اس نے جھجھک کر ایک بار پھر سے لرزتی پلکوں کو اٹھایا اور آئینے میں نظر آتے اپنے چندن بدن کو دیکھاتمہارا بدن چاند کی کرنوں کی مانند ہے کانچ سا نازک ، اور کبھی تو لگتا ہے تم میں سورج جیسی تپش بھی ہے تبھی تو میں تم پر نگاہ نہیں ٹکا پاتا“_ اس نے اپنے کان میں سرگوشی گونجتی محسوس کی تو جھٹ سے دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپا لیا۔ عورت کی ازلی لاج نے اس پر گھیراؤ تنگ کیا تو کمرے کی درودیوار نے حیرانی سے منہ کھول کر اس کو دیکھا اور اک دوجے سے سوال کیا ،کیا یہ وہی لڑکی ہے؟” “نہیں نہیں یہ تو کوئی محبوبہ ہے، کوئی منچلی دیوانی سی محبوبہ، خواب نگر کی رہنے والی وہ جو لڑکی تھی جس سے درودیوار آشنا تھیں وہ حقیقت کی پرتیں کھولتی تھی ، مضبوط ارادے رکھنے والی تھی وہ کمزور نہ تھی۔ لیکن یہ بھی تو سچ ہے نا پریم کے آگے ساری مضبوطی ریشم جیسی ہو جاتی ہے۔ ریشم کے کیڑے کی کہانی بھی عجب ہے۔ تار تار کرکے وہ لعاب اپنے گرد لپیٹتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ خود کو ان ریشمی اور نازک تاروں میں قید کر لیتا ہے۔ بس اس میں اتنی ہی ہمت، سکت اور اتنا ہی اختیار ہوتا ہے۔ اس کے آگے کا فیصلہ کویا لینے والے ہاتھوں پر منحصر ہے۔ اتنی محنت مشقت کے باوجود ریشم رہتا نازک ہی ہے عورت کی مانند۔
یوں بھی عورت خود کو پتھر کر لے، گلیشیر بن جائے، چٹان ہو جائے یا برف کا تودہ پریم گلی میں ایک قدم اور گرم ہوا کے ایک جھونکے سے عورت کا سارا جیون انتہائی موسموں کی زد میں آجاتا ہے۔ وہ مضبوط تھی تو کیا۔۔تھی تو عورت ہی نا۔ عورت جو پریم روگ لگا کر دامن میں آگ چھپا لیتی ہے۔پھر ساری عمر اسی آگ میں جھلستی رہتی ہے۔اب کوئی پوچھے بھلا کہ پریم روگ سے کب کسی کو سکھ ہے ملا!!_
اسی طرح شرماتے ہوئے اس نے گزشتہ رات کی جھلکیاں ذہن میں دہرائیں۔ اسکا محبوب اسکے قریب نہیں تھا، اسکو چھو بھی نہ سکتا تھا، کوئی مہر بھی ثبت نہ کر سکتا تھا۔ وہ بس اسے دیکھ سکتا تھا۔ بڑی سکرین والے موبائل پر اسکے حسن کا جوبن، جوانی، کنوارے پن کی کشش۔۔۔۔۔ چھونے کی تمنا کر سکتا تھا۔ اسکے حسن میں قصیدے پڑھ سکتا تھا۔ گزشتہ رات کی جھلکیوں کے ساتھ اسے وہ منتیں اور وعدے بھی یاد آنے لگے جو اسکا محبوب ہر رات اسے بے پردہ بدن کی ایک جھلک دیکھنے کے واسطے کیا کرتا تھا۔ لاڈ بھری ناراضگی، ضد، اعتراض، اسرار ۔۔۔وہ بہت مضبوط ہو کر بھی موم کی طرح پگھل جاتی۔موم کی طرح پگھلتے ہوئے وہ یہ بھول جاتی کہ موم جب تک دھاگے کی بتی کے گرد رہتی ہے بس تب تک ہی اسکا کوئی وجود ہوتا ہے۔ پگھل کر وہ صرف بدنما ہی نہیں ہوتی بلکہ وجود بھی کھو دیتی ہے۔
