تحریر: سدرتہ المنتہی



———–
.

ہم ذہن کے ذریعے عکس چراتے ہیں.


******

اندھیرے نے جیسے ہر جگہ اپنے ذمے لی ہوئی تھی..
کیب اتفاق سے خراب ہوئی تھی راستے میں ہی..
ٹائر ٹھیک کرنے لگا تھا لڑکا..
اور اس نے سیٹ پر سر ٹکادیا..
ذہن میں عجیب خالی الذہنی اور منتشر بکھری خاموش سوچیں تھیں
.جن میں. کوئی ایک آواز بھی ڈھنگ سے سنائی سجھائی نہیں دے رہی تھی..
اس نے پیشانی مسلتے ہوئے.. سر جھٹکا..
ٹائر ٹھیک ہے. ؟
بدل رہا ہوں باجی. ..
شکر ہے پڑا ہوا تھا گاڑی میں.وہ قریبی ڈھابے سے ایک بچے کو لے آیا تھا. مدد کرانے..
اور ٹائر بدل رہا تھا..
اس نے سوچا خود اترکر مدد کرتی.. لیکن اس کا ذہن اچانک ہی ماؤف سا ہوگیا تھا.
اور پھر گاڑی اسٹارٹ ہوکر ویراں راستوں پر گامزن ہوگئی لیکن اس کا تھکا ہوا ذہن کچھ اور ہی سنارہا تھا..
اس نے تھکن کے مارے آنکھیں بند کیں تو
ایک عجیب منظر آنکھوں میں لہراگیا.

اس نے زیبی کو دیکھا کہ وہ ڈری سہمی بیٹھی ہے. اور اس کے پاس سے کوئی سایہ گزرا ہے.
اس نے چیخ سنتے ہی.. آنکھیں کھول لیں..
اور ڈرائیور کو کہا پیچھے مڑنے کو حالانکہ اسے بہت فیصد اندازہ تھا کہ یہ غلط بھی ہوسکتا ہے لیکن فکر تو بہرحال تھی.. اور ہوا بھی یہی.. ہی
دھت اندھیرے میں اسکی چیخیں گھٹی ہوئیں تھیں..
اور وہ اس کے اندازے کے مطابق اسی کونے میں سمٹی گھٹنوں کے درمیان کے اطراف بازو لپیٹے کانپ رہی تھی..
جیسے سردی کی ہرارت سے انسان سمٹتا ہے.
وہ سیدھی کمرے کے اسی کونے میں گھس آئی تیزی سے..
اور کسی کو اپنی طرف لپکتے محسوس کرکے اس کی چیخیں آسمان تک جا پہنچتیں اگر وہ فوری طور پر اسے بانہوں میں بھینچ کر نہ متوجہ نہ کرتی..
میں عالین ہوں.. زیبی ہوش کرو.. میں عالین ہوں..
وہ اس کے گال تھپکتے ہوئے کہنے لگی تھی..
کیا ہوا ..
زیبی ہوش کرو میں ہوں..

وہ حواس باختگی سے چیخیں روک کر دیکھنے لگی تھی.

کچھ نہیں ہوا.. میں ہوں..
پھر وہ.. وہ سایہ..
کوئی سایہ نہں یہاں تمہیں وہم ہوا ہے


دیکھو.. وہم..
نہیں کوئی وہم نہیں ہے.. میں نے اس عورت کو دیکھا…اس لمبے قد والی عورت کو..
ہاں میں نے دیکھا..
وہ پوری طرح سہمی ہوئی تھی.
کیا تم نے اس کی شکل دیکھی ؟
نہیں.. وہ میری طرف مڑنے والی تھی کہ میں انڈر آگئی کمرے میں.. اور پھر… (زیبی نے اسے زور سے تھام رکھا تھا)
اور پھر کیا؟
پھر مجھے بہت ڈر لگا.. اور میں نے کہا اللہ عالین کو بھیج دیں.
اچھا.. اس نے ٹھنڈی سانس بھری..
چلو اٹھو یہاں سے.. اوپربیٹھو..
تم کہاں تھیں.. کیاتم یہیں تھی؟
ہاں.. میں یہیں تھی.. وہ اسے فی الحال کچھ بھی بتانا نہیں چاہ رہی تھی.
تم کہاں تھیں.. تم نے میری آواز سنی ؟وہ اٹھی تھی اس کے ساتھ..
ہاں میں یہیں تھی.. میں نے سنی..اٹھو شاباش.

وہ اسے لیکر بیڈ تک آئی..
کچھ کھایا تم نے؟
اس نے نفی میں سر ہلایا دھت اندھیرا تھا..
اور اس میں اسکی آنکھیں خوف و ہراس سے بھری ہوئیں تھیں..
کچھ کھاؤگی؟
نہیں.. پلیز.. تم کہیں مت جاؤ..
مجھے چھوڑ کر مت جاؤ.. پلیز
نہیں جارہی کہیں نہیں جارہی..
مجھے سونا ہے.. تم بس مجھے سلادو..
وہ اس کے بازو پر سر رکھ کر لیٹ گئی.
ٹھیک ہے.. تم سوجاؤ.

دعا کرو مجھے نیند آجائے.. اس نے اس کے بازو میں سر چھپالیا تھا.
آجائے گی.. سوجاؤ ..وہ اسے ساتھ لگاکر تھپک کر سلانے لگی..
اور کچھ دیر بعد اسے نیند آگئی.. اس نے کھسکنے کی کی.. لیکن زیبی نے نیند میں بھی اسے زور سے پکڑ رکھا تھا.
اس کے ہونٹوں پر ایک مدھم مسکراہٹ آکر غائب ہوگئی کہ ہلکی سی سرسراہٹ اور قدموں کی آہٹ اس کے کانوں نے سنی..
اور زیبی کو اس نے خود سے بھینچ لیا..
اور پھر اس نے خود بھی دروازے کے سامنے سے کسی لمبے سائے کو گزرتے ہوئے دیکھا.. اور کچھ لمحوں کے لئے زور سے آنکھیں بھینچ لیں..
جتنی دلیر سہی لیکن اس طرح کے کرتب لائیو اس نے کم ہی دیکھے تھے.
اور جب بھی کوئی مافوق الفطرت ہستی کا کی موجودگی کا احساس اٹھتا تو دل کی دھڑکن معمول سے بڑھ جانا فطری عمل تھا.
اسے یکدم خیال آیا کہ جیسے ہم ڈرتے ہیں ویسے ہوسکتا ہے کہ کوئی غیر انسانی قوت بھی انسانوں سے ڈرکھاتی ہو..
اس سوچ نے فوری طور پر اسے کچھ مستحکم تو کیا ہی تھا لیکن نظر ملاکر پوچھنے کی خود اس میں بھی ہمت نہ تھی.
اور نہ ہی اسے ضرورت محسوس ہوئی.
لیکن ایک بات کا ادراک منہ کھولے کھڑا تھا کہ یہ گھر نہ تو نارمل لوگوں کا گھر تھا..
اور نہ ہی اس کے مکین کوئی نارمل عام سی زندگی گزارنے والوں میں سے تھے.
بلکہ نور فاطمہ کے جانے کے بعد جو اسے ڈھارس تھی کہ سب ختم ہوجائے گا وہ انہیں لمحوں میں خاک ہوگئی تھی ..
اسے اندازہ تھا وہ بہت کچھ چھوڑے جارہی ہے جو زیبی کی طرف متوجہ ہوسکتا ہے..
لیکن اس کا کیا.. چلو سایہ نظر آنے کی وجہ ہے کہ وہ اس گھر میں موجود ہے.
لیکن وہ راستے کا امیج.. وہ آواز.. وہ تصویر.. جس میں اس نے زیبی کو دیکھا..
نہ تو وہ مراقبہ کرنے کی ماہر تھی..
نہ اسے ہپنا ٹزم میں کے کرتب میں کوئی دلچسپی تھی..
نہ ہی اسے شوق تھا لاشعور کو جگانے کا.. پھر یہ کس چیز کی بریفنگ تھی.
خیال کیا اس حد تک مستند ہوسکتا ہے کہ اطلاع لاکر دے.
رات دیر تک وہ خود سے محو گفتگو رہی جب تک سوچتے سوچتے خود اسے نیند نے آلیا

********





تو راستے بھی طہ کیے جاتے ہیں.

