سفر کے دوران ایک بزرگ میرے ساتھ والی سیٹ پر آکر بیٹھے۔ کمزوری ان کے کانپتے ہاتھوں سے محسوس ہورہی تھی۔ جیب سے موبائل نکال کر میری جانب بڑھایا اور بولے۔ بیٹا اس میں فلاں نام کا نمبر ہوگا اسے فون ملا دو۔ میں نے کال ملا کر موبائل انہیں تھما دیا۔ وہ گجراتی لہجے میں ٹوٹی پھوٹی اردو بولتے رہے اور پھر فون بند ہوگیا۔ میں نے گجراتی لہجے کو محسوس کرتے ہوئے پوچھ ہی لیا۔ آپ گجرات کے ہیں؟ تو انہوں نے چونک کر میری جانب دیکھا۔ جی بیٹا۔ ہم قیام پاکستان کے وقت گجرات سے ہجرت کر کے آئے تھے۔ میں نے کہا کچھ بتائیں گے گجرات کے بارے میں۔ انہوں نے قیام پاکستان سے متعلق بہت سی باتیں بتائیں۔ ایک جگہ رک کر وہ بولے۔”جانتے ہو پاکستان کیا ہے؟ ملک ہے۔ نہیں۔ یہ ایک مقصد تھا۔ جب قائداعظم نے تحریک شروع کی تھی اس وقت ہم صف اول میں ہوا کرتے تھے۔ میں اس وقت اسکول میں پڑھتا تھا۔ ” بیٹا تم کیا کرتے ہو؟“ سوال کے جواب میں میں نے مختصر کہا۔ ”صحافی بن رہا ہوں“۔ تو خوش ہوتے ہوئے بولے۔ ”میرے دو جملے اپنے پرچے میں شائع کردو گے“۔ میں نے جلدی سے کہا۔ ”جی جی آپ کہیے۔“ تو بولے۔ ”میں نے پاکستان بنتے دیکھا ایک روز اسکول سے آتے وقت مجھے کچھ ہندو لڑکوں نے بہت مارا۔ وہ مسلم ہونے پر مجھے گالیاں دیتے رہے۔ میرا پورا جسم ان کی مار سے درد کر رہا تھا۔ میں پاس ہی ایک درخت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ اس وقت میں نے درخت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ تم گواہ رہنا ایک دن ہم آزاد ہوںگے۔ آج ہمیں مسلم ہونے کا طعنہ ملتا مگر ہم ہوں گے اور یہی ہمارا اسلام ہوگا۔ ہم اپنی آزادی سے عبادت کریں گے اور کوئی ہمیں منع نہیں کرپائے گا، ہم اسلام پر عمل پیرا ہوکر ان ہندوﺅں کو بتائیں گے کہ مسلم کون ہوتے ہیں اور ان کا ملک کیسا ہوتا ہے۔ مگر بیٹا آج ہم آزاد ہوچکے شایدمسلم نہیں رہے۔ جب بھی میں اسی درخت کے سائے میں بیٹھ کر بے پردگی، بے ہودگی، جس بھارت سے آزادی کے لیے دن رات تڑپا کرتے تھے اس کے کلچر اور ثقافت کو اپنے مسلم بچوں میں دیکھتا ہوں تو میں شرمندگی سے سرجھکا دیتا ہوں۔ ہم نے مسلم ملک کے لیے بنیادیں رکھیں، جہاں ہم سب آزاد اور کچھ نہیں بس ایک مسلم ہوں گے، مگر یہاں تو ہم مسلک اور سیاسی پارٹیوں میں منقسم ہوکر پاکستانی نہیں رہے۔ بس بیٹا یہ پیغام پہنچا دینا میرے ملک کے بچوں تک کہ خدارا میرے خواب کو تعبیر کردو تم سب چھوڑ کر اسلام کی تعمیر کردو میں نے قیام پاکستان کے ایک سپاہی کی بات آپ تک پہنچانے کا وعدہ کیا تھا جسے وفا کرنا میری مجبوری تھی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ماہ اگست کی جب پہلی کرن دنیا کے چہرے پر پڑتی ہے تو ایک تازگی کا احساس ہر پاکستانی کے وجود میں اترتا چلا جاتا ہے۔ دل ایک عجیب طرح کی فرحت محسوس کرتا ہے اور ایک لہر سی اٹھتی ہے جو پورے وجود کو گرما جاتی ہے۔ سانسوں میں آزادی کی ٹھنڈک نمایاں ہوتی ہے اور سینہ چوڑا ہوجاتا ہے۔ ہر سو ہریالی دگنی ہو کر خزاں کی شکنوں کو اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ ہر شخص پاکستانی بن جاتا ہے کوئی مہاجر ‘سندھی ‘بلوچی ‘پنجابی ‘پٹھان‘سنی ‘شیعہ وہابی‘ایم کیوایم ‘پیپلز پارٹی ‘ن لیگ اور تحریک انصاف نہیں رہتا۔ اگست کاگزرتا ہر دن جسم میں ایک نئی روح پیدا کرتا چلا جاتا ہے۔ جہاں آزادی کی خوشی کے ہر سو پہرے ہوتے ہیں وہیں کچھ کمزور جسموں میں یادوں کی قدیمی بیماری ایک مرتبہ پھر سے سر اٹھا لیتی ہے۔ کچھ ذہنوں میں پرانی لہو میں سینچی ہوئی ایک فلم چل پڑتی ہے۔ ہر انگ سے درد کی ٹھیسیں اٹھنا شروع ہوجاتی ہیں اور پھر ایک آہ نکلتی ہے اور شہداءآزادی پاکستان کی روح کو خیرا کر جاتی ہے۔ آہ میں اپنے ملک میں ہوں سلامت ہوں۔ کوئی پابندی بھی نہیں اور نہ کسی قسم کا کوئی خوف ہے۔ نہ تو کہیں بلوائیوں کا اچانک حملہ اور نہ کہیں الاو جلائے بستیوں کو آگ لگاتی ٹولیاں ہیں۔ میں ایک ایسے ملک میں سکون سے ہوں جہاں نہ تو نیزوں کی چھنکار ہے اور برچھیوں میں پروے بچے۔ یہ تو خون سے کھینچ کر بنا کر دیا گیا میرا پاکستان ہے۔ اس کی عظمت اور تکریم کے کیا گن گاﺅں جب ایک ماں اس ملک کے جھنڈے کو سلامی دینے کے لیے نیزے پر اپنے معصوم بچے کو پرو دیتی ہے۔ میں اس ملک میں ہوں جہاں جانوں کے نذرانے دینے والوں کا حساب لگانا ممکن نہیں. کیا عظمت اس پاک سر زمین کی جس کے بانیان خطے کی عظیم شخصیات تھیں جنھوں نے اعلیٰ عہدوں کو لات مار کر میرے ملک کو دوام بخشا۔ آہ وہ خاندان جس نے اپنے گھر کے ایک فرد کو صرف اس امید پر میرے ملک کی سرحدوں تک بھیجا کہ صرف ایک سجدہ کر کے ان سب شہداء کو خراج عقیدت پیش کر سکے۔ میں کیوں نہ بار بار چوموں اپنے ملک کی پاک مٹی کو جس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے خاندانوں کے خاندان ملیا میٹ ہوگئے۔ بھری لدی ٹرینیں آگ و خون میں تڑ پا دی گئیں. میں تو اپنے ملک کی عظمت شان و شوکت کا ادراک بھی نہیں کر سکتا۔ کتنے پر امن تھے میرے ملک کے لیڈر جنھوں نے اس اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا کہ کسی بھی سکھ یا ہندو کو کھروچ تک نہیں آنے دی۔ پاکستان لاتعداد قربانیوں، امیدوں اور امنگوں کے بعد حاصل کیا گیا مگر قربانیاں ہی بھلا دی گئیں۔ جب ہم غلام تھے تو ہمیں آزادی چاہیے تھی۔ جب ہم آزاد ہوئے تو اب غلامی کا طوق گلے میں ڈال لیا۔ اپنے کلچر کی آزادی کو چھوڑ کر غیروں کی غلامی اپنانے میں فخر محسوس کرنے لگے۔ بھارت میں تھے تو کلمہ طیبہ کی بنیادوں پر وجود میں آنے والا پاکستان چاہیے تھا مگر کٹ لٹ کر جب پاکستان میں پہنچ گئے تو اب ہماری نوجوان نسل اسی بھارتی غلامی کی طرف لوٹنے لگی۔ پھر سے بھارتی کلچر کو فروغ دیا جانے لگا۔ گویا کہ ”بھارت ہمیں تم سے نفرت ہے مگر پھر ہم تیرے ہیں“۔ ملک پاکستان ہوتا ہے مگر کنسرٹ، پروگرامات، لباس، رہن سہن اور میڈیا بھارت کا چلتا ہے۔ کبھی سوچا کہ یہ بھارت کون ہے۔ جب 15اگست کو بھارت آزاد ہوا تو امرتسر میں وہ روز کیسے منایا گیا۔ جان کونیل اپنی کتاب ”اکنلیک“ میں لکھتا ہے کہ اس روز سکھوں نے مسلمان عورتوں کو برہنہ کر کے ان کا جلوس نکالا اور گلی کوچوں میں گھوماتے رہے اور پھر سارے جلوس کی عصمت دری کی گئی۔

تحریر: عارف رمضان جتوئی

فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف