وہ زندوں کی دنیا میں جیتا جاگتا ایک مردہ تھا!
وہ مر چکا تھا پر سانس لیتا تھا اور ہر بھرتے سانس کے ساتھ اسے اس قدر تکلیف ہوتی تھی کہ اس کا جی چاہتا وہ زندوں کی اس دنیا سے فرار حاصل کر کے قبرستان کی طرف بھاگ جائے اور کسی قبر میں پناہ لے لے۔ وہ ایسا مردہ تھا جو ایک جیتی جاگتی، شوخ و چنچل، زندگی سے بھر پور لڑکی سے محبت کر بیٹھا تھا اور جس کی محبت نبھانے کو وہ اس کا ہاتھ تھام کر اس کے ساتھ جیتا گیا، باوجود اس کے کہ اس کے لیے زندوں کے دیس میں رہنا محال تھا۔
جیسے کسی زندہ انسان کے لیے مرجانا مشکل ہوتا ہے اس طرح ایک مردے کے لیے زندہ بن کر جینا۔۔۔ اور وہ شاید واحد مردہ تھا جو کسی جیتے جاگتے انسان کا روپ دھار کر، سانسیں بھرتا رہا۔ زندگی کے سرد و گرم موسموں سے اپنے محبوب کو بچانے کو، ہر گھڑی اس کے پاس پاس رہا اور یہ اس کی محبت کی انتہاء تھی کہ وہ اپنی فطرت کے خلاف جیا۔
“میں ایک ناکام شاعر جو اپنے لیے آواز اٹھا نہ سکا، تمہارا کیا ساتھ دیتا؟ اسی لیے میں نے یہی ٹھیک سمجھا کہ تم بھی میری طرح سر تسلیم خم کردو اور وہی کرو جو معاشرے میں ہوتا آیا ہے۔ کچھ نیا نہ سوچو، کچھ نیا نہ کرو کیونکہ ہمارے ذہن نئی چیزیں اتنی جلدی قبول نہیں کرتے اور جو نئی بات کرتا ہے ہم اس سے الجھ پڑتے ہیں۔ ہم اپنی جاہلیت کو اپنا اثاثہ سمجھ کر اس سے جان چھڑانے کی کوشش نہیں کرتے اور اسی طرح ہماری زندگی گزر جاتی ہے۔ یقین کرو آرام سے گزر جاتی ہے۔ زندگی تو ان کی مشکل ہوتی ہے جو نیا سوچتے ہیں، کچھ نیا لے کر آتے ہیں۔”
انہوں نے سر اٹھا کر اپنے تاریک آنگن کو دیکھا۔ وہاں کس قدر اندھیرا تھا بالکل ان کے دل کی طرح۔۔۔ اور جو لوگ لوگوں کے ڈر سے اپنے اندر کی صلاحیتوں کو ضائع کردیتے ہیں، ان کے اندر ایسی ہی تاریکی ہوتی ہے۔
“میری بہتری اسی میں تھی کہ میں نے خود کو بہت پیچھے چھوڑ کر وہ کیا جو معاشرے کا ایک عام فرد کرتا ہے۔ مجھے سکون بھلے ہی نہ ملا ہو مگر مجھ سے متعلق لوگ مجھ سے خوش ہیں کیونکہ میں ایک ذمہ دار انسان ہوں۔ جس نے خوابوں پر حقیقت کو فوقیت دی اور سچ کہوں تو ایک موڑ پر پہنچ کر خواب حقیقت کے آگے دم توڑ دیتے ہیں۔ زندگی کی جھنجھٹوں میں گِھر کر خواب دیکھنے کا وقت کسی کے پاس نہیں ہوتا۔”
ٹہلتے ٹہلتے ان کی ٹانگیں دکھنے لگیں۔ اس غضب کی سردی میں ان کے پاوں شل ہونے لگے تو وہ برآمدے کی سیڑھی پر آکر بیٹھ گئے۔
“تم میری زندگی، میری قسمت کا منور ستارہ ہو جس نے ہمیشہ میرے دل اور گھر میں روشنی کی ہے۔ جس کے وجود نے میرے گھر میں خوشیاں بھکیر دیں اور جس کی ہنسی کسی سُر سے کم نہ تھی۔ تمہاری باتیں اور تمہارے نخرے۔۔۔ مجھے تمہارے بدلے کوئی جنت بھی دے تو میں نہ لوں۔ تم میری آنکھوں کی ٹھنڈک، میرے دل کا سکون ہو اور تمہاری زندگی پرسکون بنانے کے لیے ماہ نور! میں نے تمہارے لیے آسان راستہ چنا۔ تم بھی اسی راستے پر چلو جو آسان ہے اور جس پر تمہارا باپ بھی چلا ورنہ جس راستے پہ تم نکل پڑی تھی وہ مشکل ہے۔ وہاں قدم قدم پر ٹھوکریں کھانے کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ وہ تو غم و الم کا راستہ ہے اور کوئی باپ اپنی اولاد کے لیے کیسے کوئی مشکل راستہ چن سکتا ہے؟ اسی لیے مجھے جو ٹھیک لگا میں نے وہی کیا ورنہ تم نے جس راستے پر چلنے کو قدم آگے بڑھائے تھے وہاں تو صلاحیتیں اشکوں کی محتاج ہوتی ہیں۔ ہر وہ بندہ جو سب سے زیادہ غمزدہ ہو، ایک اچھا لکھاری بنتا ہے۔ پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ میں تمہاری صلاحیتوں میں نکھار دیکھنے کو تمہیں غموں کا شکار ہونے کے لیے چھوڑ دیتا؟ ایک باپ کبھی اپنے بچے کو سخت راستے پہ چلتا نہیں دیکھ سکتا اور نہ ہی اپنے بچے کو غموں کی نمائش پر لوگوں کی داد وصول کرتے ہوئے دیکھ سکتا ہے۔”
اگلے دن اس کا نکاح تھا۔ وہ جانتے تھے وہ خود دار تھی۔ اسے اپنے بل بوتے پر کچھ کرنا تھا۔ وہ کہانیاں لکھتی تھی جو ملک کے بڑے بڑے رسالوں میں چھپتی تھیں۔ اسے کم عرصے میں بڑی پذیرائی ملی تھی اور وہ اس کی اس کامیابی سے خوفزدہ تھے کیونکہ وہ اپنے قلمی نام سے کہانیاں چھپواتی تھی اور وہ جانتے تھے کہ وہ دن دور نہیں جب سب رشتہ داروں کو اس کا علم ہو جائے گا اور جو ان کے ساتھ ہوا، وہ اس کے ساتھ بھی ہوگا۔ انہیں وہ دن اچھی طرح یاد تھا جب چچا میاں انہیں ہاتھ سے پکڑ کر ایک مشاعرے سے اٹھا کر لے گئے تھے۔
“ہمارے خاندان میں ایسا پہلے کبھی کسی نے نہیں کیا اور نہ ہی تم ایسا کروگے۔ بند کردو اپنی یہ حرکتیں اور اگر تم نے یہ جاری رکھیں تو میں ہرگز اپنی بیٹی کو تمہارے ساتھ برباد نہیں ہونے دوں گا۔ ارے کیا اوقات ہوتی ہیں ایک شاعر کی؟ لوگوں کے سامنے لہک لہک کر اشعار پڑھنا اور کسی اور کے اشعار پہ سر ہلا ہلا کر واہ واہ کرنا۔ اس کے علاوہ آتا ہی کیا ہے شاعروں کو؟”
ان کی آنکھوں میں ماضی کو یاد کر کے جیسے لہو اتر آیا تھا۔
“ٹھیک کہا تھا آپ نے چچا! شاعروں کو اس کے علاوہ اور آتا ہی کیا ہے؟ اور میں۔۔۔ وہ ناکام شاعر جو ایک مجموعہ چھاپ نہ سکا۔ میں اور کر بھی کیا سکتا تھا؟ وہ سمجھتی تھی شاعر و ادیب مردہ ہوتے ہیں۔ وہ ہنستی تھی۔ کہتی تھی زندگی کی روشن حقیقتوں کو چھوڑ کر کسی تاریک خواب کا پیچھا کرتے ہیں ہم۔ ہم زندہ نہیں مردہ ہوتے ہیں۔ اور اس کی محبت میں، اس کے سامنے اپنی محبت ثابت کرنے کو میں نے اسے دکھایا کہ میں زندہ ہوں۔ میں نے اس سے ایک شاعر بن کر محبت نہ کی بلکہ ایک زندگی سے بھر پور انسان بن کر محبت کی۔ اپنی صلاحیتوں کا گلا گھونٹ کر اس کی ہر خواہش پوری کی اور اسے وہ کر دکھایا جو کسی طور ممکن نہ تھا۔ ہر بار اپنے اندر کے شاعر کا گلا گھونٹ کر میں اس کے سامنے زندگی سے بھر پور بننے کی اداکاری کرتا رہا۔ جب جب میرا رونے کو جی چاہا، میں قہقہے لگا کر ہنسا کیونکہ اگر میں مر جاتا تو وہ چھوڑ کر چلی جاتی مجھ کو اور یہ ممکن نہ تھا میں اس کے بغیر جیتا۔ میں اس کے ساتھ جیا۔ پل پل دل پہ پتھر رکھ کے جیا۔ اس سے محبت کرتے کرتے خود سے محبت کرنا بھول گیا تھا میں۔ اپنی شخصیت، اپنی پہچان دفن کر دی تھی میں نے۔ بقول اس کے میں نے خود سے جڑا اپنا مردہ حصہ کاٹ کر پھینک دیا تھا اور اسے اس کی بے حد خوشی تھی کیونکہ اس کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ اس کا شوہر زندگی سے بھر پور مرد ہو، زندگی سے ہارا ایک کمزور انسان نہیں!”
