بادلوں نے آج بھی آسمان پر ڈیرہ ڈال رکھا تھا اور گرجتے ہوئے زمین پر برس رہے تھے۔ ویلے (فا ر غ )اکابرینِ ریاست اپوزیشن (پھپو )اور آئینی صدر(سسر) برآمدے میں بیٹھے بارش سے لطف اٹھا رہے تھے ۔ عوام (بچے )چھوٹی چھوٹی باتوں میں خوشی تلاش کرتے ہوئے کاغذ کی کشتیاں بنا کر پانی میں ڈال رہے تھے بڑا صاحبزادہ گتے اور گلو سے بحری جہاز بنا رہا تھا ۔چیف (سرتاج )اپنے کام پر تھے اور وزیراعظم (ہم)امور راجدھانی میں مصروف …… پھپو اور سسر انکل کو چائے دینے گئے تو برستی بو ندیں دیکھ کر رہ نہ سکے اور موبائیل اٹھا کراپنی حس فوٹو گرافی کو تسکین دینے لگے ۔
پھپو نے دیکھا تو تنقید کا ڈونگرا برسایا ” کیمرے والا موبائل کیا آیا ہر بندہ ہی فوٹو گرافر بن گیا…… ورنہ پہلے تو کسی کسی کے پاس کیمرا ہوتا تھا ۔”لیکن اس سے پہلے کہ وہ کہتیں” بڑی آئی فوٹو گرافر…. ہونہہ” ہم نے آواز لگائی سمائل پلیز اور اپوزیشن ( پهپو )اور آئینی صدر(سسر) کی تصویر لے لی ہمارے اس عمل نے پھپو کے چہرے کے تاثرات بدل دیئے اور ہمارا بھی موڈ خراب ہونے سے بچ گیا جو “بڑی آئی فوٹو گرافر” سن کر ہونا تھا “دکھاؤ ذرا کیسی آئی ہے ؟” پھپو نے اشتیاق سے پوچھا
“دیکھ لیں آج کل کے موبائل کیمرہ کا کمال تصویر کھینچو اور جھٹ سے دیکھ لو…….پسند نہ آئے تو ڈیلیٹ کر دو “ہم نے تصویر دکھاتے ہوئے کہا
“ارے واہ تصویر تو بہت اچھی آئی ہے بہو دو تین اور تصویریں لے لو میری اور بھائی جان کی”۔ پھپو نے فرمائش کی۔
ہم نے کھٹا کھٹ کئی تصویریں لے لیں اور پھپو کو واٹس ایپ کر دیں ہمارے کون سا پیسے لگنے تھے ۔
پھپو اپنے موبائل کی طرف متوجہ ہوئیں اور ہم بچوں کی طرف جو دھڑا دھڑ کاغذ کی کشتیاں بنا کر پانی میں ڈال رہے تھے ” ۔بس کرو بچو ….اب اور کوئی کشتی نہیں بنانی ….بہت ہو گیا ۔”ہم نے کہا
“ارے کھیلنے دو بہو ……اس موسم میں بچے کشتیاں نہیں بنائیں گے تو اور کیا کریں گے……یاد ہے بھائی جان ہم بھی بچپن میں ایسے ہی کرتے تھے “۔
ہاں ہاں بھئی کھیلنے دو۔” آئینی صدر نے بھی عوام ( بچوں ) کو چھوٹ دی
“لیکن کب تک ……. بارش تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لےرہی۔”
“ہاں تو بہو جمعرات کی جھڑی ہے جمعرات کو ختم ہو گی۔”
” تو کیا یہ اسی طرح کھیلتے رہیں گے “۔ہم نے بچوں کو گھورا
“کھیلنے دو بہو …… تم یہ بتاؤ آج کھانے میں کیا بناؤ گی”؟اپوزیشن نے عوام کا ساتھ دیا اور ہماری توجہ دوسری جانب مبذول کروائی
“ابھی سوچ رہی ہوں کیا بناؤں”۔
” ایک تو تم سوچتی بہت ہو بھئی جو گھر میں پڑا ہے بنا لو”
“سبزی میں تو کدو ہی پڑے ہیں وہ ہی بنا لیتی ہوں۔”
