کچھ خواب ابھی دیکھے نہیں جاتے کہ ان کی تعبیر حاضر ہو جاتی ہے۔اور نور الھدی شاہ صاحبہ سے ملاقات بھی ایک ایسا ہی خواب تھی جو ممکن ہو اور جب ان کے بارے میں جاننا شروع کیا،ان سے ملی ،بات چیت چلی تو سوچا کہ آج تک جتنوں سے ملے بیکار ملے،آج تک جتنوں کو جانا بیکار جانا۔ویمن ایمپاورمنٹ کو اگر ایک عورت کی صورت دکھایا جا سکتا ہے تو وہ نور الھدی شاہ ہیں۔مجھے حیرت ہوئی کہ ایسی خاتون  کے بارے میں تو شاید پاکستان کی ہر بچی کو پتا ہونا چاہیے مگر بدقسمتی سے بڑے بھی ان کی اصل ہستی سے ابھی تک ناآشنا ہے۔

وہ عورت جو سوچنے میں کرنے میں،جینے میں خودمختار ہوں, جن کی سوچ اس قابل ہو کہ اسے تحریر کیا جائے،جن کے خیالات اس قابل ہوں کہ ان سے سیکھا جائے تو ایسی ہیں نور الھدی شاہ صاحبہ۔ہم سوچتے ہیں ہمیں اچھی تحریریں اور اچھے ڈرامے نہیں ملتے شاید اس لئے کہ اچھے دماغ نہیں رہے۔جو تھے ان کو ہم نے اچھی اور جوان صورتوں پر قربان کر دیا۔جو کاملیت ایک مکمل ،فکر انگیز تحریر میں ہونا چاہیے وہ سب سے پہلے لکھنے والے کی شخصیت میں ہونا چاہیے۔اگر آپ سوچتے ہی لولا اور لنگڑا ہوں تو آپکے تحریر کبھی مکمل نہیں ہو سکتی۔

“ہمیں ہر بار خود کو دوبارہ سے تخلیق کرنا پڑتا ہے اور یہ عمل بہت ہی چھوٹی سی چیز سے شروع ہوتا ہے”

نور الھدی شاہ صاحبہ نے زندگی کی حقیقی جدوجہد کو ایک لائن میں بیان کر دیا ۔یہ ہیں وہ سچ جو اس طرح سے آج ہمیں دیکھنے کو نہیں ملتے۔اور یہی سچ انہوں نے اپنے ڈرامے عجائب خانہ میں دکھائے۔لوگ اسے عشق حقیقی کی داستان سمجھتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ عشق حقیقی تو شروع ہی خود کو بدلنے سے ہوتا ہے۔جیسے شمس کی نظر رومی کو نیا جنم دے دیتی ہے،اسی طرح انسان کو پھر سے نیا جنم لینا پڑتا ہے جو پہلے سے پہتر ہوتا ہے۔

ان کی باتوں ،لفظوں اور لہجے میں وہ گیان ہے جس کی خاطر انسان بابوں کے پیچھے دربدر ہوتا ہے۔وہ عقل اور شعور جس کی خاطر سالہا سال کتابیں پڑھتا رہتا ہے مگر پھر بھی حاصل نہیں ہو پاتا!جو صرف کسی عظیم تخلیقار کے سامنے بیٹھ کر ،انکے الفاظ اور لہجے سے نچوڑا جاتا ہے۔

نور الھدی شاہ صاحبہ سے گفتگو سنیں

ان سے کی گئی گفتگو منٹ گننے پر طویل لگتی ہے مگر اگر سننا شروع کی جائے تو لگتا ہے دو منٹ میں گزر بھی گئی اور تشنگی بھی نہ ہوئی۔صرف یہی دو گھنٹے انسان پر سوچ کے کئی نئے در وا کر دیتے ہیں۔

________________

صوفیہ کاشف