*********
خواب اتنے بھی خطرناک ہوتے ہیں کیا..
دھواں تو بجھ چکا تھا.. لیکن اندر کا دھواں کون بجھاتا..
مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ کوئی. گہرا امتحان میرے سر پر کھڑا ہو..
وہ دو گھنٹے کی نیند لیکر اٹھی تھی.. اور خشک جمی ہوئی مٹی کے ڈھیر پر بیٹھے مجدد کے پاس آ بیٹھی..
یہ مختصر سا پڑاؤ تھا سفر کے درمیان رات ہوگئی تھی.
مچھروں کی بھنبھناہٹ شروع ہوگئی تھی.. حبس نے فضا کو گھٹن زدہ بنایا ہوا تھا.
التمش اورڈرائیور جیپ میں بیٹھے ہوئے تھے اس وقت.
سالس اپنے خیالات میں مگن تھا.
کچھ مسلسل ادھر ادھر پھیریاں لگایا تھا.
وہ خیمے میں سوئی ہوئی تھی اور ایک چھوٹا سا سولر اسٹینڈ فین اس کے سرہانے چل رہا تھا جس کی ہوا آخری سانسیں لے رہی تھی.
وہ عصر کی نماز کے بعد سوئی تھی یہ سوچ کر کہ دن زرا بہتر ہوا ہے تو سولے.. دماغ مسلسل سوچوں کے جال میں پھنسا تھکا ہوا تھا.
باہر نکلی فین بند کرکے تو سامنے مجدد کو دیکھا جو نسبتا ” اس خیمے کے قریب اسکی رکھوالی کے خیال سے ہی بیٹھاہوگا.
وہ اس کی طرف آگئی اور آکر بیٹھی..
میں نے ایسا زندگی سے کچھ مانگا تو نہ تھا.. کچھ بھی تو نہیں ملا مجھے..
بچپن سے یتیمی…پھر بوڑھی دادی کا سہارا بھی چھنا..

ایک ہی لڑکا زندگی میں آیا وہ بھی یوں نکلا کہ پتا نہ چلا..
زندگی تلاش اور تنہائی کی نظر ہوگئی..
تم. ایسا مت کہو.
زندگی تو ابھی شروع ہوئی ہے..
ابھی تو لمبا جینا ہے تم نے..بہت کچھ رہتا ہے..
مجدد.. ایک بات پوچھوں؟
ہاں پوچھو..
مجدد یار.. کسی دعا کی شدت کیا آپ کو مہنگی پڑجاتی ہے؟
پتا نہیں.. لیکن اتنا معلوم ہے کہ خلوص اور شدت میں تھوڑا فرق ہے..
کوئی دعا خلوص سے کی جاتی ہے.. اور کوئی شدت سے..
خلوص میں التجا ہوتی ہے.. ضرورت ہوتی ہے.
جبکہ شدت میں ضد ہوتی ہے.
اور ضد کچھ اور کرے نا کرے آپکے مزاج پر برا اثر ڈالتی ہے.

مجدد.. سوچ میں ڈوبی ہوئی آواز تھی.
ہوں.. سن رہا ہوں..
مجدد کے اندر اتنا سکون کیوں ہے.. وہ اسے دیکھتے ہوئے سوچنے لگی.
ایک وقت میں ذراسی سوچتی ہو.. اور پھر پریشان ہوجاتی ہو..
مجدد.. کیا مجھے وہ ملے گا؟اسے مجدد کی بات پراحساس ہوا کہ کیا پوچھنے کی سوچ رہی تھی..
یہ تمہارا سوال نہیں ہے.. وہ مسکرایا
پھر کیا ہے؟اسکی مسکراہٹ معدوم تھی..
تم سوچ رہی ہو کہ اس کے ساتھ اگر کوئی مشکل کھڑی ہوئی تو اسے تم کیسے جھیلوگی..
یعنی کہ تمہیں بھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی مشکل ہوگی.. ؟
ہاں شاید..
مجدد.
کیا وہ زندہ ہوگا؟
اب تک تو ہوگا ہی.. اور یہ بھی اندازہ ہے کہ تم. اسے دیکھ پاؤگی.. تم نے اسے دیکھنے کی چاہ کی تھی…
اس سے معافی مانگنے کی..
اس سے ایک بار بات کرنے کی یا پھر اپنی بات اس تک پہنچانے کی…
یہی تھا ناں .
سو یہ موقع تمہیں ملے گا..
اب مرضی تمہاری ہے..
لیکن ایک بات سمجھاؤں.. اچھے ساتھی… بیچ سفر میں چھوڑ نہیں جاتے… بھگوڑے.. نہیں ہوتے..
میں نہیں چھوڑرہی مجدد.. لیکن.. کچھ ہے جو بے چین کررہاہے..
حوصلہ رکھو.. کچھ نہیں ہوتا جب مشکل سفر پر نکلتے ہیں تو صرف سفر کے ذرائع نہیں حوصلہ بھی ساتھ رکھنا پڑتا ہے.
سمجھو اسے بھی استعمال ہی کرنا ہے.. جیسے ہم دیگر چیزیں استعمال کرتے ہیں.
بس تم دعا کرو کہ یہ پھانس جو اٹکی ہے وہ نکل ہی جائے.. کسی کسی لمحے تو مجھے لگتا ہے کہ سالس صاحب راستہ بھول گئے..
وہ اپنے ذہن کا راستہ بھولے ہیں..
اندر کہیں کھوئے ہوئے گم سم ہیں.
جب انسان خود کو ایک سے زیادہ تفکرات میں الجھاتا ہے تو اکثر اوقات ایسا ہو ہی جاتا ہے.
وہ پھنسے ہوئے ہیں.. بری طرح سے..
نکلیں گے..خود کو تلاش کرلیں..
قدرے اطمینان بھی ہے لیکن.. ابھی وہ اپنا مقام تلاش کررہے ہیں..
الجھن ہے سلجھ جائے گی..
وہ کیوں الجھے ہیں اندر سے..
یہ سوال پیچیدہ ہے..
ان سے تو فی الحال کبھی مت کرنا..
وہ پہلے ہی الجھے ہیں.. خود کو ڈھونڈنے میں لگیں تو کہیں کھونہ جائیں پھر سے..
نہیں کروں گی..
لیکن یہاں گھٹن بہت ہے. مجدد نکلو یہاں سے..
ہمیں صبح تک شاید سفر کرنا پڑے.. حالانکہ ڈرائیو تو اندازا” کم ہی تھی.
راستہ تو بھولے ہیں.. لیکن منزل پر پہنچ ہی جائیں گے.. ہوسکتا ہے اس سے زیادہ کوئی بھلا راستہ مل پائے..
یا پھر اس سے زیادہ مشکل راستہ ؟
تم صرف مشکلوں کو سوچتی ہو..
وہ ہنس پڑا.
چلو اب نکلنے کی کریں..
سالس صاحب بھی گاڑی کی طرف جارہے ہیں.
وہ کسی حد تک سمجھ گئی تھی کہ کبھی کبھار شارٹ کٹ سے نہیں طویل تر راستے سے پہنچنا ہوتا ہے..
تو راستے بھی طہ کیے جاتے ہیں..
********













ہم یقین کو تھالی میں سجاکر پیش کریں گے

*********


صبح نے سفیدی کی کرنیں پھوڑی تھیں.. اور روشنی کھڑکیوں کی درزوں سے ہوکر اندر آنے لگی تھی..
وہ گہری نیند میں بھی اس سے بچوں کی طرح لپٹی اسے بھینچے ہوئے سورہی تھی.
اور نیند میں کئی بار اس نے خوف بھری سسکی لی تھی.
اس دورآن وہ کچی پکی نیند میں گم سم بار بار اسے بچوں کی طرح تھپکی دیتی.. خود سے لپٹاتی اور اس کے بال سہلاتی رہتی جب تک وہ پھر سے گہری نیند میں نہ چلی جاتی..
اس کے خیال کی وجہ سے وہ خود کو گہری نیند میں ڈوبنے سے روک رہی تھی کہ اگر اچانک بھی وہ اٹھ گئی یا سوتے میں ڈرگئی تو گہری نیند میں مبتلا ہونے کے سبب وہ اس کا خیال نہیں رکھ پائے گی..
اس نے آہستگی سے اسے خود سے الگ کرکے چادر ڈالی.. پنکھے کی اسپیڈ تیز کی اور احتیاط سے اٹھ کر کھڑکی بند کی تاکہ وہ سوتی رہے.
فجر قضا پڑھ کر.. اس نے کچھ منٹ تلاوت کی..
اور پھر چینج کرکے تازہ دودھ اورناشتےکا سامان لینے کے ارادے سے باہر نکل گئی تھی.
گھنٹے بھر بعد واپس آئی اور اس کے روم میں دیکھا تو وہ بستر پر نہیں تھی..
اسے
یکدم خیال آیا کہ ٹینکی میں پانی ختم ہوتا ہوگا..
اس نے موٹر کا بٹن کھولا..اور فریج میں پانی بھر کر رکھا.. چھوٹا سا ڈسپنسر اور مٹکا بھرا…
پھر کچن کے صلیب صاف کیے
ٹینکی چیک کرکے گملوں کو پانی دیا پائپ سے صحن میں تازہ پانی کے چٰھڑکاؤ کا اچھا تاثر آرہا تھا.

