سیراب____________صوفیہ کاشف

ٹین کی پرچھتی پر گرتی موسلا دھار بوندیں اب ایک آسیب کی طرح لگنے لگی تھیں۔مسلسل کچے فرش پر گرتا ہوا پرنالہ زمیں میں ایک گڑھا کھودنے میں مصروف تھاچھت کے کونوں سے جگہ جگہ بنتے سوراخوں سے بارش کے پانی کی دھاریں زمین کی طرف رینگتی قطاریں بنا رہی تھیں یادوں کی طرح جو اس کے دل کے ہر کونے سے جگہ بناتی رینگتی ہر رکاوٹ توڑتی چلی آتی تھیں۔وہ ہزار کونے مرمت کرتی،سواراخوں پر بند باندھتی ،ٹپکتی بوندوں کو برتن ،بالٹی اور پراتوں میں سنبھالنے کی کوشش کرتی مگر اس کی قسمت میں ڈوبنا لکھا تھا یادوں میں بھی بارش میں بھی(۔رات بھر وہ ٹپکتی چھت کو سنبھالتی رہی تھی،کبھی کواڑ ڈھکتی،کبھی پرانی چادروں سے سوراخ بند کرتی۔مگر پانی اور یاد_____اپنی جگہ بنا لیتے ہیں!)

ایسی ہی بارش اس کی دھیان میں جاگنے لگی جب ان کا برسنا عذاب نہ تھا۔،جوانی کی صبح صادق سر پر تھی اور محبوب کا ہاتھ ہاتھ میں۔،برستی بارش گرجتے بادل کا خوف پش پشت ڈالے وہ دونوں بارش میں بھیگتے گنگناتے ایک دوسرے پر چھینٹے اڑاتے پرےدھکیتے اپنے کچے آنگن میں مون سون کی پہلی پھوار میں کھلکھلا رہے تھے۔ ذندگی جب بے درد نہ تھی اور رستے بوجھل اور تقدیر کے کیچڑ سے لت پت نہ تھے۔جب محض ایک ساتھ ہی ہزار بدصورت حقیقتوں سے بڑھ کر تھا۔گلیاں نکھری تھیں رستے سنور رہے تھے۔۔۔۔۔بس۔ ان کو خبر نہ تھا کچھ لمحوں کی روشنی کے بعد تاریک رات مقدر تھی!

آسماں پر لپکی خوفناک گرج نے اسے خوفزدہ کر دیا۔وہ بستر پر چادر میں دبک کر رہ گئی۔وہ جو کالی رات میں کتوں کے بھونکنے سے ڈر جاتی تھی اب اندھیری رات کی گرج چمک میں بچوں کو لپیٹے بیٹھی کانپتی تھی۔باہر برستی بارش کچھ اور تیز ہو گئی تھی اور گلی میں روشنی کرتی بتیاں بھی بجلی کے تعطل کے باعث بجھ گئی تھیں۔اندھیرے میں گرج چمک کا شور ماحول کو اور بھی ہولناک بنا رہا تھا۔۔ ہر لپک پر لگتا تھا یہ بجلی اس کی ٹین کی چھت پر ہی گرنے والی ہے مگر نہیں۔۔۔وہ ہر بار بج جاتی تھی۔اس کا انجام اور آرام ابھی مقدر نہ ہوا تھا۔ابھی ان طوفانوں کو سہنا سر پر باقی تھا۔وہ بستر پر بچوں کے قریب تر کھسکتی گئی۔شکر ہے کہ جب اندھیری راتوں میں خوف سے کانپتی اکیلی ماؤں کے دل منہ کو آتے ہوں تو بھی بچے بحرحال بے فکری سے سو ہی جاتے ہیں۔شکر ہے کہ ماؤں پر ٹوٹی قیامت سے بچے انجان رہتے ہیں۔وہ سو رہے تھے ہر آفت اور قیامت کے شور سے بے خبر،بچے سو رہے تھے۔۔۔

