عید سے ایک دن پہلے ہم سگهڑ  ہیروئن بنے عید کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ پھوپھو آگئیں ۔ گوشت رکھنے کے لیے  بڑا ٹب تھال پتیلے وغیرہ نکال لو ۔
جی پھپھو نکال لئے ہیں۔
پلاسٹک شیٹ نکال لی 
جی پھپھو  
دہی زیادہ بنانا
جی  پھوپھو 
“پیاز لہسن مصالحہ وغیرہ منگوا لیے ہیں”۔
“جی  پھوپھو “
اتنی بار جی پھوپھو کہا کہ یہ سوچ کر  ہمیں ہنسی آگئی کہ جس طرح A سے بہو نہیں ہوتا  اسی طرح G سے بھی پھوپھو  نہیں ہوتا ۔ابھی جی بھر کے  ہنسے  بهی نہ تھے کہ پھوپھو نے ہمیں  نہیں کہنے کا موقع فراہم کر دیا
“اے بہو  میں سوچ رہی ہوں کہ کل رات کو کھانے پہ نوشین اور ثمرین کو بھی بلا لو ں”۔
“نہیں….. پھوپھو عید پر بہت کام ہوتا ہے اور عید والے دن کیا کسی کو بلاتے ہیں “.
  “بہووہ کسی نہیں ہیں  اس گھر کی بیٹیاں ہیں”۔
” آپ صحیح کہہ رہی ہیں وہ گھر کی بیٹیاں ہیں لیکن ان کے گھر میں بھی تو کام ہوگا نا۔”
ہاں اسی لئے تو رات کے کھانے کا کہہ رہی ہوں دوپہر تک کام نمٹا لیں گی پھر رات کو آ جائیں گی. ……ثمرین کی تو ساس بھی نہیں ہے “۔
“ساس تو میری بھی نہیں ہیں “۔ ہم نے کہا امی کے  گھر جانے کا پلان چوپٹ ہوتا نظر آیا ہر سال  عید پر شام کو تھوڑی دیر کے لئے امی کے گھر چکر لگا لیتی تهی ان کی بھی عید ہو جاتی تهی اور امی ابو کو دیکھ کر میری بھی عید ہو جاتی تھی ۔
“میں مر گئی ہوں کیا ۔”  پھوپھو چلائیں
“نہ…….نہ……نہیں “۔ اپوزیشن کے واویلے سے پہلے تو ہم گھبراگئے پھر سنبھل کر بولے ۔” میں نے کبھی آپ کو ساس سمجھا ہی نہیں ۔”
” کیوں مجھ میں کیا کمی ہے۔” نجمہ پھوپهو نے غصے سے کہا 
” نہیں کمی تو نہیں ہے( بلکہ روایتی  ساس کی تمام تر خصوصیات بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں )
“اور پھر اس بات سے تمہارا کیا مطلب” پھوپھو کا پارا اور ہائی ہوا
” مطلب……… مطلب آپ تو پیاری سی پھوپھو ہیں نا”
پھوپھو کی تیوریاں کچھ کم ہوئیں لیکن ان کے اس شور شرابہ کو سن کر آئینی صدر آگئے “ننھی  کیا ہوا؟  خیر تو ہے…..”۔
( ننھی نے تو  شور شرابہ بھی ننھی کی طرح ہی مچایا )
” خیر ہی خیر ہے بھائی جان  بس میں یہ کہہ رہی تھی  کہ کل نوشین اور ثمرین کو رات کے کھانے پر بلا لیتے ہیں…… آپ کا کیا خیال ہے ؟ پھوپھو نے ہمیں گھورتے ہوئے کہا
” اچھی بات ہے سارا خاندان مل بیٹھے گا  میرا خیال ہے کہ کل ہی تمہارے جیٹھ اعظم اور اسکی فیملی کو بھی بلا لیتے ہیں سب  مل کر کھانا بھی کھا لیں گے اور تم لوگوں کی جو ناراضگی ہے وہ بھی ختم ہو جائے گی۔”
