زندگی کی بھاگ دورڑ میں ہم انسان کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہیں۔مگر یہ بے زبان جاندار بچارے کہیں پیچھے ہی رہ جاتے ہیں۔وہیں جہاں انہیں پہلے دن لگایا گیا ہو۔جیسے بشیراں خالہ کے کھلے صحن والے گھر کی بیری سالوں سے لگی ہے یہ بیری آج بھی پہلے دن جیسی ہے سردی میں دھوپ روکنے کے جرم میں اس کی ٹہنیاں کاٹ دی جاتی ہیں۔گرمی میں چھاؤں دیتی ہے۔خزاں میں اپنے پتوں کا زمین پر قالین بچھاتی ہے۔اور۔۔۔بہار میں بیروں سے پورے گاؤں کے بچوں کو ریجاتی ہے۔بشیراں خالہ کے تمام اچھے برے حالات میں بیچارہ بیری کا درخت اپنے کام سر انجام دیتا رہا ہے ۔۔۔۔ہاں ان دنوں کچھ اداس نظر آتا تھا جب نوری کو سارے گاؤں والے جھلی ،دیوانی کہتے تھے۔نور فاطمہ (نوری) _____وہ نور فاطمہ جو، نور پور کے چونک میں چراغی چچا کی سبزیوں کی دوکان سے گاجر ،مولی اٹھا کر بھاگ جایا کرتی تھی۔ہاں ہاں وہی نور فاطمہ جو عبداللہ چچا کے پھلوں والے باغ سے پھل توڑ کر بھاگ جایا کرتی تھی۔ افف!! کیا نہر، کیا کنواں، کیا کھیت۔۔۔ چوٹی کستی، آنکھ میں کاجل انڈیلتی، کریب کا کرن لگا ڈوپٹہ اڑھتی اور یہ جا وہ جا۔۔۔ تتلی کی طرح باغ میں آزاد پھولوں پر منڈلاتی____وہ جس کی آنکھوں میں ہزاروں جگنو چمکتے تھے ،وہ جس کو دیکھ کر مرنے والے کا پھر سے جی اٹھنے کو دل چاہتا

۔۔من موہنی،پیاری سی نور فاطمہوہی نیموڑن جھلی نور فاطمہ جسے عشق کے ناگ نے ڈس لیا تھا۔اور پھر چہرے کا گلابی پن، زردی میں ایسا بدلہ کہ دیکھ کر خوف آتا۔ پیلے یرکان کی مریضہ لگتی تھی کمبخت۔۔۔ارمان بھری منچلی کی مسکراہٹ کو قفل لگ گئے تھے۔ خوشیاں پاتال کی آخری تہہ میں جاچھپیں تھیں۔ویسے اچھا ہی ہوا۔۔وہ اسی قابل تھی کملی، جھلی پردیسی پر بھروسہ کرنے والیوں کا یہی حال ہوتا ہے لو بھلا اب اسے کیا ضرورت تھی ایک کلیکٹر سے دل لگانے کی جو اس سے چار دن کی دل لگی کر کے کہیں پردیس میں جا چھپا بھئ وہ تو نور پور میں ڈیم بنانے آیا تھا بنا گیا وہ تو مہمان تھا۔”اور مہمان جتنے بھی لمبے عرصے کا مقیم ہوبالآخر اسے لوٹ ہی جانا ہوتا ہے”پتا نہیں یہ بات نور فاطمہ کو سمجھ کیوں نہ آئیرشیداں اماں کہا کرتی تھیں کہ نور فاطمہ نے کسی تپسیہ کرتی جوگن کے ہاتھ سے پانی پی لیا ہے تبھی تو کملا گئی ہے سکینہ بوا کہتی تھی کہ نوری تو درباری انٹھوں کے نیچے سے گزر گئی ہے اب وہ اسے دربار پر بلا کر ہی دم لیں گے اب تو نوری جوگن ہو گئی۔۔۔سیدہ خالہ کہتی کہ نوری کو سایہ ہوگیا ہے ہر کوئی اپنی منطق جھاڑتا۔ اور بچاری بشراں خالہ لوگوں کی باتیں سن کر ڈوپٹہ دانتوں میں دب کر سسکیاں بھرتی___جائے نماز بیری تلے بچھائے گھنٹوں رب سے نوری کے لیے دعا کرتی۔اور نور فاطمہ درباروں پر دھاگے باندھتی، ہر جمعرات بچوں میں کھیر تقسیم کرتی، منت مانگتی۔ وہ ہر ہتھکنڈہ آزما کر اپنے پردیسی کے لوٹ آنے کی دعا گو تھی۔ انتظار کی سولی پر روز چڑھتی۔۔۔۔روز نا امیدی کا بچھو ڈسواتی___________________”اس سے کہنا۔۔۔۔تھک سی گئی ہو۔۔۔۔منڈیروں پر دیے جلاتے جلاتے۔۔۔۔درباروں پر دھاگے باندھتے باندھتے۔۔۔۔۔پیروں اور بچوں سے دعا کرواتے کرواتے۔۔۔۔زرد آنکھوں کے محراب میں امید کے چراغ سلگھاتے سلگھاتے۔۔۔۔خود کو سمجھاتے سمجھاتے ۔۔۔۔کہ اب تو لوٹ آؤ۔۔۔۔لوٹ آؤ نا پردیسی سیاں۔۔۔۔”___________
“پر اس کے ساتھ اچھا ہی ہوا۔۔۔بلکہ یہ ہر اس عورت کے لیے طمانچہ ہے جو پردیسیوں پر بھروسہ کرتی ہے”۔۔۔۔ ایسا سفینہ چاچی کہتی تھی۔اور پتا ہے غفور تایا کیا کہتا تھا۔ ” یہ عورت ذات بھی نا کملی ہے لو بھلا اب کیا ضرورت ہے کسی مرد سے امید جوڑنے کی، دل لگانے کی، آس لگانےکی یہ تو بہادر لوگوں کے کام ہوتے ہیں اور ۔۔۔۔عورت ۔۔۔۔عورت تو مٹی کا گھڑا ہے ایک مکے کی مار خاک سرنی ۔۔۔۔”اب بھلا عورت کو کس نے یہ حق دیا کہ وہ محبت کرے خواہش کرے یہ سارے کام انسانوں کے ہیں عورتوں کے نہیںپر حیرانی اس روز نور پور پر ٹوٹ کر گری جب وہ پردیسی کلکٹر لوٹ آیا ۔دربار پر دھاگا باندھتی نور فاطمہ بھاگی ۔۔۔۔نگے پیر گاؤں والوں نے سمجھا آج نوری کا جھلاپن سامنے آ گیاسفینہ خالہ نے کہا نوری کا جن آج اسے اپنے ساتھ لے جائے گا سب نے نوری کو جوگن جوگن کہہ کر پکارا جن کا تو پتا نہیں پر نوری کا لنگڑا لوٹ آیا ۔۔۔ہاں ایک ہاتھ میں بیساکھی پکڑے وہ پھیکے چچا کے ٹانگے سے اتر رہا تھا جب نوری نے جا کر سہارا دیا”نوری مجھے معاف کر دے مجھے آنے میں دیری ہوگئی مجھے حادثوں نے آن گھیرا تھا علاج میں عرصہ لگ گیا پہلے سوچا کہ اب تو نا لوٹ کر جاؤ اب تک تو نے کسی کے نام کی مہندی لگا لی ہوگی اور میں تیرے قابل بھی نہیں پر پھر ۔۔۔۔کوئی آسیب مجھے یہاں کھینچ لایا”اب سب کو پتا تھا کہ وہ کوئی آسیب نہیں نوری کی منتیں تھیں۔اور نوری۔۔۔۔نوری نے اس کی بیساکھی کو پکڑ کر دور پھینکا٫ کندھے کا سہارا دیا اور بس اتنا ہی کہا۔۔”بڑے صاحب آپ کا دیری سے آنا سر آنکھوں پر”پورا گاؤں حیران نہ شکوہ، نہ شکایت ارے اپنی منّتوں کا حساب ہی مانگ لیتییہ عورت بھی نا۔۔۔ویسے اچھا ہی ہوا ۔۔۔۔۔نوری کے ساتھ۔۔۔۔پر اس بار یہ ثابت ہو گیا کہ ہر پردیسی بے وفا بھی نہیں ہوتا”کئی بار وقت اور حالات محبت کرنے والوں کی محبت سے جل کر آڑے آ جاتے ہیں”ان کے جلنے کی وجہ پھر کبھی بتاؤں گئیابھی نوری کے ہاتھ کی بنی کھیر کھا لوںپورے گاؤں میں بانٹ رہی ہے پگلی ،جھلی ۔۔۔۔یہ عورت بھی نا۔۔۔
ویسے اچھا ہی ہوا اس کے ساتھ۔۔۔
ختم شدہ