بہت دیر سے اسے پیاس لگی تھی۔ ہر دیوار سے ٹپکتے پانی اور فرش پر پھیلے کیچڑ میں اس کے پاس پینے کو چند گھونٹ نہ تھے۔کمرے میں پینے کا پانی ختم تھا اور نیلا ٹینک صحن کے دوسرے کونے میں اندھیری رات کے بھوت کی طرح ہولناکیوں میں گھرا تھا۔دونوں کے بیچ بادوباراں اور گرج چمک کا طوفان خیمے گاڑے بیٹھا تھا۔ایسے موسم میں وہ ڈر کر اُس سے لپٹ جاتی تھی۔جب تک بادل گرجتا رہتا، بجلی چمکتی رہتی تھی وہ اس کے بازو میں سر،منہ چھپائے آنکھیں میچے، دبکی رہتی تھی۔”کچھ نہیں ہوتا!”وہ کہتاجب بھی اس کے ساتھ ہاتھ تھامے آدھی رات کو پانی لینے باہر جاتا۔اسے کیا خبر کیا کیا کچھ ہو جاتا ہے جب بادل گرجتے ہیں اور عورت کے سر پر چھت سا کوئی سایہ نہیں ہوتا۔اکیلی چھت ٹپکے نہ تو کیا کرے جسے مضبوط کرنے والا کوئی نہ ہو۔عفریت نما اس معاشرے میں مرد ہی گھر کی اصلی چھت ہے۔۔!

اس کے ساتھ ہی  چارپائی کے پائے کے ساتھ کلمہ شہادت پڑھتا زندگی کا سکھ چین اُٹھ گیا تھا۔کندھوں پر وہ ایسا رخصت ہوا کہ گھر کی چھت،چادر ،چار دیواری سب کے سب ساتھ لے گیا تھا۔”جوان بیوا!۔۔۔۔۔۔ساری عمر بیوگی جینی پڑے گی”دلاسے تھے کہ تنبیہات!۔۔۔۔۔۔ترس تھا کہ ہدایات! وہ سمجھ نہ پاتی تھی مگر ڈر کرسفید چادر کا مقدر اس نے اپنے اور بچوں کے گرد سختی سے لپیٹ لیا تھا۔بس! اب دنیا میں اس کے لئے اور کوئی سہارا نہ تھا۔نظریں جھکا کر ملنے والے نظر اٹھا کر بولنے لگے تھے اور محض تیس ہی سالوں میں اسے اپنی ملائم ،مدھر آواز روز بروز کھردری،بدھی اور تلخ کرنی پڑ گئی تھی۔

ٹین زور زور سے بجنے لگا، ہواؤں کا شور کھڑکیاں دروازے دھکیلنے کی کوشش کرنے لگا۔صحن میں گلی سے گندہ پانی بہہ کر زور و شور سے اندر آنے لگا تھا ایسے جیسے آج اس گھر کو ڈبو کر چھوڑے گا۔۔۔”بارش رکے گی،صبح ہو گی،ایک دن یہ قیامت کی رات بھی گزر جائے گی” اس کے سوکھے لب اور تر بتر دل ایک ہی تسبیح  کو مسلسل ورد کرنے لگا تھا۔

“میرے گھر والے ہیں ناں تمھیں سنبھالنے کو”جانے والے کو کس قدر یقین تھا۔اگر جو ایک بار پلٹ کر دیکھ لیتا تو ساری عمر قبر میں بھی سکوں سے سو نہ پاتا۔وہ جن کے پاؤں زمیں پر رکھنے نہ دیتا تھا ان جگر گوشوں کو اس ٹپکتی چھت کے نیچے ننگی چارپائی پر سوتے دیکھ لیتا تو کلیجہ پھٹ جاتا۔بازوں میں چھپ کر سونے والی بیوی کو ایسی خوفناک رات میں اندھیرے شہر کی کالی گلیوں میں لرزتے دیکھتا تو دنیا،کائنات اور ہر وجود سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے منکر ہو جاتا!گھر والے اس کی دی دیواریں تک اکھاڑ کر لے گئے تھے۔اس کی ہر چیز ان کے لئے قیمتی تھی،سامان کپڑے،جوتے سے لیکر موٹر سائیکل تک۔۔۔۔بس بچے اور بیوی ہی بیکار تھے ان کے لئے جن کا کسی پر زمہ نہ تھا جن کا کسی پرحق نہ تھا۔۔۔۔۔۔ کوئی نشانی نہ تھی جو اس کے پاس ہونے کے احساس کو ذندہ کر سکتی سوائے بچوں کے،کوئی کپڑا کوئی جوتا جو سینے سے لگا کر وہ اپنے خوف اور ازیت کو کم کر سکتی یا سر پر مار کر اذیت ناک خوف سے نجات ہی پا سکے  یا جسکی رسی میں لٹک کر وہ ذندگی کی اس آزمائش سے ہی نکل سکے۔۔۔۔۔۔۔جب جینا مشکل اور مرنا آسان ہو جائے،وہ آج کل  ہر دم اس موڑ پر رہتی تھی ،اگر جو یہ دو بچوں کی جانیں اس کی صورت نہ تکتی ہوتیں تو کب سے کسی کپڑے سے بندھ کر لٹک گئی ہوتی۔

