عشق محشر کی ادا رکھتا ہے_________حمیرا فضا

قسط ۱۳

تحریر : حمیرا فضا

کور ڈیزائن: ثروت نجیب

سیف کے جسم میں لہو منجمد ہو نے لگا تھا جبکہ صاحبہ کے اندر لہو کی گردش اور تیز ہوگی۔وہ گھبرائے ہوئے انداز میں دیوار سے جا لگا اور صاحبہ پرسکون مسکراہٹ کے ساتھ اُس کے اور قریب آنے لگی۔جازم خان کا قہر برساتا رعونت سے اُٹھایا گیا ایک ایک قدم سیف کو شرمندگی اور خوف کی دلدل میں دھکیل رہا تھا ،مگر صاحبہ کی فاتحانہ مسکان اِس بات کا اعلان تھی کہ وہ مرنے مٹنے کے آزار سے آزاد ہوچکی ہے۔جازم کے قریب آنے میں چند قدموں کا فاصلہ رہ گیا تو صاحبہ نے سیف کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔سیف نے اُس کا نازک ہاتھ چھڑانے کی بھرپور سعی کی ،لیکن وہ دھان پان سی لڑکی اُس سمے اُس سے زیادہ طاقت ور ہوچکی تھی۔بڑا طاقتور ہوجاتا ہے انسان جب ظالم کے خوف کی بھوک مٹنے لگے ،جب عشق کی پیاس روم روم میں سرائیت کرجائے۔اُس وقت صاحبہ کا نحیف وجود بھی بڑی سے بڑی چٹان سے ٹکرانے کی جرات رکھتا تھا۔اُس کے انداز کی بیباکی اُس کے تنّے ہوئے ابرو کی اکڑ نے جازم خان کے زخمی تاثرات کو مزید بگاڑ دیا تھا۔آنکھوں سے ٹپکتی بہادری ،لبوں کے گہرے تبسم سے وہ اُسے ایسے سلگا رہی تھی جیسے یہ منظر جازم کو دیکھانا اُس کی حسرت رہی ہو۔جازم کے سُرخ ڈوروں میں ایسی چیرتی ہوئی خاموشی تھی جو تباہی سے پہلے سارے ماحول میں ہراسیت اور ہولناکی کا سماں پیدا کردیتی ہے۔سیف نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ نفرت کا طوفان ایسے اُس کی طرف بڑھے گا،شاید اُسے اپنی جان کی پرواہ نہیں تھی پر اپنے ساتھ کھڑی اُس پاگل لڑکی کی فکر تھی، خیال تھا جو اُس کے ساتھ ہی اِس طوفان میں غرق ہونے والی تھی۔

’’آخر تو نے اپنی نیچ اوقات دیکھا ہی دی۔۔۔آخر تو نے ڈس ہی لیا۔۔۔پیٹھ پر وار کرتا ہے میرے ۔۔۔میری عزت پر ہاتھ ڈالتا ہے۔۔۔کمّی کم ذات گھٹیا آدمی۔۔۔رذیل نوکر۔‘‘ تڑا خ ۔۔۔۔جازم نے غصّے سے بپھرتے ہوئے ایک زناٹے دار تھپڑ صاحبہ کے منہ پر مارا اور سیف کو گریبان سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا۔

’’اپنی ناکام محبت کا بدلا لینے چلا تھا۔۔۔جازم خان کی جڑیں کاٹنے آیا تھا۔۔۔گندی نالی کے لاوارث کیڑے ۔۔۔بول ! بے غیرت انسان ۔۔۔۔تو نے اتنی ہمت کر کیسے لی؟‘‘وہ صاحبہ کو نظر انداز کرکے جارحانہ انداز میں سیف پر پے در پے تھپڑوں اور گھونسوں کی برسات کرنے لگا۔ اُس کی آواز پورے جاہ و جلال سے حویلی کے بالائی حصے میں گونج رہی تھی۔

’’حویلی کی ہر شئے تمھارے بیٹھائے سات پردوں پر ہنس رہی ہے۔کتنے کنگال ہو چکے ہو تم جازم خان! تمھاری دولت تو تمھارے ناک کے نیچے سے چرا لی گئی۔‘‘بھڑکتی ہوئی آگ میں تیل ڈالا نہیں اُچھالا گیا تھا۔اِس سے پہلے وہ آگے قدم بڑھاتا صاحبہ کے رسان سے بولے گئے کاٹ دار جملوں نے اُسے مڑنے پر مجبور کیا۔

’’تمھارا حساب بعد میں ہوگا اور بہت سخت ہوگا صاحبہ۔‘‘اُس نے دانت پیستے ہوئے الٹے بھاری ہاتھ کی انگلیاں اُس کے گال پر چھاپی تو وہ ڈگمگاتی ہوئی قد آور ستون سے جا ٹکرائی۔اُس کے ماتھے سے لہو رسنے لگا اور یہ لہو اب سر پر چڑھے جنون کو دھونے کے لیے ناکافی تھا۔

’’جاؤ لے جاؤ اُسے میں نہیں روکو گی۔۔۔میں نہیں منت کرونگی۔۔۔میں نہیں سامنے آؤنگی۔۔۔اب عشق تمھیں روکے گا۔۔۔وہی تم سے ٹکرائے گا۔۔۔وہی تم سے لڑے گا۔‘‘صاحبہ ازلی عزم اور سرشاری سے بڑبڑاتے ہوئے وہی بے ہوش ہوگئی تھی۔

’’بند کرو اپنی بکواس ۔‘‘جازم خان کی چنگھاڑتی ہوئی آواز نے دیوار و در کو ایک پل کے لیے لرزا دیا تھا۔ اُس نے بے سدھ پڑی صاحبہ کو پیروں کی مدد سے ایک زور دار ٹھوکر ماری اور سیف کو بالوں سے پکڑ کر بے رحمی سے گھسیٹتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔سیف اُس کی یہ سفاکانہ حرکت روک نہیں پایا تھا ،گرتے سنبھلتے ہوئے یہ ملال اُسے اور کاٹنے لگا۔

’’بول کب سے چل رہا ہے یہ ۔تو نے امانت میں خیانت کی ہے۔تیری سانس سانس جواب دہ ہوگی، تیرے لہو کی بوند بوند کڑا امتحان دے گی۔آستین کے سانپ میں آج تجھے کچل کر رکھ دونگا۔‘‘اُس نے غضب سے کھولتے ہوئے سیف کو فٹ بال کی طرح پھینکا تو وہ ماربل کی بیس سیڑھیوں پر گھومتا ہوا نیچے فرش پر جاگرا تھا۔اُس کا صرف سر ہی نہیں پھٹا بلکہ جسم کی کئی ہڈیاں درد سے بلبلا اُٹھیں۔وہ بری طرح سے زخمی ہوچکا تھا،مگر جازم خان کا قہر تو ابھی باقی تھا۔