اس کے بعد چائے کا پانی چڑھاکر انڈے پھینٹے اور بریڈ ٹوسٹ بنانے کی تیاری کی..
جب تک زیبی باہر آئی وہ ٹوسٹ تیار کرچکی تھی..
اور چائے بھی ریڈی تھی..
زیبی نے گیلے بال پونچھنے کے بعد تولیہ کرسی پر ہی پھیلادیا..
اور چھوٹی سی میز کے اطراف رکھی تین کرسیوں میں سے ایک کھینچ کر بیٹھ گئی..
بھرپور نیند لینے کے باوجود اس کے چہرے پر تھکن تھی..
عالین بریڈ اور چائے کی کیٹل میز پر لے آئی..
ساتھ میں تازہ مکھن ملائی بھی رکھی جو وہ یہاں کے نزدیکی اسٹور سے لائی تھی. یہ مکھن ملائی گھر کی بنی ہوئی تھی.. اور اسکی بوء سے ہی اسکے خالص ٹیسٹ کا اندازہ ہوجاتا تھا.
ساتھ میں دو پراٹھے بھی تھے..
اتنا سب کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
زیب نے پراٹھے اور ٹوسٹ پر باری باری نظر ڈالتے ہوئے کہا.
چوائس ہے یہ.. میں نے سوچا اگر تم ملائی اور پراٹھا کھانا پسند نہ کرو تو تمہارے لیے چوائس ہونی چاہیے..
اتنا خیال رکھنے کا شکریہ.

ویسے تم کچھ زیادہ ہی بندے کے لیے کھپتی ہو.. زیادہ توانائی مت ضائع کیا کرو..
اتنا کافی ہے کہ ایک وقت میں ایک ہی چیز ہو..
خیر َاب لائی ہو تو شکریہ..
وہ بات کرتے ہوئے اسکی طرف دیکھنے سے کترارہی تھی..
اور اس کا لہجہ بھی عجیب اتار چڑھاؤ کا شکار تھا.
تم آرام سے ناشتہ کرو.. بعد میں ہوجائیں گے شکریے اور نصیحتیں
.
وہ نپے تلے انداز میں بھی لہجہ نرم رکھتی تھی.

زیب سے کہتے ہوئے اس نے چائے کا کپ بھرا.. اور موبائل فون پر سوشل میڈیا اکاأونٹس پر تازہ اخبار بھی کھول لیا جس پر ناشتے کے ساتھ ساتھ ہلکی پھلکی نظر بھی ڈالتی رہی تھی.
تم اتنا سب میرے لئے کرکے مجھے شرمندہ کررہی ہو..
زیب ٹوسٹ کا ٹکڑا منہ میں رکھ کر نگلنے کے بعد زبردستی بولی تھی.
عالین نے ایک اچٹتی سی نگاہ اس پر ڈالی تھی.. اور ٹھنڈی سانس بھر کر موبائل رکھ کر ناشتے کی طرف متوجہ ہوئی.. دوسرے معنوں میں کچھ اس کی طرف بھی..
دیکھو رات کے بارے میں یا اس سے پہلے آگے پیچھے.. کچھ میں بھی اگر میرا زرا بھی کوئی ہاتھ ہے تو میں نے یہ سب نہ تو تعریف کے لئے کیا نہ ہی شکریے وصولنے کے لیے..
اس لیے تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے اس سب پر بات کرنے کی..
میں سمجھتی ہوں رات گئی تو بات گئی.
وہ بات اپنے تئیں مکمل کرکے اسکرین پر عبارت دیکھنے لگی.
کتنا مہان سمجھتی ہو ناں خود کو.. یعنی کسی کے پاس شکریہ ادا کرنے کا بھی حق نہیں ہے..
وہ تلخی دباتی تو ترشی پر آجاتی تھی.
عالین نے چائے کے گھونٹ بھرتے ہوئے اسے افسوس سے دیکھا.
ایک تو مجھے زیب تمہارا مسئلہ سمجھ نہیں آتا کہ تمہارے ساتھ ایشو کیا ہے..
: لیکن مجھے پتا ہے کہ عالین تمہارے ساتھ ایشو کیا ہے..
وہ یہی ہے کہ تمہیں بس ہیرو بننے کا بہت شوق ہے..
تم خود ہی خود کو ہیرو سمجھتی ہو..
عالین اسکی بے ساختہ معمولی سی بات پر بھی چونک گئی تھی..
اسے یاد آیا اسے انس نے بے وفائی سے پہلے کہا تھا کہ تمہیں دراصل کسی ہیرو کی ضرورت ہی نہیں ہے اپنی زندگی کے لیے.. تم خود ہی ایک ہیرو بن جاتی ہو.. تم نے خود کو بڑی جھوٹی تسلیاں اور فریب دیے ہوئے ہیں.. .. اور اسے زیبی کا لہجہ بھی بالکل ایسا ہی لگا..
اختلاف اس لیے نہ تھا کہ وہ جانتی تھی کہ یہ کسی حد تک ایک کھرا سچ ہی ہے..
لیکن لوگ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ خود کے اندر ہی وسعت پیدا کرکے جینے والے کا جو جانے انجانے میں نقصان ہوجاتا ہے..
وہ کیا ہے..
کوئی اگر دوسرے پر ڈپینڈ کرنے کے بجائے اپنی کھیتی اگاتا ہے تو اور اپنے ہی اندر ظرف پیدا کرلیتا ہے تو یہ اسکی تو ہر گز نہیں کہ کئیوں کو اپنے حوالے سے کسی زحمت سے بچالیتا ہے.
بجائے شکرگزاری کے اس بندے پر تیر تیشے تانے جاتے ہیں.

وہ تلخی سے مسکراکر رہ گئی تھی..
مجھے تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ تم بروقت آئیں.. اور مجھے کمزور پاکر سنبھالنے کی کوشش کی..
خیر..
زیب نے بات بیچ میں چھوڑکر کندھے اچکائے تھے.

عالین کو پتا تھا کہ اسے اس وضاحت سے تکلیف ہورہی ہے.
لیکن وہ اسے ٹوک کر مزید تلخی برداشت نہیں کرنا چاہتی تھی..
اسے افسوس اس بات کا بھی تھا کہ کہاں وہ رات اس قدر سہمے ہوئے ماحول میں اپنی اپنی سی لگ رہی تھی..
اور کہاں یہ اکھڑمزاجی..
.
خیر.. جو بھی ہے تم نہ بھی آتیں تو کوئی مسئلہ نہ تھا.. بالآخر صبح ہونی تھی..
سو ہوچکی..
اچھا.. وہ ہنس دی..
بہت خوب.. تو آج کے لئے کیا خیال ہے؟
زیبی نے اسے ناگواری سے دیکھا تھا.
تمہاری مرضی.. میں تمہیں نہیں روکوں گی.. اور پلٹ کر خدا کے لئے مجھ پر احسان مت کرنا اگر نکل جاؤ.. تو ابھی نکلو…
دن ٹھنڈا کرکے جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے.
وہ اٹھ کر کرسی کو لات مار کر دور کرتے ہوئے دھواں دھار انداز میں بولی تھی..
اچھا… بہت اچھے..
کوئی اعتراض نہیں.. میں ابھی نکل جاؤں گی..
لیکن سوچ لو پھر نکل گئی تو شام تک بہت دور تک پہنچ جاؤں گی.. جہاں سے جلدی واپسی مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے.

تم مجھے جتارہی ہو؟
حد ہوگئی. عجیب گھٹیا پن ہے یہ..
وہ بے ساختہ کہہ گئی تھی..
عالین نے افسوس سے اسکی طرف دیکھا تھا..
بڑا مناسب طرز تخاطب ہے تمہارا..
اسے
یکدم احساس ہوا کہ وہ جلدی میں غلط انداز میں بات ہوگئی ہے..
تم انسان کو مجبور کرتی ہو کہ وہ گھٹیا پن پر اترآئے.. خود تو نیکو کار بن جاتی ہو سب کچھ اگلے بندے کو یہ بکنا پڑتا ہے..
مرو جاکہ تم.
جہاں چاہو..
اس نے بے دھیانی میں پیر زمین پر پٹخا تھا اور کچن ایریا سے دھم دھم کرتی اندر کی طرف گئی تھی..

یہی طریقہ رہا تو ایک دن سب کو کھودوگی تم.. جیسے شوہر کو کھوکر آئی ہو..
عالین زچ ہوکر بس اتنا ہی کہہ سکی تھی..
اس نے پلٹ کر ایک خونخوار نظر اس پر ڈالی اور اسی انداز میں دروازہ کھول کر زور سے پٹخ دیا تھا اندر گھستے ہوئے..
عالین نے سر جھٹکا لمبی سانس لی..
اور بے دلی سے ادھ بچے ناشتے کا دونوں پلیٹوں میں دیکھنے لگی تھی کہ اسی وقت دروازے پر بیل ہوئی.. اور متواتر ہوتی رہی.. وہ کرسی سے اٹھ کر دروازے تک گئی تو سامنے والا چہرہ اس کے لیے اب نہ شناس نہیں رہا تھا..
آپ؟
وہ ہاشم الدین تھا سنجیدہ مغرور اور خود کے خول میں بند..
تم؟.. انہوں نے نورفاطمہ کی موت پر اسے دیکھا تو ضرور تھا.. لیکن ایک مہمان کی حیثیت ہی لگ رہی تھی اسکی..
اور یہ دوبارہ یہیں موجود تھی..
جی میں یہاں.. وہ اصل میں التمش صاحب کہیں گئے ہوئے ہیں تو مجھے یہاں چھوڑگئے ہیں زیبی کے پاس..
آپ اندر آسکتے ہیں.. بلکہ آجائیے..
وہ راستہ دینے کے لیے ہٹی..
شکریہ..
وہ اندر آئے..
عالین کو یکدم احساس ہوا کہ اسے بتانا چاہیے کہ وہ لوگ کہاں اور کیوں گئے ہیں..
لیکن اس نے خود اسی وقت چپ کرکے سننے کی تلقین کی پہلے کہ وہ خود بتائیں کہ وہ یہاں کس مقصد کے تحت آئے ہیں..
کب تک آجائیں گے (لہجہ وہی اجنبیت لئے ہوئے تھا؟
نہیں. معلوم.. شاید جلد یا پھر کچھ روز لگ جائیں..
اچھا.. وہ خود ہی کرسی کھینچ کر ڈائینگ میز کے نزدیک ہی بیٹھ گئے تھے..
میں غلط وقت پر آیا ہوں شاید..
انہوں نے ناشتے پر سرسری نظر ڈالتے ہوئے کہا.
نہیں…یہی وقت ہوسکتا ہے کہ مناسب ہو آپ کے آنے کا.. ویسے آپ کچھ لینا چاہیں گے؟
وہ انکے لئے پانی نکالنے لگی..
ہاں.. ہممم اگر تمہیں برا نہ لگے..
وہ پانی کا گلاس لیتے ہوئے بولے..

بالکل.. آپ ضرور لیں.. بلکہ میں تازہ آملیٹ ڈالتی ہوں آپکے لیے..
نہیں رہنے دو یہ سب کچھ بہت ہے.. میں اس سے لے لیتا ہوں.

تم بھی بیٹھو.. ناشتہ مکمل کرو..
بیٹھ کر بات کرتے ہیں..
آرام سے..
جی بہتر.. وہ بیٹھ گئی. .
انہوں نے پانی تین گھونٹ میں پیا اور اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے گلاس واپس رکھا.. اور اب ملائی کے پیالے سے ملائی ایک پلیٹ میں نکالتے ہوئے..فریش پراٹھا لیا..
اور پہلے دو نوالے ٹہر ٹہر کر کھانے کے بعد اچانک ہی انداز میں رغبت آگئی تھی.. جیسے رکھائی کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں اچانک اپنی شدت سے چمکتی بھوک کا احساس ہوا ہو.. .
عالین نے تب تک کوئی بات نہیں کی وہ آرام سے ناشتہ کریں.. بلکہ خود بھی اپنا ادھورا ناشتہ مکمل کرنے لگی شامل ہونے کے لیے..
وہ یہیں ہے؟انہیں اچانک خیال آیا..
وہ سمجھ گئی زیبی کا پوچھ رہے ہیں
.
اسی وقت زیبی نے کھلی کھڑکی سے باہر جھانکا تو ہاشم الدین کی پشت. دیکھ کر کچھ تشویش سے باہر نکلی تھی..
اور انکے چہرے پر نظر پڑنے تک اسکی پیشانی کی سلوٹیں قائم تھیں..
ہیلو..
وہ اسے دیکھ کر مسکرائے..

زیبی نے صرف سر ہلایا تھا اثبات میں..
آپ یہاں؟اگلے لمحے وہی تیکھا سوال تھا..
ہاں.. مجھے اباجی سے ملنا تھا..
یاد آگئی آپ کو انکی؟بڑی جلدی آگئی..
اس کا لہجہ تیر ہی برسا رہا تھا.
ہمم… آگئی.. میں لینے آیا ہوں انہیں..
کس خوشی میں ؟وہ آکر کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی تھی..

انہوں نے کچھ حیرت سے اسے دیکھا اور پھر سے کھانے لگ گئے..
میرے باپ ہیں وہ..
ظاہر ہے.

گڈ.. کس نے آپکو بتایا کہ وہ باپ ہیں آپ کے..
تمہیں مجھ سے سوال جواب کرنے کی ضرورت نہیں ہے..
ہمارا ذاتی مسئلہ ہے..
سمجھیں..
میں بھی اسی ذاتی کنبے میں آتی ہوں.

بالکل آتی ہو.. انہوں نے نوالہ چباکر دوسرا لینے سے ہاتھ روک کر اسے دیکھا..
لیکن تم میری بہن مونا نہیں ہو.. اسکی بیٹی ہو.. بعد میں آتا ہے تمہارا رشتہ..
اس لیے مجھ سے بحث کرنے کی نہ تمہاری عمر ہے..
نہ حق ہے..
نہ ہی صورتحال..
وہ آئیں گے خود ہی بات کرلیں گے..
مشکل ہے کہ وہ آپ کے ساتھ چلیں.. بہرحال..
میں مونا واقعی نہیں ہوں.. اتنا صبر نہیں ہے مجھ میں..
لیکن مونا کی بیٹی ضرور ہوں..
اتنا تو آپ کو کہ سکتی ہوں کہ انہیں ساتھ رکھنے کی خواہش بیکار ہے.. یہ اختیار آپ کھوچکے ہیں..
تم یہ طہ نہیں کرسکتیں اس لیے خاموش رہو
مجھے انتظار کرنے دو..
انکو آنے دو..
وہ پراٹھا مکمل کرچکے تھے انڈے کے ساتھ..
اور اب خالی ٹوسٹ چبارہے تھے..
عالین نے اٹھ کر تھیلے سے پیکنگ میں. چھوٹے سے کیک پیسز انکے سامنے رکھے..
یہ لیں.. ٹوسٹ سوکھ چکے ہونگے..
کوئی بات نہیں.. سوکھے کا بھی الگ مزا ہے..
ہم نے بچپن. میں. سوکھی روٹی بھی کھائی ہے..

وہ ٹوسٹ ہی کھارہے تھے..

وہ نہیں آئیں گے فی الحال.. جن کے ساتھ نکلے ہیں… ایک پاگل کے پیچھے… پاگل ہونے کے لیے..
عالین نے افسوس سے ہاتھ ملا لیکن کہا کچھ نہیں اسے.
پاگل کے پیچھے.. پاگل ہونے؟وہ ناسمجھی سے بولے. .
کیا مطلب ہے اس کا؟
اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ سالس کے ساتھ گئے ہیں..
واپسی انہیں پر میسر ہے..
عجیب بھول بھلیوں میں پڑگئے ہیں.
سالس.. انہوں نے سالس کے نام پر ذہن پر زور دیا.. اوہ اچھا..
انہیں یاد آیا لیکن کہنے میں ہرج محسوس ہوا..
اندازا” کب تک آسکتے ہیں. رابطہ نمبر دو..
وہ عالین سے مخاطب تھے.

رابطہ نمبر بھی باپ کا آپکے پاس نہیں ہے.. ایک اجنبی لڑکی سے لے رہے ہیں.. زیب ہنسی تھی.. اور پھر اپنا بچایاہوا آملیٹ کے ٹکڑے کرکے لینے لگی..

ان کی پیشانی میں سلوٹیں نمودار ہوئیں..
لیکن کچھ کہا نہیں البتہ ٹوسٹ کا ٹکڑا بے دلی سے پلیٹ میں ڈال دیا..
یہ ان کا نیا نمبر ہے.. آپ نوٹ کرلیں.. لیکن.. مشکل ہے جس طرف وہ گئے ہیں.. انکا نمبر لگنا.. سگنلز کے مسائل ہونگے..

عالین نے نیا نمبر کہتے ہوئے اسے جتایا تھا کہ وہ تو اس کے پاس بھی نہیں ہے.
زیبی نے تلخی دیکھا تھا..
عالین نے نمبر نوٹ کروایا انہیں تو زیبی کو احساس ہوا کہ یہ نمبر واقعی اس کے پاس نہیں تھا.
ہاشم الدین نے دو تین بار نمبر ٹرائی کیا نمبر بند جارہا تھا.