بارش کا راگ اب ژالہ باری کے شور  میں بدل گیا تھا ۔پیاس تھی کہ نہ بجھتی تھی نہ دبتی تھی ۔گھر کی چھت اور دیواریں یوں گونجنے لگی تھیں جیسے ہزاروں لوگ ہاتھوں میں پتھر اٹھائے اسے سنگسار کرنے کو پل پڑے ہوں.

بہتی بوندیں بستر تک پہنچنے لگی تھیں۔اس نے اٹھ کر چارپائیوں کو آہستہ آہستہ دھیکلیتے دیوار سے دور کیا تھا ۔بچے سوئے ہیں۔ کم سے کم بچوں کو تو سوئے ہی رہنا چاہیے۔۔۔۔اس کی کوشش تھی اس قیامت سی آزمائش میں سے بچوں کو محفوظ گزار سکے۔

بیوگی شروع ہوتے ہی لوگوں کی صورتیں بدل گئی تھیں۔ مردوں کی آنکھ میں چمک اور عورتوں کی آنکھوں میں خوف اتر آیا تھا۔ کچھ لوگ اس کی طرف جھکنے اور کچھ پیچھے ہٹنے لگے تو اس نے جانا کہ ملکیت ہونا بھی کتنی بڑی نعمت ہے۔وہ ملکیت نہ رہی تھی ۔ماں باپ نے اسے آسرا دیا ، چھت دے دی،مگر ماں باپ جواں اولاد کے ساتھ کتنے برس جی سکتے ہیں بھلا!

۔آیات پڑھ پڑھ وہ خود پر اور بچوں پر پھونک پھونک تھک گئی ۔جو عمر بھر کے ساتھ کا وعدہ لیکر آیا تھا عمر بھر کے لئے اسے تنہا چھوڑ کر گیا تھا۔اور کتنا ڈر،،،اور کتنا خوف،،،!!!!وہ اپنے خوف کی شدت سے تھک گئی ۔گلاس ٹٹولتی وہ  بستر سے اتری ۔ٹوٹے جوتے پانی کے ساتھ بہہ کر کسی کونے میں جا پھنسے تھے۔چھپ چھپ پانی میں دیوار تھامتی، ننگے پاؤں چلتی لرزتی کانپتی وہ  لکڑی کے دروازے تک پہنچی،اور خوف سے  سفید چہرے سے دروازہ کھول دیا۔در کھلتے ہیں پانی تیزی سے کمرے کی طرف لپکنے لگا۔تاریک آنگن بجلی کی کوند اور گرج سے تڑپ کر رہ گیا۔ موٹے موٹے اولے درو دیوار کو توڑنے پر بضد تھے۔اتنا شور،___ اتنا شور تھا کہ وہ خود کو بھی سن نہ پاتی تھی۔برستی بارش اور کڑکتی بجلی میں وہ پرچھتی کے رستےپانی کے نیلے ڈرم تک پہنچی تو اس نے جانا پانی سے بھری ساری کائنات میں پانی کا نیلا ڈرم خالی تھا۔

ڈان نیوز پر پڑھیے

تحریر و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.