’’میں تیری کھال اُڈھیڑ دونگا، تیری بوٹی بوٹی نوچ لونگا۔ تجھے اور بدصورت بنا دونگا۔اِتنا بدصورت کہ محبت کیا نفرت بھی پناہ مانگے کی تجھ سے۔‘‘وہ اُسے جانوروں کی طرح گھسیٹتے پٹختے ہوئے قید خانے کی طرف لے جارہا تھا۔سیف کی خاموشی اور خون کی لکیروں نے اُجلے فرش پر لال رنگ سے ظلم کی ایک اور داستان رقم کردی تھی۔

’’کہاں سے لایا ہے اتنی ہمت کہ تو نے میری ۔۔۔جازم خان کی بیوی کو چھوا۔۔۔بدلے کی آگ میں تو بھول گیا کہ تو ایک جوتیوں سے مسلنے والا بزدل کیڑا مکوڑا ہے ۔۔۔۔مجھ سے انتقام لے گا۔۔۔مجھ سے ٹکر لے گا۔۔۔مجھے نیچا دیکھائے گا۔‘‘جازم نے اپنی انگلیاں سیف کی گردن میں گاڑتے ہوئے اُسے اندھیری کال کوٹھڑی میں دھکیلا اور درندگی کی انتہا کو چھو کر اُس پر لاتیں برسانے لگا۔

’’تیری بے حیائی کا قصّہ ختم ہو چکا ہے۔۔۔تو نہیں بچے گا سیف۔۔۔تو نہیں بچے گا۔۔۔تجھے ایک بار نہیں کئی بار ماروں گا۔۔۔تیرا وہ حشر کرونگا کہ اِس حویلی کا پتا پتا اور اینٹ اینٹ خوف سے تھرتھرائے گی ،کانپ اُٹھے گی۔‘‘اُس نے سیف کے نیم مردہ وجود کو زنجیروں میں جکڑا اور حقارت سے اُس پر تھوکتے ہوئے باہر نکل آیا تھا۔

*****

محبت کی بے حرمتی کرنے والوں سے برداشت نہیں ہوتا جب محبت اُن کی عزتِ نفس پر چوٹ لگاتی ہے۔۔۔نہ محبت کے لباس کو تار تار کرنے والوں کو یقین آتا ہے جب وہ خود محبت کے احتسابی ہاتھوں سے برہنہ ہوجاتے ہیں۔۔۔اُسے اپنی حکومت اور دہشت پر زُعم تھا کہ صاحبہ سب کچھ کر سکتی ہے ،مگر بیوفائی نہیں۔۔۔اُسے اپنی طاقت پر اندھا دھند بھروسہ تھا کہ اُس کے آگے نظر اُٹھا کر سینہ تان کر کھڑے ہونے کی کسی میں تاب نہیں ۔۔۔اُسے گھمنڈ تھا کہ وہ محبت کو ساری عمر اپنی ہتھیلی پر نچائے گا اور جب چاہے مٹھی میں جکڑ لے گا،لیکن محبت کی اِس سرکشی نے اُس کی ہتھیلی ہی نہیں، تن من بھی جلا ڈالا تھا۔آگ لگانے والے کو پہلی با ر آگ نے چھوا تھا، نفرت اور غصے کے انگارے اُس کے انگلیوں کے پوروں اور جسم کے ہر مسام سے پھوٹ رہے تھے۔اُس کا سپاٹ چہرہ، ذہنی اُتار چڑھاؤ، بازؤں کے کھڑے بال، کان کی تپتی لوئیں اور لہولہان اُبلتی آنکھیں لحاظ داری اور سکوت کو روندتی جارہی تھیں۔ حدِ نظر تک بس پیلا اور نارنجی رنگ تھا ،ایک زرد آندھی پوری حویلی میں آچکی تھی۔اُس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ صاحبہ کی جان لے لے، مگر جو وار اُس کے وقار پر کیا گیا تھا،اُس کا ہرجانہ اب صاحبہ کی سانسیں بھی پورا نہیں کرسکتی تھیں۔غصّہ اور غضب جب ملتے ہیں تو انسان پاگل پن کی حد کو چھونے لگتا ہے اور وہ اُس وقت اپنے آپ کو جھنجھوڑتی ہوئی اِس کیفیت کی انتہا پر تھا۔

’’اِن ساری تصویروں کی طرح تمھیں چکنا چور کردونگا۔تمھاری ایک ایک دھڑکن کانچ کے ایک ایک ٹکڑے سے زخمی ہوگی۔‘‘قید خانے سے باہر نکلتے ہی اُس نے دائیں بائیں لگی پینٹنگز کو اپنے فولادی ہاتھوں سے کھینچ کر اتارا اور فرش پر ایسے پٹخ دیا جیسے کوئی جنونی سر پھرا زمینی چیزوں کو چھت پر پٹختا ہے اور پھر اُسی چھت کو زمین بوس کردیتا ہے ۔اُس کی غصیلی جلتی آواز ہاتھوں کی حرکت کا بھرپور ساتھ دے رہی تھی۔

’’جازم خان کے ساتھ دھوکہ کرتی ہے ۔اتنے پتھر برسائے جائے گے تم پر کہ تمھارے لبوں کی پیاس تمھارے ہی لہو کا گھونٹ بھرے گی۔‘‘راہداریوں میں جگہ جگہ رکھی مورتیاں اور پھولوں کے گلدان اُس کے پاؤں کی ٹھوکر سے پاش پاش ہورہے تھے۔اُس نے ایک ایک مصنوعی پھول کو زندہ تصور کرتے ہوئے سخت انگلیوں سے مسل ڈالا تھا۔۔۔اُس نے سب پتھر کی مورتیوں کو تماشائی ناکارہ رعایا سمجھ کر زمین کی دھول چٹا دی تھی۔ وہ ساری قیمتی اشیاء کی توڑ پھوڑ کرتا صاحبہ کی طرف بڑھ رہا تھا۔اُس کے اِس جنونی پن کو سب نوکروں نے چھپ چھپ کر ہراساں نظروں سے دیکھا، مگر کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ آگے بڑھ کر اُسے روکتا یا اُس کے اِس عمل کی وجہ دریافت کرتا۔

’’یہ نفرت کا کھیل تم نے بڑھایا ہے ۔۔۔یہ اذیت کا کھیل تم نے پھیلایا ہے۔۔۔اب تم دیکھو گی کہ تمھاری ایک زندگی کتنی بار موت کو گلے لگاتی ہے۔‘‘راہداریاں عبور کرکے اُس نے سیڑھیوں پر قدم رکھے تو بلند متکبرانہ آواز میں جیسے ہر شئے کو للکارا۔ہر چیز کو مسمار کرتا وہ اوپر پہنچ چکا تھا۔قید خانے سے صاحبہ کے کمرے کی طرف جاتے سارے رستے میں شیشے اور پتھر کے ٹکڑے ہی ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔وہ تیز تیز قدم اٹھانے لگا۔آگ بڑھتی جارہی تھی ،انتقام زور پکڑ رہا تھا۔صاحبہ ہوش میں آنے کے بعد خود کو کمرے میں بند کر چکی تھی۔