میں کچھ روز بعد پھر چکر لگاؤں گا.. ہوسکتا ہے تب تک وہ آجائیں..
وہ اٹھے تھے..
ضرور آئیے گا.. ہوسکتا ہے کہ آپکے لیے کوئی خوش خبری ہو..
خوش خبری؟
یہ لو سیاپا..ڈالو اس آدمی کو بڑھاپے میں اس سراب میں تاکہ جب امید ٹوٹے تو یہ آسمان سے گریں اور زمین پر پٹخیں.
زیبی پہلی بار انکی ہمدردی میں بولی تھی.

کیا بات ہے؟مجھے بتاؤ..
سالس صاحب کو مراقبے میں محسوس ہوا ہے کہ مستقیم. زندہ ہے.. وہ لوگ اسے ڈھونڈنے گئے ہیں..
مستقیم.. زندہ ہے؟وہ کھڑے سے لڑکھڑائے یہ عجیب بے یقینی کا عالم تھا..
کیا یہ سچ ہے.. ؟آنکھیں بھر آئیں یکدم اور کرسی کو تھام کر دوبارہ بیٹھے تھے.
اللہ کرے یہ سچ ہو…عالین نے امید سے کہا تھا.
یہ لو.. سن لو.. زیبی ہاتھ جھاڑ کر اٹھی..
مستقیم.. میرا مستقیم.. زندہ ہے..
وہ روپڑے تھے بے ساختگی میں..

میرا مستقیم..
وہ اسے ڈھونڈنے گئے ہیں..
ہاں وہ زندہ ہوگا.. اسے ہونا چاہیے.. عمر ہی کیا تھی. اس کی..
میرا بچہ.. میں ظالم تھا.. میں نے مارا اسے میں نے مارا.. وہ اپنا سر پیٹنے لگے تھے دکھ سے روتے ہوئے..
میں نے غلط کیا.. غلط کیا ..
مستقیم میں تمہارا مجرم ہوں..
وہ میز پر سر رکھ کر رورہے تھے..
کاش ایسا ہو.. کاش ایسا.. تم لوٹ آؤ..
کاش ایسا ہو..
وہ کئی دیر تک سر نیہواڑے روتے رہے تھے..
اور جب کچھ غبار ہلکا ہوا تو عالین نے انہیں پانی اور ٹشو تھمایا.
..تم.. اچھی لڑکی ہو..
دعا کرنا.. میرا بچہ زندہ ہو..
وہ لوٹ آئے..
ضرور دعا کروں گی..
آپ فکر نہ کریں..
میں ان کا نمبر ٹرائی کرتا رہوں گا..
ہاں.. وہ اٹھے تھے دوبارہ لرزش تھی انکے جسم میں.
آپکے ساتھ کوئی ہے؟
ہاں.. ڈرائیور تھا..
اوہ اس نے کچھ کھایا بھی نہیں..
گاڑی میں ہوگا وہ..
چلیں میں آپکو گاڑی تک چھوڑدوں..
عالین نے شاپر میں وہ کیک کے پیسز اور بسکٹس ڈالے اور انکے ساتھ نکلنے لگی..
تھینک یو.. بہت.
تم واقعی اچھی ہو..
انہوں نے اسٹک پر ہاتھ جمایا اور دوسرا ہاتھ اسے پکڑایا..
میری کوئی بیٹی ہوتی تو تم جتنی ہوتی..
بالکل.. اور تمہارے جیسی بھی شاید..
یہ انکی خواہش بول رہی تھی.
بہت خوب ایک جھوٹ میں کسی کو خوشی دینے کے بدلے بعد کی تکلیف کا ذمہ عالین بی بی اپنے سر لے لینا.. زیبی سر جھٹکتے ہوئے بلند آواز میں جیسے للکارتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گئی تھی..
ہاشم الدین نے سر موڑ کر اسکی طرف دیکھا تو مایوسی کے تاثر ابھرے تھے..

آپ حوصلہ رکھیں.. جو بھی ہوگا.. بہرحال.. امید ایک اچھی چیز ہے.. وقتی طور پر بھی خوشی تو دیتی ہی ہے.
آپ دعا کریں مستقیم کے لیے..
وہ انہیں گاڑی تک ساتھ لے گئی.
میرا باپ بہت عظیم انسان ہے.. انکا احسان ہے مجھ پر.. عمر کے اس حصے میں وہ میرے بیٹے کی تلاش میں نکلے ہیں..
التمش صاحب بہت اچھے ہیں.. انکی صحت بھی بہتر ہے.. آپ اپنا خیال رکھیں.. ڈاکٹر کو دکھائیں.. آپکی صحت اچھی نہیں لگ رہی مجھے…
میں ڈاکٹر کو دکھاؤں گا آج رات ہی.. تم اپنا نمبر بھی اس میں فیڈ کرو.. یا میرا یہ کارڈ رکھو.. مجھ سے رابطہ کرنا..
بالکل کروں گی.. آپ فکر نہ کریں.. اپنا خیال رکھیے گا..
اس نے کارڈ لیتے ہوئے تسلی دیتے ہوئے کہا..
آپ انہیں آج شام ڈاکٹر کو ضرور دکھائیے گا

ڈرائیور کو اس نے تنبیہہ کرنا ضروری سمجھا..
جی بی بی آج صاحب کا چیک اپ ہی تھا..
بڑے نیک ماں باپ کی اولاد ہو بیٹی..
ایک کام کرنا.. کبھی گھر آکر ساتھ میں کھانا ضرور کھانا.

انشااللہ مستقیم کے آنے کے بعد ضرور کھائیں گے..وہ مسلسل ونڈ اسکرین پر جھکی بات کررہی تھی.
تمہیں یقین ہے کہ وہ آئے گا؟انکی آنکھوں میں پھر سے ایک شمع جلی تھی..
میرا دل کہتا ہے.. اس لیے بس سوچ کر بھی خوشی ہوتی ہے..
وہ مسکرائے اس بات پر..
تمہاری اللہ ہمیشہ خیر رکھے.. تم لوگوں میں خیر بانٹتی ہو..
گاڑی اسٹارٹ تھی..
عالین نے مسکراتے ہوئے انہیں سلام کیا.
اور گاڑی آگے بڑھ گئی..
جب تک وہ کھڑی رہی. گاڑی آگے نکل نہ گئی اس نے محسوس کیا کہ وہ مرر سے دیکھ رہے تھے.. اسے..
گاڑی بڑھ گئی..
تو اپنی پیشانی سے جلتی دھوپ کی وجہ سے آئے پسینے کے قطرے صاف کرتے ہوئے.. گھر کے اندر آکر اس نے کچھ ٹھنڈک کا احساس محسوس کرتے ہوئے لمبی سانس بھری.. پانی کا گلاس بھر کر پیا.. اور زیبی کے رویے پر نفرین بھیجتے ہوئے برتن سمیٹنے لگی تھی.
اسے پتا تھا درگزر تو کرنا تھا اس کے ساتھ انکے لوٹنے تک.. لیکن.. مزا چکھانا بھی کسی طور ضروری تھا. وہ بس اسکی اکھڑ بدلہاظی اور مسلسل تیز ترار زبان درازی سے تھک جاتی تھی.
ورنہ اسے سیدھا کرنا کوئی اتنا خاص مشکل بھی نہ تھا کہ اسکی چند بڑی کمزوریاں اس کے ہاتھ لگ چکی تھیں..
********





میں نے تمہیں فلموں کی طرح بچایا ہے.

******
تمہیں نہیں معلوم کہ زندگی روکھی پھیکی ہوتے ہوئے بھی کس قدر حسین ہے.
اور تم اس میں لوٹائے جاچکے ہو..
یہ کتنی بڑی بات ہے ناں کہ تم لوٹ آئے ہو..
کیا تم جینا نہیں چاہتے.. ؟
کیا واقعی.. ؟
وہ نوجوان لڑکی دریہ تھی جو مستقیم کے سامنے بیٹھی اس سے بات کررہی تھی.
مستقیم کی غنودہ آنکھیں کسی بوجھ تلے ڈھلکی ہوئیں تھیں..
عدیلہ نے اس کے منہ میں کچھ قطرے بچے ہوئے پانی کے ڈالے تھے.
وہ یہ سب جیسے ناچاہتے ہوئے کررہی تھی.

