یہ تختیاں ہیں کہ پیاری سی بیٹیاں ان کو محبت و دُکھ سمیٹنے والا بنانے کے لیے ان کی انا کو مٹانے کا عمل ان کی جلد کو نرم و ملائم بنانا، اس کے کناروں کو ہاتھ یا کسی اوزار سے صاف کرنا ان کی “تعلیم تربیت” کا عمل ہے۔ان کے اوپر لیپ کرنا پھر ان پر گاچنی یا گاچی کی تہہ چڑھانا گویا اس کی شادی کی تیاریاں مکمل کرنے کا عمل ہے یوں جانئے اسے ہلدی و چندن کا لیپ دیا جاتا ہے تاکہ یہ “اپنی ظاہری و باطنی خوب صورتی اور تخلیق کے عمل کو جان سکے”۔

تختی یا بیٹی کی تربیت کا یہ عمل بالکل ایسے ہی تھا جس طرح آج کل ہم اپنی بیٹیوں کی تربیت اور شادی سے پہلے ان کا پارلر وغیرہ جانا اور خود کو سجانا۔جس طرح تختی یہ نہیں جانتی تھی کہ اس پہ اردو ، حساب اور انگریزی کی املاء کا عمل جو کہ حروف سے شروع ہوا تھا، کل کو الفاظ و پیراگراف تو پھر جملے و مضامین تک کا سفر کرے گا یعنی زمانے کی سختیاں تو کہیں محبت کے اشجار اس کی راہ تک رہے ہیں یا پھر یہ تخلیق کے سانچوں میں سے ان گنت نئے کردار اور ان کے رویے ڈھونڈ کر لائے گا پھر مجھ سے اس کا حسنِ سلوک کیسا ہو گا۔

تختی اس خوبرو دوشیزہ کی مانند جانے کب اپنے آج کو فراموش کر دیتی ہے کہ اس کی آنی والی نسلیں قلم کی جنبشِ نوک سے نہ جانے کتنے نئے گُل کھلائے گی۔تختی اپنی ہستی کی فکر کو پسِ پشت ڈال دیتی ہے اور اپنے اوپر لکھے حروف، ہندسوں، پہاڑوں، انگریزی کے ابتدائی لیٹرز کو اپنے اندر سموتی چلی جاتی ہے اور زیست کے سفر کو آگے بڑھاتی رہتی ہے۔
یوں ہی چلتے چلتے جب وہ بیس ، تیس یا چالیس سال کا سفر طے کرتی ہے تو اس پہ لکھے حروف جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھتے ہیں تو ان کو دیکھ کے خوشی سے جواں ہوتی چلی جاتی ہے۔اسے اپنے وجود کی کوکھ میں سینچے ان خوبرو جوان ہوتے لفظوں پہ ناز ہوتا ہے مگر یہی جوان لفظ جب اس جیسی کسی دوسری تختی کی تضحیک و تحقیر کرتے ہیں تو وہ اندر ہی اندر ٹوٹ جاتی ہے کہ کیا میں نے اس مقصد کے لیے انہیں پروان چڑھایا تھا کہ یہ میری ہمجولیوں یا میری ہمجولیوں کی بیٹیوں کی طرف نگاہ اٹھائیں اور ان کی عزتوں پہ حملہ کرتے پھریں۔

تختی اس جوشِ جنوں میں مدر انڈیا فلم کے کردار والی ماں کا روپ دھار لیتی ہے اور اپنے ہی بیٹے کے سامنے سینہ تان کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ تختی کی سبھی سکھیاں اس”تختی” کے کردار پہ شاداں ہوتی ہیں اور خوشی کے شادیانے بجاتی ہیں اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہیں کہ وہ اپنے کوکھ میں سینچے گئے ان سپوتوں کو ” تختی” کی عزت کرنا سکھائیں گی جو کہ “ایک ماں ، بہن ، بیٹی ، بہو اور دوسرے مقدس رشتوں کی عباء اپنے سر پہ سجائے رکھتی ہیں”یوں سبھی تختیاں، یوں جانئے کہ بہنیں پھر سے ایک دوسرے کے ساتھ بغل گیر ہوتی ہیں”۔

محمد عظیم