جب ہم دبئی کے لئے پاکستان سے نکلے،پاکستان میں تین سو سے اوپر اور تقریبا 150 مریض یو اے ای میں سامنے آ چکے تھے۔اٹھارہ کی سہ پہر دبئی ائیرپورٹ اترے تو ہر وقت لوگوں سے اور رنگ رنگ کی قومیتوں سے بھرا، دنیا کے بڑے ہوائی اڈوں میں سے ایک دبئی ائیرپورٹ بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔عموما جہاز سے نکل کر میٹرو کے دروازے تک پہنچنے تک کے ایک منٹ میں تین چار فلائیٹس کے لوگ میٹرو کے سامنے اکٹھے ہو جاتے ہیں جو ائیرپورٹ لاوئنجز کی طرف جانے کا واحد اور پہلا رستہ ہے۔لیکن اٹھارہ مئی کو میٹرو کے سامنے ہماری فلائیٹ کے مسافر تنہا مرزا یار کی طرح کھڑے تھے۔تھرمل سکینرز کے ذریعے آنے والوں کا آٹو میٹک ٹیمپریچر چیک ہو رہا تھا اور خالی لاونجز اور اور گیلریز سے ہم بغیر کسی رکاوٹ،کسی فارم فل کرنے کی کھچ کھچ یا جھمگٹے کی صورت کھڑا کرکے ٹیمپریچر چیک کرنے سے (جو طریقہ پاکستانی اییرپورٹس پر آزمایا جا رہا تھا)سے محفوظ نکل گئے۔قرنطینہ کا عام مسافروں کے لئے آفیشلی ابھی تک کوئی نظام نہ تھا اگرچہ دفاتر اپنے چھٹیوں سے واپس آنے والی ملازمین سے گھروں میں آئسولیشن پر زور دے رہے تھے۔سناٹے گونجتے ائیرپورٹ سے ویزا کنٹرول پر بیٹھے محض ایک دو آفیسرز کی موجودگی میں ہم مارچ میں ماسک لگائے سینٹائزر استعمال کرتے ائیرپورٹ سے نکل گئے۔وہ پرواز دبئی آنے والی آ خر ی پروازوں میں سے ایک تھی۔کیونکہ چوبیس مارچ تک دبئی ائیرپورٹ،جہاں ہر منٹ میں ایک جہاز رن وے کو چھوتا تھا، ہر فلائیٹ کے لئے بند کر دیا گیا تھا۔۔

مارچ کے آخری ایام تک اسی فیصد تک پرائیویٹ سیکٹر کا عملہ آفس سے گھر منتقل کیا جا چکا تھا تھا۔چھوٹے گریڈز سے ہائیر تک سکولز اور کالجز آن لائن کلاسز شروع کر چکے تھے.مارچ کے ماہ کے ختم ہوتے ہوتے یو اے ای میں کوڈ 19 کے مریض چھ سو چونسٹھ کی گنتی کو چھو رہے تھے

۔چھبیس مارچ سے سینٹائزنگ لاک ڈاون کا آغاز ہواجو صرف تین دن کے لئے رات آٹھ بجے سے صبح چھ تک کے لئے اناوئنس کیا گیا۔ ان تین راتوں میں شہر کی ہر گلی ہر نکڑ کی سینیٹائزنگ کی جا رہی تھی۔رات آٹھ کے بعد شہر کی تماتر ٹریفک بند ہو جاتی،بغیر پرمٹ کے گھر سے نکلنے کی اجازت نہ تھی اور خلاف ورزی کی صورت میں بھاری جرمانے تھے۔ٹریفک کنٹرول کمپیٹررائزد ہونے کی بنا پر ایسی خلاف ورزی چھپ نہیں سکتی تھی۔سڑکوں پر صرف پولیس یا سینٹائز کرنے والے گاڑیاں نظر آتی تھیں یا ہوم ڈیلیوری بوائز۔ہوم ڈیلیوری بوائز وہ مخلوق تھی جن کے روزگار میں ان دنوں بھرپور اضافہ ہوا، ڈیمانڈ خوب تھی جب دوسرے تمام پروفیشنلز اپنی اہمیت کھو چکے تھے اور سخت ترین لاک ڈاؤن میں بھی ان کو کام کرنے کی اجازت تھی۔ تین دن کا یہ سینٹائزنگ پروگرام سانپ کی آنت بن کے پھیل گیا اور چوبیس گھنٹوں کے لاک ڈاؤن میں بدل گیا.اگلے ایک ماہ تک مڈل ایسٹ میں دبئی سخت ترین لاک ڈاؤن کرنے والی ریاستوں میں سر فہرست تھا جس میں ہر کاروبار بند تھا اور لوگ بغیر اجازت کے گھروں سے نکل نہیں سکتے تھے۔اپریل چھ تک امارات میں مریضوں کی تعداد اٹھارہ سو کے لگ بھگ ہو چکی تھی۔چند مخصوص شعبوں کے علاؤہ ہر کام گھروں میں آن لائن منتقل ہو چکا تھا۔کنسٹریکشن کمپنیاں کھلی تھیں مگر کنسٹرکشن کا کام کافی حد تک رک چکا تھا،آفسزز اور سائٹس میں صبح شام ٹیمپریچر چیکنگ شروع ہو چکی تھی ،ایک مریض نکلنے کی صورت میں پوری سائٹ فریز کی جا رہی تھی۔ جو محدود دفاتر،بلڈنگز اور سپر مارکیٹس کھلی تھیں ہر جگہ داخلے سے پہلے چیک اپ ہو رہے تھے، ہر اسٹور کی انٹری اور کاونٹرز پر سیناٹزرز اور دستانے دھرے تھے۔سپرمارکیٹس پر الگ سے ملازم متعین تھے جو ہر آنے والوں کو ٹرالی سپرے کر کے پکڑاتے تھے،ہر لائن بنانے کی جگہ پر آٹھ فٹ کے فاصلے پر نشان لگ چکے تھے، لوگ گھروں میں بند تھے مگر پھر بھی کرونا کے مریض دن بدن بڑھ رہے تھے۔ لوگوں کے دماغ کرونا کرونا سنتے اور احتیاطی تدابیر کرتے کرتے اعصاب شل ہو چکے تھے۔یہ سچ ہے کہ لوگ کرونا سے اسقدر ڈر چکے تھے کہ نیندوں سے سکون تک رخصت ہو چکا تھا۔عوام میں خوف اور وحشت اندر تک سرایت کر رہی تھی تو اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ آذاد میڈیا نام کی کوئی بلا ابھی تک یہاں نہیں اتری چناچہ سرکاری بیانیے کو چیلنج کرنے یا ان پر مناظرے کا وجود نہیں اور عوام کے پاس پک اینڈ چوز کی کوئی آپشن نہیں۔ساذشی تھیوریز اور افواہیں یہاں بھی سرگرم رہیں مگر ان کا مرکز فائیو جی ٹاورز رہے قہوے اور جوشاندے نہیں۔

یکم رمضان تک کا ایک ماہ سے ذیادہ کا یہ لاک ڈاؤن سخت ترین لاک ڈاؤن تھا ۔سینما،باغ،ساحل سمندر،کھیلنے کے میدان،سیلون سب کے سب بند تھے۔ضروری خریداری کے لئے ایک فرد سے زیادہ کسی کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہ تھی۔مالز جو یہاں کی ذندگی کا ایک بنیادی عنصر ہیں، مکمل طور پر بند تھے مگر انٹرنیٹ کا وسیع ترین اور تیز ترین وجود ہونے کی وجہ سے آن لائین کاروبار راتون رات چمک اٹھا تھا۔گلیوں میں صرف ریسٹورنٹ ہوم ڈیلیوری بوائز نظر أتے تھے۔شاپنگ کے آرڈرز ورک لووڈ کی بنا پر دو دو ماہ تک لیٹ تھے۔لوگ شام ہوتے ہی بالکونی میں بیٹھ جاتے اور اماراتی ملی نغمے گاتے ،سڑکوں پر پولیس گاڑیوں ،اور گھوڑوں پر پھرتی۔باہر نکلنے اور پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں پر بڑے بڑے جرمانے تھے۔ قانون کی سختی کی بنا پر پولیس کو ناکے لگا کر مرغے بنانے کی ضرورت نہ تھی بلکہ جرمانوں کا خوف خودبخود ان کو اندر رکھنے پر مجبور تھا کہ ایک بار جو جرمانہ ہو گیا اسے بھرنے کے سوا دوسری کوئی صورت نہ تھی۔اک چھوٹی سی غفلت پر تین چار یا پانچ ہزار درہم کا جرمانہ بھرنے کی ہمت کم سے کم تارکین وطن کی نہ تھی جو تھوڑے سے امیر لوکل اماراتی یہ عیاشی کر سکتے تھے ان کو پکڑنے کے لئے قانون کا شکنجہ ہمیشہ کی طرح فعال تھا۔ لاک ڈاؤن تھا کہ کھلنے پر تیار ہی نہ تھا۔لوگ ترانے گا گا اور بالکنیوں میں بیٹھ بیٹھ تھک چکے تھے ۔ ہلکی پھلکی واک تک کے لئے بھی گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہ تھی ۔بڑے بڑے ہوٹلز اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی بلڈنگ قرنطینہ سینٹرز میں بدل چکی تھیں۔پبلک ٹرانسپورٹ،میٹرو سب بند تھیں ،ٹیکسی میں مسافر اور ڈرائیور کے بیچ شیشے لگ رہے تھے،دنوں میں ہر ہسپتال کی ریسپیشنز اور کاونٹرز پر شیشے لگنے لگے،اور پورے پورے ہسپتال کا عملہ احتیاطی لباس میں منتقل ہو گیا،ڈاکٹرز تو مکمل طور پر سر سے پاؤں تک ڈھک کر خلائی مخلوق سے لگنے لگے۔گھروں میں گاڑیاں  بے جان کھڑی تھیں مگر آسماں روز بہ روز اجلا ہو رہا تھا۔برج خلیفہ کی روشنیاں دور دور سے چمکتی دکھائی دینے لگی تھیں۔

نوکریوں سے لوگ دھڑا دھڑ فارغ ہونے لگے ،جن کی نوکری بچی ان کی تنخواہیں مختصر ہونے لگیں۔ اور وسیلہ روزگار نہ ہو تو دبئی جیسے مہنگے شہر میں انساں دو دن نہیں رہ سکتا ،مہینہ بھر تو بہت دور کی بات تھی۔ لوگ اپنے اپنے ملکوں سے مطالبہ کرنے لگے تھے کہ انہیں جلد از جلد یہاں سے نکالا جائے۔کھانے پینے، گھروں کےکرایے،پیٹروں بجلی،ڈاکٹر ہر چیز کے لئے درہم چاہیں،مگر اب یوں تھا کہ نوکریاں اور کاروبار ہاتھوں سے نکل رہے تھے مگر وطن واپسی کا کوئی بھی رستہ نہ تھا کہ ساری دنیا میں فضائی سفر تعطل کا شکار ہو چکا تھا۔ حکومت اپنی جگہ حسب توفیق مدد کرنے کی کوشش میں لگی تھی۔ مستحق طبقے کو خوراک کی فراہمی کی کوششیں کی جا رہی تھیں,زمانہ حال میں ایکسپائر ہونے والے تماتر ویزوں کو دسمبر تک توسیع دی گئی،قرض داروں کو تین ماہ کے لئے ادائیگی میں چھوٹ دی گئی,کچھ بڑے ٹاورز نے اپنے کنزومرز کو گھروں اور دفاتر کے کرایے بھی معاف کئے۔کرونا کے لئے کام کرنے والے ڈاکٹرز کو دس دس سال کے ویزے دئیے گئے،کرونا فرنٹ لائن پر لڑنے والے اہلکاروں کو بونس دئیے گئے،غرضیکہ جس قدر ممکن تھا حسب توفیق و حسب استطاعت ہو رہا تھا۔

رمضان کے آغاز سے یہ مکمل لاک ڈاؤن محدود کر کے مارکیٹس کو صبح چھ سے رات دس تک کھول دیا گیا اور عوام کو باہر نکلنے کی تھوڑی اجازت مل گئی تا کہ لوگ ڈھنگ سے روزے رکھ سکیں۔لیکن بہت سارے نئے احتیاطی قوانین اور سزاؤں کے تعین کے ساتھ۔عوام کی رہنمائی کے لئے مکمل طور پر فعال ٹیلی فون لائنز اور واٹس اپ نمبر مہیا کئے گئے تا کہ عوام کو فوری اور بآسانی رہنمائی مل سکے۔مسجدیں ،سینما،پارکس،جم،بارزمکمل بند رہے اگرچہ سڑک پر واک کی اجازت دے دی گئی۔اور حیرت انگیز طور پر پارکس کے گرد اور سڑکوں پر واک اور سائکلنگ کرنے والوں کی تعداد ڈبل ہو چکی تھی۔قوت مدافعت بڑھانے کی خاطرعوام کی بڑی تعداد رمضان کے باوجود روزانہ واک اور ورزش کے لئے نکلنے لگی تھی،۔مساجد پھر بھی پورا رمضان نماز،جمعہ اور تراویح ، اعتکاف سمیت ہر چیز اور ہر دن اور رات کے لئے بند رہیں اور ابھی تک بند ہیں۔شاید اس قوم کو مسجدوں سے ذیادہ نمازوں کی فکر ہےکیونکہ عموماً عرب لوگ جہاں ہے جیسے ہے کی بنیاد پر،سڑک،دفتر،باغ جہاں اذاں ہو جائے، نماز قائم کرنے کے عادی ہیں اور دوسرا یہاں مساجد صرف عبادت کی جگہ تک ہی رکھی جاتی ہیں انکو مسالک اور اجارہ داری قائم کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ریسٹورنٹس اور کافی شاپس میں بیٹھنے کی جگہیں محدود اور درمیانی فاصلہ بڑھا کر انہیں کھول دیا گیا جبکہ ہوم ڈیلیوری کے لئے تمام ریسٹورینٹس چوبیس گھنٹے کھلے رہے۔رمضان کے ساتھ مالز کھولے گئے مگر اس طرح کہ تماتر داخلہ دروازوں پر تھرمل اسکینرز نصب کئے گیے۔ بارہ سال سے کم تر بچے اور ساٹھ سال سےبوڑھے لوگوں کا داخلہ ممنوع تھا۔عام گنجائش کی نسبت صرف تیس فی صد لوگوں کو تین گھنٹے تک کے لئے مالز میں شاپنگ کرنے کی اجازت تھی۔ہر سٹور میں کسٹمر کی گنجائش محدود کر دی گئی تھی اگرچہ گھروں سے کام کرنے والے ابھی بھی گھر سے کام کرنے پر مجبور تھے۔۔افطار کے خیمے جو یہاں کی حکومتوں اور معاشرے کا ایک اہم خاصہ ہیں جہاں لوگوں میں مفت افطار کا انتظام کیا جاتا ہے اس بار مکمل طور پر بند رہے ۔ سرکاری افطار تقسم کرنے کا عمل نئے انداز سے واک ان بنا کر مناسب فاصلے سے کیا گیا۔جرمانے پہلے سے ڈبل کر دئیے گئے تھے تا کہ افطاریوں اور شاپنگ کا گھمسان کا رن نہ مچ جائے۔امارات میں رمضان میں مالز ،ریسٹونٹس اور کافی شاپس ساری رات کھلے رہنے کی روایت تھی کہ یہ وہ واحد مہینہ ہے جس میں عوام ساری رات جاگتی اور دن میں سوتی ہے۔باقی سب مہینے یہ قوم جلدی سوتی اور صبح جلدی اٹھنے کی عادی ہے۔ پاکستان کی طرح مارکیٹس بارہ بجے تک سوئی نہیں رہتیں بلکہ عام مہینوں میں تماتر گروسری اور سپر مارکیٹس آٹھ بجے کھل جاتی ہیں لیکن رمضان میں چوبیس گھنٹے کھلے رہنے کی روایت تھی۔اسی روٹین کو دھیان میں رکھتے اس بار احتیاطی تدابیر کے طور پر مالز،شاپنگ سنٹرز اور ریسٹورنٹس رات آٹھ بجے سے اگلی صبح دس بجے تک بند کر دئیے گئے ۔یعنی پیک آورز پر مکمل لاک ڈاؤن تھا۔گھروں میں افطار پارٹیوں سے لیکر ہمسائے میں افطار بھیجنے تک ہر چیز پر پابندی تھی اگرچہ قریبی خاندان کے محض چند افراد کی مہمان نوازی کی اجازت تھی ۔سینٹائزنگ،سپرے اور زیادہ سے زیادہ ٹسٹنگ اور ڈرائیو وے ٹیسٹنگ بھرپور رفتار سے چل رہی تھی۔ان تمام تر قوانین کی کتنی شدت سے پابندی کی جا رہی تھی پاکستان میں اس کی سوچ بھی نا ممکن ہے۔قوانین کی خلاف ورزیوں کے کیسز آٹے میں نمک سے بھی کم تھے ۔مگر کرونا کے کیسز اس قدر سخت قواعد و ضوابط کے باوجود بھی بڑھ رہے تھے اور اپریل کے آخر تک ستائیس ہزار ٹسٹ ہو چکے تھے اور ساڑھے بارہ سو مریض سامنے آ چکے تھے۔