’’باہر نکل بدکردار عورت ۔۔۔میں آج تجھے بتاؤنگا کہ بیوفائی کی سزا کیا ہے۔۔۔تِل تِل مروگی تم۔۔۔قطرہ قطرہ تڑپو گی۔‘‘بے دردی سے دروازہ پیٹتے ہوئے وہ زور زور سے چلانے لگا۔

’’آخر وہ وقت آہی گیا جب تمھارے تکبر نے تمھارے ہی منہ پر طمانچہ مارا ہے۔۔۔تمھاری اِس کیفیت پر صاحبہ جھوم رہی ہے ۔۔۔ محبت تالیاں بجارہی ہے ۔۔۔خوشیوں کو قید کرنے والے دیکھو! پوری حویلی تمھارا تمسخر اُڑا رہی ہے۔۔۔تم اپنی لگائی آگ کی لپیٹ میں آچکے ہو۔۔۔یہی تمھارے ظلم ،پاپی نفس اور غرور کی سزا ہے۔‘‘صاحبہ کا مسرت آمیز انداز اور چبا چبا کر بولا گیا ہر لفظ پگھلے ہوئے سیسے کی طرح تھا۔وہ روح تک سرشار تھی ۔ وہ ایسے ہی اُسے جلانا چاہتی تھی،ایسے ہی اُسے تڑپانا چاہتی تھی اور آج وہ کامیاب ہوچکی تھی۔

’’اگر تم نے ایک لفظ بھی اور کہا تو تمھاری زبان کاٹ دونگا۔کھولو دروازہ ! کھولو ۔۔۔ ورنہ یہ دروازہ تو ٹوٹے گا ہی آج تمھاری ہستی بھی مٹ جائے گی۔‘‘صاحبہ کے توہین آمیز الفاظ ،پر سکون لہجہ اُس کے لیے ناقابل برداشت ہوئے تو وہ زور زور سے دروازے کو ہلا کر دھمکی دینے لگا۔

’’حکم۔‘‘اِس سے پہلے وہ اپنے کہے پر عمل کرتا کچھ فاصلے پر کھڑی چاچی شگو نے سہم کر اُسے پکارا۔

’’کیوں آئی ہو تم یہاں منحوس عورت۔کیا تم نہیں جانتی کہ میں اِس وقت غصّے میں ہوں۔‘‘اُس نے پلٹ کر چاچی شگو کو قہر آلود نظروں سے گھورا تو وہ تھر تھر کانپنے لگیں۔

’’حکم گستاخی معاف کیجیے ! مگر بڑی بی بی جی تشریف لائی ہیں۔وہ آپ سے ملنا چاہتی ہیں۔‘‘چاچی شگو نے ہکلاتی ہوئی زبان میں پیغام دیا اور فوراً وہاں سے چلی گئیں۔

’’امی جان! کیوں اور کس لیے آئی ہیں یہاں؟‘‘اِس سوال نے اُسے عجیب کشمکش اور تذبذب میں گرفتار کردیا تھا۔معجزانہ طور پر ذکیہ بیگم کی وجہ سے صاحبہ پر آج کی سختی ٹل گئی تھی۔

*****

حویلی میں داخل ہونے کے بعد وہ سخت متعجب تھیں۔حویل کا ہوبہو سنسان داخلی راستہ۔۔۔اطراف لگے وہی گم صم سے پھول۔۔۔راستہ دیکھاتے ویسے افسردہ ستون۔۔۔بین کرتے اُسی ڈیزائن کے درو و دیور ۔۔۔ قدموں کو کوستے اُس رنگ کے قالین ۔۔۔اُن کے راستے میں آئی بہت سی چیزیں ویسی تھی جو وہ اپنی حویلی میں دیکھ چکی تھیں۔البتہ چند نوکروں کا سامنا اور آرائش کے لیے دیواروں پر سجی اور فرش پر رکھی کچھ مہیب چیزوں کا وجود اُنھیں پریشان ضرور کرگیا تھا۔ کچھ راستہ طے کرنے کے بعد ایک ملازمہ نے نہایت عزت و احترام کے ساتھ اُنھیں مہمان خانے تک پہنچا دیا ۔ بڑا سا مہمان خانہ جو لکڑی کے خوبصورت منقش صوفوں اور دیگر قیمتی اشیا سے سجا ہوا تھا ایک پل کے لیے اُنھیں مزید حیران کر گیا۔اطراف لگے پردوں ،کمرے کی سیٹنگ اور فرنیچر میں رتی برابر بھی فرق نہ تھا۔

’’انسان چیزیں نہیں بدلتا، دل بدل لیتا ہے۔بڑا ظالم ہے انسان بھی۔‘‘وہ گہری سانس لے کر زیر لب بڑبڑاتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گئیں۔طویل انتظار کے بعد اب تھوڑا سا انتظار اُنھیں گراں گزر رہا تھا۔

’’آپ یہاں؟ ‘‘ مہمان خانے کے اندر داخل ہوتے ہوئے جازم بھنویں سکیڑ کر اجنبیت سے بولا۔اُس کے لہجے میں ایسی کوئی خوشی نہ تھی جیسے ایک بیٹے کو طویل جدائی کے بعد اپنی ماں کو دیکھ کر ہوتی ہے۔ اُس کے چہرے سے واضح تھا کہ ذکیہ بیگم کی اچانک آمد اُسے اچھی نہیں لگی تھی۔

’’شاید کافی دیر ہوچکی ہے ۔اِس سے پہلے اور دیر ہوجاتی مجھے آنا پڑا۔‘‘ذکیہ بیگم نے اداس نگاہیں اُس پر مرکوز رکھتے ہوئے آہستگی سے لب کچل کر کہا۔جازم نے ایک نظر ماں کو دیکھا وہ کہیں سے بھی وہ مغرور اور خود پسند ذکیہ بیگم نہیں لگ رہی تھیں۔اُن کا کمزور لہجہ ،زرد رنگ ،تھکن میں لپٹے تاثرات ظاہر کر رہے تھے کہ وہ ایک طویل جنگ لڑنے کے بعد ہار چکی ہیں۔

’’مجھے لگا یہ دوری اِس قدر بڑھ چکی ہے کہ شاید ہی مٹ پائے۔‘‘جازم بے پروائی سے شانے اچکا کر کچھ فاصلے پر رکھی اپنی آرام دہ کرسی سنبھال چکا تھا۔

’’تم اپنی انا میں رہے اور میں اپنی انا میں اور اناؤں کے اِس ملبے تلے ہمارا رشتہ دب گیا۔دیکھنے آئی ہوں کہ اِس رشتے کی کتنی سانسیں بچی ہیں۔‘‘ذکیہ بیگم نے پست آواز میں بولتے ہوئے شکست خوردہ انداز میں سر د آہ بھری ۔اُن کی آواز کا دم خم اور رعب ختم ہوچکا تھا ۔