“لو جی دو نہ شد کئ شد”۔ آئینی صدر کی حمایت پا کراپوزیشن  اور تیز ہو گئی
” ہاں تو بہو بتاؤ تم کیا اچھا بنا لیتی ہو۔”
” باتیں “ہمارے منہ سے بے ساختہ نکلا
” وہ تو اتنے دنوں سے میں جان ہی گئی ہوں ….کھانے میں کیا بنا لو گی “. پھوپھو نے ایسے کہا جیسے روز باتوں سے ہی پیٹ بھرتی  ہوں کھانا نہ کھاتی ہوں ۔ 
“نجمہ تم خود ہی بتا دو کہ  کیا پکے گا”.سسر  صاحب نے کہا 
“بهئ مٹن کی کوئی ڈش بنا لینا  پلاؤ تو بنے گا ہی اور میٹھے میں پلاؤ کے ساتھ  متنجن سے بہتر کیا ہوسکتا ہے “-
” پھوپھو متنجن……  ہم نے دل تھام لیا 
” متنجن کے نام پہ تمہارا منہ کیوں بن گیا بہو…… ہماری اماں تو عید والے دن پائے بنا لیتی تھیں مگر تم گوشت کی سادہ ڈش ہی بنالو تو بہت ہے”
ہم نے چیف کی طرف دیکھا 
“میں کیا کروں”  چیف نے انداز بے نیازی سے کندھے اچکائے اور کمرے کی طرف  چل دیئے
” اے میاں تم کہاں چلے ادھر آؤ نا تمہیں متنجن کے سامان کی لسٹ بنا کر دوں……جلدی سے جا کر لے آؤ”۔
” شام کو جا کر لے آؤں گا۔”
” نہ میرا بیٹا ابھی ابھی جا کے  لے آ …..شام کو رش ہو جائے گا-“
صاحب نے ہماری طرف دیکھا  ہم نے بھی بے نیازی سے کندھے اچکا دیے۔
صاحب سامان لے کر آئے تو چہرا اترا ہوا تھا۔
” پھوپھو نے انہیں اس طرح  دیکھا تو کہنے لگیں “بہو  تیرا میاں مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا .”
“پھوپھو ٹهیک تو مجھے بھی نہیں لگتے تھے بس ٹھونک بجا کر گزارا کر رہی ہوں۔” ہم نے  کچن کی الماریاں ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔
” بہو کیا اول فول بولے جا رہی ہے …..تیرے سر کا تاج ہے کچھ ادب احترام کیا کر۔۔۔۔۔جا کر کچھ چائے پانی پوچھ …… لگتا ہے بچہ گرمی اور حبس سے بے حال ہو گیا ہے”۔
رات کو عوام (بچوں ) سے خطاب کا پروگرام بنایا کیونکہ بچے اس بار بکروں سے بہت اٹیچ ہو گئے تهے اس لئے سوچا کہ بچوں کو قربانی  کی اہمیت اور فرضیت کے متعلق بتا دوں کونسلنگ کر دوں۔لاونج میں گئ  تو دیکھا نجمہ پھوپهو  مہندی  پیالے میں لیے بیٹھی تھیں پی ٹی وی لگا ہوا تھا
    “مما  دیکھیں…… دادی پھپھو نے مجھے مہندی لگائی ہے وہ کہہ رہی ہیں مٹھی بند کر کے سو جاؤ  صبح اٹھو گی تو ہاتھ پہ بطخ بنی ہوئی ہوگی۔”بیٹی نے اپنے ہاتھ دکھاتے ہوئے کہا
“کیا مطلب ساری رات مہندی لگی رہے گی……؟”
