پریمئر شو (زندہ رہنے کی آخری ڈیڈ)

معاہدے کے مطابق فلم ڈائریکٹر کو اُس نے کہانی کے ساتھ اپنی آنکھیں بھی بیچ دیں _______

تاکہ ________فلم کامیاب ہوجائے :- فلم کے بڑے پردے پر اُس کی خریدی ہوئی آنکھیں پوسڑ میں ٹھونک کر فلم ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا –

اور اُس کی آنکھیں پوسڑ میں گاڑ دی گئیں -!

وہ آنکھیں کسی کو دکھائی نہیں دیتی تھیں مگر وہ سب کو دیکھ سکتی تھیں

پرئمیر شو کے روز فلمی پنڈتوں نے مارے جوش کے اُس کے پوسٹر کو دونوں ہاتھوں سے نوچ لیا _____

خریدی گئیں آنکھیں ایک نئے تعمیر ہونے والے سینما کی دیوار پہ پہلی مرتبہ چسپاں کی گئی –

فلم کے کلائمکس میں اُس کی موت تھی – وہ دن کے چاروں “شو” اپنی موت کا کلائمیکس پوسٹر میں گڑی گی آنکھوں سے دیکھتا

______روز روز کی موت!!!

________ایک ہی کلائمیکس دیکھ کر وہ بور ہوگیا

امید بر آئی تھی ________

فلم ریلیز ہوئی ________!

فلم چل نکلی __________!!

موت کا ایک اور کلایمکس کہانی کار نے لکھا

________اب ٹکٹ کھڑکی پہ مکھیاں بھنبھانے لگیں _____!!

اُسے نوچ کر اُترا جانے لگا -!

وہ ابھی اُن بڑھتے ہاتھوں کو روکتا – وہی ہاتھ تھے جو اسے بڑی چاہ سے پہلی مرتبہ دیوار پہ چسپاں کیا تھا – وہی ہاتھ اُسے پھاڑنے کے لیے آگئے بڑھ رہے تھے –

وہ چیخا اس سے قبل انھیں روکتا کہ چیر کی ایک آواز کے ساتھ پوسٹر میں چسپاں کی گئ آنکھیں بھی پھٹ گئی تھیں _________

________________

اب وہ پہلی مرتبہ “مرا” تھا -!!

________________

تحریر: احمد نعیم

کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف