تحریر: حمیرا فضا

کور ڈیزائن:ثروت نجیب

_______
چودہویں قسط

_____

پورا دن سب خادمائیں اُس کی خدمت پر معمور رہی تھیں۔وہ سب اِسی کوشش میں تھیں کہ صاحبہ بی بی جلد ہوش میں آجائیں۔ صاحبہ کا ہوش میں آنا اُن کے لیے اِتنا ہی ضروری تھا جتنی اُن کی اپنی زندگی۔اِس حویلی سے باہر اب نہ اُن کے لیے کوئی پناہ گاہ تھی نہ کسی اپنے کا آسرا۔یہ تماشا اُس نہج تک پہنچ چکا تھا جہاں وہ تالیاں پیٹنے کی بجائے پرسوگ کیفیت میں ہاتھ باندھے کھڑی تھیں۔وہ سب اپنے مالک کے قہر سے خوفزدہ تھیں۔ہر ایک کے اندر یہ ڈر پنپ رہا تھا کہ جو قبر صاحبہ کے لیے کھودی جائے گی ۔ اُن کو بھی اُس کے ساتھ دفن ہونا ہوگا۔

’’حکم جب اُنھیں درد کی انتہا تک لے جانا چاہتے ہیں تو پھر اُن کا درد کم کیوں رہے ہیں مرنے کیوں نہیں دیتے اُنھیں۔ ہم پر بھی مسلسل ایک عذاب لٹک رہا ہے۔‘‘کب سے اندر ہی اندر بھری بیٹھی رشیداں اچانک بھنّا کر بولی۔اُس کے تیز تیز جڑی بوٹیاں پیستے ہاتھ رک چکے تھے۔

’’ٹھیک ہی کہہ رہی ہے تُو۔۔۔پہلے اِس بی بی کو تکلیف پہچانے کے لیے محنت کرو پھر اِس کی تکلیف کم کرنے کے لیے۔ہمری سمجھ سے تو باہر ہے یہ کھیل۔‘‘مٹی کے بڑے پیالے میں کوئی پڑیا ملا کر دردانہ نے خاصی بدلحاظی سے کہتے ہوئے رشیداں کی حمایت کی تھی۔دردانہ وہی تھی جس نے جندن کے ساتھ مل کر گھاس میں جگہ جگہ کانٹے بکھیرے تھے۔

’’جانے حکم صاحبہ بی بی سے کیا چاہتے ہیں؟نہ وہ اُن کے زندہ رہنے سے خوش ہیں نہ مرنے پر راضی۔میں نے ایسی نوکری آج تک نہیں کی ، جہاں ہر سمے بس اذیت دینے کا ہی کام ہو۔‘‘ ٹھنڈے زخمی پیر وں پر کسی چیز کا لیپ کرتی ہوئی زرینہ نے بھی بے حس و حرکت پڑی صاحبہ کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے کہا۔اُس کے انداز سے اُلجھن عیاں تھی۔

’’زہر پلا کر پھر اُس زہر کا تریاق کرنا موہے تو نہ محبت لگے ہے نہ نفرت۔۔پاگل پن ہے اور تف ہے اِس پاگل پن پر۔‘‘رم جھم نے گرم کاڑھے کے کچھ قطرے صاحبہ کے سوکھے ہونٹوں پر گرا کر جیسے اُس کسیلی دوا کا ذائقہ حلق تک محسوس کیا۔

’’تم سب احمقوں کی طرح باتیں مت کرو! تمھاری یہ لمبی زبانیں کہیں دیواروں کے کان نہ کٹوا دیں۔ہمیں بس اپنے کام سے کام رکھنا ہے ۔ رہی بات اِس کہانی کو سمجھنے کی تو سن لو شکاری کو شکار سے بیر ہو یا نہ، وہ اُس کا شکار ضرور کرتا ہے اور شکاری کو مردہ شکار پسند نہیں ہوتے۔انھیں جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ پھر توڑا جاسکے ۔‘‘چاچی شگو نے کرخت لہجے میں سب کو ایسا جلّا کٹا جواب دیا تو وہ اپنے اپنے کام میں لگ گئیں۔

جیسے ہی اُسے ہوش آیا اُسے اپنا جسم ٹوٹتے ہوئے محسوس ہو ا تھا۔جسم اور سانسوں سے اُٹھنے والی حد ت بتا رہی تھی کہ وہ شدید بخار میں مبتلا ہے۔جلتی ہوئی پلکیں پھیلا کر اُس نے سامنے دیکھا تو اُس کے آس پاس بس وہی موجود تھا۔

’’تم تو اِتنی چھوٹی سی سزا سے گھبرا گئی ۔۔۔عشق کے باقی امتحان کیسے دو گی صاحبہ!‘‘ وہ اُس کے آس پاس منڈلاتے ہوئے طنزیہ و تحقیر بھرے انداز میں درشتی سے بولا تھا۔

’’میں گھبرائی نہیں تھی۔۔۔بس سو رہی تھی۔۔۔جلتی ہوئی وادی کے اُس پار وہ مجھے ملنے آیا تھا۔۔۔اُس کا راحت پہنچاتا لہجہ ۔۔۔چمکتا چہرہ۔۔۔میں تو جارہی تھی اُس اندھیرے میں۔۔۔کہیں دور ۔۔۔مگر مجھے آنا پڑا ۔۔۔کیونکہ میں بزدل نہیں ہوں تمھاری طرح!‘‘وہ ٹھر ٹھر کر بولتے ہوئے طمانیت سے مسکرائی تھی۔

’’بند کرو اپنی یہ بکواس! خاک میں ملادونگا میں اُس کو جس کے لیے تم خود ساختہ بنائی دنیا میں جھومتی پھر رہی ہو۔نیست و نابود کردونگا میں تمھارے عشق کا یہ محل۔‘‘جازم نے اُس کے کھلے بالوں اور گردن کو ایک ساتھ دبوچ کر للکارا تو صاحبہ اُس کے چہرے کے بدلتے رنگ کو غور سے دیکھنے لگی۔اپنی خوبصورتی کے اندر وہ کس قدر بدصورت تھا۔اِتنا ہیبت ناک چہرہ اُس نے شاید ہی کبھی دیکھا ہو۔ظلم درندگی سفاکیت کسی دل میں پناہ لے لیں تو وہ واقعی خوبصورت چہروں کا روپ چھین لیا کرتی ہیں ۔

’’اُسے جانے دو جازم خان ۔۔۔وہ بے قصور ہے ۔۔۔معصوم ہے۔۔۔بے گناہ ہے۔۔۔تمھاری انا کی تسکین کے لیے میں یہاں ہوں۔۔۔چاہے سارے دروازے کھڑکیاں کھول کر آزما لو۔۔۔۔میں کہیں نہیں بھاگو نگی۔‘‘وہ اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے التجائیہ انداز میں کہتے ہوئے یقین دلا رہی تھی۔

’’میں کسی صورت اُسے نہیں چھوڑونگا! تم جسے چاہو۔۔۔تم جسے پسند کرو۔۔۔میں ہر اُس چیز اور شخص کو برباد کردونگا۔‘‘جازم نے ایک جھٹکے سے اُسے چھوڑا تو وہ زور سے بیڈ کے کراؤن سے جا ٹکرائی۔