“جی مما  دادی پهپهو کہہ رہی ہیں تبھی تو رنگ چڑھے گا “۔
“نہیں بھئ  ساری بیڈ شیٹ خراب ہو جائے گی……”
” بالکل خراب نہیں ہوگی بیڈ شیٹ……..  میں ہاتھوں پہ شا پر چڑھا دوں گی اور  اگر بہو تمہیں زیادہ وہم ہو رہا ہے تو کسی گہرے رنگ کی بیڈ شیٹ لا کر بچھا دو۔” پھوپھو نے اپنے  ہاتھ کے بعد ناخنوں پر بهی مہندی لگاتے ہوئے کہا۔
” جی اچھا۔۔۔۔۔۔”۔بیٹی کا چمکتا ہوا چہرہ دیکھ کر ہم یہ کہنے پر مجبور ہوگئے 
” بہو تم بھی مہندی لگا لو کیوں سفید ہاتھ لئے پھر رہی ہو”۔
” نہیں پھوپھو  میں مہندی نہیں لگاؤں گی کل  سارا دن کام کرنا ہے  رنگ پھیکا پڑ جائے گا اور  اس مہندی کا رنگ تو اتنا اچھا آتا ہی نہیں۔”
” بہو یہی تو اصلی مہندی ہوتی ہے اور میں تمہیں ایک بات بتاؤں رنگ انہی لڑکیوں کے ہاتھوں پہ گہرا آتا ہے جن کی ساس اور میاں ان سے محبت کرتے ہیں۔” پھوپھو نے مہندی کا پیالہ ہمیں تھماتے ہوئے کہا۔
ہم نے بچوں سے بات کی اور مہندی کا پیالہ لے کر آگئے
مٹن کڑاہی کے لئے ٹماٹر پیوری بنائی قورمہ کلیجی اور پلاؤ کا مصالحہ بنایا کام سے فارغ ہو کر ہماری نظر مہندی کے  پیالے پر پڑی بے اختیار جی چاہا کہ مہندی لگا لیں۔ لیکن پھر خیال آیا کہ اگر رنگ گہرا نہ آیا تو پھوپھو کہیں گی کہ ساس اور میاں کو ہم سے محبت نہیں ہے  اچانک متنجن کے سامان پر نظر پڑی اور ایک خیال ذہن میں بجلی کی طرح کوندا ہم نے اس میں سے لال رنگ نکالا  اور مہندی میں چٹکی بھر ڈال دیا پھر ہم نے بھی مہندی سے بطخ بنا لی
صبح کو مہندی کا رنگ دیکھ کر ہم خود بھی حیران ہوگئے اتنا خوبصورت اور پیارا رنگ آیا تھا پھوپھو کو دکھایا 
”  بہو اتنا گہرا رنگ کیسے آیا “-
” بس پهو پهو پیار ہی بہت ملا ہے”. اٹھلا کر کہا پھوپهو بے یقینی سے ہمیں دیکھتی رہ گئیں-
”  آج لگ رہا ہے کہ ایسے ہی باتیں بنی ہیں”- پھوپھو نے کہا
” کیا مطلب پھوپھو کیا آپ ہم سے پیار نہیں کرتیں  “-ہم نے کہا 
“کرتی ہو ں لیکن…..” پھوپھو پھنس گئیں
صاحب کلیجی لے کر آئے تو ہم نے یہی بات کہہ کر اپنی مہندی کا رنگ دکھایا۔
  “یہ میری محبت کا رنگ ہے.” صاحب حیران ہوئے
“جی پھوپھو ایسا ہی کہہ رہی تھیں “-ہم نے کچھ شرما کر کچھ اٹهلا کر کہا
” اب سب کو یہ بات نہ کہتی پھر نا”-
” کیوں صاحب پیار کیا تو ڈرنا کیا”- ویسے بھی چیف اور وزیراعظم کی محبت تو ایک ایسی حقیقت ہے  جس سے نگاہ نہیں چرائی جاسکتی اگر دونوں کو ایک دوسرے سے محبت نہ ہو تو دونوں اپنے عہدے پر نہیں رہ سکتے تاریخ گواہ ہے کہ شکریہ چیف کہنا پڑتا ہے اور بے شک مارشل لاء لگا دیا جائے بالآخر چیف بھی جمہوریت اور وزیراعظم کو لے کر آتا ہے۔
“اچھا اچھا ٹھیک ہے …….بہت کام ہے وہ کرو”۔چیف کلیجی تھما کر واپس چلے گئے
مہندی کے رنگ کو بچانے کے لئے ہم نے ڈبل دستانے چڑهائے کلیجی کو لہسن اور بیسن لگا کر فریج میں رکھا تھوڑا سا گوشت لے کر مٹن کڑاہی کے لیے گلانے کوککر میں ڈالا پھر عوام( بچوں) کو مدد کے لئے آواز دی جب پھوپھو کچن میں آئیں تو صورتحال کچھ یوں تھی کہ چیف نگرانی کررہے تهے بڑا بیٹا پیکٹ بنا رہا تھا چهوٹا ان پر نام کی چٹ لگا رہا تھا اور بیٹی گرہ لگا کر ان کو ٹرے میں رکھ رہی تھی ۔ماسی صفائی کر رہی تھی
“تم نے سب کو کام لگایا ہوا  ہے۔”پھوپھو نے کہا 
“پھوپھو اسے گراس روٹ لیول تک اختیارات کی منتقلی کہتے ہیں “۔ہم نے کہا 
صاحب گوشت تقسیم کر کے آئے تو کھانا بن چکا تھا ۔ماسی اپنا کھانا اور گوشت لے کر جا چکی تھی اس ہدایت کے ساتھ کہ رات کو آجانا۔
کھانے سے فارغ ہو کر ہم نے پائے پکنے کے لئے رکھے پلاؤ کے لئے یخنی چڑهائی۔ایک باول میں کڑاہی ڈالی پهر صاحب کے پاس آئے اور کہا” ذرا گاڑی کی چابی دیجئے ہم امی ابو کو بھی عید مبارک کہہ آئیں اور یہ کڑاہی دے آئیں انہیں میرے ہاتھ کی پسند  ہے.”
” اس وقت ……شام کو ہمارے گھر مہمان آ رہے ہیں ….. کھانا کب بناؤ گی؟” چیف کو ہمارے بیرونی دورے پر اعتراض ہوا
“ابھی دو بجے ہیں چار بجے تک واپس آ جاؤں گی۔”
” تم دیر لگا دوگی میں ساتھ چلتا ہوں”.
” نہیں آپ کا گھر رہنا  ضروری ہے میں نے پائے پکنے  کے لئے رکھے ہیں اور پلاؤ کے لیے یخنی بن رہی ہے آپ ان کا  دهیان رکهیں …….. ٹائمر سیٹ ہے بجے تو چولہا بند کردیں ویسے میں فون بھی کر دوں گی۔” ہم نے چیف کو اپنا قائم مقام مقرر کیا۔
” پائے کہاں سے آئے  آج والے تو بانٹ  دئیے۔”
” یہ ٹاپ سیکرٹ ہے”۔ ہم نے کہا  اصل میں ہمیں اندازہ تھا کہ پھوپھو عید پر ایسا ہی کوئی شوشہ چھوڑیں گی اس لیے ہم نے پندرہ دن پہلے ہی پائے منگوا کے دھو کر فریز کر دیئے تھے بھئ جس وزیراعظم کو اپوزیشن کی چالوں کا پہلے سے اندازہ نہ ہو وہ بہت جلد اپنی سیٹ سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے
” جلدی آ جانا “۔چیف نے ہدایت کی