’’کچھ فیصلے فاصلوں کو جنم دیتے ہیں جنھیں قبل از وقت مٹایا نہیں جاسکتا۔‘‘جازم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں بے سکونی سے جوڑتے ہوئے تقریباً مسلیں۔

’’فاصلہ مٹ سکتا تھا بس ہم نے مٹانے کی کوشش نہیں کی۔‘‘ذکیہ بیگم نے افسوس اور رنجیدگی سے اپنے بنجر لب بھینچے۔

’’میری یاد کے علاوہ ۔۔۔ کیا آپ کا آج یہاں آنے کا کوئی اور مقصد ہے؟‘‘جازم نے ادب و آداب، لحاظ داری اور رشتے کی نوعیت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے گھڑی کی طرف دیکھا۔شاید اِس عدالت میں بیٹھنا اُس کے لیے مشکل تھا جو کسی بھی لمحے اُسے کٹہرے میں بلا سکتی تھی۔

’’جب تم نے مجھے بتائے بنا اپنی مرضی سے شادی کی۔۔۔اُسے حویلی میں لے کر آئے۔۔۔میں نے اپنی خاموشی اور بے رخی سے یہی جتایا کہ ہمارا رشتہ ختم ہوچکا ہے۔۔۔میرا انداز اور چہرے کے تاثر یہی بتاتے رہے کہ میں ہمیشہ کے لیے تم سے روٹھ چکی ہوں۔۔۔تم نے بھی اُس ماں کی پرواہ نہ کی جس نے تمھارے غلط کو بھی ٹھیک بنا کر پوری دنیا کے سامنے پیش کیا۔۔۔تمھیں اپنی نئی دنیا عزیز تھی اور تم مجھے تڑپتا ہوا چھوڑ کر چلے گئے۔۔۔پورا ایک برس تم نے مڑ کر نہیں دیکھا۔۔۔میری مامتا کی توہین کی۔۔۔مجھے جدائی کی اذیت دی۔۔۔آج تم سے میرے بیٹے میں یہی کہنے آئی ہوں! کہ تم نے بالکل ٹھیک کیا میرے ساتھ۔‘‘وہ دل گرفتی سے بولتے بولتے بنا آواز کہ رو دی تھیں ۔جازم کو اُن کے اِس غیر متوقع انداز اور ردعمل سے شدید جھٹکا سا لگا ۔

’’یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ؟‘‘وہ سخت شش و پنج میں گرفتار ہوا۔

’’میں ٹھیک کہہ رہی ہوں۔۔۔جیون کے ساتھ کیے گئے ظلم۔۔۔سیف کے ساتھ ہوئی نا انصافی ۔۔۔تمھاری دی ہوئی جدائی اور رقیہ ناز کے بعد کی تنہائی نے مجھے احساس کے اُس سمندر میں دھکیل دیا ہے جہاں میرا سر تا پیر ندامت میں بھیگ چکا ہے۔‘‘اُنھوں نے سختی سے اپنے آنسو صاف کیے جو اب تواتر سے بہہ رہے تھے۔

’’کوئی ظلم نہیں ہوا جیون کے ساتھ۔۔۔رقیہ ناز اور سیف کی پرواہ کب سے کرنے لگیں آپ؟ میری دی ہوئی جدائی عارضی تھی ۔میں ایک دن آپ کے پاس ضرور آتا۔آخر آپ میری ماں ہیں۔‘‘وہ جذبات کی ہلچل سے کانپا۔اُس کا لہجہ تیکھا اور آواز قدرے بلند تھی۔

’’ہر چیز اور ہر انسان کی پرواہ ہونے لگی ہے مجھے۔میرے سینے کا پتھر سرک گیا ہے جازم۔جانتے ہو جب سے میں نے اعترافِ جرم کیا ہے جیون مجھے نظر آتی ہے ۔۔۔حویلی میں چلتی پھرتی۔۔۔گنگناتی۔۔۔مسکراتی ہوئی۔‘‘ذکیہ بیگم کے ہونٹوں پر ایک پشیمان سی مسکراہٹ اُبھری۔وہ خود آگہی کی منزل پر پہنچ چکی تھیں۔

’’آپ کو کیا ہوگیا ہے امی جان؟شاید آپ نے گزرے وقت کی تلخیوں کا اثر زیادہ لے لیا ہے۔‘‘اُس کی چوڑی پیشانی پسینے سے تر ہوچکی تھی ۔اب وہ کچھ فکرمند نظر آرہا تھا۔

’’سیف! سیف بھی کھو گیا ہے جازم۔اُسے کہیں سے ڈھونڈ کر لا دو۔مجھے اُس سے بھی معافی مانگنی ہے۔میں نے اُس سے زندگی کی ہر خوشی چھینی ہے۔مجھے اُسے ایک رشتہ ایک اختیار لوٹانا ہے ۔۔۔اپنا بیٹا ہونے کا اختیار!‘‘ ذکیہ بیگم نے بے اختیار ہوکر کہا تو جازم نے یکلخت چونک کر اُنھیں دیکھا۔ایک سرد سی لہر اُس کی ریڑھ کی ہڈی میں دوڑ گئی تھی۔

’’وہ منحوس نوکر۔۔۔وہ کسی رشتے کے لائق نہیں۔۔۔اُس کی اوقات بس ہمارے جوتوں کے تلوے جتنی ہے۔۔۔وہ صرف نفرت کے قابل ہے ۔۔۔صرف نفرت کے۔‘‘کچھ دیر پہلے کا منظر اُس کے سامنے لہرایا تو وہ سخت اشتعال میں دانت کچکچاتے ہوئے تلملا ا اُٹھا۔

’’کوئی نفرت کے قابل نہیں ہوتا۔۔۔بس ہم جیسے سنگدل انسانوں کی نفرت کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے ۔‘‘ذکیہ بیگم نے اُسی کے انداز میں جواب دیا تو وہ پل بھر کے لیے خاموش ہو گیا۔

’’میرے بچے جو عمر تمھاری اور جیون کی شہزادوں اور پریوں کی کہانیاں سننے کی تھی ، تب میں نے تمھیں نفرت کی کہانیاں سنائیں۔یہ ظلم تم سے اِسی لیے ہوا کیونکہ میں نے تمھارے دل میں نفرت بھر کر اُسے ظلم کرنا سیکھایا۔‘‘ذکیہ بیگم اٹھ کر اُس کے قریب آئیں تو وہ بھی اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا۔سامنے کھڑی ٹوٹی بکھری اُجڑی ہوئی عورت اُسے کہیں سے بھی اپنی ماں نہ لگی۔

’’آپ اپنے آپ کو تکلیف دے رہی ہیں۔مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے۔میں جیسا ہوں مجھے خود سے محبت ہے اور اپنی حکومت سے بھی۔‘‘وہ جھنجھلا کر تکبرانہ انداز میں بولا تھا۔