’’اپنے آپ کو دیکھو جازم خان !تم مجھ سے زیادہ برباد ہو۔۔۔تمھاری آنکھیں مجھ سے زیادہ سوجھی ہوئی ہیں۔۔۔تمھارے ہاتھ میرے ہاتھوں سے زیادہ جل رہے ہیں۔۔۔تمھارا دل میرے دل سے زیادہ زخمی ہوچکا ہے ۔۔۔میرے سر پر عشق کا ہاتھ ہے۔۔۔کیا ہے تمھارے پاس؟۔۔۔یہ پتھر کی حویلی۔۔۔یہ مشینی خادم۔۔۔اور کچھ مردہ رشتے۔‘‘وہ ایک جھٹکے سے اُٹھ کر جازم کا گریبان پکڑ تے ہوئے چلا چلا کر بولی تھی۔جازم نے اُسے اُتنی شدت سے تھپڑ مارا جتنی شدت سے وہ مار سکتا تھا اور کمرے سے باہر چلا آیا۔اُسے صاحبہ کی اِن باتوں کا جواب دینا تھا،اُسے درد پہنچانا تھا اور وہ جانتا تھا کہ اب اُسے کہاں جانا ہے۔

*****

’’بہت دیر سے ہی سہی میں نے تمھیں اچھا انسان مان لیا تھا۔۔۔

میں نے تمھیں اپنا کہا تھا۔۔۔۔

میں نے تمھیں دوست سمجھا تھا۔۔۔

میں تم سے روٹھ کر نہیں گئی تھی۔۔۔

پر اب تمھیں مجھے منانا ہوگا۔۔۔

میں تمھیں محبت سے نہیں پکار سکی۔۔۔۔

مگر تم محبت کی ہر سو گونجتی آواز کو مایوس مت لوٹاؤ۔۔۔

میں تم سے کچھ مانگتی ہوں۔۔۔تم سے کچھ چاہتی ہوں۔۔۔

اپنی برداشت اور چپ کے خول میں تم نے آج تک ناانصافیوں کو پناہ دی ہے۔۔۔

تم اپنے ہاتھوں سے بس آنسو ؤں اور محرومیوں کو سہارا دیتے آئے ہو۔۔۔

یہ اندھیرا اور خاک جس پر تم پڑے ہو۔۔۔

اِس کو تمھاری ضرورت نہیں ہے۔۔۔

ایک بجھتی ہوئی روشنی کو تمھاری ضرورت ہے۔۔۔

ایک جیتے جاگتے انسان کو تمھاری ضرورت ہے۔۔۔

تمھیں ظلم کی اِس تاریکی سے نکلنا ہوگا۔۔۔

میں چاہتی ہوں تم انصاف کی زمین پر قدم رکھو ۔۔۔

بزدلی کے اِس خول کو تار تار کردو۔۔۔

چاہے تمھیں لہو کی بوند بوند دینی پڑے۔۔۔ایک ایک سانس لٹانی پڑے۔۔۔

لٹا دو۔۔۔مرجاؤ۔۔۔مٹ جاؤ۔۔۔۔

مگر خود کو ہارنے مت دو۔۔۔

عشق کو ہارنے مت دو سیف ۔۔۔‘‘

قید خانہ جگمگا اُٹھا تھا ۔۔۔وہ اُس کے سامنے تھی۔۔۔روشنی کے ایک ہالے میں لپٹی ہوئی ۔۔۔بنا پلکیں جھپکا کر بولتی ہوئی ۔۔۔وہ اُسے دیکھ سکتا تھا۔۔۔سُن سکتا تھا۔۔۔ آج وہ پہلے جیسی نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔اُس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے ۔۔۔شکوہ تھا خفگی تھی التجا تھی۔۔۔وہ کچھ بولنا چاہتا تھا۔۔۔مگر لفظ صرف زخمی نہیں تھے۔۔۔ٹوٹ چکے تھے۔۔۔وہ اُس کی طرف بڑھنا چاہتا تھا۔۔۔ایک فاصلے پر پھیلے اُجالے کو چھونا چاہتا تھا۔۔۔ساری طاقت جمع کرکے وہ اپنی جگہ سے سرکنے لگا۔۔۔زمین ہلکی پھلکی تھی۔۔۔لیکن اُس کا وجود ایک بھاری پتھر کی طرح ہوچکا تھا۔۔۔اُس نے کوشش کی۔۔۔تھوڑی اور کوشش کی ۔۔۔ دونوں بازو اُسے اُٹھنے میں سہارا دینے لگے ۔۔۔اِس سے پہلے وہ مزید کوشش کرتا ۔۔۔کسی نے اپنا پیر اُس کی گردن پر رکھ دیا تھا۔

’’ہے کیا تجھ میں کہ کوئی حسین لڑکی تجھ پر مر سکتی ہے؟ بول کیا ہے ایسا تجھ میں جو تیرا نام لیتے لیتے اُس کی زبان نہیں تھکتی؟‘‘ سیف کی پیٹھ پر کوڑے سے ایک زور دار ضرب لگاتے ہوئے وہ پاٹ دار آواز میں غرّا کر بولا۔

’’تیری اِتنی اوقات نہیں کہ تو اپنا سر اُٹھا سکے ۔۔۔تو میرے مقابلے میں کیسے آسکتا ہے آخر !۔۔۔تو میری ملکیت کو اپنا کیسے بنا سکتا ہے آخر؟‘‘ جنون اور بڑھا تو وہ چنگھاڑتے ہوئے شدت سے کوڑے برسانے لگا۔سیف کو اُن کوڑوں کی مار سے زیادہ اُن لفظوں کی تکلیف محسوس ہورہی تھی جو اب سے کچھ دیر پہلے جیون نے اُس سے کہے تھے۔

’’مار دومجھے ۔۔۔مار دو۔۔۔کاٹ ڈالو۔۔۔جلا دو ۔۔۔مگر جانے دو اُسے ۔۔۔آزاد کردو اُسے۔۔۔صاحبہ تمھاری نہیں ہے۔۔۔وہ تمھاری نہیں ہے۔‘‘لفظ سیف کے لبوں سے ادا ہوئے تھے یا کسی کی محبت نے کہلوائے تھے،مگر وہ پوری قوت سے گلا پھاڑ کر چلایا تھا۔

’’میرے سامنے بولے گا۔۔۔مجھے جواب دے گا۔۔۔وہ تیری آزادی چاہتی ہے ۔۔۔تو اُس کی آزادی چاہتا ہے۔۔۔تم دونوں کو مسل کر رکھ دونگا میں۔۔۔مگر آزاد نہیں کرونگا۔‘‘جازم کے ہاتھ مزید تیزتیز چلنے لگے ۔پہلی بار سیف کی ایسی زبان سن کر اُس کا چہرہ غصّے کے لال بھبھوکوں سے دھواں دھواں ہوگیا تھا۔

