خواہش _____________شیما قاضی


عجب بے زاری سی بے زاری ہے۔ اب جوانی پہلی سی پرجوش نہ رہی اور نہ ہی ویسی تنگ دستی ہے پر تکلیف اب بھی ہے۔ آنکھیں ہیں کہ وہی خواب دیکھتی ہیں۔ وہی اچھی سے اچھی زندگی کے خواب اور اچھے سے اچھے مستقبل کی امید۔۔۔ دل عجب بے کلی کا شکار ہے۔ زندگی ہے کہ دوڑتی جا رہی ہے، اس قدر تیز رفتاری کے ساتھ کہ میری سانس پھول جاتی ہے۔ اب تو اس طرح سے چلا بھی نہیں جاتا۔ دوڑنے کی ہمت کہاں باقی رہی اب۔ پر ایک دل ہے جسے چین نہیں۔ جو پہلے کی طرح تیز رفتاری کے ساتھ دھڑکتا ہے اور ہر دھڑکن ایک نئی امید ساتھ لاتا ہے۔ اچھے معیار زندگی کی امید۔۔۔
جوانی عجب شے ہے۔ ایک کمزور وجود کے انسان کو بھی بہت کچھ کرنے پر اکساتی ہے۔ اسے بتاتی ہے کہ وہ تو سدا بہار ہے۔ اسے خواب دکھاتی ہے اور بتاتی ہے کہ دیکھے جاو خواب! اور ان کی تکمیل کے لیے ایک کردو دن رات اور انسان کو لگتا ہے وہ واقعی سدا بہار اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔ سوچتا ہے اس کی زندگی اسے اس کے سارے خواب پورے کرنے کی مہلت دے گی۔ اسے اپنی قسمت کے سبھی تارے روشن دکھائی دیتے ہیں۔ اسے لگتا ہے وہ پہاڑ سر پہ اٹھا کے پھر سکتا ہے۔ طوفانوں سے لڑ سکتا ہے۔ آسمان سے تارے توڑ کر لا سکتا ہے۔ تم کو بھی تو لگتا تھا تم سب کچھ کر سکتے ہو۔ میری محبت میں تاج محل بنا سکتے ہو۔ ساری دنیا کی آسائشیں لا کر میرے قدموں میں رکھ سکتے ہو۔ ہاں! عبدالکریم خاں تم کو لگتا تھا تم کچھ بھی کر سکتے ہو کیونکہ تب تم جوان تھے۔ تمہاری جوانی اور مردانگی کا جوش دیکھ کر میں بھی تم پر ایمان لے آئی تھی۔ سوچتی تھی تم تو میری خاطر آسمان پہ چمکتے ستارے لا کر میرے گھر کی تاریک آنگن میں سجا کر میری زندگی کی تاریکیاں ختم کر سکتے ہو۔ ہاں! مجھے یقین تھا تم ایسا کر سکتے ہو۔ میں جانتی تھی مگر تمہیں وقت اور میرا ساتھ چاہیئے تھا سو میں نے تمہیں وقت بھی دیا اور تمہارا ساتھ بھی۔۔۔
دو کمروں اور ایک باورچی خانے کے اس مکان کو بنانے میں میں نے تمہارا اتنا ہی ساتھ دیا جتنا ایک وفادار بیوی دے سکتی ہے۔ میں نے تمہیں اپنے حق مہر کا وہ جھومر دیا جو جب میرے ماتھے پہ سجتا تو تمہاری نگاہ میرے چہرے سے ہٹ ہی نہ پاتی تھی۔ مگر گھر بنانے کو، اپنے لیے ایک الگ اور پر سکون زندگی خریدنے کو مجھے اگر اپنے حق مہر سے ہاتھ دھونا پڑتا تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں تھا کیونکہ میرا ایمان تھا کہ تم جو تارے توڑ کر لا سکتے ہو، ایک جھومر بنوانا تمہارے لیے کوئی مشکل نہیں تھا اور ویسے بھی ہمارے سامنے تو لمبی زندگی پڑی تھی۔ گھر بن جاتا تو دھیرے دھیرے باقی ضروریات و خواہشات بھی پوری ہو جاتیں۔ تم بھی تو کہتے تھے کہ گھر بن جائے گا تو سب سے پہلے میرے ماتھے پہ بالکل اسی طرح کا جھومر سجاوگے جو میں نے اس گھر کو بنانے کے لیے بیچ دیا تھا۔ اور میں اس یقین کے ساتھ زندہ تھی کہ ہمارے اچھے دن آئیں گے۔ اور جب زندگی کچی سڑک سے پکی سڑک پہ چلنے لگے گی تو پھر ہم سکون سے جئیں گے۔ تم وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر، طوفانوں سے لڑ کر میری ہر خواہش کی تکمیل کروگے۔ میرے ماتھے پہ میرا جھومر سجاوگے اور پھر دیر تک بیٹھ کر مجھے تکتے رہوگے۔ مجھے بتاوگے کہ میں کس قدر حسین ہوں۔ تمہاری زندگی کا خوبصورت ترین حصہ ہوں۔ مگر جھومر کے ساتھ ساتھ تو جیسے مجھے تمہاری محبت سے بھی ہاتھ دھونے پڑے تھے۔ اس کے بعد کبھی تم نے میری آنکھوں میں نہیں دیکھا۔ میرا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھر کر تم نے نہ کہا کہ میں تمہاری زندگی کا قیمتی ترین اثاثہ ہوں۔ بچے آگئے تو الجھنیں بڑھ گئیں۔ خرچے بڑھ گئے۔ تم آسمان پر چڑھنے کا راستہ بھول گئے کیونکہ اب تمہیں زمین پہ رہ کر اپنے بچوں کے لیے رزق تلاش کرنا تھا۔ ان سب الجھنوں میں ہم ایک دوسرے سے اس قدر دور ہوگئے کہ میں تمہیں بتا ہی نہ پائی کہ ہمارے گھر کے آنگن میں کس قدر اندھیرا ہے۔ اس کو ختم کرنے کی خاطرمحبت کی تھوڑی سی آگ جلا دو تو روشنی ہو۔ مگر مجھ سے نہ کہا گیا۔ تم سے نہ سنا گیا اور یوں ہوا کہ جوانی کسی چورنی کی طرح ہماری زندگیوں سے محبت کے سبھی اثاثے چرا کر پچھلے دروازے سے دبے قدموں چلی گئی۔ تمہارے بالوں میں چاندنی اتر آئی تو میرے ماتھے پہ فکر کی شکنیں اس قدر پختہ ہوگئیں کہ پکے نشان پڑ گئے۔ چہرے پہ جھریاں تو سجیں، ماتھے پہ جھومر نہ سج سکا!
اب تمہارے جوان بچے تمہارا جیسا جوش لیے زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہیں۔ آسمان پر جاکر تارے توڑنے کی باتیں کرتے ہیں پر میں تمہارا بھرم رکھنے کو ان کو یہ نہیں بتا پاتی کہ آسمان پہ چڑھنا ممکن نہیں! تمہارے باپ نے بھی کوشش کی تھی۔
مجھے اپنی جوانی رخصت ہونے کا غم نہیں۔ تمہارے بوڑھے ہونے کا افسوس ہے کیونکہ اب تم میرے پاس آکے بیٹھتے ہو تو یہ نہیں کہتے کہ تم زندگی میں بہت کچھ کرنا چاہتے ہو۔ تمہیں بڑے بڑے کارنامے سر کرنے ہیں۔ تم آتے ہو آہ بھرتے ہو۔ اپنی ہڈیوں میں اٹھتے درد کی شکایت کرتے ہو۔ بولتے بولتے کھانس لیتے ہو۔ پھر مجھے دیکھ کر کہتے ہو کہ تم نے چار بیٹوں اور تین بیٹیوں کو پڑھا لکھا کر اور بیاہ کر اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے۔ تم اپنے بچوں کو دیکھ کر مطمئن ہو جاتے ہو کہ تمہیں کرنے کو جو ذمہ داری دی گئی تھی وہ تم نے پوری کر لی ہے مگر میں جانتی ہوں کہ تم نے جوانی میں جو خوابوں کی پوٹلی سر پہ رکھی تھی، زندگی کے گزرتے سالوں میں اس پوٹلی سے ایک ایک خواب راستے پر گراتے آئے ہو کیونکہ تمہارے سر پر مسافت کا بوجھ تھا اور ہر خواب کو چکنا چور کرتے وقت یہ دلیل بھی پیش کرتے آئے ہو کہ وہ اتنا اہم نہیں تھا۔ پھر آخر میں یہ ہوا کہ خوابوں کی پوٹلی خالی رہ گئی۔ تمہارے سر پہ جو ذمہ داری تھی وہ تم نے بخوبی نبھائی ہے عبدالکریم خاں! اور اب تمہیں مطمئن دیکھ کر میں بھی مطمئن ہو چلی ہوں کہ چلو ٹھیک ہے! زندگی کا سفر اگر خوابوں کی پوٹلی سے ایک ایک خواب پھینک دینے سے آسانی سے کٹ جاتا ہے تو بھلے! اب تو جھومر کو ماتھے پر سجانے کی بھی خواہش نہ رہی پر آنکھیں ہیں کہ دل کو بے چین کیے رکھتی ہیں۔ نظر اتنی کمزور ہے کہ نزدیک کی بھی کوئی شے دیکھنے سے قاصر ہے پر آنکھیں ماضی کے وہ مناظر دیکھتی ہیں جو ہم نے ساتھ محبت سے گزارے۔ جوانی کے وہ پل جن میں ہاتھ خالی تھے پر دل میں امید تھی کہ آگے بڑھو،۔چند قدم آگے جنت ہے۔ اسی جنت کی امید پہ عبدالکریم خاں! اسی جنت کی امید پہ تمہارا ہاتھ تھامے بڑھاپے کی دہلیز پہ قدم رکھا ہے میں نے۔ جوانی چاہے تہی دست تھی پر پر امید تھی۔ بڑھاپا جتنا بھی مالامال کرے، امید چھین لیتا ہے۔ اب عجب خود ترسی میں مبتلا ہوں۔ اپنی دکھتی ہڈیوں اور تمہارے نحیف وجود کو دیکھ کر سوچتی ہوں زندگی آسائشوں کی تلاش میں نہ کاٹتے، محبت سے کاٹ لیتے تو اچھا ہوتا اور تم میری جھومر سے محروم پیشانی کو محبت سے چھوم کر کہتے کہ میں کس قدر حسین ہوں تو مجھے کسی جھومر کی خواہش نہ رہتی۔ سوچتی ہوں کیا ہی اچھا ہوتا کہ میں تمہیں زندگی بھر خواہشات کی تکمیل کے پیچھے بھگانے کے بجائے اپنے پاس بٹھا کر محبت کرتی اور یہ جان لیتی کہ خواہش کی بھوک کبھی نہیں مٹتی۔ اس کا پیٹ ایک طرح کے کھانے سے بھر دو تو اسے مزید کی چاہ ہے۔
پر اب سمجھی ہوں زندگی کس طرح بسر کرنی تھی؟ اب جب کہ زندگی گزر گئی ہے!
_____________