’’نہیں ہونی چاہیے یہ محبت۔۔۔مجھ سے اور اپنے آپ سے ایک بار نفرت کرو۔۔۔یہی نفرت تمھارے اندر کی اصلی نفرت کو مارے گی۔‘‘انھوں نے جازم کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لے کر نصیحت آمیز لہجے میں کہا تو اُن کی آنکھوں کے بدلتے رنگ سے وہ خوفزدہ سا ہوگیا۔

’’بس کیجیے امی جان ۔۔۔اب آپ واپس چلی جاہیے ۔۔۔آپ کی باتیں مجھے الجھا رہی ہیں۔‘‘ جازم بیزار کن پاٹ دار آواز میں بولا تو ذکیہ بیگم پلکیں جھپکائے بغیر اُسے بغور دیکھنے لگیں جیسے کوئی کھوئی ہوئی چیز ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہوں۔

’’سخت دل ہونا بڑی سزا ہے اور تم نے مجھے اِس سزا سے نجات دی ہے۔تمھاری جدائی اور میری ندامت نے مجھے میری اندر کی ظالم عورت سے ملایا ہے۔ذکیہ بیگم نے اپنے حصّے کی سزا پا لی ہے جازم۔سب کچھ ہوکر بھی خالی ہاتھ رہ جانا میری سب سے بڑی بد بختی ہے۔‘‘آنسوؤں سے بھیگا اُن کا ایک ایک لفظ دل کی تڑپ کا ترجماں تھا۔

’’کونسی سزا ۔۔۔۔کیسی سزا۔۔۔کیا ہے یہ سب ۔۔۔میں مانتا ہو ں سارے رابطے ختم کرکے میں نے غلط کیا۔۔۔مگر تب مجھے یہی ٹھیک لگا۔‘‘جازم اُن کی جنونی کیفیت دیکھ کر کچھ پشیمان سا نظر آیا۔

’’میرے ہاتھوں پر دیکھو سزا کی لکیریں ہیں۔۔۔میرے چہرے پر دیکھو سزا کی جھریاں ہیں ۔۔۔میرے دل میں جھانکو بس سزا ہی سزا سنائی دے گی۔۔۔مگر اِس بھاری سزا کا بوجھ اعترافِ جرم نے ہی ہلکا کیا ہے۔۔۔تم بھی اپنے گناہ کو پہچانو جازم ۔۔۔اِس سے پہلے ضمیر کا چہرہ پوری طرح سے مسخ ہوجائے۔‘‘ذکیہ بیگم نے سوجھی ہوئی آنکھوں کو پھیلا کر سکتے کی سی کیفیت میں کہا۔

’’آپ کی یہ انہونی باتیں مجھے تکلیف میں مبتلا کر رہی ہیں، اِس وقت یہی بہتر ہے کہ آپ واپس حویلی چلی جائیں ۔‘‘جازم کی برداشت جواب دے گئی تو وہ اجنبیت برتتے ہوئے دروازے کی طرف دیکھنے لگا۔

’’چلی جاؤنگی میرے بچے ،مگر جانے سے پہلے میں تمھاری دلہن سے ملنا چاہتی ہوں۔مجھے اُسے گلے لگانا ہے۔اپنے اُس دن کے رویے کی معافی مانگنی ہے۔‘‘ ذکیہ بیگم نے تاسف سے لبریز منت بھری آواز میں کہا تو جازم یکدم پلٹا۔اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ذکیہ بیگم ایسی خواہش کا اظہار بھی کر سکتی ہیں۔

’’آپ اُس سے نہیں مل سکتیں۔‘‘وہ جلدبازی میں ہکلایا۔وہ کسی صورت نہیں چاہتا تھا کہ ذکیہ بیگم حقیقت سے آگاہ ہوں۔

’’لیکن کیوں؟‘‘ذکیہ بیگم نے تعجب سے پوچھا۔وہ اُس کی آنکھوں میں پنہاں اضطراب کو بھانپ گئی تھیں۔

’’پلیز ضد مت کیجیے ،میں جلد ہی اُسے آپ سے ملوا دونگا، مگر آج نہیں۔‘‘جازم کے دو ٹوک قطعی لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ وہ خاموش رہیں۔جانے سے پہلے اُنھوں نے مڑ کر بیٹے کی طرف دیکھا ،جس کا چہرہ کئی ان کہی کہانیاں سنا رہا تھا۔

*****

ذکیہ بیگم جا چکی تھیں، مگر اُس کے اندر کی بے قراری ہنوز برقرار رہی۔ایک طرف صاحبہ کا سیف کے لیے سر اُٹھاتا عشق اور دوسری طرف ذکیہ بیگم کی ندامت سے جھکی ہوئی گردن ،وہ اُس لمحے دہری کشمکش اور بے چینی کا شکار ہوچکا تھا۔بوجھل شام رات کے آنچل میں سما چکی تھی پر سکون کی کوئی گھڑی اُسے باہوں میں سمیٹنے کو تیار نہ تھی ۔مہمان خانے میں رعب و داب سے گونجتی اُس کے بوٹوں کی چاپ اندر کے خاموش طوفان کو کچلنے میں ناکام ہورہی تھی۔وہ ذکیہ بیگم کی ہر بات کو نظر انداز کر سکتا تھا ،مگر اُس خواہش کو دوسری بار رد کرنا اُس کے لیے بے حد مشکل تھا جو وہ جاتے جاتے کر گئی تھیں۔

’’مجھے امی جان کو دوبارہ حویلی میں آنے سے روکنا ہوگا۔۔۔

وہ صاحبہ سے نہیں مل سکتیں۔۔۔۔

میں ایسا کبھی نہیں ہونے دونگا!

صاحبہ اب کوئی رشتہ کوئی تعلق کوئی رتبہ ڈیزرو (Deserve) نہیں کرتی۔۔۔

وہ صرف و صرف سزا کی حقدار ہے ۔۔۔

میں اُسے کسی ایسے انسان سے نہیں ملنے دونگا جو اُس کے لیے رحم کی درخواست کرے۔‘‘ وہ تیز تیز قدموں سے چکر کاٹتے ہوئے حکمانہ انداز میں جیسے خود کو اور ہر شئے کو باور کرا رہا تھا۔

چلتے چلتے اُس نے مہمان خانے کی ساری کھڑکیاں کھول دی تھیں۔ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھنے والا، لمحے لمحے کی پلاننگ کرنے والا تقدیر کے ناگہانی وار سے لڑکھڑا رہا تھا۔ہاتھوں سے چھوٹتا پسینہ ۔۔۔گرم کنپٹیاں اور انگار ے برستی آنکھیں یہ ظاہر کر رہی تھیں کہ سکون لوٹنے والا آج بے سکونی کی سخت پکڑ میں ہے۔کچھ لوگوں کے سامنے محبت رشتے ذبح کر دیئے جائیں تو وہ اِتنا نہیں تڑپتے جتنا وہ اپنی انا پر چھری پھر جانے پر تڑپتے ہیں۔اُس کی انا یہ سچائی تسلیم کرنے کو تیار نہ تھی کہ جس دولت کو وہ سینت سینت کر رکھتا آیا ہے ،وہی دولت اُس سے کم طاقت رکھنے والے ایک نوکر نے چرا لی ہے۔وہ تو اپنی کوئی بے جان چیز بھی کسی کو دینے کا روادار نہ تھا۔اُسے یہ گوارا کہاں تھا کہ کوئی اُس کی چیز کی طرف نظر اُٹھا کر بھی دیکھتا۔اور یہ تو صاحبہ تھی اُس کے غرور اور نشے کی محبت۔اُس کا انتخاب ،حویلی کی ملکہ۔اِس نشے کا اترنا، اپنے انتخاب کا کھوٹ وہ کیسے سہہ پاتا؟۔سیف کی دغا بازی صاحبہ کی بیوفائی اُس کے لیے ناقابلِ برداشت سزا بن چکی تھی۔

’’موت تو یہ کھیل ختم کردے گی۔۔۔

یہ تماشا مٹا دے گی۔۔۔

تم دونوں میرے سامنے رہو گے۔۔۔تڑپتے ہوئے ۔۔۔سسکتے ہوئے ۔۔۔موت کی بھیک مانگتے ہوئے۔۔۔۔

میں تم دونوں کا وہ حال کرونگا کہ زندگی کے آس پاس رہتے ہوئے تم دونوں موت کی دعا کروگے۔۔۔۔

یہ بے حیائی،بے وفائی جسے تم عشق کہتی ہو صاحبہ اِس کا انجام بہت برا ہے بہت برا۔۔۔۔۔۔‘‘

اُس نے دونوں ہاتھوں کی پانچوں انگلیاں جوڑ کر جیسے لہو میں بہتے اضطراب کو باندھا اور زور زور سے سانس لیتا ہوا اپنی کرسی پر آبیٹھا۔رات کا ایک ایک پل اُس کے وجود کو کاٹتے ہوئے صدی کا روپ دھار چکا تھا۔

’’رحیم بخش۔۔۔رحیم بخش۔۔۔‘‘کھڑی سے براہ راست منہ پر پڑتی روشنی نے صبح کا سندیسا دیا تو وہ پوری طاقت سے چلایا۔

’’جی حکم۔۔۔جی حکم۔۔۔‘‘اُس کی آواز کی سختی سے بوکھلایا ہوا اُس کا خاص خادم حاضر ہوچکا تھا۔

’’جاؤ اور حویلی کی کچھ خادماؤں کو حاضر کرو۔‘‘اُس نے دونوں ہاتھوں کی گرفت کرسی پر مضبوط کی اور انتقامی لہجے میں کہا۔

’’جو حکم سرکار کا۔‘‘رحیم بخش بنا نظر اُٹھائے تابعداری سے سر ہلاتا ہوا باہر نکل گیا تھا۔روشنی پھیلنے سے پہلے چاچی شگو سمیت چھے نوکرانیاں اُس کے سامنے تھیں۔زندگی سے بیزار اُن عورتوں کے چہرے پر اتنی ہی سفاکیت تھی جتنی وہ چاہتا تھا۔

’’میری باتیں غور سے سنو! ایک ایک بات پر ویسے ہی عمل ہونا چاہیے جیسے میں نے کہہ دی۔‘‘اُس نے الفاظ چپاتے ہوئے ایک نظر اٹھائی تو وہ سب آنکھیں جھکائے اثبات میں سر ہلا رہی تھیں۔وہ بولنا شروع ہوا تو چاچی شگو سمیت سب عورتوں کے چہرے کے رنگ زرد پڑ گئے۔ بے تابی سے پہلو بدلتے ہوئے وہ درزیدہ نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں۔اُس کے ایک اور ظالم روپ کی جھلک دیکھ کر کچھ خادماؤں نے گھبراہٹ سے اپنی انگلیاں مروڑنا شروع کردیں تو کچھ نے بے بسی سے لب کاٹ لیے۔ اذیت پہنچانے والا یہ وہ منصوبہ تھا جسے سن کر ہر وہ دل کانپ اُٹھتا جس میں تھوڑی بہت بھی انسانیت باقی تھی۔

’’جاؤ جا کر تیاری کرو۔۔۔غفلت۔۔۔رعایت اور رحم میں کسی صورت برداشت نہیں کرونگا۔‘‘اُس نے جیسے ہی ہاتھ بلند کرکے بات ختم کی وہ سب رکی ہوئی سانسیں خارج کرکے پھرتی سے باہر چلی آئیں۔

*****

جھکا ہوا ہے جو مجھ پر وجود میرا ہے

خود اپنے غار کا پتھر وجود میرا ہے

ساری رات وہ زمین پر بے حوش پڑا رہا ۔سر پر لگنے والی چوٹ اور زخموں سے چور جسم اُسے درد کی انتہا پر لا کر درد سے بیگانہ کر چکے تھے ۔ اوندھے منہ پڑا ہوا وہ دنیا جہاں سے بے خبر تھا۔قید خانے میں ہولناک خاموشی تھی اور جگہ جگہ اندھیرے کے منہ سے لگے اُس کے خون کے قطرے ۔وہ زندگی اور موت کے درمیاں اُس بھیانک خواب میں تھا جہاں مرجاتا تو جیون سے شرمندہ رہتا اور زندہ بچتا تو صاحبہ کا گنہگار ہوتا۔یہ اذیت تب تک خاموش رہی جب تک زندگی نے اُسے اپنی موجودگی کا احساس نہ دلایا۔صبح مٹی سے اٹے ہونٹوں نے ایسی سانس بھری جیسے ساکت دریا میں زور سے پتھر اچھالا جاتا ہے۔رواں ہوتی خون کی گردش نے سوجھے بند پپوٹوں کو کھولنے میں سہارا دیا تو وہ روشنی سے نظر ملانے کے لیے جھٹپٹانے لگا۔

’’کیا میں زندہ ہوں؟۔۔۔۔۔۔

کیا میں سانس لے رہا ہوں؟۔۔۔۔

کیا آس پاس زندگی ہے؟‘‘ آنکھیں کھولتے ہی جیسے ڈوبتے دل نے کئی سوال کیے۔جوں جوں گزشتہ کل یاد آتا گیا اُس کا لمحہ لمحہ بھاری ہوگیا۔