’’ہمت ہے تو کھول میرے ہاتھ۔۔۔کھول یہ سب زنجیریں۔۔۔مردانگی کو مردانگی سے لڑا۔۔۔ایک قیدی تمھاری بزدلی کا ناچ بہت دیکھ چکا جازم خان۔‘‘دونوں ہاتھوں کی زنجیروں کو زور زور سے ہلاتے ہوئے وہ زخمی شیر کی طرح دھاڑا تو اُس کا یہ روپ دیکھ کر کوڑے برساتے ہاتھ پل بھر کو رک گئے ۔جازم کا پورا جسم اُس کے لفظوں کی آگ سے دہک اُٹھا تو اُس نے ایک ایک کر کے ساری زنجیریں کھول دیں۔

’’جیون تمھاری نہیں تھی۔۔۔نہیں تھی۔۔۔نہ صاحبہ تمھاری ہوگی۔۔۔عشق تمھارا کبھی نہیں ہوسکتا ۔۔۔عشق پتھر دلوں اور مردہ روحوں کے حصّے میں کبھی نہیں آتا جازم خان!‘‘ہاتھ آزاد ہوتے ہی وہ ایک خونخوار شکاری کی طرح جازم کی طرف لپکا ۔اِس سے پہلے جازم جوابی حملہ کرتا وہ ایک زور دار مکّا اُس کی ناک پر مار چکا تھا۔

’’مجھے مارے گا تو۔۔۔میرا مقابلہ کرے گا۔۔۔مجھ سے بدلہ لے گا۔۔۔بزدل کم ذات نوکر تو مجھے مارے گا۔۔۔تیری اتنی اوقات کہ تو جازم خان کو ہاتھ لگائے گا۔‘‘خون کے چند قطرے ناک سے ٹپکے تو وہ سیف کی اِس ہمت اور گستاخی پر آپے سے باہر ہوگیا۔سیف کو گردن سے دبوچتے ہوئے وہ پیچھے کی طرف بڑھا اور اُس کا سر زور زور سے دیوار پر مارنے لگا۔

’’ساری زندگی مجھ سے چھینتے آئے ہو۔ساری زندگی مجھے روندتے آئے ہو۔ساری زندگی مجھے تڑپایا ہے تم نے۔ساری زندگی ہر شئے کے لیے ترسایا ہے مجھے اور کیا کرو گے تم؟ کیا کرو گے ؟ تم جیون کو مفاد کی آگ میں جلا سکتے ہو۔۔۔مجھے نفرت کی تلوار سے چیر سکتے ہو۔۔۔صاحبہ کو غیرت کی زمین میں گاڑھ سکتے ہو۔۔۔اِس سے زیادہ کیا کرسکتے ہو تم ؟آخر کیا ؟ ‘‘اُس نے دونوں ہاتھوں سے جازم کا گریبان پکڑتے ہوئے پوری شدت سے اپنا سر اُس کے سر پر مارا تو وہ ایک پل کے لیے ڈگممگاتا ہوا زمین پر گر گیا تھا۔اُس نے دائیں ہاتھ کی انگلیوں کو نفرت سے جوڑا اور پاگلوں کی طرح بند مٹھی اُس کے پیٹ پر برسا نے لگا۔غصے،حیرت اور اُس نوکر کی ایسی دیوانگی نے جازم کے جلتے دماغ کو سن کر ڈالا تو باوجود کوشش کے وہ زمین سے اُٹھ نہ سکا۔

’’تم نے محبت کی توہین کی ہے مگر محبت کو مار نہیں سکے۔۔۔تم نے محبت کرنے والوں پر ظلم ڈھا ئے ہیں لیکن محبت کو مٹا نہیں سکے۔۔۔اِس بار تمھاری لڑائی محبت سے نہیں۔۔۔ کئی محبتوں سے ہے۔‘‘وہ جازم کا چہرہ مٹھی میں جکڑ کر اپنے ایک ایک الفاظ پر بہادری کی مہر لگاتے ہوئے بولا۔

’’اُٹھو جازم خان اور پھر سے مجھے زنجیروں میں جکڑ دو۔۔۔سینہ تان کر کہتا ہوں۔۔۔بزدل نہیں ہے سیف۔۔۔قسم ہے مجھے مرنے والی جیون کی۔۔۔اُس کی محبت کی ! تمھارے پہلو سے صاحبہ کو لے کر جائونگا میں۔‘‘سیف نے اپنے برہنہ سینے پر زور سے ہاتھ مار کر اِس جنگ کو نیا آغاز دیا تھا۔جازم نے دیکھا جیسے وہ کسی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا،خوش ہورہا تھا۔اُس شام سے پوری رات تک اُس نے سیف پر مظالم کی انتہا کردی تھی،مگر اُس کے لفظوں کی بازگشت سے پیچھا نہ چھڑا سکا۔

*****

اب یوں بھی نہیں آنکھ پہ الہام ہوا ہے

اِک عمر میں وہ شخص میرے نام ہواہے

اِتنے دنوں سے اُس نے سیف کی آواز نہیں سنی تھی ،مگر وہ اُس کی خاموش آواز تیز تیز دھڑکتے دل سے اُٹھتی ہوئی محسوس کر رہی تھی۔بے تاب دھڑکن بار بار سوچوں پر دستک دے کر کہہ رہی تھی کہ آج پھر سیف کو اندھیرے کے آسمان تلے درد کی زمین پر لٹایا گیا ہے اور آنکھ متواتر جھپک جھپک کر اُس انہونی کا پتا دے رہی تھی ،جو ہوچکی تھی یا ہونے والی تھی۔وہ ایک جھٹکے سے اُٹھی اور زمین کی طرف دیکھنے لگی جیسے اُسے علم ہوگیا ہو کہ سیف کا عکس اب زمین کے آئینے میں ہی قید ہو چکا ہے۔دل میں ایک ہی مورت بس جائے تو دل الہامی کیفیت میں گرفتار ہوجاتا ہے ،وہ بھی جان لیتا ہے جو سامنے نہیں ہوتا،وہ بھی سمجھ جاتا ہے جو کہا نہیں جاتا۔محبت کرنے والے ایک دوسرے کو اپنے دکھ درد نہ بھی بتا پائیں تو محسوس کر لیا کرتے ہیں۔صاحبہ نے محبت کی ڈور تھام رکھی تھی تو سیف نے انسانیت کی اور اِسی بے نام رابطے نے محبت کو ہر لمحے سے باخبر کردیا تھا۔

’’تم نے اُسے مارا ہے ،بہت مارا ہے۔‘‘وہ ملگجی بیڈ شیٹ کا کونا دائیں ہاتھو سے دبوچتے ہوئے مشتعل لہجے میں بولی تھی۔

’’تم مجھے تکلیف دے کر اُس کا صبر آزماتے ہو اور اُسے اذیت پہنچا کر میرا عشق۔‘‘اُس نے سانسیں اندر کی طرف کھینچ کر سُرخ ہوتی ہوئی آنکھیں بند کیں اور بکھرے بال تکیے پر رکھ دئیے۔

’’تم صرف عشق سے ہی نہیں صبر سے بھی ٹکرا رہے ہو ،یہ نہ ہو تمھارا تکبر تھک ہار کر شرمندہ ہوجائے۔‘‘بائیں طرف کروٹ لیتے ہوئے ایک فاتحانہ مسکراہٹ اُس کے ہلتے لبوں پر پھیل گئی تھی۔