  امی ابو بہن بھائی ہمیں دیکھ کر خوش ہوئے اور ہم ان کو دیکھ کر۔ جب انہیں پتہ چلا کہ ہمارے گھر آج دعوت ہے تو چھوٹی بہن کہنے لگی آپی میں نے آج کباب بنائے تهے وہ لیتی جا ئیں فروٹ سیلڈ اور بین سیلڈ بھی بنا دیتی ہوں ۔ ماں جائی سے بہتر کون دوست ہو سکتا ہے بہن کی دوستی ہمالیہ سے بھی اونچی۔ ہم کامیاب بیرونی دورے سے واپس گھر پہنچے خوشی بھی ملی اور گھر کے لیے بھی کافی کچھ لے آئے ۔(بس جلدی  میں مشترکہ اعلامیہ جاری نہ کر سکے)
جب تک ہماری نندیں نوشین اور ثمرین پہنچیں قورمہ پلاؤ اور پائے تیار ہوچکے تھے۔ بس متنجن دم پر تھا۔ دونوں نے مل کر برتن سیٹ کیے جب پھوپھو کے جیٹھ کی فیملی پہنچی تو کھانا میز  پر لگ چکا تھا 
قورمہ پلاؤ متنجن پائے شامی کباب فروٹ سیلڈ بین سیلڈ نے جہاں دسترخوان کی رونق بڑھائی وہاں مہمانوں کی بہت تعریفیں بھی سمیٹیں۔ پھپھو کی جٹها نی بار بار کہتی رہیں کہ “تم لوگ بہت خوش قسمت ہو  اتنی اچھی بہو ملی ….. کاش مجھے بھی ایسی بہو مل جائے” 
“دیکھیں بھئی میں نے تو آپ کو لڑکی دکھائی تھی آپ نے ہی ناپسند کر دیا”- پھوپھو نے کہا
“اصل میں ایک تو استخارہ بھی صحیح نہیں آیا اور دوسرے چچی جان میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا تها.” احمد نے کہا 
” بھئی شادی تو وہ بور کا لڈو ہے جو کھائے وہ بھی پچھتائے اور جو نہ کھائے وہ بھی پچھتائے۔” پھوپھو نے کہا
”   بہتر ہے کہ کھا کر پچھتا لیا جائے”  ۔ چیف نے کہا 
“شادی کا لڈو کھا کر وہی پچھتاتے ہیں جن کی نظر دوسروں کی برفی پر ہوتی ہے.” ہم نے چیف کی طرف تنبیہی  نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا
” تم جیسی لڑکی سے شادی کر کے کون پچهتا سکتا ہے……. میں تو اب تک حیران ہوں کہ  تم نے کیسے اتنی ڈشزبنا لیں اور عید والے دن ہی پائے کیسے بنا لیے” پھوپھو کی جٹھانی  نے کہا
” قصائی بہت اچھا ہے ہمارا۔۔۔۔۔۔ کئی سالوں سے وہ ہی آرہا ہے پائے بنا کے دے گیا اس نے بنا لئے “۔ پھوپھو نے کہا
” پھر بھی پائے تو دهو نا ہی بہت مسئلہ  ہے اور پھر شامی کباب……شاباش بیٹی  تم نے تو واقعی کمال کیا۔” پھوپھو کی جٹھانی نے کہا
اتنی تعریفیں اپوزیشن تو اپوزیشن چیف سے بھی ہضم نہ ہوئیں ۔
گرین ٹی بنانے کچن میں آئے تو موصوف کہنے لگے میں بتا دوں یہ پائے کب سے آئے ہوئے تھے اور شامی کباب کہاں سے آئے –
چپ کر کے بیٹھیں…… آپ کی بیوی کی تعریفیں ہو رہی ہیں خوش ہوں ……توبہ ہے بهئ پائے اور کباب  نہ ہوئے آف شور کمپنی ہو گئ۔
اب سمجھ میں آیا کہ وزیراعظم کی تعریف ہو  تو برداشت کیوں نہیں ہوتی
             ( تحریر۔ شازیہ ستار نایاب)