‘”مما میں کدو نہیں کھاؤں گا” ۔چھوٹےصاحبزادے نے فوراً کہا
“مما کچھ اور بنا لیں نا ۔” بیٹے اور بیٹی نے بھی اس کی تائید کی
“ٹھیک ہے کوفتے بنا لیتی ہوں ۔”ہم نے عوام کو ریلیف دیا۔
“مما چاول بھی “۔عوام ذرا سی ریلیف ملتے ہی مزید پھیلے ۔ہم نے حامی بھرنے میں دیر نہ کی یہ سوچ کر کہ روٹی تونہیں بنانی پڑے گی نا ۔
” واہ بھئی ….ہمارے زمانے میں تو اگر ایسا کہتے تھے تو امّاں کی اڑتی ہوئی چپل آتی تھی مزاج پوچھنے کو ……پہلے امّاں کے جوتے کھاتے تھے اور پھر سبزی “۔پھپو نے کہا
” بالکل ایسا ہی ہوتا تھا ۔” سسر صاحب نے قہقہہ لگایا
” اور ایسی کوئی فرمائش کرنی ہوتی تھی تو دو دو گھنٹے زمین پر ایڑیاں رگڑتے تھے۔” نجمہ پھپو نے کہا
“اور ننھی تمہارا ناگن ڈانس تو مجھے اب بھی یاد ہےجو امّاں پھر چپل مار کر ہی ختم کرواتی تھیں۔”انکل بھی پرانی یادوں میں کھو گئے
” فرمائش پھر بھی پوری نہیں ہوتی تھی” نجمہ پھپو نے برا سا منہ بنایا
“آج کل کے بچے بڑے خوش قسمت ہیں بھئی جو انہیں ایسی مائیں ملی ہیں یا یا پھر مائیں بہت اچھی ہیں جو بچوں کی ہر فرمائش فورا پوری کر دیتی ہیں۔”سسر انکل نے کہا
کیا خاک اچھی مائیں ہیں دم ہی نہیں ہے کہ بچوں کو سبزی کھلا سکیں …..
اور بچے بھی خاک خوش قسمت ہوئے سبزیوں کے وٹامنز کھانا نصیب ہی نہیں ہوتا ۔” نجمہ پھپو چڑ کر بولیں
ہم مسکرا دیئے ۔اب کیا راز کھولتے کہ آج کل کی ماؤں نے طریقہ واردات بدلا ہے…..مقصد اُن کا بھی متوازن غذا کھلا نا ہی ہے ابھی راز کھولنے کا وقت نہیں تھا نا
” بس بچو ……کشتیاں جہاز بنانے بند کرو ….. سارا لان بھر گیا ہے اخبار اور گتے کے ٹکڑوں سے۔”ہم نے ایک بار پھر بچوں کو منع کیا اور اندر آنے لگے کہ پھپو کی آواز سنائی دی
“اے بہو سنو ذرا …… تم کہاں دو دو سالن بناتی رہو گی ہمارے لیے بھی کوفتے ہی بنا لینا ہم بھی وہی کھا لیں گے”۔ نجمہ پھپو نے اس انداز میں کہا جیسے کہہ رہی ہوں کہ کھا مر لیں گے
ہم نے(آئینی صدر ) سسر انکل کی طرف دیکھا ہاں بیٹا ننھی ٹھیک کہہ رہی ہے جو بچے کھائیں گے ہم بھی وہی کھا لیں گے ۔” انداز نجمہ پھپو والا ہی تھا
ہم نے رخ موڑ کر بمشکل اپنی ہنسی پر قابو پایا اور کچن میں چلے آئے
ابھی کام شروع بھی نہیں کیا تھا کہ پھپو چلی آئیں “اے بہو ایسا کرو میٹھے میں گڑ والے چاول بنالو سونف اور چھوٹی الائچی ضرور ڈال دینا اس موسم میں اچار کے ساتھ بہت مزہ دیں گے۔”
“بارش میں تو پکوڑے بنتے ہیں”۔ہم نے کہا ……گمان تھا کہ پچھلی بار کی طرح اس بار بھی پھوپھو خود ہی پکوڑے اور گلگلے بنا لیں گی
“بھئی پہلے تو جمعرات کی جھڑی لگتی تھی تو روز نت نئے پکوان بنتے تھے کبھی پکوڑے کبھی مال پوڑے کبھی گڑ والے چاول کبھی قتلمہ…… جمعرات کی جھڑ ی جمعرات کو ختم ہو تو روز پکوڑے تو نہیں کھائے جا سکتے نا۔”
” جی پھُپو ……پکوڑے تو ہمارے ہاں صرف رمضان میں فرض ہوتے ہیں۔”
” گڑ والے چاول بنا لینا “۔پھپو نے ہماری بات سنی ان سنی کی
“ایک بات بتائیں پھپو …… بھادوں شروع ہوگیا ہے اور اتنی بارش ہو رہی ہے لیکن بھادوں کی بارش پر ایک بھی گیت نہیں بنا کوئی شاعری نہیں ہوئی سارے گیت اور اشعارساون کے لئے ہی کیوں ہیں۔”ہمارے ذہن میں اچانک یہ سوال کلبلایا
“کیا کہہ سکتی ہوں میں ……کہتے ہیں کہ یہ گیارہ مہینوں کے نام گیارہ بھائیوں پر رکھے گئے بھادوں اُن کی اکلوتی بہن تھی …..پندرہ اگست کے بعد چونکہ موسم رنگ بدلتا ہے اس لیے اس مہینہ کا نام بہن کے نام پر بھادوں رکھا کہ گرمی کا زور ٹوٹ جاتا ہے اور جیسے بہن اور بیٹی رحمت ہوتی ہیں اسی طرح اس مہینے میں بھی گرمی کے ستائے لوگ سکون کا سانس لیتے ہیں۔”
“اس مردوں کی دنیا میں بے چاری بہن ( بھادوں ) کا کوئی ذکر ہی نہیں “۔ہم نے فیمینیزم کا جھنڈا لہرایا
“ویسے بہو بات تم نے پتہ کی کی ہے…… بھادوں کی بارش کا کوئی ذکر ہی نہیں ۔”
“میں تو ہمیشہ پتے کی بات کرتی ہوں آپ نے ہی کبھی میری تعریف نہیں کی “۔ ہم ذرا سی تعریف سن کر مزید پھیلے
“کیوں تم نے کرونا کی ویکسین ایجاد کر لی ہے “۔ وزیراعظم کے اس انوکھے مطالبے پر اپوزیشن کے چہرے کے زاویے بدلے
“کر ہی نہ لوں ……کچن تو میرا کسی حکیم کے مطب کا منظر پیش کر رہا ہے “۔ ہم نے بھی بڑا دعوی’ کیا وزیر اعظم جو ہوئے
“نہ بہو یہ کام نہ کرنا کفر کا فتویٰ لگ جائے گا …..یہ کام غیرمسلموں پر چھوڑ دو”۔
ہم نے یہ کڑوا سچ سن کر برا سا منہ بنایا
“ویسےاگر تعریفیں کروانے کا اتنا شوق ہے نا تو فیس بک پر گروپ بنالو پہلے انّے وا سب کو ایڈ کرنا پھر پوسٹ لگانی شروع کرنا۔ یقین کرو جھاڑی پہ دوپٹہ لٹکادو گی تو لوگ کہیں گے “کیا سوچ ہے ……کیا creativity ہے “۔گروپ تمہارا ہوگا تم چاہے دن کو رات کہنا یا رات کو دن ….. جو کوئی اختلاف کرے تو وا ویلا شروع کر دینا کہ آپ نے بات کیسے کی … آپ بدتمیزی کر رہے ہیں ….. پھر گروپ سے نکال دینا بلکہ بلاک کر دینا …….اور ہاں مجھے اس قسم کے گروپ میں ایڈ نہ کر نا……مجھ سے نہ ہو پائیں گی یہ جھوٹی تعریفیں”۔ پھپو نے مشورہ دیا
“پھپو میں تو بہت کم فیس بک پہ ہوتی ہوں ” ۔ہم نے بہت کم پر زور دیا
“ہری بتی تو ہر وقت جل رہی ہوتی ہے “۔ پھپو نے کہا
“آپ کو کیسے پتہ؟”ہم نے فورا اپنے پروں سے پانی جھاڑا اور اپوزیشن پر ڈالا
پھپو نے ہمیں گھورا اور بڑ بڑ ا ئیں”واقعی پوسٹ تو کوئی لگاتی نہیں”۔
ہم مسکرا دیے پوسٹ پر پرائیویسی لگی ہوتی ہے پھپو کو کیسے نظر آئے۔
پھپو نے ہمیں بغور دیکھا اور واپسی کا رخ کیا
” بچوں کو اندر بھیج دیں “۔ ہم نے آواز لگائی
” بچے تو چھت پر چلے گئے ہیں کہہ رہے تھے برساتی پہ کھڑے ہو کر بارش دیکھیں گے۔”
“اب وہاں کاغذوں کا گند پھیلائیں گے ……ہم جھلائے پھر سر جھٹک کر کام کا آغاز کیا ۔ پلاؤ کے لیے یخنی اور گڑ والے چاولوں کے لیے چاش بننے رکھی ۔پھر
کدو کو چھیل کر باریک کش کیا اس میں کوفتہ مصالحہ مکس کیا دو بڑے چمچ بھنے چنے پیس کر ڈالے ایک چمچ ملک کریم ڈالی ایک ڈبل روٹی کا ٹکڑا بھگو کر ڈالا اور فریج میں سیٹ ہونے کے لیے رکھ دیا ۔کوفتوں کے لیے گریوی بنائی چاول بھگوئے اور پھر کوفتے بنا کر فرائی کر کے گریوی میں ڈال دیے ……کدو کے کوفتے تیار تھے پھر پلاؤ اور گڑ والے چاول بنائے رائتہ اور کچومر سلاد بنا یا اتنے میں چیف بھی آ گئے ۔
” آج تو کھانے کی خوشبو سے پورا گھر مہک رہا ہے کیا بنا یا ہے تم نے” ۔چیف کے لہجے میں ستائش تھی ہم ساری تھکن بھول کر ساتویں آسمان پر جا پہنچے ۔
“جو بھی بنا ہے میں نے اور بچوں نے بنوایا ہے ورنہ تمہاری بیگم تو کدو بنا رہی تھی”۔ اپوزیشن نے سارا کریڈٹ خود لے کر ہمیں ساتویں آسمان سے نیچے دھکا دیا۔
“ابھی بھی کدو ہی ہوں گے “۔چیف زیر لب بڑبڑائے وزیراعظم کی رگ رگ سے واقف تھے۔ہم نے چپ رہنے کا اشارہ کیا
کھانا مزے کا تھا سب نے بہت شوق سے کھانا کھایا الحمدللہ ۔
” ا ے بہو یہ کوفتے چکن کے تھے یا مٹن کے ؟”پھپو کو سمجھ نہیں آرہی تھی
“کدو کے” ۔ہم نے راز آشکار کیا
“کیا …….کدو کے کوفتے ۔” پھپو چلا دیں
“تو کیا بچوں کو سبزی نہ کھلاؤں” ۔ہم نے اطمینان سے کہا
شام کو ذرا دیر کو بارش تھمی تو پرندوں کو دانہ ڈا لنے چھت پر گئی ……اور ایک لمحے کو دم بخود رہ گئی چھت پر پانی ہی پانی تھا ۔بڑے صاحبزادے کے بنائے ہوئے گتے کے بحری جہاز اور کشتیاں پر نالوں کا محاصرہ کیے ہوئے تھیں اس لیے وہ بند ہوگئے تھے کھڑکیوں اور روشن دان کے شیڈ پر نظر پڑی تو وہ بھی پانی سے بھرے ہوئے تھے وہاں پرندوں نے گھونسلے بنا لیے تھے اس وقت تو ہم بہت خوش ہوئے تھے روز ان میں جھانکتے ان کی تصویریں کھینچتے لیکن اب ان کے گھونسلوں کے تنکے بکھرے ہوئے تھے اور ایک روشن دان کے شیڈ پر انڈے تیر رہے تھے اف یہ کیا ہوا ہم نے اپنا گھومتا سر تھاما اور بھاگتے ہوئے نیچے آئے الماری سے لمبے بوٹ نکالے ابھی پہن رہے تھے کہ صاحب آ گئے
” کہاں جا رہی ہو” ؟
” اوپر “ہم نے صاحب سے نظریں چارکیے بغیر جواب دیا حالانکہ موسم تو پیا سے آنکھ لڑانے کا تھا
“اُوپر جانے کے لیے یہ تیاری ……”صاحب حیران ہوئے
ہم نے کچھ نہ کہا جھاڑو اور لمبا بانس اٹھایا اور چل دیے صاحب بھی ہمارے پیچھے لپکے
اُوپر کے منظر نے چیف کو حیران کم اور پریشان زیادہ کیا
“تم نے اس بار پرنالوں کی صفائی نہیں کی “۔
“کی تو تھی ……لیکن آپ کے بچوں نے اپنے تخلیقی شاہکار یہاں رکھ دیے پرند ے بھی یہیں پرنالوں پر بیٹھتے تھے کیوں کہ یہاں دھوپ نہیں آتی تھی اور شیڈز پر انہوں نے گھونسلے بنا لیے تو میں نے سوچا کہ اُن کے بسے بسائے گھر کیوں اُجاڑوں ۔
“پانی کا راستہ روک کر بسائے جانے والے گھر بھی کبھی بسے ہیں”۔صاحب نے عمل کے وقت فلسفہ جھاڑا جس کی ہم نے چنداں پروا نہ کی اور اپنے کام میں مشغول رہےآخر کو منتخب وزیر اعظم تھے ……لمبے بوٹ بھی تھے کام کرنے کا جذبہ بھی …. بانس والے جھاڑو سے پرنالے صاف کیے کچرا ٹوکری میں ڈالا پرنا لے صاف ہوتے ہی چھت سے پانی گٹر میں چلا گیا۔
پھر ہم نے لمبے بانس سے جھاڑو باندھا اور روشندانوں کے شیڈ صاف کرنے کی کوشش کی اب چیف سے رہا نہیں گیا انہوں نے ہمارے ہاتھ سے بانس لیا اور شیڈز کے اُوپر سے صفائی کر نے لگے۔آخر سول انتظامیہ کی مدد چیف نے ہی کرنا تھی نا۔
خیر صفائی کر کے نیچے آئے تو اپوزیشن تنقیدی بیان جاری کرنے کے لیے تیار بیٹھی تھی ۔ ” اے بہو تم بچوں کو منع نہیں کر سکتی تھیں “۔
“منع کر تو رہی تھی تب آپ نے کہا تھا …..کھیلنے دو “۔
“لو بھئی اب ہم ہی برے ہو گئے ……صفائی کرنا ….. بچوں پر نظر رکھنا تو تمہارا کام ہے نا ۔”پھپو نے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام جاری رکھا
“اتنا تیل ہوتا ہے ان کے پاس پتہ نہیں پٹرول پمپ کیوں نہیں بنا لیتیں۔”ہم نے سوچا
اپوزیشن کا تیل کام آیا اور چیف نے بچوں کو گھور کر دیکھا پھر رخ روشن ہماری طرف موڑا لیکن اس سے پہلے کہ کچھ کہتے ہم نے اپنا رخ زیبا دوسری طرف موڑ لیا جو اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ اس موقع پر وزیر اعظم سے پنگا نہیں چنگا ۔اور وہ چیف ہی کیا جو الیکٹڈ وزیر اعظم کا اشارہ نہ سمجھے ۔چیف نے یقینا گہرا سانس لیا اور چلے گئے
“بہو آئندہ دھیان رکھنا …… بچے نے بڑا ضبط کیا ہے آج …… غصہ پی لیا ۔”
“یہی تو شادی شدہ ہونے کی نشانی ہوتی ہے ……ہم نے بھی اپنا غصہ پیتے ہوئے کہا ورنہ جی تو چاه رہا تھا کہ بچوں کی چھترول کر دیں……اور کبوتروں کو ڈربے میں بند کر دیں۔توبہ ہے بھئی ….
(تحریر ۔شازیہ ستّار نایاب)