اشک ان کے گالوں پر بہنے لگے۔
“میں بھی اس کے لیے جیا اور جی بھر کے جیا۔ یہاں تک کہ جب اس نے میری ساری شاعری جلا دی تو بھی میں نے کچھ نہ کہا۔ میں خوش تھا کہ وہ خوش تھی مگر اب جب میں بوڑھا ہو چلا ہوں تو مجھے لگتا ہے جو غبار برسوں سے میرے اندر ہے وہ اب باہر آرہا ہے۔ وہ جو شعر میں لکھ نہ سکا، وہ اب آنسو بن کر آنکھوں سے بہتے ہیں تو مجھے بے چین و بے بس کردیتے ہیں اور میں اس سے شکایت نہیں کر پاتا کہ برسوں پہلے اس نے جو وعدہ مجھ سے لیا وہ تو مجھے اندر تک کھا گیا۔ مگر اب شکایت کروں گا تو ہنسے گی۔ میرا مذاق اڑا کر کہے گی “کیا ہوا میاں جی! پھر سے دورہ پڑ گیا کیا؟ اور اسی بات سے میں ڈرتا ہوں؟ وہ مجھ پر ہنسے اسی بات سے خوف آتا ہے مجھ کو۔”
سردی ناقابل برداشت ہوگئی تھی۔ وہ اندر کی طرف چلے گئے۔
“میں نہیں چاہتا تمہارا شوہر تم پر ہنسے۔ یا تم اپنی صلاحیت اور اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے اس کے آگے ہاتھ پھیلاو۔ میں نہیں چاہتا تم اس سے کہو کہ وہ تمہیں سمجھے۔ وہ تمہیں نہیں سمجھے گا۔ ہر لکھنے والا اتنا خوش قسمت نہیں ہوتا کہ اسے سمجھنے والا ساتھی ملے۔ اسی لیے چاہتا ہوں تم بھول جاو کہ تم میں یہ صلاحیت ہے۔ میں نہیں چاہتا تم اس کے آگے ہاتھ پھیلاو بلکہ چاہتا ہوں تم خود مختار اور ذمہ دار بنو تاکہ کوئی تمہیں الزام نہ دے کہ تم حقیقت سنبھالنے کے بجائے خوابوں کو اہمیت دیتی ہو۔ میں نہیں چاہتا تمہیں بھی کوئی کہے کہ تم ایک مردہ شاعر کی مردہ بیٹی ہو۔ میں چاہتا ہوں تم زندہ لوگوں کی فہرست میں شامل ہو کر جیو اور اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھاو۔ مجھے افسوس ہے میرے ادھورے خوابوں کا اثر تم پہ پڑا۔ میرے رگوں میں دوڑتا خون تمہاری رگوں میں بہنے لگا۔ کاش تم اپنی ماں پہ جاتی، وہ جو لکھاریوں کو مردہ کہتی ہے۔ وہ جو لکھنے کو وقت کا ضیاع سمجھتی ہے۔”
وہ دبے پاوں پلنگ کے پاس آئے۔ انہوں نے کھڑکی میں سے جھانکتی ہلکی روشنی میں اس عورت کا چہرہ دیکھا جو پوری زندگی میں یہ بات نہ سمجھ سکی کہ اس شخص کا شاعری کرنا اصل میں اس کی محبت کرنے کا ایک انداز ہے۔ وہ نہ سمجھی تو انہوں نے انداز بدل دیا۔ محبت کا انداز محبوب کو پسند نہ آئے، عاشق کو بہرحال انداز بدلنا پڑتا ہے!
