خاموش پیغام__________محمد عظیم


میرے محبوب! 

آج جب میں گھر واپس لوٹا تو آپ کا خط سامنے والی میز پر پا کر مجھے کتنی خوشی ہوئی اس کو لفظوں کی مالا میں پرونا کتنا محال ہے۔ یہ خط میرے لیے کتنے خزانوں سے اہم ہے اس کا تصور کرتا ہوں تو میں خوشی کے موتیوں میں بھیگ جاتا ہوں۔
میں کب سے اس خط کو اپنے ہاتھوں میں لیے بیٹھا ہوں کبھی اس کو الٹ پلٹ کر دیکھتا ہوں تو کبھی خود میں سر مست ہو جاتا ہوں۔ میرے لبوں پر نجومِ تبسم سی بکھر جاتی ہے۔سچ جانو مجھے وہ کرب، مشکلات اور دکھوں سے بھرے دن یاد آ جاتے ہیں جس گھڑی مجھے تم سے جُدا کیا گیا تھا۔
میں اُن لمحات کو کیسے فراموش کر سکتا ہوں پھر کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ وہ لمحات اب ماضی بعید کا حصہ ہیں کیوں نا ان کو فراموش کر دیا جائے تبھی میں غموں کا صندوقچہ نکالتا ہوں اور ان کرب بھرے لمحات کو مسکراہٹوں کے بندھ باندھ کے لمحات کے ان دیکھے سمندر میں دکھ کے دھاگے لپیٹ کر وُسعتوں میں چھوڑ دیتا ہوں۔
پھر میں چشمِ تصور سے اک تلوار نکال کر اس پہ شہد لگاتا ہوں تاکہ ایسے تمام لوگ جو وقت کا ضیاع کرتے ہیں انہیں تلوار سے کاٹ کر وقت کے ضیاع سے جدا کر دوں تو شہد ان تمام لوگوں کو کِھلاؤں جو اب بھی بھوک کا لبادہ اوڑھے مسکراتے ہیں مگر اُف تک نہیں کہتے، تاکہ انکی ازلوں کی بھوک ختم ہو۔
میرے محبوب! 
تمہارا نامہ بر مجھے پتیوں کے درمیان عیاں ہوتے اس گلاب کا گماں دیتا ہے جو ابھی اپنی پتیاں بکھیرنے کے لیے اپنی کلغیِ سرور باہر نکال رہا ہے جسے محبت کے عرق کا غسل دیا گیا ہے۔مجھے یقین ہے کہ تم نے اپنے درمیان ہونے والے سبھی عہد و پیماں اس خط میں لکھے ہیں خاص طور پہ مجھے وہ بات اب بھی یاد ہے جب تم نے کہا تھا کہ میں جب بھی اس دارِ فانی سے کوچ کروں گا تو آپ مجھے اپنا دیدار عطا کرو گے۔ 
تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ میرے لیے تمہارے رخ  انور و حسنِ مطلق کا تصور ہی کتنا اہم ہے میرے یہ لکھے گئے الفاظ میرے دل کی کیفیت کو کیسے اور کیوں کر بیاں کر پائیں گے؟ تمہارے بولتے مگر “خاموش خط” نے میرے دل کے اندر روشنیاں اور خوشبوئيں بکھیر دیں ہیں۔میں خود میں سَرمستاں بلکہ رَقصاں اک لمحے میں کتنی صدیاں سمیٹ آیا ہوں تم اس بات کا اچھی طرح اندازہ کر سکتے ہو۔
تمہارا یہ خاموش مگر مسلسل بولتا خط مجھے اس ارفع مقام کی سمت لیے جاتا ہے جو میری پہنچ سے بالا ہی بالا ہے کیوں کہ اس معلوم زندگی نے مجھے کبھی پنکھ کھولنا نہیں سکھلایا اب میں کیا کروں گا؟پھر بھی میں خوشی کی خوشی سے نہال ہوں کہ میرا سفر تیری سمت شروع ہونے والا ہے۔ “میں اس بولتے سچ کو اس مخفی سچ پہ ترجیح دیتا ہوں جو خاموش ہے” بالکل اسی طرح جس طرح میں خاموش ادراک کو جو پُر سکون، تسلی بخش اور مسلسل ہے اس تجزیہ پر ترجیح دیتا ہوں جو شور بپا کرتا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ شوق سرمست سے مخمور خاموشی ایک وَجد بھرے دو لفظوں پہ مبنی ہوتی ہے اس لیے میری ذات الفاظ ” اِطمینان قلب” کا مکمل لبادہ اوڑھے “خاموشی کے لمبے گھونٹ پیتی ہے”۔
فقط تمہارے بُلاوے کا منتظر

____________
تحریر:محمد عظیم

کور ڈیزائن و فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

___________

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.