۔لیکن اگر کوئی یہ سوچ رہا تھا کہ عید پر لاک ڈاؤن کی چھٹی ملنے والی ہے تو وہ غلط سوچ رہا تھا کہ عید کے تین دن لاک ڈاؤن کے اوقات میں تین گھنٹے کا مزید اضافہ کر کے جرمانے بڑھا دئیے گئے تھے۔مساجد عید کی نمازوں کے لئے بھی نہ کھلیں اور عید کی نماز بھی گھروں پر ہی پڑھی گئی۔میل ملاقات پر مکمل پابندی رہی ،خلاف ورزی کی صورت میں مہمان اور میزبان دونوں پر الگ الگ بھاری جرمانہ تھا۔یعنی جب جب رمضان اور عید پر حکومت کو عوامی اجتماعات اور پارٹیز کا خطرہ محسوس ہوا تب تب پہلے سے زیادہ پابندی اور جرمانے نافذ کر دئیے گئے۔ ۔ایسا نہیں تھا کہ عوام کو عید کے کپڑے خریدنے ہیں تو یکدم سارا لاک ڈاؤن ختم کر دو۔

۔مگر یہ دو ماہ کا سخت ترین لاک ڈاؤن یقینی طور پر عوام کی سخت آزمائش تھا جہاں لوگوں کی اکثریت ون ،ٹو ،تھری بیڈ روم، یا سٹوڈیوز تک محدود ہے۔ اور تارکین وطن اور خاندانوں سے دور ہونے کی بنا پر تفریح کا تصور صرف گھر سے باہر نکلنے سے منسوب ہو۔اس دوران ڈیلی ویجیز پر کام کرنے والوں کی اکثریت بے روزگار ہو چکی تھی صرف انڈیا کے ایک لاکھ افراد اپنے چھوٹے بڑے روزگار سے فارغ ہو چکے تھے۔نوکریاں نہ ہونے کی بنا پر لوگ گھروں کے کرایے کھانے پینے اور میڈیکل کے اخراجات بھرنے سے قاصر تھے۔اس دوران پاکستان کی ایک ایسی فیملی کا کیس بھی سامنے آیا جو نوکریاں چھن جانے کے بعد پارکس میں سونے پر مجبور تھا۔اخبار میں انکی اسٹوری چھپنے کے بعد حکومت کی طرف سے انہیں رہائش مہیا کی گئی۔مئی کے آخر تک کیسز تینتیس ہزار سے بھی بڑھ چکے تھے۔اس قدر محنت،لگن اور احتیاط کے باوجود بھی کیسز بڑھنے کے تناسب میں کچھ کمی تو واقع ہوئی تھی مگر کنٹرول نہ کیا جا سکا تھا۔اگرچہ دبئی کی کوششیں اور محنت دنیا کے بہترین کاوشوں میں سے ایک تھیں۔

کسی کو خبر نہ تھی کہ لاک ڈاؤن کب ختم ہو گا مگر عید کے بعد کچھ قوانین کے نفاذ کے ساتھ دبئی میں لاک ڈاؤن مرحلہ وار ختم کر کے ہوٹلز،سینما،مارکیٹس،مالز،اینٹرٹینمٹ زونز،ساحل سمندر سوشل ڈسٹنس اور سینٹائزنگ کی پابندیوں کے ساتھ کھول دیا گیا،ماسک ضروری ہے اور خلاف ورزی پر ہزار درہم جرمانہ ہے۔مساجد اور اسکولز ابھی بھی بند ہیں۔سارا گھر سے کام کرنے والا سو فی صد عملہ دفاتر میں واپس آ چکا ہے۔دبئی کے مالز میں سو فی صد گنجائش کی اجازت ہو چکی ہے جبکہ ابوظہبی میں ابھی جزوی لاک ڈاؤن باقی ہے جس کے آج کل میں کھل جانے کی توقع ہے۔ ایک ریاست سے دوسری میں جانے کی فی الحال اجازت نہیں۔پورے ملک میں دو ملین ٹسٹس چار ماہ میں کئے گئے اور کم سے کم 24 ڈرائیو تھرو ٹسٹنگ کے مقامات بنائے گئے۔