’’صاحبہ بی بی۔‘‘ایک انجانی آواز کی پکار پر اُس نے پلٹ کر دیکھا تو وہ گل بانو تھی۔گل بانو اپنے شوہر کے ساتھ حویلی کے باغ کی دیکھ بھال کیا کرتی تھی۔شاذ و نادر ہی ہوتا تھا کہ اُسے حویلی کے اندرونی حصّے میں دیکھا جاتا۔اُس نے تحیر زدہ نظروں سے گل بانو کو دیکھا ،مگر کوئی سوال نہیں کیا کیونکہ وہ اچھی طرح سمجھ گئی تھی کہ انتقام اور سفاکیت کی دوسری چال چلنے کا وقت آگیا ہے۔

اُس نے سلوٹ ذدہ بستر چھوڑا اور یونہی چپ چاپ گل بانو کے پیچھے چل پڑی۔وہ تیز تیز قدم اُٹھاتی خادمہ کے پیچھے چلتے چلتے حویلی کے عقبی حصّے کی طرف آگئی تھی۔جونہی حویلی کی پچھلی طرف باغ کا دروازہ کھولاگیا ، صاحبہ کی حیرانی مزید بڑھ گئی۔جب وہ اِس حویلی میں آئی تھی تو بہت ساری چیزوں نے اُسے خوفزدہ کیا تھا۔جہاں ہر طرف چلتے پھرتے انسان اُسے عجیب لگے وہی ایک جگہ پر ساکت کھڑے لمبے لمبے ستون بھی حیران کرجاتے۔کبھی وہ کالے گلابوں کی کثرت کو پرسوچ نگاہوں سے دیکھتی تو کبھی برگد کے اُس درخت کو جو حشرات الارض سے ہمہ وقت بھرا رہتا۔وہ یہ انوکھا پیڑ کئی بار دیکھ چکی تھی۔اِردگرد سے نکلی ہوئی شاخیں اور اُس درخت کی ساخت اُسے ہمیشہ ایک وحشت کا احساس دلاجاتی۔درخت سوال نہیں پوچھتے ،جواب نہیں دیتے،مگر صاحبہ کو لگتا تھا وہ درخت بولتا ہے۔اُس پیڑ پر رینگنے والی چیونٹیاں وہ ہمیشہ اپنے جسم پر رینگتی ہوئی محسوس کرتی تھی۔گل بانو پھرتی سے قدم اُٹھاتی درخت کی طرف بڑھ رہی تھی۔صاحبہ نے آج اُس درخت سے خوف محسوس نہیں کیا،اُس نے خود کو اگلی سزا کے لیے سمجھا دیا تھا۔گل بانو اُسے ایک مضبوطی رسی کے ساتھ باندھنے لگی تو پل بھر کے لیے اُس کے ہاتھ کانپے،مگر صاحبہ کا حوصلہ اُس سمے درخت کی بوڑھی شاخوں سے بھی مضبوط تھا۔خادمہ نے حکم کی تکمیل کرکے ایک افسوس بھری نگاہ اُس پر ڈالی اور وہاں سے چلی گئی۔گزرتے ایک ایک پل نے اُس کے ہوش کا کڑا امتحان لیا تو کرب سے ٹکراتی ،چبھن سے لڑتی آنکھوں بند ہونے لگیں۔صبح سے شام ہو چکی تھی اور تب تک کئی کیڑے اُس کے نازک بدن پر بے رحمی کی مہریں لگا چکے تھے۔

یہ دولتِ رسوائی کہاں مفت ملی ہے

سو زخم اُٹھائے ہیں تو پھر نام ہوا ہے

’’سیف ۔۔۔سیف۔۔۔‘‘اچانک اُس کی آنکھ میں کچھ چبھا تو وہ زور سے چلائی۔نیم بے حوشی کی حالت میں سیف نے یہ پکار سنی تو اُس کی آنکھیں یکدم کھل گئیں،ایسے جیسے کسی نے اُسے جھنجھوڑ کر نیند سے جگایا ہو۔ اُس نے اپنے مفلوج جسم کو حرکت دینے کی سعی کی تو ٹھرے لہو میں ایک درد بھری سنسناہٹ سی ڈوڑ گئی ۔ٹوٹی ہڈیوں کی آہ کو نظر انداز کرکے وہ اُس آواز کا پیچھا کرنے لگا،جس نے بڑے ہی درد سے اُسے پکارا تھا۔وہ رینگتے رینگتے اُس دیوار تک پہنچنا جس کے سینے میں ایک چھوٹا سا روشندان تھا ، جہاں سے صاحبہ کی دبی دبی آواز نے دستک دی تھی۔

’’سیف۔۔۔سیف۔۔۔سیف۔‘‘اب کی بار وہ اتنی شدت سے بلند آواز میں چلائی کہ حویلی کے سب ملازموں نے اُس کی پکار کو سنا۔

’’مت دو تکلیف اُسے۔۔۔مت دو۔۔۔مت ٹکراؤ عشق سے۔۔۔تم پاش پاش ہو جاؤگے جازم!‘‘دیوار کے سہارے کھڑے ہوتے ہوئے سیف نے کپکپاتی آواز میں چیخ کر کہا تھا۔

’’چپ ہوجاؤ۔۔۔چپ ہو جاؤ۔۔۔اِس سے پہلے کہ میں تمھاری قبر اِس درخت کے نیچے بنادوں۔۔۔اِس سے پہلے کہ میں تمھیں یہی جلا کر خاک کردوں۔‘‘صاحبہ کی آواز کی گونج نے جازم خان کے غیض وغضب کو پکارا تو وہ نفرت سے کھولتا ہوا باغ میں چلا آیا تھا۔

’’یہ جو چیونٹیاں میرا لہو پی رہی ہیں یہ اب بولے گیں اور تم سے نفرت کرے گیں۔۔۔تم سے بہتر نفرت کا انجام کون جانتا ہوگا؟‘‘صاحبہ نے اُس کی دھمکی سے ڈرے بنا پاٹ دار آواز میں تنک کر کہا تھا۔

’’نفرت کے قابل تو تم ہو چکی ہو۔۔۔محسوس کرو اِس اذیت کو۔۔۔اِس بے عزتی کو۔۔۔معافی مانگو مجھ سے ۔۔۔ خود سے۔۔۔اُس گناہ کی جو تم نے کیا ہے۔‘‘جازم نے توہین آمیز لہجے میں کہتے ہوئے اُس کی سب رسّیاں کھول دی تھیں۔

’’گناہ میں نے نہیں تم نے کیا ہے اور تم تو اِس گناہ پر پچھتا بھی لو تو شاید معافی کے حقدار نہ ٹھرو۔‘‘صاحبہ نے خوف سے عاری پلکیں جھکائے بنا لفظ لفظ اہانت سے ادا کیا۔سارے دن کی اذیت اور تکلیف کے باوجود اُس کے اطمینان اور پریقین لہجے نے جازم خان کو جتا دیا کہ ابھی عشق کے اور امتحان دینے کا حوصلہ تمام نہیں ہوا۔