جسے زندگی نے خود خوشی نہیں دی.. وہ تمہیں کیسے دے سکتی ہے..
یہ بات انہوں نے دل ہی دل میں کہی تھی..
لیکن چہرے سے رنج و ملال اور ماضی کے کرب کے زندہ ہوتے تمام زاویے بول رہے تھے.
اوپر سے تھکن تھی.
وہ دریہ اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ انکا انتظار کررہی تھی..
ماسٹر کی بیٹی..
اور اسے ہدایت تھی کہ اچھی باتیں کرتے ہوئے اچھا تازہ ماحول بنائے رکھے.
اسے دیکھتے ہی وہ چوکنی ہوگئی..
جب عدیلہ نے بوتل کے ڈھکن پر اسکی نگاہوں کو ٹکا دیکھا تو اس سے پہلے وہ سوال کرتی.. آگے بڑھ کر انہوں نے مستقیم کے ہونٹ کے اوپر چند قطرے ٹپکادیے تھے..
جو تر ہوکر ایک دو تو لڑھک گئے.. کوئی ایک دو ہونٹوں کے اندرونی کناروں تک پہنچا تھا.
مستقیم نے سانس چھوڑی تھی..
انہیں محسوس ہوا کہ کچھ بہتری ہوگی..
دیگر بیٹھ کر مثبت باتیں کرنے کی نہ تو سکت تھی.. نہ خواہش اور نہ ہی ظرف باقی بچا تھا.
اس لیے دریہ کو وہاں بٹھایا..
اور دریہ ایسے اسے پٹی پڑھاتی رہی..
کہانیاں بتاتی رہی..
ایسے مانوس ہونے لگی..
جیسے اس کا واحد مقصد یہی ہو..
اور دوسری طرف عدیلہ تھی.. جس نے محنت اکارت کرنے کا کوئی گر نہ چھوڑا کہ وہ اتنا ہی کرکے مطمئن تھی کہ اسے بچاکر یہاں لے آئی تھی.
اور اتنا وقت اسے رکھا..
اور دیکھ بھال کی کم. کرواتی زیادہ رہی..
رات گئے جب دریہ چلی گئی تو وہ ایک ہی مالا جپتے رہیں کہ میں نے تمہیں بچایا..
ایسے

جیسے فلموں میں کوئی ہیرو ہیروئن کو بچاتا ہے.
ایسے ہی.. جیسے.. کوئی مددگار کسی مجبور ہو بچاتا ہے.
وہ خود ستائشی کے نشے میں بڑے آگے کی بات کرائیں.. جس کا خود ان پر بھی اثر ہوا تھا.

مستقیم جو بمشکل ذریہ کے حوصلے سے اچھے الفاظ کی طاقت سے خود سمیٹنے لگا ہی تھا کہ. اس احسان کے بوجھل پن لہجے کے منفی اثر نے اسے پھر سے غنودگی کی طرف دھکیلنا شروع کردیا تھا.
یہ بازی پلٹ دینے والا کھیل تھا.
*********





چونچیں لڑانے میں بھی عافیت ہے

********
شام کھسک کر رات میں منتقل ہورہی تھی..
زیب سیڑھیوں پر سر نیہواڑے بیٹھی ہوئی تھی.
عالین اس کی خاطر باہر کرسی پر آکر بیٹھ گئی تاکہ اسے ڈر نہ لگے..
زیب کی آنکھوں میں عجیب کیفیت تھی.. خوف کی سی..
یہ تیسری رات تھی اس کے ساتھ اکیلے.. کل ہاشم الدین کے جانے کے بعد وہ رات کو جلد ہی نیند کی گولی کھاکر سونے کے بعد بھی وہ نیند میں دو تین بار بے چین ہوئی تھی..
تب بھی عالین آدھی رات تک جاگتی رہی تھی اور پھر بوجھل ہوکر سوئی تو رات کے آخری پہر میں اسے احساس ہوا ہے زیبی نے نیند میں بھی اس کا بازو تھاما ہوا ہے.
اور اس کے چہرے پر نیند کے خمار میں بھی مسکراہٹ آگئ تھی ..
وہ اس کا ہاتھ تھپک کر سوگئی.
صبح ناشتہ چپ چاپ ہوا تھا.
البتہ دوپہر کے کھانے پر وہ اسے کام کروانے کچن میں آگئی تھی.
لیکن کام کرتے ہوئے مسلسل الجھتا دیکھ کر اس نے سہولت سے اسے گنجائش دینے
کی خاطر کہا کہ تم چھوڑو میں کردیتی ہوں.
کیوں تم میری ماں ہو کیا؟
وہ اپنے ہی انداز میں بولتی تھی ہر وقت.
نہیں ہوں.. خوش قسمتی سے
بہرحال تم چھوڑو.. میں کردیتی ہوں..
ہو تو نہیں پھر بننے کی کوشش کیوں کرتی ہو؟زیبی کا انداز چڑدلانے والا ہوتا تھا کہ بندہ یا تو اسے پٹخ دے یا پھر بے بسی سے اپنے آپ کو..
تم چاہتی کیا ہو؟بتاؤ .نکل جاؤں میں یہاں سے عزت سے؟اگر یہی تو پھر ٹھیک ہے..
کیوں میری برداشت کا امتحان لے رہی ہو آخر میں نے تو تمہارا کچھ نہیں بگاڑا ناں؟
بلآخر وہ زچ ہوگئی تھی.

میں تمہیں صرف یہ بتانا چاہتی ہوں کہ یہ جو والنٹیئرلی تم نے کام شروع کیے ہوئے ہیں.. انہیں بند کرو اور اپنی جاکر فکر کرو..
کون کس طرح کیسے رہتا ہے. ہر کسی کو اپنے حال پر چھوڑدو.. ہر کوئی اپنا اچھا برا خوب جانتا ہے.. اور خود کو سنبھال سکتا ہے.
اس کی تلخی کے اندر ہمدردانہ فکر نمایاں تھی.
مجھے پتا ہے تم یہ سب اس لیے کررہی ہو کہ تمہیں میرا یہاں رہنا اور تمہاری خاطر کچھ کرنا گراں گزرتا ہے.
یقین کرو میں بھی کچھ زیادہ کمفرٹیبل نہیں ہوں کہ میں جس کے لئے رکی رہوں ہر دوسرے لمحے میں مجھے اسکی تلخ کلامی کا سامنا ہو..
بات صرف اتنی ہے کہ ہم دونوں کے پاس اس وقت کوئی آپشن نہیں ہے.
میں التمش صاحب کے ساتھ اپنی کمیٹمینٹ نبھارہی ہوں
اور تمہاری مجبوری ہے مجھے برداشت کرنا کہ بہرحال تم اکیلے اس بھوتیے گھر میں نہیں رہ پاؤگی..
لفظ بھوتیے پر زیبی اچانک چونکی تھی.. لیکن ظاہر نہیں کیا..
تو بہتر یہی ہے کہ اگر ہم ایک دوسرے کے ساتھ کوئی حسن سلوک نہیں رکھ سکتے تب بھی ایک دوسرے کو پہاڑ جتنی تلخی اور بدمزگی سے تو بچاہی سکتے ہیں.
اس نے تحمل کی ایک بہرحال صورت نکالنے کی کوشش کی تھی.
اوکے.. مجھے تم سے الجھنے کا کوئی شوق نہیں ہے..
لیکن حقیقت یہ ہے کہ تم بہت سارے نفسیاتی الجھاوں کا شکار ہو..
ضرورت سے زیادہ خوش فہمیاں بھی انسان کو الو کا پٹھا بناکر رکھتی ہیں.
ہم ہمیشہ خیالوں میں رہ کر نہیں جی سکتے..
بہت کچھ اس دنیا میں ہوتا ہے.. جو ہمارے سر سے گزرجاتا ہے.. اور وہی سچ ہوتا ہے جسے ہم سمجھے بنا حقیقت سے نظریں چراتے ہیں..
میرے نانا سے سراب میں ایک عمر گزاردی..
نانی خود کو ہمیشہ مافوق الفطرت چیزوں کے شکنجے میں پھنسائے رہیں..
اور ان دونوں کو کچھ نہیں ملا.. کیوں کہ انہوں نے زندگی کو کبھی حقیقت سے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی..
مجھے لگتا ہے تم بھی ایسی ہی ہو..
تمہیں چاہیے کہ تم خود میں سدھار پیدا کرو.. کیونکہ تم نوجوان ہو اور یہ سب ہوسکتا ہے.