شہر بھر کے ریسٹورینٹ اپنے آدھے میز اور کرسیاں و صوفے الٹا کیے ابھی تک حالات بہتر ہونے اور اجازت ملنے کے منتظر ہیں کہ سماجی دُوری کا قانون اپنی جگہ مضبوطی سے کھڑا ہے اور جانے کب تک کھڑا رہے البتہ اب بچوں اور بوڑھوں سمیت سب کو ہر جگہ جانے کی اجازت ہے۔ پچھلے ویک اینڈ پر بچوں اور بوڑھوں کو 3 ماہ بعد ریسٹورینٹ جانے کی اجازت ملی تو شہر کے اکثر ریسٹورینٹ نے 12 سال سے کم عمر بچوں کو مفت کھانا پیش کیا۔ اس دوران آن لائن کلاسیں شدو مد سے جاری رہیں۔

یکم جولائی یعنی 4 ماہ بعد مساجد کھلیں گی۔ ستمبر سے تعلیمی اداروں کو جزوی طور پر کھولنے کی چہ مگوئیاں بھی ہو رہی ہیں، شاید تعلیمی سرگرمیوں کے حوالے سے کوئی نیا نظام متعارف کروایا جائے گا یا کلاسوں، اسکول اور بسوں میں طلبا کی تعداد محدود کردی جائے گی۔ اگرچہ ابھی فیسیں بڑھانے کی اجازت نہیں دی گئی مگر ایسی کوئی صورتحال پیدا ہوئی تو اسکولوں کی فیسوں میں اضافہ ناگزیر ہوجائے گا۔

موجودہ صورتحال میں پہلے ہی شہر کے کچھ اسکول اخراجات میں اضافے کے سبب بند ہو رہے ہیں۔ کمپنیوں اور اداروں سے دھڑا دھڑ لوگ فارغ ہورہے ہیں۔ جہاں چھوٹے ادارے اور کمپنیاں دیوالیہ ہورہی ہیں وہیں بڑے بڑے بینک، ایئر لائنز، اسکول اور تعمیراتی کمپنیاں بھی بے دریغ اپنا بجٹ اور سائز کم کرنے پر تُلی ہوئی ہیں۔

دبئی کی ایک شارع
دبئی کی ایک شارع

اس وقت دبئی مکمل طور پر کھلا ہے مگر پچھلے 3 ماہ نے ہزاروں لوگوں اور زندگیوں کو اندھیروں میں دھکیل دیا ہے، کورونا وبا سے زیادہ اس کے پیدا کردہ اثرات عوام کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوئے ہیں۔

مرنے والے کم ہیں مگر جو جیتے جی اپنے خاندانوں کو لے کر سالوں سے بنی پناہ گاہ سے بے سرو سامان رخصت ہو رہے ہیں ان کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے۔ جب لوگ دبئی سے ملازمتوں سے محروم ہوکر بھارت، پاکستان یا بنگلہ دیش جاتے ہیں تو ان کے سامنے کوئی سنہری امید نہیں ہوگی۔

امارات کے حکومتی ادارے سر جوڑے بیٹھے ہیں کہ کس طرح معاشی گاڑی کو بریک لگائے بغیر کورونا کے پھیلاؤ کو روکا جائے؟ شاید اس ضمن میں دبئی کو آئندہ دنوں میں اپنی تیز رفتار ٹیکنالوجی اور متنازع فائیو جی کا بھرپور استعمال کرنا پڑے۔

کورونا کی دھند شاید دنیا بدلے بغیر نہیں چھٹے۔ دبئی جیسی مشرقِ وسطیٰ کی ریاست بھی شاید اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اس وبا اور اس کے پیدا کردہ اثرات سے شاید اتنی جلدی نہیں نکل سکے گی۔


________

تحریر و فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف

ڈان نیوز پر پڑھیں