*****

جازم نے اپنا سارا قہر اُس پر نازل کردیا تھا،لیکن وہ عشق کے رستے سے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹی۔۔۔اُسے کتنے دن بھوکا پیاسا رکھا گیا۔۔۔ سخت سردی میں کھلے آسمان تلے باندھا گیا۔۔۔ اُس کے پاؤں میں بھاری بیڑیاں ڈالی گئیں۔۔۔ اُسے ہر زہریلی آسیب زدہ شئے سے ڈرایا گیا۔۔۔مگر وہ جس جذبے سے سیر ہوئی تھی اُسی کی لذت سے پیٹ بھرلیتی۔۔۔ وہ جس موسم کی جوگن بنی تھی اُسی کی آگ سے فرش گرما دیتی۔۔۔ وہ لوہے کی بھاری زنجیروں میں ایسے تحلیل ہوتی کہ ساری رات وجد کے عالم میں ناچتی رہتی۔۔۔اُس نے ہر ناپسندیدہ شئے میں بھی اپنا عشق منتقل کردیا تھا۔۔۔اُس کے ہونٹوں پر ہر وقت سیف کا نام ایسے رہتا جیسے یہ نام ہی اب اُس کی شفا ہو۔

وہ اُسے پھول کی نازک پنکھڑی سمجھا تھا ،جسے مسلنے کے بعد خوشبو تک کراہ اُٹھتی ہے۔مگر وہ تو ایک چٹان کی طرح ڈٹ کر کھڑی ہوگئی تھی۔ایک ایسی چٹان جسے اپنی جگہ سے ہلانے کے لیے اُس سے ٹکرانے والا بار بار شکست کھا رہا تھا۔درد دینے والے کی ہار وہی سے شروع ہوتی ہے جب درد سہنے والا ہر درد سے بے نیاز ہوجائے۔وہ درد محسوس کرنے کی حس سے اِتنا آگے نکل چکی تھی کہ وہ چاہ کر بھی اُسے واپس لانے میں کامیاب نہیں ہو پارہا تھا۔وہ چاہتا تھا صاحبہ اُس کے سامنے جھکے، نادم ہو، ایڑیاں رگڑ رگڑ کر معافی مانگے،لیکن اُس کی یہ انتقامی حسرت ابھی تک حسرت ہی تھی۔

’’تمھیں میرے پاس لوٹنا ہوگا۔۔۔میرے قدموں میں جھکنا ہوگا۔۔۔تمھیں معافی مانگنی ہوگی۔۔۔بار بار مانگنی ہوگی۔۔۔اور ہر معافی کے عوض تمھاری جھولی میں بس سزائیں ڈالی جائے گیں۔‘‘ہاتھ میں پکڑے شیشے کے گلاس کو زمین پر پٹخ کر اُس نے اپنی انا کی کرچیوں کو سمیٹنا چاہا۔

’’کیا سمجھتی ہو تم !اپنی ضد سے میرے وجود کو لہولہان کردوگی۔۔۔میری دی ہر سزا پر مسکرا کر مجھے کمزور بنا دوگی۔۔۔یاد رکھو صاحبہ! جازم خان بہت طاقتور ہے۔۔۔بہت طاقتور۔۔۔وہ ہر جذبے کو مٹا سکتاہے۔۔۔وہ تم جیسی کٹھ پتلیوں کو زندہ زمین میں درگور کر سکتا ہے۔‘‘اُس نے کانچ کے ایک ٹکڑے کو صاحبہ سمجھ کر سختی سے مٹھی میں جکڑا تو لہو کی ننھی ننھی بوندیں فرش پر گرنا شروع ہوگئیں۔

’’دیکھو ناں! جانِ من مجھے بھی درد محسوس نہیں ہوتا۔کہاں محسوس ہوتا ہے؟مجھے بس تمھاری ضد ،انا، نافرمانی اور بیوفائی محسوس ہوتی ہے۔‘‘ہوش سے بیگانہ ہوتے ہوئے اب اُس نے پاگلوں کی طرح دونوں ہاتھوں میں کانچ کے ٹکڑے دبوچ لیے تھے۔

’’حکم گستاخی معاف! مگر ایک بری خبر ہے۔‘‘کھلے دروازے سے بنا اجازت داخل ہونے والے رحیم بخش نے ہانپتی اور پریشان کن آواز میں کہا تو اُس نے بری طرح سے چونکتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھا۔

’’بڑی حویلی سے فون آیا ہے۔بڑی بیگم صاحبہ کی حالت بہت خراب ہے ۔اُنھیں شہر کے ہسپتال میں لے جایا گیا ہے۔‘‘رحیم بخش گھبرائی ہوئی آواز میں تیزی سے بتانے لگا۔ اردگرد بکھرے کانچ کے ٹکڑے اور جازم کے ہاتھوں سے بہتے لہو نے اُسے خوفزدہ سا کردیا تھا۔

’’کیا؟ یہ کیا کہہ رہے ہو تم؟ امی جان۔۔۔۔۔۔‘‘اُس نے بے یقینی اور غصے کے عالم میں لہو ٹپکاتے ہاتھوں سے رحیم بخش کا گریبان پکڑ لیا تھا۔

’’حکم سچ کہہ رہا ہو۔۔۔جلدی کیجیے ۔‘‘رحیم بخش تھوک نگلتے ہوئے ہکلایا تو وہ اُسے ایک جھٹکے سے چھوڑتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔اِس اطلاع نے جیسے اُس کے پیروں تلے زمین ہی کھینچ لی تھی۔اُس کی آنکھوں کے سامنے ذکیہ بیگم کا چہرہ لہرا رہا تھا۔رحیم بخش فوراً اُس کے پیچھے بھاگا وہ اِس حالت میں اپنے مالک کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔

’’میں نے آپ کو بہت ستایا ہے۔۔۔میں نے آپ کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔۔۔آپ سے خود کو چھین لیا۔۔۔آپ کو تنہا چھوڑ دیا۔۔۔۔میں اپنی دنیا میں اِتنا مگن رہا کہ آپ کا خیال تک نہیں رکھ پایا۔‘‘جتنی تیز رفتار سے وہ گاڑی چلا رہا تھا ،سوچیں اُتنی ہی برق رفتاری سے بھاگنے لگی تھیں۔

’’آپ کو کچھ نہیں ہوسکتا۔۔۔میں آپ کو کچھ نہیں ہونے دونگا۔۔۔مجھے آپ کی ضرورت ہے۔۔۔مجھے معاف کردیں۔۔۔مجھے معاف کردیں امی جان!‘‘اُس نے سپیڈ اور بڑھائی تو ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے رحیم بخش نے دعا کے لیے ہاتھ اُٹھا لیے۔

گاؤں سے شہر تک کا رستہ خاصا طویل تھا۔ذکیہ بیگم کا فون اُن کی ایک خاص خادمہ کے پاس تھا۔وہ بار بار اُس ملازمہ سے اُن کی طبیعت پوچھ رہا تھا جو اُس وقت اُن کے ساتھ تھی۔ہر بار کوئی تسلی بخش جواب نہ آیا تو اُس کی پریشانی شدت اختیار کرگئی۔ہاتھ پیر برف ہورہے تھے تو دماغ اُبلنے لگا۔وہ کسی بھی قیمت پر اِس رشتے کو کھونا نہیں چاہتا تھا۔ایک یہی تو رشتہ بچا تھا اُس کے پاس۔کچھ گھنٹوں بعد وہ مطلوبہ ہسپتال پہنچا تو ذکیہ بیگم کو دیکھنے کی طلب اور بڑھ گئی،مگر یہ جان کر اُسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا کہ ذکیہ ارشد خان کے نام کا کوئی مریض وہاں داخل نہیں تھا۔