’’صاحبہ بی بی۔۔۔کیا ہوا ہوگا اُن کے ساتھ؟۔۔۔کیا موت؟ ۔۔۔نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔اگر میں زندہ ہوں تو وہ بھی زندہ ہوگیں۔‘‘زخمی سوکھے لبوں کو بمشکل جنبش دیتے ہوئے نجانے کیوں وہ اُسے یاد کر گیا۔اُس نے صاحبہ کا درد محسوس کیا تھا بس محبت محسوس کرنے کی اُس کے دل میں گنجائش ہی نہیں تھی۔درد کا تعلق بڑا مضبوط ہوتا ہے کسی سے جڑ جائے تو اُس کی راحتوں کی خاطر انسان ہر گھاؤ سینے پر سہہ جاتا ہے ۔وہ یہاں سے نکلنا چاہتا تھا،جازم کو سمجھانا چاہتا تھا کہ چاہے وہ اُس کی جان لے لے ،پر صاحبہ کو آزاد کردے۔اپنی بچی کچی طاقت آزمانے کے لیے اُس نے ہاتھ پیروں کو زور سے ہلایا اور کہنیوں کے بل زنجیروں سے جکڑے وجود کو گھسیٹتے ہوئے دروازے کے قریب لے آیا۔لوہے کی زنجیریں کھلے ہوئے زخموں سے ٹکرا کر مزید تکلیف بڑھا گئی تھیں۔اُس نے نحیف کانپتے ہاتھوں سے دروازے پر دستک دی ،مگر یہ ہلکی آوازیں ظلم اور قہر کے طوفان میں دب سی گئیں ۔وہ جان گیا تھا کہ یہ دروازہ اپنی مرضی سے کھلے گا یا اُس کے مرنے کے بعد ۔دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے وہ وہی سیدھا ہو کر لیٹ گیا۔آنکھوں کے آگے اُتنی روشنی تھی جتنی خیرات میں ملا کرتی ہے۔دروازے کے نیچے اور کھڑکی کے کونوں سے جھانکتی کرنوں نے بتا دیا تھا کہ دن کا آغاز ہوچکا ہے۔اُس نے غیر ارادی طور پر اوپر دیکھا مدھم روشنی میں وہ چاند چہرہ چمک رہا تھا۔وہ رو رہی تھی ،اُس کے آنسو ٹپ ٹپ گر رہے تھے اور سیف کو یہ نینوں کی برسات روح تک جھلسانے لگی۔وہ اُسے اِتنی شدت سے روتی ہوئی پہلی بار نظر آئی تھی۔

’’میں جانتا ہوں تم میری بزدلی پر رو رہی ہو جیون۔۔۔

نہ میں تمھارے لیے کچھ کر پایا نہ صاحبہ بی بی کے لیے۔۔۔

میں مرنا چاہتا ہوں۔۔۔

نہ میں محبت کے لیے لڑ سکا تھا۔۔۔

نہ انسانیت کے لیے لڑ پایا ہوں۔۔۔

میں مرنا چاہتا ہوں۔۔۔

میرا بے فائدہ وجود کئی زندگیوں کا تماشا دیکھ چکا۔۔۔

میری یہ گنگار آنکھیں وقت کے ہر ستم کی گواہ ہیں،جسے میں روک نہیں پایا۔۔۔

میں مرنا چاہتا ہوں۔۔۔

تمھیں قسم ہے مرنے کے بعد میرے سامنے مت آنا!۔۔۔

موت شرمندہ کردے تو واپس لوٹنے کا موقع نہیں دیتی۔۔۔

نہیں دیتی۔۔۔۔۔۔‘‘وہ آہستہ آہستہ بولتے ہوئے پھر سے اندھیرے سے جاملا تھا اور یہ اندھیرا بے بسی کا تھا۔۔۔۔۔موت کا نہیں!!!

*****

میں تیرا نام پکاروں تو ہوا رقص کرے

بوئے گل جھومے پھرے،بادِ صبا رقص کرے

صرف وقت نے ہی نہیں موسم نے بھی کروٹ بدلی تھی ۔جیسے گھنے پیڑ پر سورج کی کرنوں کا حکم کم کم چلتا ہے ویسے ہی سردیوں کی طویل راتیں دنوں پر حکومت کرتیں ہیں۔دکھ درد ہو یا عشق کا میٹھا احساس گہری لمبی راتوں کے دامن میں پھیل جایا کرتا ہے۔رات کی تنہائی میں ہر شخص اپنی کہانی کا مصنف ہوتا ہے اور دل کے نغموں کا گیت کار۔ وہ بھی کُہر میں لپٹی رات کو دیکھتے ہوئے اپنی کہانی کے اُس کردار کے بارے میں سوچ رہی تھی جس نے دل کے تار چھیڑنے میں بڑی دیر لگا دی تھی۔پورا ایک دن گزر چکا تھا وہ چہرہ دیکھے ہوئے جس نے اُس کے اندر زندگی کی شمع جلا ئی تھی۔اُسے نہ کوئی افسوس تھا نہ کوئی خواہش کہ وہ سیف کو دوبارہ دیکھ بھی پائے گی یا نہیں ، وہ چہرہ اُس سے جدا ہی کب ہوا تھا۔وہ پانے کھونے سے بہت آگے نکل آئی تھی کیونکہ وہ ایک ایسا احساس پا چکی تھی جو حاصل حصول کی لالچ ختم کردیتا ہے۔جازم کے جانے کے بعد اُس نے دروازہ خود ہی کھول دیا تھا ۔جب گرنے کا خوف نہیں تھا تو دیواریں اُٹھانے کا کیا فائدہ۔وہ حیران ضرور تھی کہ اُس ظالم شخص نے اب تک اُس کے کمرے کا رخ نہیں کیا تھا۔پس وہ انجان تھی کہ جب درندے کوئی طوفان اُٹھاتے ہیں تو سب سے پہلے سارے بند باندھ دیا کرتے ہیں۔

’’صاحبہ بی بی میں آپ کو لینے آئی ہوں۔‘‘ہوا کے جیسے یکدم ایک سرسراتی آواز اُس کی سماعتوں سے ٹکرائی تو اُس نے مڑ کر پیچھے دیکھا ۔ دروازے میں ملازمہ جندن کھڑی تھی جو شکل و صورت میں باقی ملازماؤں سے الگ نہ تھی۔صاحبہ کا اب تک اُس سے سامنا کم ہی ہوا تھا اِس لیے وہ سمجھ گئی کہ کوئی انہونی ہونے والی ہے۔

’’اِس وقت ۔۔۔ کہاں جانا ہے مجھے۔؟‘‘صاحبہ نے کھڑکی کے پٹ سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے حیرانی اور کچھ اُلجھن آمیز انداز میں پوچھا۔

’’کچھ دیر تک آپ سب سمجھ جائے گیں۔‘‘جندن نے سوال کا الٹ جواب دیا تو وہ جان گئی کہ یہ عورت اُتنا ہی بولے گی جتنا اُسے بولنے کا حکم ہے۔

اُس نے گرم شال سے خود کو اچھی طرح لپیٹا اور بنا کوئی سوال کیے جندن کی تقلید میں اُس کے پیچھے چل پڑی۔حویلی کے اندرونی اور بیرونی حصے میں موسم کا خاصا فرق تھا۔جگہ جگہ بچھے قالین اور ہر طرف لگے دبیز پردے موسم کی شدت کو دخل اندازی کی کھلی اجازت نہیں دے رہے تھے ۔چلتے چلتے وہ دونوں حویلی کے اُس بڑے دروازے تک پہنچ گئیں جو بیرونی طرف کھلتا تھا ۔

