اورشکل سے ہی بہت شاطر۔۔۔ اس نے اپنی دوست سے پوچھا کہ کس اکاؤنٹ سے اس نے یہ تصاویر اٹھائیں ہیں۔۔۔اس کا IDبتاؤ۔۔۔ اور جب اس نے IDلیا اور ساری پروفائل چیک کی جو کہ پرائیویٹ نہیں تھی۔۔۔ تو اسے پتا چلا کہ وہ عورت تو ایک بیوٹی سیلون چلاتی ہے۔۔۔ اور ساتھ ساتھ بہت سے دوسرے کام بھی کرتی تھی۔۔۔ دونوں تصاویر میں ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوش نظر آرہے تھے۔۔۔ اس عورت نے اپنی عمر کو میک اَپ کی تہوں میں چھپانے کی کوشش کی ہوئی تھی۔۔ بہ غور دیکھنے پر سیما پر یہ بات آشکار ہو گئی۔۔۔دونوں کی عمر میں بہت فرق نظر آرہا تھا۔۔۔ اس سے عمر سیالکوٹ کا کہہ کر گیا تھا کہ کسی دوست نے اس کے ساتھ کوئی پراجیکٹ شروع کرنا ہے۔۔۔ اسی سلسلے میں میٹنگ ہے۔۔۔ وہ دو دن کے بعد آئے گا۔۔۔ آفندی صاحب کو بتا دینا۔۔۔ وہ اپنے باپ کے سوال جواب سے بچنے کے لئے اسے بتا کر گیا تھا اور اب واپسی پر اس سے کیا جھوٹ بولنے والا تھا سیما اس جھوٹ کو سننے کے لیے مکمل طور پر تیار تھی۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔ x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
وہ واپس آیا تو بہت خوش نظر آرہا تھا۔۔۔ ملازم نے ناشتہ لگا دیا۔۔۔ میز پر آفندی صاحب موجود نہیں تھے۔۔۔ انہوں نے آج ناشتہ اپنے کمرے میں منگوالیا تھا۔۔۔ سیما نے خاموشی سے اُسے ناشتہ سرو کیا اور اپنا ناشتہ بہت آہستہ آہستہ کرنے لگی۔۔۔ وہ چاہتی تھی کہ عمر خود اُسے ساری بات بتائے۔۔۔لیکن عمر نے بھی کچھ کہنا ضروری نہ سمجھا اور ناشتہ کرتا رہا۔آفندی صاحب سے وہ کمرے میں ہی مل کر آگیا تھا۔۔۔ سیما نے ناشتے کے بعد کمرے میں آکر تیاری شروع کر دی۔۔۔ آج آفس تھوڑا لیٹ جا رہی تھی۔۔۔ابھی اس نے اپنی الماری سے پریس شدہ کپڑے نکالے ہی تھے کہ عمر دستک دئیے بنا ہی کمرے میں آگیا۔۔ دونوں کافی عرصے سے الگ الگ کمروں میں سو رہے تھے۔۔۔ اور اس کا اندازہ آفندی صاحب کو بھی تھا۔۔۔ وہ چونک کر مُڑی۔۔۔” سنو! اس چیک پر سائن کر دو۔۔۔” عمر نے بنا کسی تمہید کے اس کے ہاتھ میں چیک تھما دیا۔۔۔ ایک کڑوڑ پچاس لاکھ کا چیک۔۔۔ جو دونوں کے اس جوائنٹ اکاونٹ سے تھا جوکہ نانو نے ان کے لئے کھلوایا تھا۔۔۔ اتنا بڑا چیک دیکھ کر سیما حیران رہ گئی۔۔۔” مگر اس کاؤنٹ سے ہم صرف کسی مشترکہ پراجیکٹ کی صورت میں ہی پیسا نکال سکتے ہیں۔۔۔ اور میرے خیال میں ہمارے درمیان ابھی کوئی ایسا پراجیکٹ نہیں ہے۔۔۔” اس نے بہت آرام سے پوچھا۔۔۔” ہاں تو جلدپراجیکٹ سٹارٹ ہو رہا ہے۔۔۔ تمہیں بتایا تو تھا میں سیالکوٹ جس پراجیکٹ کے لیے گیا، تھا وہ مجھے مل گیا ہے۔۔۔ پیپرز تیار کروا رہا ہوں۔۔۔ یہ ٹوکن منی کی رقم ہے جو ہر حالت میں مجھے آج جمع کروانی ہے۔۔۔” لیکن مجھے کچھ نہیں پتا کہ یہ کیسا پراجیکٹ ہے اور کس چیز کا ہے۔۔۔ اگر میں پارٹنر ہوں تو پہلے مجھے ہر بات کا علم ہونا چاہیے۔۔۔” ” کیا مطلب میں تم سے جھوٹ بول رہا ہوں۔۔۔ اور سنو مجھے چھوٹی چھوٹی باتوں کی وضاحت دینے کا کوئی شوق ہے اور نہ ہی ضرورت چیک پر سائن کرو اور دو مجھے۔۔۔”
” یہ چھوٹی سی بات نہیں ایک کرو ڑ پچاس لاکھ کا چیک ہے عمر۔۔” اس کو بھی ضد چڑھ گئی۔۔۔ دکھ توپہلے ہی بہت تھا اس کے جھوٹ پر لیکن اب اپنی عیاشیوں کے لیے اس نے نانو بی کی حلال کی کمائی پر بھی نظر ڈالنے کی کوشش کی۔۔۔ یہ بات اس سے ہضم نہیں ہو رہی تھی۔۔۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم چیک پر سائن نہیں کرو گی۔ وہ دو تین قدم آگے بڑھ کر اس کے قریب آکر بولا تو سیما کو اس کے منہ سے شراب کا شدید بھبھکا آیا وہ دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ عمر ہر طرح کا نشہ کرتا ہے لیکن آج تک گھر میں آفندی صاحب کی موجودگی میں نشہ کر کے نہیں آیا تھا۔۔۔” سنو! عمر میں خالو جان سے مشورہ کیے بغیر تمہیں کچھ نہیں دے سکتی۔۔۔ “اس بار وہ بھی قدرے غصّے سے بولی اور اس کے سائیڈ سے ہو کر باہر نکلنے لگی تو عمر نے جھپٹ کر سیما کا بازو پکڑ لیا اور کھینچ کر دیوار سے لگا دیا۔۔۔ سیما کی پشت بہت زور سے دیوار سے ٹکرائی اور اس کے منہ سے زور دار آہ نکل گئی۔۔۔” اگر تم نے اس بارے میں بابا کو ایک بات بھی بتائی تو میں تمہارا وہ حشر کروں گا کہ تم ساری عمر یاد رکھو گی۔۔۔” وہ بہت زور سے چلّایا اور اس کے بازو کو دبوچتا ہوا بولا۔۔۔” چھوڑو مجھے جانور ہو تم۔۔۔”اس بار سیما بھی زور سے بولی۔۔۔” سائن کرو۔۔۔ اس چیک پر مجھے ضرورت ہے۔۔۔” وہ پھر اسے مجبور کرنے لگا۔۔۔۔” نہیں کروں گی۔ بالکل نہیں کروں گی میں جانتی ہوں۔۔۔۔ یہ پیسے کسی سیالکوٹ کے پراجیکٹ کے لئے نہیں بلکہ تم اپنی ان عیاشیوں کے لیے مانگ رہے ہو۔۔۔۔جو دو دن تم نے مری میں اس حراّ فہ کے ساتھ گذارے ہیں۔۔۔” وہ زور سے چلائی۔۔۔ تو عمر کو بھی شدید غصّہ آگیا۔” ہاں گذارے ہیں اسی کے لیے مانگ رہا ہوں۔۔۔اور تم نے اس چیک پر ہر حالت میں سائن کرنا ہیں ورنہ۔۔۔” ” ورنہ کیا کر لو گے تم بولو۔۔۔ اگر نہیں کروں تو کیا بگاڑ لو گے۔۔۔” وہ بھی ضد میں آکر زور سے چیخی تو عمر بھی غصّے سے آوٹ آف کنٹرول ہو گیا آگے بڑھ کر اس کے بال پکڑ لیئے اور چیخا “میں تمہیں جان سے مار دوں گا۔۔” ” مار دو اتنے سالوں میں میں پل پل جی اور مر رہی ہوں تم اسے زندگی کہہ رہے ہو۔۔۔ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہوں لیکن خاموش ہوں۔۔۔سب جانتی ہوں مگراب تمہیں یہ پیسے دے کر تمہاری عیاشیوں کے لیئے نیا راستہ نہیں کھول سکتی۔۔۔” عمر نے اس کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مارا تو وہ سسک کر رہ گئی۔۔۔ اسی وقت آفندی صاحب نے آگے بڑھ کر اسے عمرسے چھڑوایا اور عمر کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مارا۔۔۔ وہ وہ دروازے کے پا س ا ن دونوں کے درمیان ساری گفتگو سُن چکے تھے۔۔۔ لیکن انہیں بالکل اندازہ نہ تھا کہ وہ جانور بن کر اس معصوم بچی کو تھپڑ مار بیٹھے گا۔۔۔ نشے کی حالت میں اُسے بالکل اندازہ نہ ہوا کہ وہ کیا کر گیا تھا۔۔۔ اور پھر باپ کی آمد نے اس کے ہوش اڑا دئیے۔۔۔ سیما آفندی صاحب کے کندھے سے لگی سسک رہی تھی۔۔۔ انہیں پچھلے چند سالوں سے اندازہ تو تھا کہ ان دونوں کے درمیان ایک اچھی ازدواجی زندگی نہیں تھی۔۔۔ دونوں کے درمیان ایک میاں بیوی والا التفات مفقود تھا۔۔۔ عمر اکثر سیما سے اُکھڑے اُکھڑے اندا زمیں بات کرتا لیکن چو کہ سیما نے خود ان سے کبھی کوئی شکایت نہیں کی تھی اسی لئے وہ ان دونوں کے درمیان کچھ بولنا نہیں چاہتے تھے۔۔۔ لیکن آج تو ساری صورت حال بالکل واضح ہو چکی تھی۔۔۔” نکل جاؤ تم میرے گھر سے۔۔۔ تم اس قابل ہی نہ تھے کہ میں تمہیں اپنی اتنی پیاری بیٹی کا ہاتھ سونپتا۔۔۔ ایک دو دن میں اخبار میں عاق نامہ پڑھ لینا”۔۔۔وہ غصّے سے لرز رہے تھے۔۔۔۔” پلیز بابا میں۔۔۔” نشہ بالکل ہرن ہو چکا تھا۔۔اُسے آگے اپنا مستقبل سیاہ نظر آرہا تھا۔۔۔ تو وہ فوراً ہاتھ جوڑ بیٹھا۔۔۔ ” دفع ہو جاؤ اسی وقت میں تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتا۔۔۔ بیٹا میں بہت شرمندہ ہوں ایسی ناخلف اولاد بالکل تم جیسی پیاری بیٹی کے قابل نہ تھی”۔۔۔ وہ سیما کے آگے ہاتھ جوڑ بیٹھے۔ واقعی شرمندگی سے ان کا جوڑ جوڑ بھیگ رہا تھا۔۔۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ روزِ آخرت انہیں اس بچی سے وابستہ کس کس شخص کا جواب دینا پڑے گا۔۔۔ لیکن اللہ کے حضور اس بچی پرہوئے ظلم کا حساب انہیں ابھی سے شرمندگی سے دوچار کر رہا تھا۔۔۔” بابا پلیز۔۔” عمر نے ایک اور کوشش کی لیکن اس بار آفندی صاحب کی دھاڑ نے سے اسے کمرے سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔۔۔ سیما عمر کے اتنے ظلم کے باوجود اس کے لیے بے چین ہو گئی۔۔۔ لیکن اس بار دل میں تکلیف بہت زیادہ تھی اور اب شاید وہ خود بھی سمجھ چکی تھی کہ اس یک طرف محبت کا کوئی صلّہ نہیں۔۔۔ اس جیسے پتھر دل کے لیے رونا اور تڑپنا فضول ہے۔ اس نے خالو جان کو بہت سنبھال کر اُن کے کمرے میں پہنچایا نیند کی گولی دی اور کمبل اُڑھا کر باہر نکل آئی۔۔۔۔ آفس جانے کا بالکل دل نہیں چاہ رہا تھا۔۔۔ اسی لئے خود بھی آفس میں ساری میٹنگز کینسل کروا کر کمرہ بند کر کے لیٹ گئی۔۔۔ ملازموں سے خالو جان کا خیال رکھنے کا کہہ دیا تھا۔۔۔ وہ صرف آج اپنی ماں کو یاد کرنا چاہتی تھی۔۔۔ باپ تو بچپن میں چلا گیا تھا۔۔۔ ماں نے اُسے بہت نازوں سے پالا تھا لیکن اس کے بڑے ہوتے ہی وہ بھی چلی گئی۔۔۔۔ پھر نانو اسے عمر کے حوالے کر کے رخصت ہو ئیٰں۔۔ اور اب عمر جس سے کاغذی رشتہ استوار ہوا تھا اب وہ بھی دور ہو گیا۔۔۔ رشتے اُسے راس ہی نہیں آتے تھے۔۔۔ نہ کوئی دوستی نہ رشتہ داری اس وقت صرف تنہائی نے اُسے سہارا دیا ہوا تھا۔۔۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر روپڑی۔۔۔ اللہ سے شکوہ کرنا اُسے آتا ہی نہیں تھا اسی لئے ساری باتیں دل میں ہی کر کے وہ کافی دیر آنسوؤں کی صورت دل کا غم بہاتی۔۔۔
x۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔x
آج ثنا بہت عرصے کے بعد بھائی کے گھر آئی تھی۔۔۔ آج بھی خالہ اکیلی بیٹھی ہوئی تھیں اور پانچ سالہ بھتیجا اپنی سکول یونی فارم میں ہی گھوم رہا تھا۔۔۔ اس کی میڈ کو آج جلدی جانا تھا وہ موجود نہ تھی۔۔۔ نانو نے اس کے کپڑے بدلو انے کی بہت کوشش کی اور اس کوشش میں ہانپ کر رہ گئیں۔۔۔” خالہ سامعہ کہاں ہے؟”۔ اس نے بھتیجے کو پکڑ کر اپنے پاس بلایا اور خالہ سے پوچھا۔۔۔۔ کچھ نہیں پتا صبح تیار ہو کر نکل گئی۔۔۔ آیان کی میڈ بھی جلدی چلی گئی تھی۔۔۔ اب یہ جب سے آیا ہے مسلسل کہہ رہی ہوں کہ کپڑے بدل لو پھر کھانا کھلاتی ہوں لیکن سنتا ہی نہیں۔۔۔” وہ بہت پریشانی سے کہہ رہی تھیں۔۔۔”ارے پھوپھو کی جان کیوں نانو کو پریشان کر رہے ہو۔۔۔” ثنا نے بہت پیار سے اس کے کپڑے بدلوائے اور پھر کچن میں جا کر اس کے لئے تیار کھانا دیکھا تو دھک سے رہ گئی۔۔ عجیب و غریب سا ملغوبہ ٹائپ میڈ بنا کر گئی تھی۔۔۔ جو کسی بھی طرح بچے کو پسند نہیں آتا۔۔۔ اس نے ڈیپ فریزر میں موجود چکن اور چند سبزیوں سے چاؤمن بنایا اور اپنے اور خالہ کے لئے چائے بنا کر لے آئی۔۔۔ آیان کو اپنے ہاتھوں سے اس نے چاؤمن بنا کر کھلائے اور ساتھ ہی اورنج جوس کا پورا گلاس بھی بہلا بہلا کرپلا دیا۔۔۔ اور وہ معصوم یوں کھا رہا تھا جیسے کتنے جنموں کا بھوکاہو۔۔۔۔ ثنا کو بچے پر بہت ترس آیا خالہ بھی جوڑوں کے در د کی مریض تھیں۔۔۔ اب زیادہ چلنا پھرنا ان کے لیے بہت مشکل تھا کہ وہ یہ دیکھتیں کہ جو کھانا آیان کے لئے اس کی میڈ تیار کر رہی ہے وہ کس طرح کا ہے۔۔۔ اسی لئے بچہ اتنا چڑ چڑا ہو رہا تھا اور اب وہ معصوم بڑے مزے سے کھانا کھا کر اور جوس پی کر پھپھو کی گود میں ہی سو گیا۔۔۔ آیان نے اپنا سر اس کی گود میں رکھا ہوا تھا او وہ اس کے سر پر آہستہ آہستہ ہاتھ پھیر رہی تھی۔۔۔ اور ساتھ ہی خالہ سے بھی بات کر رہی تھی۔۔ اس کی کوشش تھی کہ کوئی بات سامعہ کے بارے میں نہ ہو۔۔۔ کیوں کہ جب سے اس نے کبیر علی اور ثنا کی بات سُن کر جو فساد مچایا تھا اس کے بعد ثنا نے کانوں کو ہاتھ لگایا کہ آئندہ کبھی نہ تو سامعہ کو سمجھانے کی کوشش کرے گی اور نہ ہی بھائی سے اس کے بارے میں کچھ پوچھے گی۔۔۔ لیکن بھلا ہو خالہ کاسامعہ کے آتے ہی اس پر غصّہ کرنا شروع ہو گئیں اور بولیں۔۔۔ “سامعہ اگر بچہ پال نہیں سکتیں تو پیدا کیوں کیا تھا۔۔۔ روزانہ اس بچے کو میڈ کے حوالے کر کے اپنی دوستوں کے ساتھ نکل جاتی ہو۔۔۔ کچھ خیال ہے بچے کا۔۔۔” سامعہ کے تو ویسے ہی آیان کو ثنا کی گود میں دیکھ کر آگ لگ گئی تھی۔۔۔ دوسرے اماں نے جب اس کے سامنے ہی ڈانٹنا شروع کیا تو وہ بھی بھڑک اُٹھی۔۔۔” اماں! جانتی ہوں۔۔۔ آپ نہیں بلکہ آپ کے منہ میں اس کی زبان بول رہی ہے۔۔۔ یہ تو ہمیشہ سے مجھ سے جلتی تھی۔۔۔ میری خوشیوں سے جلتی تھی۔۔۔” سوچے سمجھے بغیر سامعہ ثنا پر پلٹ پڑی۔۔۔ تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا۔۔۔ وہ بچی توآج اتنے دن کے بعد میرے بلانے پر گھر آئی تم نے تو اس کا میکا بھی ختم کر دیا۔۔۔ اب الٹا اُسے ہی موردِ الزام ٹھہرا رہی ہو۔۔۔” اماں بھی اس پر پلٹ پڑیں تو وہ اور بھڑک اُٹھی۔۔”واہ! اس نے تو میرے میاں کے علاوہ میری ماں کو بھی اپنے قبضے میں کر لیا۔۔۔ دونوں کو بھڑکاتی رہتی ہے۔۔” وہ بہت بد لحاظ ہو رہی تھی۔۔۔ اور ثنا کو اس کے لہجے اور انداز پر دکھ ہو رہا تھا۔۔۔ اس نے دوسری کوئی بات ہی نہیں کی اور خاموشی سے اُٹھ کر وہاں سے چلی آئی۔۔۔ اُسے معلوم تھا۔۔۔ اگر وہ کسی بات کا جواب دیتی تو بات بڑھ جاتی۔۔۔ اس کے خیال میں سامعہ چاہتی بھی یہی تھی ثنا کی اپنے میکے میں کسی نہ کسی بہانے اینٹری بند ہو جائے۔۔۔ اُسے بہت دُکھ تھا۔۔۔ اور یہی دُکھ اس نے گھر جا کر رضوان سے شیئر کیا۔۔۔ رضوان کو بھی اس کے دُکھ پر دُکھ تو ہوا لیکن اس نے سمجھادیا۔۔۔ دیکھو یار! دنیا میں ہم سے خوش ہونے والے تو بہت کم ہوتے ہیں۔۔۔ جلنے والے بہت زیادہ حسد کرنے والے بے تحاشا تو ایسے لوگوں کے دُکھ پر دُکھی ہونے کے بجائے کندھے اچکا کر “who cares” کہو اور آگے بڑھ جاؤ۔۔۔” وہ میری بھابھی ہے میرے بھائی کی بیوی۔۔۔ بھائی سے اس کا ساری عمر کا تعلق ہے ایسے رشتے سے میں who caresکہہ کر آگے نہیں بڑھ سکتی۔۔۔۔ہر چند میں نے کبیر بھائی کے گھر جانا بہت کم کر دیا مگر خدا کی قسم رضوان! آج تو میں خالہ جان کی وجہ سے وہاں گئی تھی وہ بہت اکیلی ہو گئی ہیں ایک بیٹی کے ہوتے ہوئے بھی اگر ماں خود کو تنہا محسوس کرے تو اس سے بدقسمت ماں دنیا میں نہیں۔۔۔ بہت اکیلی تھیں وہ۔۔” وہ واقعی اپنی خالہ کی تنہائی پر دُکھی ہو چکی تھی۔۔۔” میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ میں ان کو اپنے پاس لے آؤں۔۔۔ اماں کے بعد وہ میرے لئے بالکل اماں کی طرح ہیں۔۔۔ فون پر بات تو روز ہی ہوتی ہے آج بہت دن کے بعد کبیر بھائی کی طرف گئی تو وہ بھی اس کو بُرا لگا کہ میں اب اس کی ماں کو بھڑکاتی ہوں۔۔۔۔ قسم سے بہت دُکھ ہوتا ہے کبیر بھائی کی زندگی پر۔۔۔” اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر رضوان اس کے پاس ہی آکر بیٹھ گیا اور اپنے ہاتھوں سے آنسو صاف کئے۔۔۔ اس کو اتنی اچھی کیئرنگ بیوی ملی تھی۔۔۔۔ جو شاید اللہ کا کوئی انعام تھا۔۔۔ وہ اس کی آنکھوں میں بالکل آنسو نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔ خود بھی دُکھی ہو گیا۔۔۔” ارے یا رمیں تو تمہیں بتانا ہی بھول گیا۔۔۔ اب تمہیں ڈرائیور کے ساتھ کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔۔۔ تم کہہ رہی تھیں نا کہ ایمان کو خود اسکول کے لیے پک اینڈڈراپ دینا چاہتی ہو۔۔۔۔ یہ لو۔۔” انہوں نے ایک چابی اُسے پکڑائی۔۔۔ ” مطلب “اس نے چابی پکڑتے ہوئے حیرانی سے پوچھا۔۔” مطلب یہ میڈم کہ ڈرائیونگ تو آپ کو آتی ہے آپ نے کبھی اپنے لیے ڈرائیور والی تشویش کا اظہار ہی نہیں کیا تھا۔۔۔ اس لیے میں بھی مطمئن تھا۔ لیکن واقعی اب ہماری ایک بیٹی ہے اور اس کی سیفٹی کے لیے ڈرائیور کی بجائے تم خود اُسے پک اینڈ ڈراپ دو۔۔۔”
تھینک یو تھینک یو سو مچ۔۔۔ وہ واقعی بہت مشکور تھی۔۔۔ لیکن اس وقت ڈری ہوئی بھی تھی جو حالات چل رہے تھے۔۔۔ وہ اپنی بیٹی کی حفاظت کے لیے کوئی کمی چھوڑنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔” پانچ سالہ ایمان بہت سمجھ دار تھی۔۔۔ ماں کے اشاروں پر چلتی تھی۔۔۔۔ اور جس طرح ثنا کی ماں نے اس کا بچپن سے خیال رکھا اور بہترین تربیت کی وہ بھی اپنی بیٹی کو اتنی دولت کے باوجود اچھی تربیت دینا چاہتی تھی۔۔۔ اور وہ اس سلسلے میں اپنی پوری کوشش کر رہی تھی۔۔۔ چھوٹی سی بچی اپنا اچھا بُرا سمجھتی تھی۔۔۔ ماں اسے چھوٹی بڑی ہر بات بہت توجہ اور پیار سے سمجھاتی حتیٰ کہ “بیڈ ٹچ اور گڈ ٹچ” کیا ہوتا ہے؟۔۔۔ڈرائیوراور ملازموں سے کتنا فاصلہ رکھنا ہے اُسے بہت اچھی طرح معلوم تھا۔۔ موجودہ دور کی ماں کو اپنی ماں سے ہٹ کر اپنی تربیت کے پیمانے طے کرنے تھے۔۔۔ کیوں کہ آج کی اولاد کو زیادہ مشکل حالات کا سامنا تھا۔۔۔ بیس سال میں وقت بہت بدل چکا تھا۔۔۔ سوشل میڈیا کے دور اس میں Tabbooبدل چکے تھے۔۔۔ جو باتیں پہلے دور میں Tabbooسمجھ کر بیان نہیں کی جاتی تھیں اب اپنے بڑھتے ہوئے بچوں کو ماں باپ کو بتانا بہت ضروری تھا۔۔۔ یہ باتیں قالین کے نیچے نہیں چھپائی جاسکتی کیوں کہ چھپانے سے موجودہ نسل کو زیادہ نقصان تھا۔۔۔ والدین کے علاوہ کوئی بتاتا تو شاید زیادہ نقصان ہوتا اسی لئے وہ اپنی بیٹی کی دوست تھی۔۔۔ تاکہ بیٹی جو کچھ سیکھے اپنی ماں جیسی اولین دوست سے سیکھے۔۔۔اس سے کھل کر پوچھے اور عمل بھی کر سکے۔۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
سیما نے آفندی صاحب کے مشورے سے ہی طلاق کے لئے عدالت سے رجوع کیا۔۔۔ اور عدالت نے عمر آفندی کو طلب کر لیا۔۔۔ وہ اس وقت بہت مشکل میں تھا۔۔۔ واپس جا کر جب اس نے صباح کو ساری صورت حال بتائی تو اس نے تو ماتھے پر آنکھیں رکھ لیں۔۔۔ جیسے اُسے جانتی ہی نہیں۔۔۔ وہ گِڑ گڑایا۔۔ رویا۔۔۔ لیکن اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔۔۔ پھر وہ اپنے دوست کے گھر شفٹ ہو گیا۔۔۔ لیکن صباح سے رابطے میں رہا۔۔۔ صباح نے صاف کہہ دیا کہ میں اس طرح تمہارے ساتھ کوئی رابطہ رکھنا نہیں چاہتی۔۔۔ اگر کام کرنا ہے تو میرے ساتھ آجاؤ۔۔۔ اس نے صباح کے قریب رہنے کے لئے اس کی یہ آفر بھی قبول کر لی۔۔۔ اور دوسری طرف اس نے سیما سے دوبارہ صباح کے کہنے پر ہی رابطہ کیا لیکن وہ شاید بہت بددل ہو چکی تھی۔۔۔ اور چاہتی تھی کہ عمر اُسے چھوڑ دے وہ شاید اس ٹوٹے پھوٹے رشتے کو مزید بچاتے بچاتے تھک گئی تھی۔۔۔ پورا دھیان صرف اپنے بزنس پر دینا چاہتی تھی۔۔۔ بالآخر عمر نے اُسے طلاق دے دی۔۔۔
وہ رات جب سیما کے ہاتھ میں طلاق کے کاغذات آئے تو وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی۔۔۔ اتنی محبت کے بعد۔۔ اس رشتے کا حصول اورپھر اختتام۔۔۔۔ اس نے تو کبھی سوچا بھی نہ تھاکہ اس کی پانچ سالہ ازواجی زندگی میں یہ وقت بھی آئے گا۔۔۔ لیکن وہ سمجھ چکی تھی کہ رشتوں کی محبت اس کا نصیب نہیں تھی۔۔۔ اسی لئے اب زندگی بنا کسی رشتے کے گذارنی تھی۔۔۔ یہ تھا اس کا آخری فیصلہ جس پر وہ مکمل طور پر خود کو راضی کر چکی تھی۔۔۔ لیکن یہ تو شاید صرف قسمت کو معلوم تھا کہ آگے اس کے لیے کیا لکھ کر رکھا ہوا ہے۔۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔x
کبیر علی کا بزنس دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہا تھا۔۔۔ اور وہ یہ ساری دولت سامعہ کی قسمت کا لکھا سمجھ رہے تھے۔۔۔ اب وہ پرانا گھر چھوڑ کر ڈیفنس کے ایک پوش بلاک میں آچکے تھے۔۔۔ گھر کے باہر گارڈ اورپورچ میں دو دو گاڑیاں اور چار چار نوکر ان کے Statusکا پتا دیتے تھے۔۔۔ آیان کو بھی پرانے اسکول سے اٹھا کر ایک اچھے انگلش میڈیم اسکول میں داخل کروا دیا گیا تھا۔۔۔ لیکن وہ ایک ضدی اور بدتمیز بچہ ثابت ہو رہا تھا۔۔۔ نانو جتنا ٹائم اُسے پاس بٹھا کر سمجھا سکتیں تھیں سمجھا رہی تھیں۔۔۔ ماں کے پاس اس کی تربیت کے لیے ٹائم ہی نہ تھا۔۔۔ بلکہ اب تو پیسے کی فراوانی کے بعد سامعہ نے بھی سٹاک ایکسچینج سے شیئرز لین دین کا کام شروع کر دیا تھا۔۔۔ اس کی ساری دوستیں اپنے شوہروں کی کمائی اسی طرح اسٹاک ایکسچینج میں لگا کر دُگنی کر رہی تھیں۔۔۔ تو اُن کی دیکھا دیکھی اس نے بھی یہ صاف ستھرا کام شروع کر دیا۔۔۔ قسمت اچھی تھی منافع ہوا تو اس کا حوصلہ بڑھ گیا۔۔ اُسے لگتا کہ جو کچھ وہ پانا چاہتی تھی۔۔۔ اب قسمت نے اُسے دے دیا ہے لیکن کہیں نہ کہیں ایک دبی دبی خواہش بھی باقی تھی۔۔ اور وہ خواہش کسی کی محبت کی خواہش تھی۔۔۔ شدید محبت۔۔۔۔جو اُسے کبھی نہ مل پائی۔۔۔
باقی آئندہ
x۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔x