ناول:پاداش
مصنفہ: شازیہ خان
تبصرہ: خاک زادی

میں ناقص عقل کم فہم ہوں اور اپنی کم فہمی سے میں”پاداش” سے مراد اپنے کئیے کا بدلہ ، اور اپنے کرموں کی سزا سمجھ پائی ہوں۔شازیہ میم نے ناول کا عنوان ہی اتنا دلچسپ چُنا ہے کہ بندہِ ناچیز چاہ کر بھی اِس کو اپنے اندر اتارنے سے نہ رُوک سکے۔ مجھے جب اس بات کا علم ہوا کہ یہ “باغی ” کی مصنفہ نے لکھا ہے تو میرے اندر تجسس نے سر اُٹھانا شروع کردیا اور وہ تب سے کروٹیں بدل کر مجھے بے چین کئیے ہوئے تھا اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر اور کچھ تجسس کی مہربانی سے میں نے ایک ہی رات میں چھ کی چھ اقساط ایک ساتھ چاٹ ڈالیں۔
ناول میں مادام کے چُنے گئیے الفاظ پرنوں کی مانند اُڑتے پھر رہے تھے اور میں انہیں محویت سے تَک رہی تھی۔

ناول پڑھیں :”پاداش”
شازیہ خان نے معاشرے کے ایک بہت گھمبیر موضوع پہ قلم اُٹھایا اور “باغی” کی طرح اب تک اپنے قلم کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا ہے۔
“عمر آفندی ” جیسے پلے بوائز جو لڑکیوں کو اپنی وقت گزاری کا سامان سمجھتے ہیں۔ جن کو اپنےحسن پہ اتنا غرور ہوتا ہے کہ انکو لگتا ہے ہر دوسری دوشیزہ ان کی ایک نظرِ کرم کے انتظار میں بیٹھی ہے۔ انہوں نے اُس پر ایک نظر ڈالی اور وہ وہیں ڈھیر اپنا تن من سب ان پر وار دینگی ۔اور جب بنتِ حوا آدم زاد کے پھینکے جال میں پھنس جاتیں ہیں پھر انکی دلچسپی وہیں دم توڑ دیتی ہے اور یہ ایک بنتِ حوا کو ، ایک گلاب کی کلی کو اپنے پیروں تلے روند کر دوسری کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں ۔ یہ سلسلہ تب تک چلتا ہے جب تک کوئی لڑکی انکی انا کا مسئلہ نا بن جائے جہاں کسی لڑکی نے انکار کیا وہیں انکی سوئی ہوئی انا انگڑائیاں لینا شروع کردیتی ہے اور پھر سب کچھ تباہ و برباد کردیتی ہے امید سامعہ کا کردار کسی تباہی کا شکار نا ہو جس کو اپنے گھر میں وہ محبت وہ پیار نا ملا جس کی وہ خواہش مند تھی۔ باپ کی بے جا روک ٹوک نے نا صرف انکے بھائی کی جان لے لی بلکہ حاجی صاحب بھی عمر بھر کے لئیے ایک پچتھاوے میں گھِر کر رہ گئے۔
یہاں بھی مصنفہ نے اپنے قلم سے ایک سبق درج کیا ہے کہ والدین کو اپنی جوان اولاد کے ساتھ مار پیٹ اور گالی گلوچ سے نہیں بلکل پیار محبت اور کندھے پہ دھپکی دے کع دوستانہ انداز میں پرورش کرنی چاہئیے۔

مصنفہ کے لکھے الفاظ ایسے ہیں جیسے شبِ دیجور میں شبِ چاردہ کا استعارہ۔
میں قرطاس پہ بکھرے ان الفاظوں کے بحر میں زورق کی مثل غوطہ زن ہوں۔
اور لا شک پاداش کی تخلیق صیقل گر ہے ۔
ماشاءاللہ ❤
پسندیدہ اقتباسات:

۱:“اولاد ماں کے لیے دل کی دھڑکن کی مانند ہوتی ہے ۔ جب تک سانس چلتی رہتی ہے۔ دل کی دھڑکن محسوس ہوتی ہے ۔۔ ۔ جب تک زندہ ہوں اپنے جسم کے ٹکڑے کو کیسے بھول سکتی ہوں ۔۔۔۔ اور تم اسی ٹکڑے سے بنا ایک ٹکڑا ہو ۔ جس نے اس کے جانے کے بعد میرے غم کو آدھا کر دیا لیکن بھُلا یا نہیں۔۔۔”

۲:مالی کو پودا کبھی کبھی خون سے سینچنا پڑتا ہے ۔۔ پیار اور محبت سے دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے۔ تب پودے میں پھل اور پھول نمودار ہوتے ہیں ۔۔۔ موسم کی گرمی تپش اور تمازت پودے کوکُملھا کر رکھ دیتی ہے ۔

۳: ۔ بے وقوف بننا اتنا آسان تو نہیں ہو تا پھر بھی ہم لڑکیاں اتنی آسانی سے بے وقوف کیوں بن جاتی ہیں؟ کسی مرد کے چند لفظ اور آنکھوں کی نہ سمجھ میں آنے والی زبان ہمارے لئے مکمل جہاں کیسے بن جاتی ہے؟ کیوں ایسے راستوں پر چل پڑتی ہیں جس کے مسافر کا پتا نہ منزل کا۔ جانتے بوجھتے اپنے لئے سراب کا انتخاب کیوں کر لیتی ہیں ۔

رب العزت جہانِ آب و گل اور اس کے مقامِ رنگ و بوِ ادب میں ظفریابی آپ کا مقدّر کرے، اس نصیبہ وری کو قلمِ سیمیں سے امر کرے ۔ آمین ❤ ۔۔۔

“باغی” ڈرامہ دیکھنے کے بعد میرے دل میں مصنفہ سے بات کرنے کی چاہ نے جنم لیا لیکن میں صوفیہ بلاگ کی شکر گزار ہوں کے انکے زریعہ میرے ناکارہ اور عام سے الفاظ میری پسندیدہ رائٹر پڑھینگی۔۔صوفیہ بلاگ میں سپاس گزار ہوں۔❤️


کور ڈیزائن/تبصرہ نگار :خاک ذادی