موبائل کی روشن سکرین اور پیغام کی بجی اطلاعی گھنٹی پر وہ آئینے کے سامنے سے ہٹی۔ اور پلٹ کر پلنگ سے موبائل اٹھایا۔ پیغام پر محبوب کا نام پڑھ کر وہ لاج سے مزید سمٹ گئی۔ پھر حیرانی سے اتنے لمبے میسج کو دیکھا
“پیاری اور حسین شگفتہ تم نام ہی میں شگفتہ نہیں بلکہ سچ مچ پھولوں پر ٹھہری شبنم جیسی شگفتہ ہو۔ تم سے پہلی بار ملاقات یونیورسٹی میں ہوئی جس روز تم پریزنٹیشن دیتے ہوئے گھبرا گئی تھی۔ ہاں میں جانتا ہوں اس روز تم گھبرا گئی تھی اور مجھے تعجب ہے کہ تم نے اپنے رک جانے کو ایسے چھپایا کہ تمہارا گھبرا کر رکنا ایک اسٹائل بن گیا۔ تم سے پہلی بار مخاطب ہونے کے لیے میں نے بہت سے الفاظ جمع کیے تھے۔ حالانکہ لڑکیوں سے مخاطب ہونے کے لیے مجھے یوں تگ و دو نہ کرنا پڑتی تھی مگر تم کچھ الگ تھی۔ تمہارا رعب، مضبوطی، چال، خاموشی، احتیاط، اجتناب سب نے مجھے تمہاری جانب مائل کیا۔ میرے لیے تم راز بن گئی۔ تمہارے بارے میں جاننے کے لیے مجھے تجسس ہونے لگا۔ تم میری زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی ہو جس کو پھانسنے کے لیے بڑا وقت لگا۔ اور سچ بتاؤں تو کبھی کبھی میرا جی چاہتا کہ تم سے شادی کر لوں تم بیوی بنانے لائق ہو۔ تمہارا بنایا دائرہ اور طے کی گئی حدیں مجھے تمہارے مزید قریب لے آتیں۔ اور کل رات سے پہلے تک میں اکثر تمہیں بیوی بنانے کے بارے میں سوچ لیتا تھا۔ لیکن دیکھو بلآخر تم بھی عام سی لڑکی نکلی۔ محبوب کے سامنے ہار کر ایک ہی بار اپنا سب نچھاور کر ڈالا۔ میں نے تم کو اپنا خاصا وقت دیا جس کا معاوضہ کل رات وصول کر لیا۔ اب تم آزاد ہو ۔۔چاہو تو پہلے سی مضبوط اور احتیاط پسند ہو جاؤ اور چاہو تو ایسی ہی رہو۔ اور کسی دوسرے مرد پر سب نچھاور کرتی رہو۔ تمہاری چند تصویریں اور ویڈیو کال کی ریکارڈنگ محفوظ کر لی ہے۔ آئندہ دیدار کی طلب اور ملاقات کے لیے کام آئیں گی۔ تب تک کے لیے اجازت چاہتا ہوں۔ خدا حافظ”
اس نے کئی بار پیغام پڑھا ، بار بار آنکھیں مسل کر محبوب کا نام دیکھا پھر تھک کر ایک ہی جست میں پورے قد و قامت سے زمین بوس ہوگئی۔ساری مضبوطی ریشم کے دھاگے کی مانند ٹوٹ گئی، موم کی طرح پگھل کر وجود کھو گئی۔ درودیوار نے آنکھیں میچ لیں۔ ہلکے زلزلے کے ایک معمولی جھٹکے پر چھت نے اسکو ڈھانپ لیا اور رسوائی کے کیچڑ سمیت چھپا لیا۔

——————

تحریر: مائرہ انوار راجپوت

کورڈیزائن و فوٹو گرافی: صوفیہ کاشف