تحریر: شیما قاضی

فوٹوگرافی:اریبہ بلوچ

5 Comments

  1. اک عمر گزار آۓ تو محسو ہوا ہے
    اسطرح تو جینے کا ارادہ ہی نہیں تھا
    ..
    خوب لکھا ہے!

    خواہشیں عمر چاٹ لیتی ہیں تو سمجھ آتاہے ضرورتیں گو ناگزیر ہوں محبت لازم ہوتی ہے. …
    کشمکش اور سفر کو بہت عمدہ بیان کیا ہے! 👍✨

    Liked by 1 person

  2. Comments sent by Umar:

    سوچتی ہوں زندگی آسائشوں کی تلاش میں نہ کاٹتے،

    محبت سے کاٹ لیتے تو اچھا ہوتا

    واہ۔
    ایک ایک جملہ کمال۔

    لفظ ‘قلب’ وہ اسلوب واضح کرتا ہے ، جو زندگی کو زیبائش بخشتا ہے۔ عربی لفظ قلب کے معنی ایک ایسی چیز کے ہیں ، جِس کی حالت بار بار بدلتی ہو ، اور جو اس طرح مسلسل تغیرمیں رہے۔

    آپکی تحریر نے ساری زندگی کے زمان و مکان کو چند سطور میں بیان کر دیا۔

    واقعی ، انسان سوشل نہیں ، ایموشنل اینیمل ہے۔

    ہماری آنکھوں میں چاند تارے تھے ، ابرِ گریہ تھا ، کہکشاں تھی

    تم ایسے موسم میں آئے ہو جب تمام دریا اُتر گئے ہیں
    Umar

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.