’’یہ شال اُتار دیجیے اور یہ جوتے بھی۔‘‘ایک ملازمہ کے ایسے حکم پر وہ چونکی ضرور ،مگر پریشان نہ ہوئی۔اُس نے چپ چاپ تحمل سے جندن کی بات پر عمل کیا ۔دروازہ کھل چکا تھا اور سرد ہوائیں اُس کے جسم کے آر پار ہونے لگی تھیں۔اُس نے ایک جھرجھری سے لی ،مگر اپنی کیفیت کا اظہار نہیں کیا۔ٹھنڈے فرش پر قدم رکھتے ہوئے وہ بخوبی سمجھ گئی کہ جازم اُسے کیا سزا دینا چاہتا ہے ۔

’’سر پر کفن باندھنے والے اب کیا موسموں کی سختی سے ڈریں گے۔‘‘ وہ دل ہی دل میں جازم کی اِس احمقانہ سزا پر ہنس دی تھی۔اِن حالات میں صاحبہ کا یوں مسکرانا جندن کو کچھ عجیب سا لگا۔حویلی کے بڑے آنگن کو عبور کرنے کے بعد اُسے شبنم میں ڈوبی گھاس پر رکنے کا حکم دیا گیا تھا۔ٹھنڈے پانی کے قطرے اُس کے پیروں کو سن کرنے لگے تھے مگر دل میں جو جوت جل چکی تھی اُس میں ذرہ برابر بھی آنچ نہ آئی تھی۔

’’مجھ سے موسم کی شدتیں برداشت نہیں ہوتیں جازم۔یوں لگتا ہے موسموں کے سخت ہاتھ میرے وجود کو بے جان کردیں گے۔‘‘وہ کافی کا مگ ٹھٹھرتے ہوئے ہاتھوں میں تھام کر کپکپاتے لبوں کے قریب لا کر بولی تھی۔

’’نازک مزاج لوگوں سے موسم محبت نہیں کیا کرتے رانی ۔ہوسکتا ہے کبھی عشق کے امتحان تمھیں چلچلاتی دھوپ میں بھاگنے پر مجبور کردیں اور کبھی دسمبر کی ٹھنڈی زمین پر ٹھرنے کے لیے۔‘‘وہ اُس کے سرد ہاتھوں کو محبت سے چھوتے ہوئے قطیعت سے بولا۔اچانک سے ایک کانٹا اُس کے پیر میں چبھا تو وہ جیسے ہوش میں آگئی۔شادی سے پہلے کی ایک بات یاد آنے پر اُس کی مسکراہٹ اور گہری ہو چکی تھی۔جندن جاچکی تھی یہ اشارہ دے کر کہ اُسے اب ساری رات یہی ٹھرنا ہے ۔شبنم کا سمندر اُس کے اعصاب کو ڈوبونے کے لیے تیار کھڑا تھا تو کئی چھپائے گئے کانٹے اُس کا لہو چوسنے کے لیے۔حویلی کی ساری روشنیاں جلادی گئی تھیں ،مگر کسی بھی نوکر کو باہر نکلنے یا دیکھنے کی اجازت نہ تھی ،وہ صاحبہ کی بے قراری اور تڑپ کا تماشہ اپنی کھڑکی سے اکیلے ہی دیکھنا چاہتا تھا۔

عشق کے ہاتھ پہ بیعت ہوا ہے دل میرا

اِسے دلدار نے بخشی ہے سزا رقص کرے

رات آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی اور صاحبہ دھیرے دھیرے چلتے ہوئے ہر شئے میں اُسے دیکھ رہی تھی۔کانچ کے جلتے سب بلبوں میں کسی کے ساتھ کی روشنی تھی۔۔۔بھیگے بھیگے گلابوں سے کسی کی آواز سنائی دے رہی تھی۔۔۔ٹمٹماتے ستاروں میں وہی امید بھری دو آنکھیں تھیں۔۔۔۔منجمد لہو میں ایک ہی پکار تھی۔۔۔کانٹوں کی سونپی سسکاری میں ایک ہی نام تھا۔۔۔۔سیف!۔۔۔۔سیف!۔اُس نے ایک نظر جازم کی کھڑکی کی طرف دیکھا اور گول گول گھومنے لگی۔اُس کا گھومتا فراک اور جھومتا دل اُسے اُس جہاں میں لے گیا تھا، جہاں برف کی طرح سرد ہوتے جسم میں عشق کا لاوا بجھانے کی اجازت نہ تھی۔

جازم نے ساری رات ایک پل کے لیے بھی اُس سے نظریں نہ ہٹائیں ۔اُس لیلی کے ہلتے ہونٹوں کا تبسم ،بند آنکھوں کا اطمینان جازم کو اُسی دائرے میں پٹخنے لگا جہاں اُس کے غرور کی گردن تھی اور صاحبہ کے تھرکتے پیر ۔اچانک وہ وجدانی کیفیت سے نکلی اور دور سے اُسے ایسے دیکھنے لگی جیسے کہہ رہی ہو۔

’’تم عشق کو موسموں سے ڈرا رہے ہو۔۔۔کتنے نادان ہو تم ۔۔۔تم نے توآج مجھے کھلے آسمان تلے عشق منانے کا موقع دیا ہے۔۔۔چند برف کی قاشیں اُبلتے لہو میں ڈال دینے سے یہ آگ بجھتی نہیں ہے۔۔۔ اور بھڑکتی ہے۔۔۔اور تم جیسے تماش بینوں کو جلا کر راکھ کردیتی ہے۔‘‘وہ اِتنا زور سے ہنسی کہ اُس کی ہنسی کی بازگشت پوری حویلی میں گونجے لگی۔ہنستے ہنستے وہ پھر اُسی کیفیت میں آچکی تھی۔اب اُس کا دھمال عشق کی تھاپ پر تھا۔۔۔اب اُس کے کان عشق کی بانسری کی طرف تھے۔ ۔۔اب اُس کی نظر عشق کی محفل پر تھی۔۔۔جو آس پاس کسی کے خیالوں کے دیپ سجا گئے تھے۔ اندھیرے میں روشنی اور روشنی میں سیف وہ حقیقت سے ناطہ توڑ کر خماری کی دنیا سے جڑ گئی ۔اُس کے کالے لمبے بال قید سے آزاد ہوچکے تھے اور چاروں سمت میں گھومتے ہوئے جازم کو سانپ کی طرح ڈسنے لگے ۔روشنیاں اُس کے آس پاس رقصاں تھیں اور رات اُس کے وجود میں تحلیل ہورہی تھی۔اُس کی گنگناہٹ ،تھرکتے پیر جازم کے وقار پر ایک کرارا تھپڑ تھے۔اُسے لگا اگر صاحبہ نہ رکی تو اُس کا دل رک جائے گا۔سیف سیف پکارتے ہوئے جب وہ وہی گر گئی تو جازم کا سکتہ بھی ٹوٹ گیا ۔وہ فوراً دروازے کی طرف بھاگا ،وہ اتنی معمولی سزا سے اُسے مرنے نہیں دینا چاہتا تھا۔

*****

جاری ہے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.