پہلی بار وہ اس سے متحمل انداز میں بات کررہی تھی. تلخی اور طنزیہ مسکراہٹ تو اب بھی اسکے ہونٹوں سے پھوٹ رہی تھی لیکن وہ قدرے سنجیدہ اور فکر مند نظر آئی تھی..
عالین نے کشادہ مسکراہٹ سے اس کی طرف دیکھا..
ہاں.. شاید تم ٹھیک کہتی ہو. مجھے لگتا ہے ہم دونوں کو ایک دوسرے کے صلاح و مشوروں کی ضرورت پڑنے والی ہے..
ہم اچھے دوست بنیں یا نہیں.. لیکن ہم اچھے رازداں ضرور بن سکتے ہیں..
رازداں!..وہ ہنسی تھی اس لفظ کو دہراتے ..
اس میں ہنسنے لائق کیا بات ہے؟

ظاہر ہے.. ہنسی تو آئے گی. ہم رازداں شاید نہ بن سکیں لیکن.. ہم بس شرافت سے ایک دوسرے کو آئینہ ضرور دکھاسکتے ہیں..
کیونکہ مجھے لگتا ہے ہم دونوں ایک دوسرے کی خامیوں سے آشنا ہیں. وہ بھی اچھی طرح..
اور وہ بھی اس مختصر سے وقت میں..
یہ بھی تو کہہ سکتے ہیں زیبی کہ ہم نے ایک دوسرے کی خوبیوں پر نگاہ ہی نہیں کی..
نہیں تمہارا بس وہی مرض ہے ناں کہ تم ہر صورت فرشتہ صفت بننے کی لت میں پڑگئی ہو..
ہر وقت کوئی فرشتہ نہیں بن سکتا میری جان..
انسان کو انسان رہنے دو..

میں فرشتہ بنانے کی چکی چلاتی ہوں..
اور تم تو اسے موڑ کر شر کی طرف لے جاتی ہو..آخر غصے اور جھگڑے میں کیا رکھا ہے زیبی؟

عالین پلیز مجھے سبق مت پڑھاؤ..
اچھا.. وہ سرہلاکر مسکرائی.
تم بھی بھاگ رہی ہو. حقیقت سے..
یہ جو آدھا دن تمہارا فون بجتا ہے اور تم نہیں اٹھاتیں.. تمہیں.. کیا لگتا ہے کہ میں نہیں سمجھ سکتی کہ کس کا فون ہوگا..
تم. اپنے شوہر سے بات تک کرکے مسئلے کو حل کرنا پسند نہیں کرتیں زیبی..
میرے پرسنل معاملات میں تمہیں بولنے کی اجازت میں نے تو نہیں دی.. وہ اسی لاپرواہی سے مسکرائی..
مت دو..لیکن مجھے پتا ہے..
اور وہ جو دس بار نگار افروز کا نمبر ٹرائی کرتی ہو.. وہ فون نہیں اٹھاتی..
تو تمہارا زچ ہونا میں نہیں محسوس کرتی.

کیا تم زندگی میں ایک ہی دوست پر ڈپینڈڈ نہیں. رہی ہو؟
تم نے میرا فون چیک کیا؟اس کا لہجہ بھڑکا.

ضرورت نہیں پڑی..
کھلا سامنے رکھا تھا..
ہاں ہاں.. فون کی اسکرین کھل. کر تمہارے سامنے آگئی کہ مجھے دیکھو..
یہ ڈرامہ مت کرو تم..
اور آئندہ میرے فون کو ہاتھ مت لگانا تم اچھا..
بہت غلط کررہی ہو زیبی تم..
شعور ہونے کے باوجود غلط..
زندگی داؤ پر لگارہی ہو تم..
تمہیں نہیں لگتا ہے ہمیں زندگی میں کچھ نئے دوستوں کو چانس دینا چاہیے اگر پرانے دستیاب نہیں ہیں اور جو رشتے ہماری کمیٹمینٹ پر ہیں ان سے نباہ کی کوشش ضرور کرنی چاہیے .
آخر میں تمہاری بکواس کیوں سن رہی ہوں عالین بی بی.. اس نے عادت کے مطابق زمین پر پیر پٹخا تھا.

اس لیے کہ تمہارے پاس میری باتوں کا کوئی جواب نہیں کیوں کہ یہ سچ ہیں..
وہ تیزی سے بولی تھی.
مرو جاکہ تم..
اس نے کرسی کو ایک زبردست لات ماری تھی نتیجتاً اسے ہی چوٹ لگی اور کرسی لڑکھڑاکر گر پڑی تھی جسے یکسر نظر انداز کرکے وہ بکتی جھکتی پیر ملتی کمرے میں گھس گئی تھی اور عادتا” دروازہ پٹخا تھا..
اس نے وہی سر جھٹکا.. کرسی سیدھی کی.. اور لمبی سانس بھرکر خود پر ہی نفرین بھیجتی ہوئی بیٹھ گئی.. کوئی گھنٹے بھر بعد پھر اٹھی.. کام مکمل کیا.. اس کا کھانا ڈھک کر رکھا..
اپنا اسی طرح چھوڑا..
اور کچھ دیر کے لئے باہر نکل گئی تاکہ موڈ کچھ بہتر ہو.. احتیاط” شام کے دھندلکے سے پہلے لوٹ آئی تو وہ اپنے موبائل پر مزے سے چپس کھاتے ہوئے مووی دیکھ رہی تھی.. اور موبائل اس نے سامنے اسٹینڈ کے تاکچے میں اسکرین کی طرح سجایا ہوا تھا.. تاکہ اس کے پکڑنے کی کوفت سے بچی رہے..
عالین نے چائے بنائی ایک کپ اس کے سامنے میز پر رکھا ایک اپنا لیکر باہر نکل گئی..
واپس آئی تو چائے کا کپ خالی تھا گویا اس نے چائے پی تھی.

اور کھانا بھی آدھا ادھورا کھا ہی لیا تھا.
وہ قدرے مطمئن ہوکر مغرب کی نماز کے بعد تسبیح لیکر بیٹھ گئی..
اور جب اس نے محسوس کیا کہ دھندلکا پھیل رہا ہے.
اور بجلی بھی نہیں آئی تو وہ تسبیح رکھ کر باہر آئی اور آکر اس کے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی کچھ فاصلے سے..
اسی وقت زیبی اسے بہت کھوئی ہوئی محسوس ہوئی حددرجہ..
لیکن اس سے دریافت کرنے کی ہمت کی صورت ایک لایعنی بحث کو آواز دینے کی اس میں زرا ہمت نہ تھی کہ پچھلے تین دن سے اسے لگ رہا تھا کہ وہ پتھر سے سر ٹکرارہی ہے..
لیکن آج کی گفتگو میں اسے بہرحال یہ اندازہ بھی ہوا کہ زیب مجاہد اس کی اصلاح کرنے کا شعور ضرور رکھتی ہے.
فرق صرف اتنا ہے کہ بے بنیاد انا کے خول اور ضد کی سیڑھی پر چڑھی تو اترنے کا نام نہیں لے رہی تھی.
عجیب صورتحال تھی اپنے مخالف خیالات کے انسان کے ساتھ رہنا..
اسے یکدم معاوذ کی کالز کا دھیان آیا جو پے درپے کھڑکانے کے بعد بمشکل اسٹاپ لگا تھا..
کئی روز ہوئے ماں سے بات بھی نہ ہوئی تھی..
اس نے فون کی اسکرین پر واٹس ایپ کا انباکس کھول کر انکے وائز نوٹ چیک کئے جو دو تین روز سے وقفے وقفے سے آئے ہوئے تھے جنہیں ذہنی فرصت میں سننے کے لیے وہ نظر انداز کرتی ہوئی آئی تھی..
اس نے بنا ہیڈ فون اسٹچ کیے پیغام کھول دیے ..
وہی شکایتیں تھیں.. معاوذ کو نظر انداز کرنے کی.. اور اپنے بارے میں نہ سوچنے کی..
واپس لوٹنے کی ہدایات سمیت..
اس نے یہی لمبی سانس بھری اور انہیں ایک مختصر آڈیو کرکے جلد ملنے کے بعد اس معاملے پر بات کرنے کی تسلی دی…اور پیغامات دیر سے سننے کی معذرت کے ساتھ انکا حال بھی دریافت کیا..
ساتھ تمام میسجز کے باری باری ریپلائی کرتے ہوئے ایک اجنبی نمبر سے وائز میسج پر نظر پڑی تو پش کرنے پر اس کا دماغ گھوم گیا..
تم سمجھتی ہو کہ میرے شوہر کو مجھ سے دور کرکے تم اس پر قبضہ جمالو گی.. اور ہمیں دور کردوگی.. میں تمہیں وارن کررہی ہوں کہ باز آجاؤ.. بہت کم وقت رہ گیا ہے میری ڈلیوری میں…
میں بہت جلد تمہیں.. کھوں.. کھو(بیچ میں کھانسی کا وقفہ بھی تھا) تو.. اور سانس پھولنے کا بھی..
تو میں تمہیں یہ بتارہی ہوں کہ چھوڑوں گی نہیں میں تمہیں.. جان سے ماردوں گی یہ سن لو..
خوش نہیں رہوگی تم مجھ سے میرا شوہر چھین کر..
آخر میں پھر سے سانس ڈوب جانے پر وائز اسٹاپ ہوئی تھی.
زیبی نے اسے بڑی گناہ گار نظروں سے دیکھا.. لیکن اس نے زیادہ توجہ نہیں دی.. اور فورا” طاہر کو میسج کرنے لگی.