“شاعروں کو تم جیتے جاگتے مردے کہتی ہو۔ تم کہتی ہو یہ دنیا میں رہتے ہیں، زندہ لوگوں کے بیچ رہتے ہیں پر زندہ رہنے کا سلیقہ نہیں سیکھ پاتے۔ کسی شاعر کو دیکھ کر یا اس کے بارے میں بات کر کے تمہارے چہرے پر عجب حقارت کے تاثر ہوتے ہیں۔ تم ٹھہری زندگی سے بھر پور انسان۔۔۔ کسی شاعر کو راہ چلتے بھی دیکھ لیتی ہو تو کہتی ہو ‘وہ گیا پاگل یا وہ گیا مردہ۔۔۔’ اور میں تمہیں بتا نہیں پاتا کہ ایک مردہ تمہارے سنگ بھی چل رہا ہے۔ ایک مردہ ہے جسے تم نے اپنے انداز سے جینے پر مجبور کیا ہے۔ تمہیں لکھنے والے لوگ زمین پر بوجھ لگتے ہیں۔ تم عملی کام پر یقین رکھتی ہو۔ تمہارے سامنے جذبات کی کوئی وقعت نہیں۔ اسی لیے میں زندگی بھر خود سے یہی جنگ لڑتا رہا کہ جذبات کے اظہار کے بجائے تمہارے لیے ایسا کچھ کروں جس کو دیکھ کر تمہیں میری محبت کا یقین ہو جائے اور میں ایسا کرنے میں کامیاب رہا۔ میں وہ مردہ ہوں جو محبت سے مجبور ہو کر جیا اور جس نے تمہاری اس بات کو غلط ثابت کردیا کہ شاعر جینے کا سلیقہ نہیں سیکھ پاتے۔ دیکھو تو! میں جیا اور اس انداز سے جیا کہ کوئی زندگی سے بھر پور انسان بھی اس انداز سے جی نہیں پاتا۔”
رات نیند ان سے جیسے کوسوں دور بھاگ گئی تھی۔ اسی لیے فجر پڑھ کے انہوں نے سونے کی کوشش کی اور جب وہ جاگے تو سب سے پہلے اس کے کمرے میں گئے تھے۔ وہی نصیحتیں، کچھ وضاحتیں اور دعائیں۔ وہ جوابا خاموش رہی۔ وہ اس کا چہرہ پڑھنے کی کوشش کرتے رہے کہ شاید اس پہ اداسی ہو۔ شکوہ یا شکایت کا کوئی شائبہ۔۔۔ پر اس کا چہرہ تو ہمیشہ کی طرح منور اور راضی برضا تھا۔ وہ اس قدر گہری شخصیت کی مالک تھی کہ اس کے دل پر بیتنے والے طوفان کی ترجمانی اس کی آنکھیں نہیں کر پاتی تھیں۔ اس کے معاملے میں یہ بات غلط تھی کہ آنکھیں دل کا آئینہ ہوتی ہیں۔ اس نے ان کی نصیحتوں پر سر جھکا کر عمل کرنے اور ان کو شکایت کا موقع نہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ وہ مطمئن ہو کر وہاں سے نکلے تھے۔ ان کے بے چین دل کو تھوڑا سا سکون مل گیا تھا۔ اور وہ جو سمجھ رہے تھے کہ اس کا نکاح ہو جائے گا اور وہ ذمہ داریوں میں گِھر کر خوابوں کی ترجمانی کرنا بھول جائے گی تو وہ غلط تھے کیونکہ اس نے ڈھولی میں بیٹھتے ہوئے سوچا تھا “آپ جو میری کہانیوں سے ڈرتے تھےتھے، آپ نے تو مجھے داستان کر ڈالا ابو جی! ایسا داستان جسے آپ اپنے ہاتھوں سے لکھیں گے اور اس بار نہ امی آپ کو روک پائیں گی اور نہ ہی آپ کی ذمہ داریوں کا بوجھ۔۔۔ کیونکہ ایک مردے پر جو گزرتی ہے، وہ دوسرا مردہ ہی سمجھ سکتا ہے، زندہ انسان نہیں!!”