’’ہوسکتا ہے امی جان کسی اور ہسپتال میں ہوں۔‘‘اُس نے بڑبڑاتے ہوئے ایک بار پھر کال ملائی تو رابطے کا واحد راستہ بند ہوچکا تھا۔اُس کی پریشانی اور بے چینی میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔

’’حکم ہمیں شہر کے باقی بڑے ہسپتال بھی دیکھ لینے چاہیے۔‘‘رحیم بخش نے اُس کے چہرے کی پریشانی بھانپ لی تو فوراًً مخلصانہ تجویز دینے لگا۔

’’ہاں ۔۔۔ہاں ۔۔۔تم ٹھیک کہتے ہو ۔‘‘اُس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے رحیم بخش کی رائے کی تائید کی۔اُس کا دماغ سن ہوچکا تھا ، ذکیہ بیگم کی زندگی کے متعلق طرح طرح کے خیالات اور وہمے سر اُٹھا رہے تھے۔

تسلی کے لیے اُس نے شہر کے سب بڑے ہسپتال چھان مارے ،لیکن ہر طرف سے ناکامی کا سامنا ہوا تھا۔اچانک اُسے اپنا دل گھٹتا ہوا محسوس ہوا اور اِس گھٹن نے اُس کی توجہ ایک خدشے کی طرف مبذول کرا دی جو کچھ دیر پہلے تک اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔

*****

’’بڑی بی بی جی آپ یہاں۔۔۔۔مگر آپ تو۔۔۔‘‘ ذکیہ بیگم نے جونہی حویلی کا داخلی رستہ عبور کرنے کے بعد حویلی کے اندرونی حصے میں قدم رکھا تو چاچی شگو اُنھیں سامنے دیکھ کر بے تحاشہ چونک گئیں۔یکلخت اُن کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا تھا۔

’’میں جب پہلے یہاں آئی تھی تب ہی اِس حویلی کی غیر معمولی فضا نے مجھے بے چین کردیا تھا۔بتاؤ مجھے حقیقت کیا ہے؟ میں سب جاننا چاہتی ہوں۔‘‘ذکیہ بیگم نے حکمانہ انداز میں حیران و پریشان کھڑی چاچی شگو سے استفسار کیا۔

’’میں ایک معمولی سی خادمہ ہوں۔۔۔میں کچھ نہیں جانتی بڑی بی بی۔۔۔مجھے کچھ نہیں معلوم۔‘‘چاچی شگو گھبرائی ہوئی آواز میں کہتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگیں۔

’’سب جانتی ہوں تم ! تمھاری اِن مکار آنکھوں میں حویلی کا ہر راز پنہاں ہے۔ مت بھولو! جتنی طاقت جازم خان کے پاس ہے اُس سے کہیں زیادہ میرے پاس۔اگر تم نہیں بولو گی تو آج کے بعد تمھاری زندگی کا ہر دن موت سے بھی بدتر ہوگا۔ ‘‘ ذکیہ بیگم نے درشت لہجے میں دھمکی دیتے ہوئے آنکھیں نکال کر کہا تھا۔

’’میں ایسا نہیں کرسکتی بی بی جی۔میں سمجھ گئی ہوں کہ آپ یہاں کیوں آئی ہیں،مگر میں آپ کا ساتھ نہیں دے سکتی۔‘‘چاچی شگو ہراساں ہوتے ہوئے بے چارگی سے بولیں۔ڈر اور گھبراہٹ نے اُن سے آدھا اعتراف تو کروا لیا تھا۔

’’میں حویلی کا چپّہ چپّہ چھان مارونگی اور حقیقت خود واضح ہوجائے گی ،لیکن تمھاری اِس خاموشی پر تمھیں بخشا نہیں جائے گا۔‘‘ذکیہ بیگم نے چہرے پر مزید سختی لاتے ہوئے بے رحم لہجہ اختیار کیا۔

’’حکم ہمیں جان سے مار دیں گے۔۔۔اُن کے ہاں دغابازی کی کوئی رعایت نہیں ہے بی بی۔‘‘چاچی شگو نے خوف سے سہمتے ہوئے دونوں ہاتھ جوڑے۔

’’مت بھولو اے خادمہ! میں اُس ظالم کی ماں ہوں۔ظلم کرنے پر آئی تو اُس سے زیادہ مظالم ڈھاؤنگی تم پر۔‘‘ذکیہ بیگم غیض و غضب سے تقریباً چلا اُٹھی تھیں۔

’’ہم آپ کے حکم کے غلام ہیں۔۔۔ہمیں آزمائش میں مت ڈالیے۔۔۔ہم آپ دونوں کی بیچ کی اِس جنگ میں پس جائیں گے۔‘‘چاچی شگو کو کوئی اور حل نظر نہ آیا تو وہ اُن کے پیروں میں گر کر گڑگڑانے لگیں۔

’’اگر میں جازم خان سے یہ کہہ دوں کہ تم نے ہی مجھے اِس حویلی میں بلایا ہے اور میری مدد کی ہے تو کیا وہ تمھارا اعتبار کرے گا ؟کیا وہ تمھیں زندہ چھوڑ دے گا؟نہیں۔۔۔وہ میرا اعتبار کرے گا۔‘‘ذکیہ بیگم نے فراست سے آنکھوں کی پتلیاں سکیڑتے ہوئے دوسرا حربہ استعمال کیا تو چاچی شگو کی آنکھیں دحشت سے پھیل گئیں۔

’’یہ ظلم مت کیجیے گا۔۔۔یہ ظلم مت کیجیے گا بی بی۔۔۔میں ایک غریب عورت ہوں۔۔۔مجھ پر ترس کھائیے۔‘‘چاچی شگو نے ترس طلب آواز میں روتے ہوئے رحم کی اپیل کی تو ذکیہ بیگم کا دل ایک پل کے لیے پسج گیا۔

’’تم میری مدد کروگی تو تمھیں اِس کا صلہ ملے گا۔۔۔ ہر چیز کی ذمہ دار میں ہونگی۔۔۔میری زبان پر بھروسہ کرو۔۔۔تم میں سے کسی کا بال بھی بیکا نہیں ہوگا۔‘‘ذکیہ بیگم نے لحظہ بھر کا توقف کیا اور پھر نرم پڑتے ہوئے کہا۔اُن کی آنکھوں میں تحفظ دیتے احساس کی واضح جھلک تھی ۔ چاچی شگو نے گہری سانس لی اور صاحبہ کے اِس حویلی میں آنے کے بعد سے اب تک کی ایک ایک بات آنسو پونجھتے ہوئے بتا نے لگی۔چاچی شگو نے اُن راستوں کا پتا بھی بتا دیا تھا جن کی تلاش ذکیہ بیگم کی منزل کو تھی۔صاحبہ کی آزمائشوں بھری زندگی اور جازم خان کی سفاکیت کی داستان سن کر ذکیہ بیگم کا دماغ سنسنانے لگا اور چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا ۔تاسف کے احساس سے اُن کے جسم میں سوئیاں سی چبھنے لگیں۔اُنھیں اپنے ہاتھ پیر کانوں سے دھواں اُٹھتا ہوا اور دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔پشیمانی کی یہ گھڑی اُن کی زندگی کی سب سے اذیت ناک گھڑی تھی۔وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھیں کہ اُن کا پلایا ہوا نفرت کا زہر کتنی زندگیوں کا سکون ایسے نگل لے گا۔اُن کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوچکے تھے ۔اُنھیں اِس پل اپنے آپ سے شدید نفرت محسوس ہوئی۔

