آبلے پڑ گۓ ہیں پیروں میں
اور آنکھوں میں بس گیا آشوب
روح بوسیدگی کی ماری ہے
دل سیہ کار بن گیا ہے روگ

مجھ سے پوچھو سفر کی بابت تم..
مجھ سے پوچھو تمہیں بتاؤں میں
میں نے قیمت سفر کی کیا دی ہے؟
میں نے کیسے قدم گھسیٹے ہیں؟

میں بتاؤ‍ گا کتنے ڈاکے تھے،
میں بتاؤں گا کون ڈاکو تھے
کس نے کیسے نقب لگائ ہے،
کون کاندھے کا حوصلہ رہا ہے..
کیسے کیسے ملے مجھے کچھ لوگ؟
کیسے کاری لگے مجھے کچھ روگ..

مجھ سے پوچھو سفر کی بابت تم..
میں بتاؤں گا کیسے تھکتا رہا..
میں بتاوں گا گر کے اٹھتا رہا..
کیسے کیسے سنبھالے میں نے جوگ
اور آنکھوں میں بس گیا آشوب..

میں نے کیسے قدم رکھے دل پر
کیسے بڑھتا رہا میں آگے دوڑ
کیسے چلتا رہا میں کانٹے اوڑھ..
اور آخر میں بن گیا کانٹا
دل سیہ کار بن گیا ہے روگ..
اب میں تنہا منا رہا ہوں سوگ

عمارہ احمد (~حجاب)

کور ڈیزائن و فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف