خط میں لکھ کے پوچھا ہے۔

کیا اب بھی اتنا ہنستی ہو؟

اب بھی اتنا سجتی ہو؟

اب بھی دل گھر آنگن میں

کیا روز نیۓ پھول اگاتی ہو؟

اب بھی آنکھوں کو کاجل سےکیا

روز کٸ چاند لگاتی ہو؟

اب بھی سرخی ہونٹوں کی

گلابوں کو شرماتی ہے؟

اب بھی مہندی ہاتھوں کی

خزاں میں بہار کھلاتی ہے؟

کیااب بھی آینے کے سامنےخود

اپنی ہی نظر اتارتی ہو؟
اب بھی نگینے بالیوں کے

ہر اک پہ قیامت ڈھاتے ہیں؟

کیا اب بھی ویسی کی ویسی ہو؟

کیا اب بھی چاندنی جیسی ہو؟

کیا اب بھی خوشبوٶں میں بستی ہو؟

کیا اب بھی کسی کی آنکھوں کی

تپش صحرا میں ٹھنڈک ہو؟

کٸ دن کٸ شامیں گزر گیٸں۔۔۔

اب خط کا جواب میں آیا ہے۔۔۔

بس دو بال سفید لایا ہے!!!!

—————
کلام:الف_زرعون

کور ڈیزائن و فوٹو گرافی: قدسیہ،صوفیہ

ماڈل: ماہم