’’بی بی جی جلدی کیجیے۔۔۔اِس سے پہلے کہ حکم آجائیں۔‘‘چاچی شگو نے اُنھیں کندھے سے پکڑ کر ہلایا تو جیسے اُن پر چھایا صدمے کا جمود ایک پل کے لیے ٹوٹ گیا۔

’’باہر میرے خادم موجود ہیں۔۔۔جاؤ! سب ملازموں کو لے کر بڑی حویلی چلی جاؤ۔‘‘انھوں نے ممنون نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اگلا حکم جاری کیا تو چاچی شگو اثبات میں سر ہلاتے ہوئے فوراً وہاں سے چلی گئیں۔

ذکیہ بیگم پھونک پھونک کر قدم رکھتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھیں۔وہ ظلم و ستم کی پرانی جڑیں نہیں اُکھاڑ سکتی تھیں،مگر اب اُن جڑوں کو مزید پھیلنے سے روکنا ضرور چاہتی تھیں۔اُنھیں اُن سارے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا تھا جو اُن سے اور اُن کے لخت ِ جگر سے ہوئے تھے۔

’’نہیں۔۔۔میں تمھارا سامنا نہیں کرسکتی صاحبہ۔۔۔میں کس منہ سے تمھارا سامنا کروں۔۔۔میں کیسے اُس شیطان کے حصّے کی معافی تم سے مانگوں،جسے میں نے ہی پیدا کیا۔۔۔کس طرح تمھارے کھلے ہوئے زخموں پر مرہم رکھوں۔۔۔تمھارے پہاڑ جیسے صبر کے آگے میں کونسا حرفِ تسلی بولوں۔۔۔میں کیسے تمھاری برباد ہوئی زندگی پر اظہارِ افسوس کروں۔۔۔کیسے تم سے کہوں صاحبہ کہ یہ دکھ درد بھول جاؤ۔‘‘زینے پر پیر رکھتے ہی ذکیہ بیگم کے دل نے اُن کے آگے پچھتاؤں کی ایک دیوار کھڑی کردی اور تلخ حقیقتوں کی یہ دیوار عبور کرنے کا حوصلہ اُن میں بالکل بھی نہیں تھا۔وہ پُرسوچ انداز میں واپس پلٹیں اور دائیں طرف واقع چھوٹی سے راہداری کی طرف چل پڑیں۔ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اپنی ہی حویلی میں چل رہی ہوں۔تنگ بل کھاتی ہوئی کئی راہداریوں سے گزرتے ہوئے اُنھیں ذرہ بھی اجنبیت یا خوف محسوس نہیں ہوا ۔اچانک ایک چھوٹے سے دروازے کے پاس پہنچ کر وہ رک گئی تھیں۔دروازہ کھولنے سے پہلے اُن کا دل لرزہ اور ہاتھ ایک بار ضرور کانپے تھے۔دروازہ اندر کی طرف دھکیلتے ہی جیسے وہ سکتے کی کیفیت میں آگئیں۔ایک کونے میں بیہوش پڑا سیف کا وجود اور فرش پر جابجا لگے خون کے دھبّے جازم کی درندگی کے گواہ تھے۔وہ کچھ پل یہ دردناک منظر اپنی بھیگی آنکھوں سے دیکھتی رہیں ،اورر پھر بھاگتے ہوئے آگے بڑھیں ۔

’’سیف۔۔۔سیف۔۔۔اُٹھ جاؤ میرے بچے۔۔۔ہوش میں آؤ۔۔۔میں تمھیں لینے آئی ہوں۔۔۔تمھیں لینے آئی ہوں۔‘‘سیف کا سر گود میں رکھتے ہوئے وہ اُسے زور زور سے جھنجھوڑتے ہوئے بولیں۔آنکھوں سے بہنے والے ندامت کے آنسو سیف کے چہرے پر گر رہے تھے۔اچانک سیف کی آنکھیں کھلیں تو وہ ٹکٹکی باندھ کر اُنھیں دیکھنے لگا۔یہ وہی عورت تھی جسے وہ ماں سمجھتا تھا،اُس کی گود میں چھپ کر اپنی ساری محرومیوں کو بہلانا چاہتا تھا اور وہی عورت کبھی اُس کی ماں نہ بن سکی تھی۔آج وہ اُس کے سامنے تھیں تو وہ کیونکر یقین کرتا۔

’’سیف اُٹھو ۔۔۔اُٹھو میرے بچے ۔۔۔چلو یہاں سے ۔۔۔جازم تمھیں مار دے گا۔۔۔اور میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پاؤنگی۔‘‘ذکیہ بیگم نے سر جھکاتے ہوئے رندھی ہوئی آواز میں کہا تو سیف اُٹھ کر بیٹھ گیا۔اُس نے محسوس کر لیا تھا کہ یہ خواب نہیں ،حقیقت ہے۔

’’ممانی جان آپ یہاں! خدا کے لیے یہاں سے چلی جائیے ،اِس سے پہلے وہ یہاں آجائے۔‘‘سیف نے کمزور لہجے میں التجا کی تھی۔

’’سیف ۔۔۔سیف۔۔۔مجھے معاف کردو۔۔۔میں نے تم سے تمھارا بچپن چھین لیا۔۔۔تم سے زندگی کی ہر خوشی چھین لی۔۔۔میں ہمیشہ تمھارے خواب اور خواہشوں کے رستے میں کھڑی رہی۔۔۔جس عزت، نام، پیار کے تم حقدار تھے ۔۔۔میں نے وہ سب چھین لیا تم سے ۔‘‘ذکیہ بیگم نے زار و قطار روتے ہوئے دونوں ہاتھ باندھ لیے تو سیف ہکّا بکّا سا اُنھیں دیکھنے لگا۔

’’مت کہیے ایسا ممانی جان۔۔۔میں چین سے مر بھی نہیں سکوں گا۔۔۔مجھے گنگار مت کیجیے۔۔۔آپ کو اپنی محبوب شئے کا واسطہ ۔۔۔چلی جائیں یہاں سے ۔‘‘ سیف نے آگے بڑھ کر اُن کے بندھے ہوئے ہاتھ کھول دئیے تھے۔

’’میں ایک ہی صورت میں یہاں سے جاؤنگی ۔۔۔جب تم مجھے معاف کروگے۔۔۔جب تم میرے ساتھ چلو گے میرے بیٹے۔‘‘ذکیہ بیگم نے ایک ضدی بچے کی طرح مضبوطی سے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔

’’میرے دل میں آپ کے لیے کوئی شکایت نہیں ہے ،اگر پھر بھی آپ میری ذات پر کوئی عنایت کرنا چاہتی ہیں تو چھوٹی بی بی کو لے جائیے۔اُن کی زندگی مزید برباد ہونے سے بچا لیجیے۔‘‘سیف نے اپنا دوسرا ہاتھ ذکیہ بیگم کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے ملتجیانہ انداز میں کہا تھا۔

’’نہیں سیف ظلم کو چھپا کر ظلم کو ہرایا نہیں جاسکتا۔صاحبہ تب آزاد ہوگی جب جازم اپنے نفس سے رہا ہوگا۔میں اُسے بھگا کر نہیں لے جا سکتی ورنہ ! جازم کبھی نہیں لوٹ پائے گا ۔‘‘

’’امی جان۔۔۔باہر آئیے۔۔۔میں کہتا ہوں باہر آئیے۔‘‘ اِس سے پہلے سیف کچھ کہتا۔جازم خان کی جلالی آواز پر اُن دونوں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا تھا۔جازم کا دھواں دھواں ہوتا چہرہ اور اُبلتی ہوئی آنکھیں صاف بتا رہی تھیں کہ وہ سر تا پیر غصّے کی آگ میں جل رہا ہے۔ذکیہ بیگم اِس صورتحال کے لیے پہلے سے تیار تھیں۔اُنھوں نے محبت پاش نظروں سے سیف کو دیکھتے ہوئے اُس کا ماتھا چوما اور قید خانے سے باہر آگئیں۔ذکیہ بیگم کی اِس حرکت اور محبت نے جازم خان کے دل میں لگی آگ کو مزید بھڑکا دیا تھا۔اُس نے آگے بڑھ کر ایک خونخوار نگاہ سیف کے چہرے پر ڈالی اور زور دار آواز کے ساتھ قید خانے کا دروازہ بند کردیا۔

’’اِس دو ٹکے کے معمولی نوکر کی خاطر آپ نے مجھ سے جھوٹ بولا۔اپنے سگے بیٹے ،اپنے خون سے۔۔ایسی کیا قیامت آگئی تھی کہ آپ کو یہ کھیل رچانا پڑا۔‘‘ذکیہ بیگم کے آمنے سامنے آتے ہی وہ ادب و لحاظ سے عاری اونچی آواز میں کرختگی سے بولا تھا۔

’’مجھے جھوٹ بولنا پڑا۔۔۔تمھارے جھوٹ کو بے نقاب کرنے کے لیے۔۔۔تمھاری جھوٹی دنیا کی حقیقت جاننے کے لیے۔۔۔تمھارے اُس ظلم سے پردہ اُٹھانے کے لیے جس نے نجانے کتنی زندگیاں برباد کر ڈالیں۔‘‘ذکیہ بیگم نے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے ملامتی انداز سے افسوس بھری آواز میں جواب دیا تھا۔

’’کوئی ظلم نہیں کیا میں نے۔۔۔وہ بے وفا عورت اور یہ گھٹیا نوکر اِسی لائق ہیں۔‘‘دیوار پر درشتی سے ہاتھ مارتے ہوئے وہ مزید بد لحاظ ہوا۔

’’ یہ بیوفائی تمھاری آزمائش ہے ۔۔۔تمھاری اُس زیادتی کی سزا ہے جو تم نے جیون کے ساتھ کی۔۔۔تم اِتنے ظالم کیسے بن گئے جازم۔۔۔تم اِتنے بے رحم کیسے ہو سکتے ہو۔۔۔ایک لڑکی تمھاری خاطر مر گئی۔۔۔اور ایک گھٹ گھٹ کر مر رہی ہے۔‘‘ذکیہ بیگم بولتے بولتے سسک پڑی تھیں۔

’’نہیں ہوں میں ظالم ۔۔۔نہیں ہوں قصور وار۔۔۔کچھ غلط نہیں کیا میں نے۔۔۔ہر شخص اپنی غلطی کی سزا بھگت رہا ہے۔۔۔اپنی غلطی کی۔‘‘اُس کے لفظ ایک لمحے کے لیے کانپ اُٹھے تھے۔وہ ہیجانی انداز میں چیخے لگا۔

’’اور تم کس غلطی کی سزا بھگت رہے ہو ؟تم کس گناہ سے بے چین ہو؟تم کس عذاب میں مبتلا ہو۔‘‘ذکیہ بیگم کی آواز اور آنکھیں جیسے اُس کا آئینہ بن گئی تھیں۔

’’آخر کیا چاہتی ہیں آپ ؟‘‘ اُس آئینے میں اپنے آپ کو جلتا دیکھ کر وہ ایک غیر متوقع سوال کر گیا تھا۔

’’میری طرح اپنے گناہوں، غلطیوں کا اعتراف کرو۔۔۔اور جو صاحبہ چاہتی ہے اُسے دے دو۔۔۔اِسی میں تمھارا سکون ہے میرے بچے!‘‘ذکیہ بیگم ترحم بھری نگاہوں سے اُسے دیکھتے ہوئے مزید آبدیدہ ہوئیں۔

’’پہلے وہ آزادی چاہتی تھی۔۔۔اب وہ سیف چاہتی ہے ۔۔۔تو کیا میں اُسے سیف دے دوں؟‘‘بلند آواز پوری حویلی میں گونجی اور اُس نے دونوں ہاتھ سلگتی ہوئی کنپٹیوں پر رکھ دئیے۔

’’ہاں۔۔۔۔۔دے دو۔‘‘ذکیہ بیگم نے آگے بڑھ کر اُسے باہوں میں سمیٹ لیا تھا۔

’’نہیں۔۔۔ہرگز نہیں۔۔۔چلی جائیے۔۔۔اگر آپ پھر یہاں آئیں تو میں اُن دونوں کے ساتھ ساتھ خود کو بھی ختم کردونگا۔۔۔سب کچھ مٹا دونگا۔۔۔پوری حویلی کو تہس نہس کردونگا۔‘‘اُس نے ذکیہ بیگم کو تقریباً پیچھے دھکیلا ۔ دیوانگی انتہا پر پہنچ چکی تھی۔وہ چیختا چلاتا وہی گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور ذکیہ بیگم نے لرزتے ہوئے قدم واپسی کے رستے کی طرف بڑھا دئیے تھے۔

شام تک سب نوکر حویلی واپس آچکے تھے۔جازم خان کے جنون نے ذکیہ بیگم کو خوف میں مبتلا کردیا تھا۔اُن سے نہ جازم کا قہر برداشت ہوا تھا نہ اُس کی تکلیف۔وہ ماں تھیں اپنے بیٹے کو اُس کے کیے کی سزا نہیں دے سکتی تھیں،مگر یہ سزا بھی کم نہ تھی کہ طاقت اور غرور کے نشے نے جازم کو اپنے ہی تخت سے نیچے گرا دیا تھا۔بعض اوقات اپنوں سے لیا جانے والا انتقام اپنے آپ سے بدلہ لینے کے مترادف ہوتا ہے۔وہ سزائیں دیتے دیتے اپنے ہی ہاتھوں مات کھارہا تھا کیونکہ سزا پانے والوں نے گردن نہیں جھکائی تھی۔اُس نے کسی نوکر سے کوئی سوال نہیں کیا اور چپ چاپ اپنے کمرے میں بند ہوگیا۔اُسے ایک آخری وار کرنا تھا اور ستم کی یہ بازی سب کی زندگی بدلنے والی تھی۔

*****

جاری ہے