دیکھو جہاں بھی.. ہو جتنے بھی مصروف ہو خدا کے لیے اپنی بیوی سے رابطہ کرو.. اور اسے بتاؤ کہ میرا تم سے کوئی چکر نہیں ہے.
نہ ہی تمہیں ہتھیانے کا کوئی ارادہ ہے.
عجیب بات ہے.. کہ پہلے افئیر کا الزام اور اب ہتھیانے کی تہمت.. چلو تہمت کی بھی خیر ہے.. لیکن وہ بیمار لگ رہی تھی..
کھانس بھی رہی تھی..
تمہیں اس کا نوٹ سینڈ کرتی اگر یہ بد اخلاقی میں شمار نہ ہوتا..
بہرحال وہ چند دنوں میں تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہے..
اس کا دھیان کرو. یہ مشکل وقت ہے..
تم پر ذماداری ہے کہ اس وقت میں اس کے ساتھ تم ہو.. تمہارا ساتھ ہو.. تلخی کو بعد میں بھگتانا.. دوستانہ مشورہ ہے.. اپنے بچے کو اپنے لمس سے اور اس کی خوشی سے خود کو محروم مت کرو..
اگر میری بات کو سمجھو.. ورنہ میں زیادہ سے زیادہ اس کے میسج کو پڑھے بغیر ڈلیٹ کردوں گی.. پڑھ سن لیے تو رفع دفع کردوں گی..
رفع دفع کرلیا تو وہ بھی تھک جائے گی..
لیکن بات اتنی ہے کہ تم دونوں کا اس بھڑکتی آگ میں نقصان ہورہا ہے..
طاہر مجبوری میں ہی سہی.. کبھی کبھار دن کو رات اور رات کو دن کہنا پڑتا ہے..
بات ساری اتنی ہی ہے کہ وہ دن کو رات کہے.. اور رات کو دن تو تم اس لمحے اختلاف کو جانے دو..
کہ دو گے کہ واقعی یہ دن رات ہے تو وہ خود ہی ٹھنڈی پڑجائے گی..
ہوسکتا ہے کہ اس نے دن کی روشنی میں رات کے اندھیرے کو چکھا ہو..
اور رات کی خاموشی میں دن کی ہرارت کو محسوس کیا ہو..
سارا فلسفہ یہی ہے..
ساری بات محبت کی ہے طاہر.. اگر یہ نفرت میں بدل جائے تو زہر.

اور اگر نفرت محبت کی چادر اوڑھ لے تو پھر سحر…

آخری جملے پر زیبی کی آنکھ کی کوکھ میں نمی در آئی تھی..
اور وہ سیڑھیوں سے اٹھ کر مدھم چال سے اندر چلنے لگی..
اور عالین نے اسکی چال کی سستی کو محسوس کرتے ہوئے.. نوٹ سینڈ کیا.. اور سانس ٹھنڈی چھوڑتے ہوئے آسمان میں نکلتے تاروں کی رم جھم کو دیکھنے لگی.. جو بھسم کردینے والی گرمی میں بھی دھیان کھینچ لیتی تھی.
******




















کتنا ضروری ہوتا ہے زندگی میں محبت کا ہونا
******
یہ جملہ انہوں نے تین مرتبہ دہرایا تو زیر لب تھا.. لیکن گاڑی میں بیٹھے تمام نفوس نے اچھی طرح سن لیا تھا..
اور سنتے ہوئے ڈرائیور کے ہاتھ زرا دیر کو اسٹرینگ پر کپکپائے تھے.
مجدد نے لمبی سانس چھوڑی..
سعدیہ نورعین نے ناپسندیدہ خوف زدہ نظروں سے گھورا انہیں

اور المتش نے اخبار کے چوتھائی فولڈ کیے ہوئے حصے کی شہ سرخی سے نظر اٹھاکر لمحہ بھرکے لیے دیکھا اور مسکراکر سر جھٹک دیا.
تمہیں کیا لگتا ہے..
کہ کون ہوگا؟انہوں نے جب دیکھا کہ کوئی بھی چونکا نہیں تو خود ہی سوال کیا.

جس کے حصے کا کام ختم ہوچکا ہوگا..
مجدد نے بے ساختہ کہہ کر التمش کو چونکا دیا..
سعدیہ نے ٹھنڈی سانس رفع کی.. کہ اسے لگتا تھا ابھی مزید بہت کچھ باقی ہے. جسے عام لفظوں میں کہتی تھی. جانے کتنی خواری رہتی ہے.
یہ غصہ وہ عام انسانوں کی طرح تھوڑا قسمت پر تو تھوڑا خود پر اتارلیتی تھی.

مجدد کو جینے اور نہ جینے سے کوئی دلچسپی نہ تھی..
وہ یہ سوچتا تھا کہ نہ اس نے کچھ خاص کیا ہے اور نہ کچھ خاص کرنا ہے..
زندگی چند حیرتوں پر مشتمل کھڑی ہے..
تیرتی ہے کشتی.. تیرتی رہے گی.. کبھی ڈولے گی.. کبھی ڈوبنے لگے گی.. کبھی تیرے گی پہنچ ہی جائے گی کنارے پر..
سچ تو یہ تھا کہ اس نے جینے کی دل سے تمنا ہی نہیں کی تھی.. حالانکہ زندگی سے بیزار بھی نہ تھا..
زندگی میں پہلی بار اور بہت اچانک اسے احساس ہوا تھا کہ اس کی زندگی میں کوئی بڑی ہلچل
.کوئی بڑا خواب.. کوئی بڑی خواہش.. اور کوئی بڑی امید نہیں ہے
.. نہ ہی انتظار..
نہ تکلیف.. نہ خوشی کا احساس..
بس لوگ.. جگہوں کا تجسس.. اور چلتی ہوئی گاڑیوں کے بدلتے مناظر سے روح کو جلا بخشنے اور موڈ کو موڑدینے کا کام آسان تھا.
اس نے اچانک ہی سعدیہ کے لیے ایک عبارت لکھی چھوٹے فون کی چھوٹی اسکرین پر رومن تختی میں..
تم بہت خوش نصیب ہو کہ تمہارے جینے کے لیے کوئی مقصد ہے..
تم خوش قسمت ہو کہ تمہیں کسی کی تلاش ہے..
کسی کی چاہ..
محبت صدیوں تک انسان کو زندہ رکھتی ہے..
پھر چاہے کوئی مربھی جائے تو کچھ دیکر یا لیکر مرنا کتنا اچھا ہوتا ہے..
خواہش تو نہیں کرتا کہ خواہش وصولی کرتی ہے..
لیکن کتنا اچھا ہوتا کہ کوئی اس دنیا میں میرے لیے حددرجہ اہم ہوتا.
یا پھر کسی کے لیے میں ہوتا.
میں ہوتا تو میرے سامنے کوئی اور نہ ہوتا..
بس میں ہی ہوتا..
یہ لکھتے ہوئے وہ خود پر دل ہی دل میں ہنسا بھی تھا..اور ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی تھی..
اور گاڑی میں موت کا قصہ زور پکڑنے لگا تھا.
سالس کو پہلی بار کسی اندرونی احساس نے ڈنک مارا تھا شدت سے. اور اس نے سوچا کہ کاش اس کے پاس کوئی احساس کی طاقت اس قدر تیز نہ ہوتی..
کوئی مراقباتی کشش نہ ہوتی..
کسی ہپناٹزم کا تجربہ نہیں ہوتا..
کوئی خبر احساس بن کر پہلے ہی اندر نہ جگہ بنانے لگتا..
کانوں میں خبروں کی شہ سرخیاں نہ گونجتیں…
زندگی میں پہلی بار یہ شخص.. خود اپنے مخالف کھڑا تھا..
اور گاڑی تیزی سے رواں تھی اپنے سفر پر..
اور گاڑی کے اندر موت کا مخمصہ دو بوڑھوں اور ایک ڈرائیور کے بیچ پل رہا تھا..
تو دو نوجوانوں میں سے ایک نے عبارت کے ذریعے خوشی کا ایک لمحہ بانٹا..
اور دوسرے کے لے لیا..
سعدیہ نے خود سے کہا تھا.
مستقیم میں تمہارے پاس آرہی ہوں.
اور اسے لگا جیسے وہ پیغام مستقیم کی سماعتوں والے ذہن تک ضرور ہی پہنچا تھا.
مجدد نے گاڑی کے شیشے پر ہاتھ پھیرا..
حبس چھٹنے لگا تھا. ہلکی بوندا باندی شروع ہوئی تھی..
ونڈ اسکرین پر قطرے جگمگارہے تھے.. پانی کے..

اور اس کے اندر کسی خواہش..
کسی حسرت..
نے سر اٹھایا تھا.
حیرت قدرے دور کھڑی آنکھیں ملتی دکھائی دے رہی تھی..

جاری ہے.
——————————————————-


اگ