میں نیند سے جاگ کر سب سے پہلے اپنا موبائل دیکھتی ہوں کہ شاید کسی دوست کا میسج آیا ہو۔ اس دن بھی دوپہر کو نیند سے جاگی تو راحت اندوری صاحب کی موت کے بارے میں فیس بک پہ ایک پوسٹ پڑھی۔ شدید دھچکا لگا۔ دل عجیب اداس ہو گیا۔ یقین کرنے کو دل نہیں کر رہا تھا پر یقین نہ کرنے کا میرے پاس کوئی جواز بھی تو نہ تھا۔ موت اٹل حقیقت ہے۔ ہمارے یقین نہ کرنے سے وہ ٹل نہیں جاتی، ہاں! ہماری اپنی تکلیف میں اضافہ ضرور ہو جاتا ہے۔ اسی وقت سے لے کر اب تک سوچ رہی ہوں ہمارا ہونا اور ہمارا نہ ہونا تو برابر ہوتا ہے۔ ہم ہوتے ہیں تو دنیا چلتی ہے۔ ہم نہیں ہوتے تو دنیا نہیں رکتی۔ ہم تو شاید زرے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے غیر اہم زرے۔۔ عجب خوف اور خود ترسی میں مبتلا ہوں۔ اپنے ہونے کا افسوس ہے اور اپنے نہ ہونے کا غم۔۔ موت کا ڈر ہے۔ زندگی ختم ہوجانے کا خوف۔۔۔

موت تو سب کو آنی ہے۔ ان کو بھی جنہوں نے زندگی کو کبھی جیا نہیں اور ان کو بھی جن کے بغیر زندگی کا تصور کھوکھلا لگتا ہے۔ ہم تو ٹھہرے خاموش طبع، زندگی سے کٹے لوگ۔۔۔ ہمارے نہ ہونے سے فرق نہ پڑے تو ٹھیک ہے۔ مگر میں نے زندگی سے بھر پور انسانوں کو موت سے گلے لگتے دیکھا ہے اور یہی سب سے تکلیف دہ بات ہوتی ہے کہ انسان چاہے جتنا بھی زندگی سے بھر پور کیوں نہ ہو۔ وہ مر ہی جاتا ہے۔

راحت اندوری صاحب فوت ہوئے تو دل سے ان کی بخشش کے لیے ڈھیر ساری دعائیں نکلیں۔ فیس بک پہ بہت سے لوگوں کے ان کے بارے میں پوسٹس پڑھے۔ وہاٹس ایپ پہ سٹیٹس دیکھے تو ان پر رشک آیا کہ لوگوں کو کس قدر محبت تھی ان سے اور اب ان سے محبت کرنے والے سبھی لوگ ان کے لیے دعائیں کرتے ہوں گے۔ بہت سوں کی دعائیں عرش تک پہنچ کر ان کی بخشش کا سامان بنیں گی۔ یوں ہی دل میں آیا کہ مشہور لوگ کس قدر خوش نصیب ہوتے ہیں۔ وہ جن کو نہیں بھی جانتے وہ لوگ بھی ان کے لیے دعا گو رہتے ہیں۔

فجر کی اذان سے ذرا پہلے جاگ کر میں نے دو رکعت نفل پڑھے تو سب سے پہلے ان کے لیے دعا کی۔ دل عجیب اداس تھا جیسے ڈوب رہا ہو۔ مجھے شدید دکھ کے وقت رونا نہیں آتا۔ میں بس سہمی ہوئی بیٹھی رہی۔ راحت اندوری صاحب کے بارے میں سوچتی رہی۔ خود کو یقین دلاتی رہی۔ خود کو سمجھاتی رہی کہ موت ایک حقیقت ہے۔ یہ سب کو آنی ہے۔ اور جتنا ہم اس سے ڈرتے ہیں یہ اتنی بری نہیں، بشرطیکہ ہمارے اعمال اچھے ہوں۔ پھر اچانک شہرت سے ڈر لگا۔ راحت اندوری مشہور تھے۔ بے شمار لوگ ان سے محبت کرتے تھے مگر جتنا بڑا ہمارا رتبہ ہوتا ہے اتنی بڑی ہماری آزمائش ہوتی ہے۔ اگر آپ عام سے انسان ہیں تو آپ سے اس کا حساب لیا جائے گا جو آپ نے کیا۔ لیکن اگر آپ کوئی بڑی ہستی ہیں تو آپ سے آپ کے اعمال کا حساب لیا جائے گا اور اس کا بھی جو آپ نے لوگوں کو بتایا اور جو لوگوں نے آپ سے سیکھا۔ آپ اگر لکھاری ہیں تو آپ کے قلم نے جو ایک ایک لفظ لکھا، آپ کو اس کا حساب دینا ہوگا۔ یہ سوچ کر ڈر لگا۔ اللہ سے بہت معافیاں مانگیں کہ اللہ آج تک جو لکھا تو کبھی یہ نہ سوچا کہ اس کا ریکارڈ آپ کے پاس جائے گا۔ کبھی خیال ہی نہیں 

آیا کہ جو میں لکھتی ہوں وہ تحریریں نہیں میرا اعمال نامہ ہے۔ کبھی یہ ذہن میں ہی نہ آیا کہ جو لکھا اس کی قیمت چکانا ابھی باقی ہے۔ اللہ کے قہر اور اپنی جہالت سے ڈر لگا۔ سوچتی ہوں ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو لکھتے ہوئے سوچتے ہیں کہ اللہ کے لیے لکھ رہے ہیں؟ یا پھر لکھتے ہوئے سوچتے ہیں کہ اپنے لکھے ہوئے کے لیے ہم اللہ کے سامنے جوابدہ ہوں گے؟ خود سے پوچھ لیجیئے! اور خود کو جواب دینے کی ہمت پیدا کیجیئے! اگر آپ اللہ کے لیے لکھتے ہیں تو آپ پر اللہ کی رحمت کا سایہ ہوگا۔ آپ جو لکھتے ہیں وہ آپ کے لیے اللہ کی خوشنودی کا سبب بنے گا۔ اور اگر آپ لکھتے ہوئے یہ سوچتے ہیں کہ اللہ کے سامنے اپنے لکھے کا جواب دینا پڑے گا تو یہ آپ کو اللہ کے قہر سے بچائے گا۔ لیکن اگر آپ لکھتے ہوئے یہ نہیں سوچتے تو سوچیئے! اس کی بارگاہ میں کیا منہ لے کر جاوگے؟ وہ آپ سے آپ کی صلاحیت کے بارے میں سوال کرے گا تو اسے ضائع کر دینے کا کیا جواز پیش کرو گے؟ کبھی سوچا ہے؟ نہیں تو اب سوچ لیجیئے کیونکہ ہمیں کچھ نہیں معلوم کس گھڑی اس کے پاس جانے کا سفر شروع ہو اور کس لمحے ہم سے سوال و جواب شروع ہو، حساب و کتاب شروع ہو۔

ہمارا لکھا ہوا ایک ایک حرف ایک عمل ہے جس کا ہمیں جواب دینا ہے۔ اللہ کرے ہماری تحریریں ہماری بخشش کا سامان ہوں۔ ان کی وجہ سے اللہ ہم سے محبت کرے اور جب اللہ ہم سے ملے تو خوش ہو کے ملے۔ وہ ہمارے گناہوں اور کوتاہیوں کو بخش کر ہمارے لکھے ہوئے کو ہماری بخشش کا سبب بنا دے۔ ہم سے کہے کہ تم نے جو لکھا دنیا میں اصلاح اور امن پھیلانے کے مقصد سے لکھا۔

کاش ہم میں سے ہر ایک لکھنے والا ایسا کچھ لکھے جس سے انسانیت کی اصلاح ہو۔ جس سے پیار و محبت بڑھے۔ جاہلیت کے اندھیرے چھٹ جائیں، مکمل خاتمہ نہ سہی مگر نفرتیں کم تو ہوں گی۔ ہم برائی مٹانے میں اپنا کردار تو ادا کریں گے کہ کل کو ہمارا شمار ان بندوں میں نہ ہو جو زمین پر فساد پھیلانے کا سبب بنے بلکہ ہم ان لوگوں میں گنے جائیں جن پر اللہ کی سلامتی ہو۔ جنہوں نے ہمیشہ امن اور اصلاح کا علم اٹھائے رکھا۔